@123 کئی مرتبہ ہمبستری کے بعد کتنی مرتبہ غسل کرنا چاہیے؟

سوال:
کیا اپنی بیوی سے ایک رات میں جتنی مرتبہ ہمبستری کی جائے، اتنی مرتبہ غسل کرنا بھی ضروری ہوگا؟ یا ایک غسل کافی ہے؟
جواب:
ایک ہی رات میں کئی مرتبہ ہمبستری کرنے کے بعد آخر میں ایک دفعہ غسل کرنا  کافی ہے، البتہ ہرمرتبہ ہمبستری کے بعد غسل یا وضو کرنا بہتر ہے۔

حوالہ جات:
لما في صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب جواز نوم الجنب، واستحباب الوضوء له إلخ، الرقم: 309:
عن أنس: أن النبيﷺ كان يطوف على نسائه بغسل واحد.
وفي مرقاة المفاتيح لملا علي القارئ، كتاب الطهارة، باب مخالطة الجنب1/ 143،  تحت الرقم: 455:
وعن أنس، قال: (كان النبيﷺ) أي: أحيانا (يطوف) أى: يدور (على نسائه) حين يجامعهن (بغسل واحد)… وأما الطواف بغسل واحد، فيحتمل أنه عليه الصلاة والسلام توضأ فيما بينه، أو تركه؛ لبيان الجواز.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل 1/ 14:
ولا بأس للجنب أن ينام، ويعاود أهله قبل أن يتوضأ، وإن توضأ فحسن.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة 1/ 351:
ولا معاودة أهله قبل اغتساله، إلا إذا احتلم لم يأت أهله، قال الحلبي: ظاهر الأحاديث إنما يفيد الندب.
قال ابن عابدين تحت قوله: (ونص عبارة الحلبي في الحلبة بعد نقله جملة أحاديث، فيستفاد من هذه الأحاديث: أن المعاودة من غير وضوء ولا غسل بين الجماعين أمر جائز، وأن الأفضل أن يتخللها الغسل أو الوضوء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:312
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-11

 




کیاخواب میں بغیر انزال کے جماع کرنے سےغسل واجب ہوگا؟:

سوال:
  زید نے خواب میں کسی عورت کے ساتھ جماع کیا، مگر ابھی انزال نہ ہوا تھا کہ زید بیدار ہوگیا، جب  پیشاب کرنے لگا، تو قبل از پیشاب چند سفید باریک قطرے  شرمگاہ سے خارج ہوگئے، تو اب زید پر غسل کرنا فرض ہے یا نہیں؟
جواب:
  خواب میں جماع  کرنے کی صورت میں غسل اس وقت واجب ہوتا ہے  جب کہ  حقیقت میں انزا ل ہوا ہو، لہذا اگر زید نے صرف خواب دیکھا تھا اور حقیقت میں انزال نہیں ہوا تھا تو اس پر غسل واجب نہیں۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطهارة، أحكام الغسل 1/ 147:
   إذا احتلم الرجل، ولم يخرج الماء من إحليله، لا غسل عليه.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، باب الغسل 1/ 14:
   إذا احتلم الرجل، وانفصل المني من موضعه، إلا أنه لم يظهر على رأس الإحليل، لا يلزمه الغسل.
3. فتاوى قاضي خان لحسن بن منصور الأوزجندي، كتاب الطهارة، باب الغسل 1/ 285:
   فإذا احتلم الرجل، وانفصل المني عن مكانه إلا أنه لم يظهر على رأس الإحليل، فلاغسل عليه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:207
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-15




@123آپﷺ کی پسندیدہ خوشبو اور خوشبو لگانے کا سنت طریقہ

سوال:
آپﷺ کو سب سے زیادہ کون سا عطر اور خوشبو پسند تھی ؟آجکل کے بہت تیز خوشبو جو بعض لوگوں کو بہت بری لگتی ہے،اور ان کے درد ِسر کا باعث بنتی ہے  اس کا استعمال کیسا ہے، اور خوشبو لگانے کا سنت طریقہ کیا ہے؟
جواب:
الف:  آپﷺکی پسندیدہ خوشبو  مشک، عنبر اور عود تھی۔
ب:   جس خوشبو سے  دوسرے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو ، اس کا استعمال درست نہیں ہے۔
ج:  خوشبو لگانے کا مسنون طریقہ کوئی نہیں  تاہم  عام طور پر آپﷺ ہراچھے کام میں داہنےطرف سے ابتداء کرنے کو پسند فرماتے تھے اس لیے اگر
داہنی طرف لگائی جائے تو بہتر ہے۔

حوالہ جات:
ما في سنن النسائي،  كتاب الزينة، باب العنبر8/ 150، تحت الرقم 5116:
عن محمد بن علي، قال: سألت عائشة: أكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتطيب، قالت: نعم، بذكارة الطيب المسك، والعنبر.
وفي صحيح البخاري، كتاب الوضوء، باب التيمن في الوضوء والغسل 1/ 45، تحت الرقم 168:
عن عائشة، قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه التيمن، في تنعله، وترجله، وطهوره، وفي شأنه كله.
وفي سنن أبي داود، كتاب الجهاد، باب في الهجرة هل انقطعت 4/ 138، تحت الرقم2482:
عبد الله بن عمرو … يقول: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:187
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 




@123مشترکہ خاندان میں ذاتی پیسوں سے خریدی ہوئی جائیدا د کا حکم

سوال:
گوہر علی پہلے اپنے والد کے گھر رہتا تھا، پھر سعودی چلا گیا، اور اپنے پیسوں سے پلاٹ خرید لی، پھر واپس آکر والدین کے ساتھ رہنے لگا، اب اس کے والد جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو گوہرعلی نے اپنے پیسوں سے جو پلاٹ خریدی ہے، اس کو گوہر کے بہن بھائیوں میں تقسیم کرے گا، یا پلاٹ صرف گوہرعلی کا ہے؟
جواب:
بیٹا اگر محنت مزدوری کرکے مال کمائے تو اس میں والدین یا بہن بھائیوں کا حصہ نہیں ہوتا، لہٰذا اگر گوہرعلی نے اپنی کمائی سے خود یہ پلاٹ خریدا تھا، تو یہ اس کا ہے، اس میں کسی اور کا حق نہیں، اور اگر سعودی عرب سے والد کو پیسے گھر کے اجتماعی خرچہ کے لیے بھیجے تھے لیکن والد نے اپنے صوابدید پر اس سے پلاٹ خریدا تھا، تو یہ پلاٹ شریک ہوگا، اور والد کے انتقال کے بعد اس میں سب کا حصہ ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في مسندالإمام لأحمد بن حنبل، حديث عم أبي حرة الرقاشي 34/ 299، تحت الرقم 20695:
لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.
وفي السنن الكبری للبیھقی ، كتاب النفقات، باب نفقة الأبوين7/ 790، تحت الرقم 15753:
ويروى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: كل أحد أحق بماله من والده وولده والناس أجمعين.
و في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة 4/ 325:
يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها، اجتمعا في دار واحدة، وأخذ كل منهما يكتسب على حدة، ويجمعان كسبهما، ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز، فأجاب بأنه بينهما سوية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:186
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 




@123عادت کےدنوں بعد آنے والے خون کا حکم

سوال:
ایک عورت معتادہ تھی، جن کو سات دن حیض کا خون آتا تھا، اب اس عورت کے سات دن پورے ہونے کے بعد آٹھویں اور نویں دن کچھ قطرے آئے، تو آٹھویں اور نویں دن کے قطرے حیض شمار ہوں گے یا استحاضہ؟
جواب:
مذکورہ صورت جب سات دن خون آنے کے بعد آٹھویں اور نویں دن خون اگر بند ہوگیا، تو یہ سب ایام حیض کے شمار ہونگے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الأول في الحيض 1/ 37:
انتقال العادة يكون بمرة عند أبي يوسف وعليه الفتوى، فإن رأت بين طهرين تامين دما لا على عادتها بالزيادة، أو النقصان، أو بالتقدم، أو التأخر، أو بهما معاً، انتقلت العادة إلى أيام دمها حقيقيا كان أو حكميا، هذا إذا لم يجاوز العشرة، فإن جاوزها فمعروفتها حيض، ومارأت على غيرها استحاضة، فلا تنتقل العادة.
وفي الميحط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الطهارة، الفصل التاسع في الحيض 1/ 434:
صاحبة المعروفة في الحيض إذا رأت الدم زيادة على معروفتها، يجعل ذلك كله حيضا مالم يجاوز المرئي عشرة، وإن جاوز المرئي عشرة، ردت إلى معرفتها والباقي يكون استحاضة.
وفي الفتاوى السراجية لسراج الدين، كتاب الطهارة، باب الحيض والنفاس، ص:50:
إذا زاد الدم على العشرة، وللمرأة عادة معروفة، ردت إلى أيام عادتها، وما زاد فهو استحاضة.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/ 158:
وأما صاحبة العادة في الحيض إذا كانت عادتها خمسة، فالزيادة عليها حيض معها إلى تمام العشرة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:138
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-11

 




@123اسقاط ِ حمل کے بعدآنے والے خون کا حکم

سوال:
کسی عورت کا اسقاط حمل چار ماہ سے قبل ہو یا بعد ہو، تو دونوں صورتوں میں جاری  ہونے والے خون کا کیا حکم ہوگا؟
جواب:
مذكوره صورت میں اگر اس حمل پر چار ماہ گزرے ہوں، یا اس حمل کے بعض اعضاء میں سے کسی عضو مثلا: ہاتھ پیر وغیرہ کی بناوٹ ظاہر ہوچکی ہو، تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس کا خون شمار ہوگا، اور اگر اس حمل کے اعضاء میں سے کسی بھی عضو کی بناوٹ ظاہر نہ ہوئی ہو، تو حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والا خون نفاس کا نہ ہوگا، بلکہ یہ آنے والا خون اگر کم از کم تین دن تک آیا ہو، اور اس سے پہلے پندرہ دن پاکی کا دورانیہ گزرا ہو، تو یہ حیض کا خون ہے، اور اگر تین دن سے کم خون آیا یا ابھی تک پاکی کے پندرہ دن نہ گزرے ہوں تو یہ خون حیض کا شمار نہ ہوگا، بلکہ استحاضہ ہوگا، اور ایسی صورت میں ہر نماز کا وقت آنے پر نیا وضو کرکے نماز پڑھی جائے گی۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/ 549:
(وسقط) مثلث السين، أي: مسقوط (ظهر بعض خلقه كيد، أورجلٍ) أو أصبع، أو ظفر، أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما، (فتصير) المرأة (به نفساء، والأمة أم ولد، ويحنث به) في تعليقه (وتقضي به العدة)، فإن لم يظهر له شيء، فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثا، وتقدمه طهر تام، وإلا استحاضة.
وفي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/ 187:
(والسقط إن ظهر بعض خلقه ولد) وذلك مثل: يد، أو رجلٍ، أو أصبع، أو شعر، فتكون به نفساء، وتنقضي به العدة، وتصير الأمة أم ولد به، ويحنث به لو كان علق يمينه بالولادة.
وفي الفتاوى التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الطهارة، الفصل التاسع في الحيض 1/ 542:
المرأة إذا أسقطت سقطا، فإن استبان شيء من خلقه، فهي نفساء في ما رأت الدم، وتقضي به العدة، وتصير الجارية أم ولد إذا كان العلوق من المولى، فإن لم يستبن من خلقه، فلا نفاس لها، ولكن إذا كان أمكن جعل المرئي من الدم حيضا بأن تقدمه طهر تام، ووافق أيام عادتها، يجعل حيضا؛ لعلة أنه دم خارج عن الرحم، وإن لم يمكن أن يجعل حيضا بأن لم يتقدمه طهر تام، فهو استحاضة.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الطهارة، الفصل التاسع في الحيض 1/ 470:
المرأة إذا أسقطت سقطا، فإن لم يستبن شيء من خلقه، فلا نفاس لها، ولكن إن أمكن جعل المرئي من الدم حيضا، بأن تقدمه طهر تام، يجعل حيضا؛ لعلة أنه دم خارج عن الرحم، وإن لم يمكن جعله حيضا، بأن لم يتقدمه طهر تام، فهواستحاضة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:137
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-12




@123 دوران نماز وضو ٹوٹ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

سوال:
دوران نماز وضو ٹوٹ جائے، لیکن شرم کی وجہ سے ایسی حالت میں نماز پوری کردی، تو شرعا کیا حکم ہے؟
جواب:
نماز کے دوران اگر وضو ٹوٹ جائے، تو ناک یا منہ پر ہاتھ یا کپڑا وغیرہ رکھ کرایسی ہیئت اختیار کرکے نماز سے نکلے کہ دیکھنے والے لوگ یہ سمجھیں کہ شاید نکسیر پھوٹنے کی وجہ سے وضو ٹوٹا ہے اور وضو کرکے واپس اپنی جگہ آکر نماز مکمل کرلے اور اگر صفوں سے باہر نکلنا دشوار ہو تو اپنی جگہ بیٹھا رہے یہاں تک کہ نماز ختم ہو جائے کیونکہ اسی حالت میں نماز کو جاری رکھنا سخت گناہ ہے، بلکہ کفر کا اندیشہ ہے، البتہ  شرم وحیا کی وجہ سے اگر نماز کی نیت نہ کرے اور ایسے ہی اوپر نیچے ہوتا رہے تو امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب استئذان المحدث للإمام، الرقم: 1114:
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إذا حدث أحدكم في صلاته، فليأخذ بأنفه، ثم لنيصرف.
وفي الفتاوي قاضي خان لحسن بن منصور الأوزجندي، كتاب السیر، باب یکون کفرا اي اعلم وما لا يكون 3/ 359:
 ولو صلى بغير طهارة عمدا، قال صدر الشهيد حسام الأئمة: يكون كفرا وفي الصلاة إلى غير القبلة عمدا قال لا يكون كفرا، وذكر شمس الأئمة السرخسي رحمه الله  الصلاة بغير طهارة عمدا معصية، ولم يقل كفرا، وقال شمس الأئمة الحلواني  رحمه الله: يكون كفرا عند المشايخ، قال: وهكذا روي عن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله في النوادر، وقال في الطاهر الرواية لا يكون كفرا، قال رضي الله عنه: وإنما اختلفو إذا لم يكن على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان على وجه الاستخفاف بالدين، ينبغي أن يكون كفرا عند الكل.
وفي الدر المختار للحصكفي مع الرد، كتاب الطهارة 1/ 81:
وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس.
وقال ابن عابدين تحت قوله: بل لمجرد الغسل أو الجهل فينبغي أن لا يكون كفرا عند الكل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:134
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-12

 




@123موزوں کی زپ کتنی مقدار میں کھلنے سے مسح ٹوٹتاہے ؟

سوال:
ایک امام صاحب نے موزے پہنے ہوئے تھے، اس کا زپ چار انگلیوں کے بقدر کھلا ہوا تھا، اور امام صاحب نے ان موزوں پر تین نمازیں پڑھائی ھیں، اب ان نمازوں کا کیا حکم ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ موزوں کی زپ تین انگلیوں کے بقدر کھل جائے، تو موزوں پر مسح ٹوٹ جاتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں چونکہ امام صاحب  کے موزوں کی زپ چار انگلیوں کے بقدر کھل گئی تھی، اس لیے اس نے اس حالت میں جتنی نمازیں پڑھی ہیں ان کا اعادہ لازم ہے۔

حوالہ جات:
لما في غنية المستملي لأبراهيم الحلبي، كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين1/ 98:
(و كذالايجوز المسح على خف فيه خرق كبير) … (ما بين منه مقدار ثلث أصابع) … (من أصابع الرجل) … (فإن كان) الخرق في الخف (أقل) من ذلك (جاز) المسح عليه … (الخرق الكبير إذا كان فوق الكعب لا يمنع) لأن ستر الخف لما فوق الكعب ليس بشرط لجواز المسح.
وفي المحيط البرهاني لابن مازه الحنفي، كتاب الطهارة، الفصل السادس في المسح على الخفين 1/ 342:
وإن كان خرج منهما شيئ من مواضع الوضوء، نحو الكعب وغيره، فإن كان ما خرج نحو ثلاث أصابع، من أصغر أصابع الرجل، لايجوز المسح عليهما.
وفي التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الطهارة، فصل المسح على الخفين 1/ 410:
والحد الفاصل بین الیسیر والکثیر أن الخرق إذا كان قدر أصبع أو أصبعين فهو يسير، وإن كان قدر ثلاث أصابع جاز المسح عليه، وإن كان إنفتاحه ثلاث أصابع يظهر منه أطراف ثلاث أصابع من أصغر أصابع الرجل، لايجوز.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:133
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-11

 




کیا مستحاضہ پر ہر نماز کے لیے استنجاء کرنا لازم ہے؟:

سوال:
   کوئی عورت حالتِ استحاضہ میں ہو، اور سفر کرتے ہوئے راستے میں نماز کا وقت آجائے، تو کیا اس پر استنجا کرنا لازم ہے، یا نہیں؟
جواب:
   مستحاضہ پر عام حالات میں استحاضہ کی وجہ سے استنجاء کرنا لازم نہیں، تاہم اگر استحاضہ کا خون اپنے حدود سے تجاوز کر چکا ہو تو اس کو پانی یا ٹشو وغیرہ سے صاف کرنا ضروری ہوگا۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/ 373:
   قوله وتتوضأ المستحاضة ومن به سلس البول… لوقت كل فرض وقيد بالوضوء؛ لأنه لايجب عليها الاستنجاء لوقت كل صلاة، كذا في الظهيرية أيضا.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطهارة، المقدار المعفو عنه من النجاسة 1/ 232:
   ولنا ما روي عن عمر رضي الله عنه أنه سئل عن القليل من النجاسة فى الثوب، فقال: إذا كان مثل ظفري هذا، لا يمنع جواز الصلاة؛ ولأن القليل من النجاسة مما لايمكن الإحتراز عنه… ولأنا أجمعنا على جواز الصلاة بدون الاستنجاء بالماء… ولهذا قدرنا بالدرهم على سبيل الكناية عن موضع خروج الحدث.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:122
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-6




حائضہ کے لیے قرآن کریم کی تفسیر چھونےکا حکم:

سوال:
   عورت حالتِ حیض میں تفسیر پڑھ سکتی ہے، یا نہیں؟ اور تفسیر کو ہاتھ لگا سکتی ہے، یا نہیں؟ 
جواب:
   عورت کے لیے حالتِ حیض میں ایسی تفسیرکا چُھونا  کہ جس میں تفسیر زیادہ ہو جائز ہے، لیکن آیتِ قرآن کو زبان سے پڑھنا یا اس کو چُھونا جائز نہیں، البتہ جس تفسیر میں تشریح کم ہو اور قرآنی عبارت وترجمہ کی مقدار زیادہ ہو، یا تفسیر اور قرآنی آیات دونوں برابر ہوں، تو اس کو کپڑے وغیرہ کے بغیر چھونا جائز نہیں۔

حوالہ جات:
1. الدرالمختار للحصكفي، كتاب الطهارة، مطلب: يطلق الدعاء على ما يشتمل الثناء 1/ 353:

   وقد جوز أصحابنا مس كتب التفسير للمحدث، ولم يفصلوا بين كون الأكثر تفسيرا أو قرآنا، ولو قيل به اعتبارا للغالب لكان حسنا.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (ولو قيل به) أي: بهذا التفصيل، بأن يقول: إن كان التفسير أكثر لا يكره، وإن كان القرآن أكثر يكره.
2. النهر الفائق لعمر بن إبراهيم بن نجيم، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/ 134:
   (ومنع الحدث) الأصغر (المس): مس القرآن فقط؛ لإطلاق ما تلونا، قيد به؛ لأن مس كتب الحديث والفقه الأصح أي: أنه لا يكره عند الإمام، ويكره عندهما، كذا في”الخلاصة“ وفي ”شرح الدرر“ ورخص المس باليد في الكتب الشرعية إلا التفسير، ذكره في ”مجمع الفتاوى“ وغيره، ولا يخفي أن مقتضى ما في ”الخلاصة“ عدم الكراهة مطلقا؛ لأن من أثبتها حتى في التفسير نظر إلى ما فيها من الآيات، ومن نفاها نظر إلى أن الأكثر ليس كذلك، وهذا يعم التفسير أيضا إلا أن يقال: إن القرآن فيه أكثر من غيره.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:120
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-6