مسوڑھوں سے خون نکلنے سے وضو کا حکم:

سوال:
   وضو کرنے کے بعد اگر مسوڑھوں سے خون نکلے، تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
جواب:
   وضو کرنے کے بعد اگر مسوڑھوں سے خون نکلے اور تھوک کا رنگ غالب ہو یعنی بالکل سرخ ہو، تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر تھوک کا رنگ مغلوب یعنی زرد ہو، تو وضو نہیں ٹوٹےگا اور اگر تھوک اور خون کا رنگ برابر ہو یعنی سرخی مائل ہو تو بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔

حوالہ جات:
1. الفتاوی الهندیة للجنة العلماء، کتاب الطهارة، فصل في نواقض الوضوء 1/ 11:
   وإن خرج من نفس الفم، تعتبر الغلبة بينه وبين الريق، فإن تساويا، انتقض الوضوء، ويعتبر ذلك من حيث اللون، فإن كان أحمر انتقض، وإن كان أصفر لا ينتقض.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة، وسننه أي: سنن الوضوء 1/ 69 :
   قوله: (أو دما غلب عليه البصاق): معطوف علی البلغم … قيد بغلبة البزاق؛ لأنه لو كان مغلوبا والدم غالب نقض؛ لأنه سال بقوة نفسه، وإن استويا نقض أيضا؛ لاحتمال سيلان بنفسه، أو أساله غيره فوجد الحدث من وجه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:21
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-11

 




خنثٰی مشکل کی میت کو کون غسل دے گا؟:

سوال:
   خنثٰی مشکل  کا انتقال ہو جائے، تو اس کو کون غسل دے گا؟
جواب:
   خنثٰی مشکل (جس آدمی میں مرد اور عورت دونوں کی علامات موجود ہوں) کو نہ مرد غسل دیں گے اور نہ خواتین، بلکہ اس کو تیمم کرایا جائے گا، البتہ اگر خنثیٰ مشکل چار سال یا اس سے کم عمر کا ہو تو اس کو خواتین بھی غسل دے سکتی ہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة 3/ 111:
   وییمم الخنثی المشكل لو مراهقا.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (لو مراهقا) المراد به هنا من بلغ حدّ الشهوة، كما يعلم مما بعده.
2. النهر الفائق لعمر بن إبراهيم بن نجيم، كتاب الصلاة، الجنائز 1/ 385:
   والظاهر في الخنثى المشكل المراهق، أن يمم أيضا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:55
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-12

 




وضو کے بعد سر کے بال منڈوانے سے وضو اور مسح کا حکم:

سوال:
   اگر کوئی شخص وضو کے بعد سر کے بال منڈوائے، تو کیا اس پر دوبارہ وضو یا سر کا مسح کرنا واجب ہے، یا نہیں؟
جواب:
   سر یا جسم کے کسی بھی حصہ کے بال کاٹنے سے چونکہ وضو یا مسح نہیں ٹوٹتا؛ اس لیے سر کے بال منڈوانے کے بعد دوبارہ وضو یا مسح کرنے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات:
1. الدرالمختار للحصكفي، كتاب الطهارة، مطلب: في معنى الاشتقاق وتقسيمة إلى ثلاثة أقسام 1/ 227:
   (ولا يعاد الوضوء) بل ولا بلّ المحل (بحلق رأسه ولحيته كما لا يعاد) الغسل للمحل، ولا الوضوء (بحلق شاربه وحاجبه وقلم ظفره).
2. مراقي الفلاح لحسن بن عمار الشرنبلالي، كتاب الطهارة، ص: 26:
   ولا يعاد الغسل، ولو من جنابة (ولا المسح) في الوضوء (على موضع الشعر بعد حلقه)؛ لعدم طروء حدث به، (و) كذا لا يعاد (الغسل بقص ظفره وشاربه)؛ لعدم طروء حدث، وإن استحب الغسل.
3. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الطهارة 1/ 38 :
   ولو أمر الماء علىرأسه ولحيته، ثم حلقهما، لا يلزمه إعادة المسح عليها، هكذا روى ابن سماعة في ’’نوادره‘‘ عن محمد رحمه الله.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:54
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-12




ہوا نکلنے کے بعد استنجاء کرنے کا حکم:

سوال:
ہوا خارج ہونے سے استنجا کرنا چاہیے، یا صرف وضو کرنا کافی ہے؟
جواب:
ہوا خارج ہونے سے صرف وضو کرنا کافی ہے، استنجا کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ فقہائے كرام صرف ہوا نکلنے کی وجہ سے استنجا کرنے  کو بدعت  قرار دیا ہے۔

حوالہ جات:
1. الدرالمختار للحصکفي، کتاب الطھارة، فصل الاستنجاء 1/ 599:
   إزالة نجس عن سبيل، فلا يسن من ريح.
   قال ابن عابدین تحت قوله: (فلا يسن من ريح ) لأن عينها طاهرة، وإنما نقضت لانبعاثها عن موضع النجاسة، ولأن بخروج الريح لا يكون على السبيل شيء، فلايسن منه، بل هو بدعة، كما في ”المجتبى“.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الثالث في الاستنجاء 1/ 50:
   الاستنجاء على خمسة أوجه: … الخامس بدعة، وهو الاستنجاء من الريح، كذا في الاختيار شرح المختار.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:52
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-12




وضومیں کوئی عضو خشک رہ جانے کا حکم:

سوال:
میں نے وضو کیا اور وضو کے بعد میں نے اپنی  ایڑی کو خشک پایا، تو اب دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے، یا صرف ایڑی کو دھونا کافی ہے؟
جواب:
   اگر وضو میں کوئی جگہ خشک رہ جائے اور وضو مکمل کرنے کے بعد پتہ چلے تو یا آنے پر صرف اس جگہ کو دھونا کافی ہے، تمام وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

حواله جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الأول في فرائض الوضوء 1 /5:
   ولو بقيت على العضو لمعة لم يصبها الماء، فصرف البلل الذي على ذلك العضو إلى اللمعة جاز، كذا في الخلاصة.
2. الحلبي الكبير لإبراهيم الحلبي، كتاب الطهارة، باب فرائض الغسل، ص: 44:
   ولو تركها أي: ترك المضمضة أو الاستنشاق، أو لمعة من أي موضع كان من البدن ناسيا فصلى، ثم تذكر ذلك يتمضمض، أو يستنشق، أو يغسل اللمعة، ويعيد ما صلى إن كان فرضا؛ لعدم صحته، وإن كان نفلا فلا؛ لعدم صحة شروعه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:52
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-12




ہاتھ پر ایلفی وغیرہ  لگنے کے صورت میں وضو  کرنےکاحکم:

سوال:
   ہاتھ پر ایلفی یا سلوشن لگاہوا ہو، تو اس کے ساتھ وضو کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   ہاتھ پر ایلفی یا سلوشن لگا ہوا ہو، تو وضو سے پہلے اس کا اتارنا ضروری ہے، اس کے ہوتے ہوئے وضو درست نہیں ہوگا، البتہ وہ اتنا سخت لگا ہوا ہو کہ بآسانی جدا نہ ہورہا ہواور زیادہ رکڑنے کی صورت میں کھال اترنے یا زخمی ہونے کا اندیشہ ہو توہٹائے بغیر بھی وضو درست ہوگا۔

حواله جات:
1. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الطهارة، باب الغسل 226/1:
   وإذا كان على ظاهر بدنه جلد سمك، أو خبز ممضوغ، قد جف، فاغتسل، ولم يصل الماء إلى ما تحته، لا يجوز.
2. الفتاوی الهندية، كتاب الطهارة، الفصل الأول في فرائض الوضوء 3/1:
وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلا عن الجامع الأصغر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:48
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-12




حالتِ جنابت میں  میت کو غسل دینے کا حکم:

سوال:
   حالتِ جنابت ميں میت کو غسل دینا کیسا ہے؟
جواب:
   حالت جنابت میں میت کو غسل دینا مکروہ ہے، تاہم اگر کسی نے غسل دے دیا تو غسل ادا ہوگیا، دوبارہ دینے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة 2/202:
   ويكره أن يغسله جنب أو حائض.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الثاني في الغسل 1/159:
   وينبعى أن يكون غاسل الميت على الطهارة، كذا في فتاوى قاضيخان، ولو كان الغاسل جنبا أو حائضا أو كافرا، جاز، ويكره ،كذا في معراج الدراية.
3. الفتاوى التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الطهارة، الفصل الثالث فى الغسل 1/292:

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:47
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-11




چالیس دن سے پہلے نفاس کا خون بند ہوجانے کا حکم:

سوال:
   نفاس کا خون اگر چالیس دن سے پہلے بند ہو جائے، تو عورت غسل کر کے نماز پڑھ سکتی ہے یا چالیس دن پورا کرے گی؟
جواب:
   نفاس کی کم سے کم مقدار کے لیے کوئی حد مقرر نہیں، اس لیے جب بھی نفاس کا خون بند ہو جائے، تو فورا غسل کر کے نماز شروع کر لینی چاہیے، چالیس دن تک نماز کو مؤخر کرنا درست نہیں۔
حوالہ جات:
1. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/380:
   قوله: (ولا حد لأقله) أي: النفاس؛ لأن تقدم الولد علم الخروج من الرحم، فأغنى عن امتداده بما جعل علما عليه، بخلاف الحيض، وذكر شيخ الإسلام في مبسوطه: اتفق أصحابنا على أن أقل النفاس ما يوجد؛ فإنها كما ولدت إذا رأت الدم ساعة، ثم انقطع الدم عنها، فإنها تصوم، وتصلي، وكان ما رأت نفاسا لا خلاف في هذا بين أصحابنا.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/545:
   (والنفاس) … (دم) فلو لم تره هل تكون نفساء؟ المعتمد نعم … (لا حد لأقله).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:46
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-06

 




غسل میت کے بعد غسل کرنے کاحکم:

سوال:
ميت كوغسل دينے كے بعد غسل كرنا مسنون ہے یا مستحب یا ضروری؟
جواب:

   ميت كو غسل دينے كے بعد غسل كرنا مستحب ہے، ضروری نہیں۔ 

حوالہ جات:
1. فتح القدير لابن الهمام، كتاب الطهارات، فصل في الغسل1/71:

   ومن الاغتسال المندوبة: الاغتسال لدخول مكة، والوقوف بمزدلفة، ودخول مدينة النبي صلى الله عليه وسلم، ومن غسل الميت.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة 1/121:
   والمندوب غسل الكافر إذا أسلم، وهو غير جنب، ولدخول مكة … ومن غسل الميت.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، باب الغسل 1/34:
   وندب لمجنون أفاق … ولحضور مجمع الناس، ولمن لبس ثوبا جديدا، أو غسل ميتا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:35
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-03




مسواک کرنے کےمسنون مواقع:

سوال:
کن کن مقامات میں مسواک کرنا مسنون ہے؟
جواب:
   وضو كرتے وقت مسواک کرنا مسنون ہے، اس کے علاوہ چند مواقع ایسے ہیں کہ ان میں مسواک کرنا مستحب ہے:
(1)جب دانت پیلے ہوجائیں۔ (2) قرآن مجید کی تلاوت کے لیے. (3)جب منہ میں بدبو پیدا ہو جائے۔ (4) نیند سے بیدار ہونے کےبعد۔ (5) گھر میں داخل ہوتے وقت۔ (6) کسی مجلس میں شرکت کرتے وقت۔ (7) نماز کے لیےکھڑے ہوتے وقت، لیکن یہ اس شخص کے لیے ہےجس کے مسوڑوں سے مسواک کی وجہ سےخون نہ نکلتا ہو۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة 1/ 42:

   وليس هو من خصائص الوضوء، بل يستحب في مواضع: لاصفرار سن، وتغير الرائحة، والقيام من النوم، والقيام إلى الصلاة، وأول ما يدخل البيت، وعند اجتماع الناس، وعند قراءة القرآن.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة، باب السواك 249/1:
   ويستحب في خمسة مواضع: اصفرار سن، وتغير الرائحة، والقيام من النوم، والقيام إلى الصلاة، وعند الوضوء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:36
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-04