• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

قربانی کا گوشت امام مسجد کو کھلانا کیسا ہے؟:

سوال:
   ہمارے علاقے میں عام طور پر ائمہ حضرات کو محلے والے جو کھانا کهلاتے ہیں، وہ ”المعروف کالمشروط“ کے قاعدے کے مطابق اجرت کا حصہ ہوتا ہے، صدقہ اور تبرع اس لیے نہیں ہے، کہ اگر باری والے کھانا لانا بھول جائے، یا اچھا کھانا نہ پکائے، تو لوگ بھی برا بھلا کہتے ہیں، اور امام صاحب بھی ناراض ہوتےہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا قربانی کا گوشت ائمہ کو کھلا سکتے ہيں یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ قربانی کا گوشت کسی کو بطور اجرت کھلانا اگرچہ جائز نہیں لیکن محلہ والوں  کا پیش امام کو قربانی کا گوشت  کھلانا اجرت یا تنخوا کی  بنیاد پر نہیں ہوتا،  بلکہ ایک وعدہ کی شکل میں  تبرع اور احسان کے طور پر ہوتا ہے، لہذا محلہ والوں کا  پیش امام کو قربانی کا گوشت کھلانا یا دینا درست ہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار، فروع 329/6:
ولا يعطى أجر الجزار منها «لقوله – عليه الصلاة والسلام – لعلي – رضي الله عنه – تصدق بجلالها وخطامها ولا تعط أجر الجزاز منها شيئا»
2. فتح القدير لابن الهمام، كتاب الأضحىة 9/ 532:

   (ویأكل من لحوم الأضحية، ويطعم الأغنياء، ويدخر) لقوله عليه السلام:كنت نهيتكم عن أكل لحوم الأضاحي، فكلو منها، وادخرو، ومتى جاز أكله، وهو غني جاز أن يؤكله غنيا.
3. درر الحكام شرح مجلة الأحكام لعلي حيدر خواجه أمين أفندي 57/1:
فالتبرع هو إعطاء الشيء غير الواجب، إعطاؤه إحسانا من المعطي.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:117
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-5

image_pdfimage_printپرنٹ کریں