• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

پانی کی موجودگی میں زبانی   تلاوت یا دخول مسجدکےلیے تیمم کرنا:

سوال:
اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہونے یا  زبانی تلاوت کرنے کے لیے پانی کی موجودگی میں تیمم کرے، تو یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
    مسجد ميں داخل ہونے یا زبانی تلاوت کرنے کے لیے  چونکہ وضو ضروری نہیں، اس لیے پانی کے ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے تیمم کرنا درست ہے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق  لابن  نجیم، کتاب الطهارة،  باب التیمم1/263:
   قال: إن ما لیست الطهارة شرطا في فعله وحله، فإنه یجوز التیمم له مع وجود الماء، کدخول  المسجد للمحدث.
2. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الطهارة، باب التيمم، ص:118:
   وكذا يتيمم لكل ما لا تشترط له الطهارة، كالنوم والسلام ورده ودخول مسجد لمحدث ولو مع وجود الماء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:42
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-05

image_pdfimage_printپرنٹ کریں