• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

بورنگ پائپ میں مینڈک گرنے کا حکم:

سوال:
خالد کے گھر میں پانی کا بور ہے، جس پر سمرسیبل پمپ لگا ہوا ہے، اس میں مینڈک گرا ہوا پایا گیا؟ تو اس پانی سے پڑھے ہوئے نمازوں کا کیا حکم ہے؟
جواب:
    وه مینڈک جو پانی ميں رہتا ہے، اس کے مرنے سے پانی  ناپاک نہیں ہوتا، یہی حکم  خشکی کے اس مینڈک کا بھی ہے جس کے بدن میں خون نہ ہو، البتہ اگرمینڈک کے بدن میں خون موجود ہو، جس کی علامت یہ ہے کہ اس کے پنجوں میں پردہ نہیں ہوتا، تو اس کے پانی میں گر کر مرنے سے پانی ناپاک ہوجائے گا، ایسی صورت میں اگر مینڈک کے گرنے کا وقت معلوم نہ ہو، اور مینڈک پھولا پھٹا بھی نہ ہو، تو ایک دن کی نمازوں کی قضا کرنا ضروری ہے اور مینڈک کو نکالنے کے بعد اس سے  بیس (20) سے تیس(30) بالٹی
کے بقدرپانی نکالنا بھی ضروری ہے، لیکن اگر مینڈک کو نکالنا مشکل ہو تو اتنا انتظار کیا جائے کہ وہ گل سڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائے اور کنویں سے اس کی بدبو ختم ہوجائے، اس کے بعد اندازے سے کنویں کا سارا پانی نکال کر کنویں کو پاک کیا جائے، البتہ اگر وہ مینڈک پانی میں پھولا پھٹا ہو تو ایسی صورت میں تین دنوں کی نمازین دہرانا اور اندازے سے بور کا  سارا پانی نکالنا ضروری ہوگا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، باب المياه، مطلب: في مسالة الوضوء من الفساقي 1 /31:
   (ومائي مولد كسمك وسرطان)وضفدع إلا بريا له دم سائل، وهو ما لا سترة له بين أصابعه، فيفسد في الاصح كحية برية.
2. رد المحتار، فصل في البير 212/1:
  لو وقع عصفور فيها فعجزوا عن إخراجه فمادام فيها فنجسة فتترك مدة يعلم أنه استحال وصار حمأة، وقبل مدة ستة أشهر. اهـ
3. الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الفصل الثاني فيما لا يجوز به التوضؤ 21/1:
وإذا وجد في البئر فأرة أو غيرها ولا يدرى متى وقعت ولم تنتفخ أعادوا صلاة يوم وليلة إذا كانوا توضئوا منها وغسلوا كل شيء أصابه ماؤها وإن كانت قد انتفخت أو تفسخت أعادوا صلاة ثلاثة أيام ولياليها وهذا عند أبي حنيفة – رحمه الله – وقالا: ليس عليهم إعادة شيء حتى يتحققوا متى وقعت. كذا في الهداية وإن علم وقت وقوعها يعيدون الوضوء والصلاة من ذلك الوقت بالإجماع.


واللہ أعلم بالصواب

ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:13
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-08-25

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں