• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

ڈرائیور حضرات کا ہوٹلوں میں مفت کھانا کھانا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علمائے  کرام اس بارے میں کہ ڈرائیور حضرات دوران سفر کسی ہوٹل کے سامنے گاڑی کھڑی کر لیتے ہیں تاکہ سواریاں وہاں کھانا کھا سکے، تاہم ایسے موقع پر ہوٹل والے ڈرائیور اور گاڑی کے عملہ کو مفت کھانا کھلاتے ہیں،تو اس طرح کرنا شرعا ًدرست ہے یا  نہیں؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں ڈرائیور حضرات کو مفت کھانا کھلانے کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ تبرعا واحسانا کھلاتے ہوں، لیکن اس کی توقع ہوٹل والوں سے رکھنا ممکن نہیں، دوسری یہ کہ بطور رشوت کھلاتے ہوں تو یہ بھی ناجائز ہے، تیسری یہ کہ بطور کمیشن کھلاتے ہوں تو یہ بھی ناجائز ہے کیونکہ کمیشن متعین ہونی چاہیے جبکہ کھانا کھلانے کی صورت میں کمیشن مجہول ہے، لہذا ڈرائیور حضرات کے لیے مفت کھانا کھانا شرعا درست نہیں۔

حوالہ جات:
1. سنن ابن ما جه، باب الحاكم يجتهد فيصيب الحق 3/ 411، تحت الرقم 2313:
   عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعنة الله على الراشي والمرتشي.
2. البحر الرائق لابن نجیم، كتاب الإجارة 7/297:
   وشرطها أن تكون الأجرة والمنفعة معلومتين لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:191
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں