عورت کی شرم گاہ سےنکلنے والی رطوبت کا حکم:

سوال:
   عورت کی شرم گاہ کی رطوبت پاک ہے، یا ناپاک؟
جواب:
   عورت کی شرم گاہ کے اندرونی حصہ (فرجِ داخل) سے نکلنے والی رطوبت ناپا ک ہے، کیونکہ وہ بمنزلہ پیشاب کے ہے، اور بیرونی حصہ (فرجِ خارج) سے نکلنے والی رطوبت پاک ہے، كيونكہ وه درحقیقت پسینہ ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، باب الأنجاس1/ 566:
   أي برطوبة الفرج، فيكون مفرّعا على قولهما بنجاستها؛ أما عنده فهي طاهرة كسائر رطوبات البدن.
2. الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي، كتاب الصلاة، مطلب في النجاسة المغلظة1/ 106:
   وأما رطوبة الفرج فهي طاهرة عند أبي حنيفة كسائر رطوبات البدن، وعندهما نجسة؛ لأنهما متولدة في محل النجاسة۔
3. رد المختار لابن عابدين، كتاب الطهارة، باب لأنجاس1/ 313:
   قوله: (برطوبة الفرج)… وأمارطوبة الفرج الخارج فطاهرة اتفاقا… ومن وراء باطن الفرج فإنه نجس قطعا ككل خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد أو قبيله.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:731
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23




دورانِ وضو وضو ٹوٹ جانے کا حکم:

سوال:
   اگر دورانِ وضو، وضو ٹوٹ جا ئے، تو دوبارہ وضو کرنا چاہیے، یا نہیں؟
جواب:
   وضو کرتے وقت اگر کسی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے، تو از سر نو وضو بنانا ضروری ہے، اس وضو کو مکمل کرنا کافی نہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة1 / 85:
   سببها(الحدث)في الحكمية، وهو وصف شرعي يحل في الأعضاء يزيل الطهارة.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء،كتاب الطهارة، الباب الرابع في التيمم1/ 26:
   لو ضرب یدیه فقبل أن يمسح أحدث لايجوز المسح بتلك الضربة، كما لو أحدث في الوضوء بعد غسل بعض الأعضاء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:730
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23




غسلِ جنابت کے بعد منی کےقطرے نکلنے سےغسل اور نماز کا حکم:

سوال:
   ایک مرتبہ زید نے غسلِ جنابت کے بعد نماز پڑھ لی، اور پھر نماز کے بعد اس نے دیکھا کہ عضوِ تناسل سے منی کا قطرہ خارج ہو گیا، تو اب غسل اور نماز دونوں کا لٹانا ضروری ہے، یا صرف غسل؟
جواب:
   صورتِ مسؤلہ میں اگر یہ شخص غسل سے پہلے نہ سویا ہو، نہ اس نے پیشاب کیا ہو اور نہ چالیس (40) قدم چلا ہو، تو ایسی صورت میں اس پر دوبارہ غسل کرنا واجب ہے، اور نماز لوٹا نے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر غسل سے پہلے ان تینوں کاموں میں سے کوئی ایک بھی کام کیا ہو، تو اس پر نہ غسل کا اعادہ ہے اور نہ  نماز لوٹانے کی ضرورت ہے۔  

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل1/ 14:
   لو اغتسل من الجنابة قبل أن يبول، أو ينام، وصلى ثم خرج بقية المني، فعليه أن يغتسل عندهما خلافا لأبي يوسف رحمه الله، ولاكن لايعيد الصلاة في قولهم جميعا.
2. رد المحتار، كتاب الطهارة، سنن الغسل160/1:
وكذا لو خرج منه بقية المني بعد الغسل قبل النوم أو البول أو المشي الكثير نهر أي لا بعده؛ لأن النوم والبول والمشي يقطع مادة الزائل عن مكانه بشهوة فيكون الثاني زائلا عن مكانه بلا شهوة فلا يجب الغسل اتفاقا زيلعي، وأطلق المشي كثير، وقيده في المجتبى بالكثير وهو أوجه؛ لأن الخطوة والخطوتين لا يكون منهما ذلك حلية وبحر. قال المقدسي: وفي خاطري أنه عين له أربعون خطوة فلينظر. اهـ.
.
3. الفتاوى التاتار خانية لعالم بن علاء الهندي،كتاب الطهارة، الفصل الثالث في الغسل 1/ 283:
   ولو جامع واغتسل قبل أن يبول وصلى، ثم سال بقية المني، فإنه يعيد الغسل عندهما، ولايعيد الصلاة بلا خلاف.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:718
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22

 




میت کو دوبارہ غسل دینا یا میت کے ناخن وغیرہ کاٹنا:

سوال:
   میت کو رات کے وقت ایک مرتبہ غسل دیا گیا، صبح نماز جنازہ سے پہلے دوبارہ غسل دیا گیا، تو کیا شرعا مردے کو دوسری مرتبہ غسل دینا درست ہے؟ نیز مردے کے ناخن اور زائد بال کاٹنا درست ہے؟
جواب:
   میت کو ایک مرتبہ غسل دینے سے حکم شرعی پورا ہو جاتا ہے، دوبارہ غسل دینا سنت سے ثابت  نہیں ہے، اس لیے میت کو ایک بار غسل دینے کے بعد دوبارہ غسل دینا پانی کا ضیاع اور اسراف ہے۔
چونکہ انسان کو مرنے کے بعد زیب وزینت کی حاجت اور ضرورت نہیں رہتی، اس لیے ميت کے ناخن اور جسم کے کسی بھی حصہ کے بال کاٹنا درست نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. الهنديه للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني في الغسل1/ 157:
   غسل الميت حق واجب على الأحياء بالسنة وإجماع الأمة … فإن خرج منه شيئ غسله ولا يعيد غسله ولا وضوءه … ولا يسرح شعر الميت ولا لحيته، ولا يقص ظفره ولا شعره  كذا في الهداية ولا يقص شاربه ولا ينتف أبطه ولا يحلق شعرعانته ويدفن بجميع ما كان عليه.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة 2/ 197:
   (ولايعاد غسله ولا وضوءه بالخارج منه) لأن غسله ما وجب لرفع الحدث … (ولا يقص ظفره) إلا المكسور … (ولا شعره) ولا يختن.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:696
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-20




زیادہ گرم چیز کھانا یا پینا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ زیادہ گرم کھانا یا مشروب پینے کا  کیا حکم ہے؟ اگر مکروہ ہے تو گرم چائے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   اگر کھانے یا پینے  کی چیز اتنی گرم ہے کہ جس سے منہ اور ہونٹ جلتے ہوں، تو ان چیزوں کا کھانا یا پینا مکروہ ہے، زیادہ گرم چائے کا بھی یہی حکم ہے۔

حوالہ جات:
1. سنن الدارمي، كتاب الأطعمة، باب النهي عن أكل الطعام الحار،الرقم: 2047:
   عن أسماء بنت أبي بكر: انها كانت إذا أتيت بثريد أمرت به، فغطي حتى يذهب فوره ودخانه، وتقول اني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول: هو أعظم للبركة.
2. المعجم الأوسط، باب الميم، الرقم: 6209:
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أبردوا بالطعام، فإن الطعام الحار غير ذي بركة».
3. النتف في الفتاوى لابي الحسن علي بن الحسين، كتاب الاشربة 1/ 245:
   وأما الكراهية فأولها النفخ في الطعام، والثاني الشم كما تشم البهام، والثالث أكل الحار، والرابع الاكل فوق الشبع، وأما التخويف فأولها ان يخاف ان يكون ذلك الطعام حظه من الاخرة، والثاني ان يخاف ان لا يقوم بشكره، والثالث ان يخاف ان يعصى الله بقوة ذلك الطعام.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:687
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




قرض پر سود لینے کاحکم:

سوال:
   عمرو نے بینک میں رقم جمع کرائی ہے، زید اس کو  کہتا ہے کہ یہ رقم مجھے دے دو، میں تم کو بینک سے ڈبل منافع دوں گا ، اور زید اس رقم سے اپنے لیے ویزہ خریدنا چاہتا ہے ،تو یہ معاملہ شرعا درست ہے؟
جواب:
   اگر ڈبل  منافع دینے سے مراد یہ ہو کہ اس رقم پر بینک کی طرف سے ماہانہ جتنا سود ملتا ہے،  میں اس کا دوگنا تمہیں دوں گا، تو جس طرح بینک سے سود لینا جائز نہیں ہے،  اسی طرح کسی دوسرے فرد سے بھی سود لینا ناجائز ہے، اور اگر اس کی مراد یہ ہو کہ میں اس رقم کو تجارت میں لگا کر سود کی بنسبت ڈبل منافع تمہیں دوں گا تو یہ جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب البيوع، باب الرابحة والتولية 5/ 166:
   (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب البيوع 6/ 29:
   وكل قرض جر منفعة لا يجوز، مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا، أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:683
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

 




مصنوعی بالوں کے ساتھ وضو اور غسل کا حکم:

سوال:
   گنجا آدمی سر پر مصنوعی بال لگائے جس کی وجہ سے  وضو اور غسل میں پانی اس کے سر کے اصل چمڑے تک نہیں پہنچتا ہو، اور ان بالوں کو نکالنے سے جسم کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، تو اب یہ شخص وضو اور غسل میں کیا کرے گا؟
جواب:
   اگر شخص مذکور کے سر پر لگوائے جانے والے بال اس کے بدن کے کسی دوسرے حصہ کے ہوں، یا خنزیر کےعلاوہ کسی اورجانور کے ہوں، یا مصنوعی ہوں اور ان کو سر پر سرجری کے ذریعے سر پر لگایا گیا ہو، تو ایسی صورت میں یہ بال جسم کا جزء بن جاتے ہیں، جن پر مسح کرنا اور غسل میں ان کا دھونا درست ہوگا، اور اگر یہ بال ایسے ہوں، جسے بآسانی لگایا اور اتارا جاسکتا ہو، تو یہ ٹوپی کے حکم میں ہیں، وضو اور غسل میں ان کا اتارنا ضروری ہوگا۔

حوالہ جات:
1. صحيح مسلم، كتاب اللباس والزينة 905:
   عن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لعن الواصلة والممستوصلة والواشمة والمستوشمة.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الحظر والإباحة 9 / 614 :
   وفي الاختيار: ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام، سواء كان شعرها أو شعر غيرها، لقوله  عليه السلام: لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة … الحديث.
3. بدائع الصنائع للکاسانی، كتاب الطهارة، أحكام الغسل 1 / 142:
   وقد مر تفسير الغسل في ما تقدم، إنه الإسالة حتى لا يجوز بدونها، وأما ركنه، فهو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج مرة واحدة.
4. فيه أيضا: 5/ 125
   ولا بأس بذلك من شعر البهيمة وصوفها؛ لأنه انتفاع بطريق التزيين بما يحتمل ذلك.
5. وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة، مطلب في أبحاث الغسل 1 / 311:
   أقول: فيه أن الغسل في الاصطلاح غسل البدن، واسم البدن يقع على الظاهر والباطن إلا ما يتعذر إيصال الماء إليه، أو يتعسر، كما في (البحر) … ويدل عليه أنه في (البدائع) ذكر ركن الغسل، وهو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج .

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:673
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




روزہ کی حالت میں بیوی سے بغل گیر ہونے سے انزال ہو جانا:

سوال:
   کوئی شخص حالت روزہ  میں اپنی بیوی سے بغل گیر ہو، اور اس کے بعد انزال ہو جائے، تو  کیا اس سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟ اور اب اس پر قضا اور کفارہ دونوں لازم ہے؟
جواب:
   روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے بغل گیر ہونے کی وجہ سے انزال ہو جائے، تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن اس روزے کی صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم،كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم، وما لا يفسده 2/ 293:
   لو قبلها بشهوة فأنزل فسد صومه؛ لوجود معنى الجماع … واللمس والمباشرة والمصافحة والمعانقة كالقبلة، ولا كفارة عليه.
2. بدائع الصنائع لأبي بكر الكاساني، كتاب الصوم، فصل حكم فساد الصوم 2/ 244:
   ولو جامع امرأته فيما دون الفرج، فأنزل، أو باشرها، أو قبلها، أو لمسها بشهوة فأنزل يفسد صومه، وعليه القضاء، ولا كفارة عليه.
3. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الصوم، الفصل الرابع في ما يفسد الصوم، وما لا يفسد صومه 2/ 386:
   وإذا قبل امرأته، وأنزل، فسد صومه من غير كفارة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:670
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




شیر خوار بچے کے پیشاب کی چھینٹوں کا حکم:

سوال:
   عام استعمال کے برتنوں میں بچوں کے پیشاب کی چھینٹیں پڑجائیں، تو ان کو کس طرح پاک کیا جائے؟
جواب:
   شیر خوار بچہ/ بچی کا پیشاب اسی طرح نجس ہے جس طرح بڑوں کا پیشاب نجس ہے، لہذا اگر اس  کی چھینٹیں کسی برتن  پر پڑجائیں تو اس کو تین مرتبہ دھوکر پاک کرلینا چاہیے۔ 

حوالہ جات:
1. ملتقى الأبحر، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ص: 93:
   والبول ولو من صغير لم يأكل، وكل ما يخرج من بدن الآدمي موجبا للتطهير.
2. الفتاوي الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الثاني في الأعيان النجسة، 1/ 46:
   كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل، فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد والقيء إذا ملأ الفم، وكذلك بول الصغير والصغيرة أكلا أو لا، كذا في الاختيار شرح المختار.
3. الفتاوي الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة 1/ 42:
   وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات، والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة، وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر، ولا يشترط فيه اليبس، هكذا في التبيين، هذا إذا تشربت النجاسة كثيرا، وإن لم تتشرب فيه أو تشربت قليلا، يطهر بالغسل ثلاثا، هكذا في محيط السرخسي.
4. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة، باب الأنجاس 1/ 322:
  أن المتنجس إما أن لا یتشرب فیه أجزاء النجاسة أصلا کالأوانی المتخذة من الحجر والنحاس والخزف العتیق، أو یتشرب فی قلیلا کالبدن والخف والنعل، أو یتشرب کثیرا، ففي الأول طھارته بزوال عین النجاسة المرئیة أو بالعدد، وفي الثانی کذلك؛ لأن الماء یستخرج ذلك القلیل، فیحکم بطھارته، وأما في الثالث فإن کان مما یمکن عصرہ کالثیاب، فطھارته بالغسل والعصر إلی زوال المرئیة، وفي غیرھا بتثلیثھا … وإن كان مما لا ينعصر كالحصير المتخذ من البردي ونحوه إن علم أنه لم يتشرب فيه، بل أصاب ظاهره، یطھر بإزالة العین بالغسل ثلاثا بلا عصر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:658
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




@123بازو پر نام گدوانے والے شخص کے وضواور غسل کا حکم

سوال:
   ایک آدمی نے اپنے بازو پر نام گدوایا ہے، تو اب اس شخص کا وضو، غسل اور نماز ہوگی یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ بازو پر یا جسم کے کسی بھی حصہ پر نام گدوانا شرعا درست نہیں، نبی کریم ﷺ نے اس طرح کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے، تاہم ایسے شخص کا وضو، غسل اور نماز درست ہے۔

حوالہ جات:
1. تكملة فتح الملهم لشيخ الإسلام محمد تقي العثماني، كتاب اللباس والزينة، 10/ 167: تحت الرقم: 119 (5536):
   عن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة.
   وقال الشيخ في شرح هذا الحديث: … والوشم حرام بنص هذا الحديث على الفاعلة والمفعول بها … أما الحنفية، فقالوا: إذا جمد الدم، والتأم الجرح بقي محله أخضر، فإذا غسل طهر؛ لأنه أثر يشق زواله؛ لأنه لايزول إلا بسلخ الجلد أو جرحه، فإذا كان لايكلف بإزالة الأثر الذي يزول بماء حار أو صابون، فعدم التكليف هنا أولى.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة، مطلب في حكم الوشم  1/ 591:
   یستفاد مما مر حکم الوشم في نحو الید، وهو أنه كالاختضاب أو الصبغ بالمتنجس؛ لأنه إذا غرزت اليد أو الشفة مثلا بإبرة، ثم حشي محلها بكحل أو نيلة ليخضر، تنجس الكحل بالدم، فإذا جمد الدم، والتأم الجرح بقي محله أخضر، فإذا غسل طهر؛ لأنه أثر يشق زواله؛ لأنه لا يزول إلا بسلخ الجلد أو جرحه، فإذا كان لا يكلف بإزالة الأثر الذي يزول بماء حار، أو صابون، فعدم التكليف هنا أولى، وقد صرح به في القنية، فقال: ولو اتخذ في يده وشما لا يلزمه السلخ … وفي الفتاوى الخيرية من كتاب الصلاة: سئل في رجل على يده وشم، هل تصح صلاته وإمامته معه أم لا؟ أجاب: نعم، تصح صلاته وإمامته بلاشبهة.
3. الفقه الإسلامي وأدلته لوهبة الزحيلي، المبحث الرابع، ثامنا: الوشم إلخ 3 / 579:
   الوشم حرام  أيضا: وهو أن تغرز إبرة أو نحوها في الجلد على ظهر الكف والمعصم، أو الوجه، أو الشفة وغير ذلك، حتى يسيل الدم، ثم يحشى محل الغرز بكحل ونحوه، فيخضر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:647
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-14