• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

@123مسجد کی رقم کسی کو قرض دینا

سوال:
   کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس مسجد کے پیسے ہیں اور گاؤں کا ایک آدمی مجھ سے قرض لینا چاہتا ہے، تو کیا میں اس کو مسجد کی رقم قرض دے سکتا ہوں؟

جواب:
   مسجد کا فنڈ خزانچی کے پاس امانت ہوتا ہے، جسے صرف مسجد کی ضروریات میں خرچ کیا جاسکتا ہے، کسی کو بطور قرض نہیں دیا جاسکتا، اگر کسی کو بطور قرض دے دیا، تو وہ ضامن ہوگا۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف،  تصرفات الناظر في الوقف 5/ 259:
   أن القيم ليس له إقراض مال المسجد، قال في جامع الفصولين: ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله، ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن، وكذا المستقرض.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، الباب الثالث عشر في الأوقاف التي يستغنى عنها 2/ 480:
 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:160
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-27

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں