قبرستان سے سبز گھاس وغیرہ کاٹنا:

سوال:
   قبرستان کی خود رو گھاس کاٹنا اور جانوروں کو کھلانا شرعا کیسا ہے؟:
جواب:
   قبرستان سے خشک گھاس اور خشک شاخیں کاٹنا درست ہے، لیکن سبز گھاس اور شاخیں کاٹنا مکروہ ہے، کیونکہ یہ گھاس تسبیح کرتی ہے اور اس کی وجہ سے مرحومین پر رحمت نازل ہوتی ہے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السابع في الشهيد 1/ 167:
   ويكره قطع الحطب والحشيش من المقبرة فإن كان يابسا لا بأس به.
2. مراقي الفلاح الشرنبلالي، كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، فصل في زيارة القبور، ص: 230:
   “و” كره “قلع الحشيش” الرطب “و” كذا “الشجر من المقبرة” لأنه ما دام رطبا يسبح الله تعالى، فيؤنس الميت، وتنزل بذكر الله تعالى الرحمة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:629
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




@123قبرستان پر چھت ڈال کر مدرسہ بنانا

سوال:
چند معلوم مالکان کی قبرستان کے لیے زمین ہے، اور تمام مالکان راضی ہیں کہ مذکورہ زمین پر چھت ڈال کر مدرسہ تعمیر کیا جائے، کیا ایسی زمین پر چھت ڈال کر مدرسہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
اگر مذکورہ زمین قبرستان کے لیے وقف کی گئی ہو، تو اس پر چھت ڈال کر مدرسہ وغیرہ بنانا جائز ہے، البتہ چھت ڈال کر مدرسہ بنانے میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے:
1: اگر وہ جگہ کسی کی مملوک ہو تو اس سے جازت لے کر، اور اگر وقف شدہ ہو تو باہمی مشورہ سے اس جگہ پلرز بنا کر چھت ڈالی جائے۔
2: جس جگہ پلرز لگائے جا رہے ہوں، وہاں قبریں نہ ہوں، اگر ہوں، تو وہ اتنی بوسیدہ ہو چکی ہوں کہ میت کے اجزاء وغیرہ باقی نہ رہے ہوں۔

حوالہ جات:
لمافي عمدة القاري لبدر الدين العينى، باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية إلخ، 4/ 179 تحت الرقم: 84:
فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت، فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم، لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها، جاز صرفها إلى المسجد لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد، وذكر أصحابنا أن المسجد إذا خرب ودثر، ولم يبق حوله جماعة، والمقبرة إذا عفت ودثرت تعود ملكا لأربابها، فإذا عادت ملكا، يجوز أن يبنى موضع المسجد دارا، وموضع المقبرة مسجدا وغير ذلك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:622
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




@123وقف شدہ چیز واپس لینا

سوال:
ایک شخص فوت ہوگیا اور اس کی ایک کرسی تھی، جس پر بیٹھ کر گھر میں نماز پڑھتا تھا، تو ورثاء نے وہ کرسی مسجد میں رکھی اور بعد میں ان کے رشتہ داروں میں ایک شخص کو ضرورت پڑی، تو انہوں نے وہ کرسی مسجد سے اٹھا کر اس رشتہ دار کو دی تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
مذکورہ صورت میں اگر ورثاء نے یہ کرسی مسجد کے لیے وقف کی تھی، تو اس کرسی کو مسجد سے واپس لینا اور اپنے رشتہ دار کو دینا جائز نہیں، اور اگر ویسے ہی استعمال کے لیے رکھی تھی تو مسجد سے اٹھا کر کسی اور کو دینا جائز ہے۔

حوالہ جات:

لما في درر الحكام لملا خسرو، كتاب الوقف 2/ 134:
لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه، لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه (ولا يعار، ولا يرهن) لاقتضائهما الملك.

وفي الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، کتاب الوقف، مطلب: في وقف المرتد والكافر 4/ 351:
فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن. قال ابن عابدين تحت قوله: (لا يملك) أي: لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي: لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:621
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




@123مسجد کے درخت کا پھل خریدنا

سوال:
مسجد میں ایک درخت پھل دار آم کا موجود ہے، پھل لگنے پر کوئی شخص اس پھل کو قیمتا خرید کر گھر لے جایا چاہتا ہے اور قیمت مسجد کی فنڈ میں جمع کرے تو شرعا کیسا ہے؟
جواب:
مسجد کی احاطے میں لگے ہوئے پھل دار درخت اگر مسجد کی آمدنی کے لیے لگائے ہیں، تو اسے فروخت کرکے اس کی مناسب قیمت مسجد میں جمع کرنا ضروری ہے،مسجد میں اس کی قیمت ادا کیے بغیر اس کا استعمال کرنا درست نہیں ہے، اور اگر یہ پھل دار درخت عام لوگوں کے کھانے کے لیے ہوں، تو ان کا پھل ہر کوئی بلا اجازت کھا سکتا ہے۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف، باب غرس شجرة ووقفها أو غرس في أرض موقوفة على الرباط 5/ 221:
قال بعضهم يباح للقوم أن يفطروا بهذا التفاح والصحيح أنه لا يباح لأن ذلك صار وقفا للمسجد يصرف إلى عمارته… وما غرس في المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبيل وهو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها وإن غرس للمسجد لا يجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد الأهم فالأهم كسائر الوقف.
وفي فتاوى قاضيخان حسن بن منصور الأوزجندي، 3/ 176:
مسجد فيه شجرة التفاح قال بعضهم يباح للقوم أن يفطروا بهذا التفاح و الصحيح أنه لا يباح لأن ذلك صار للمسجد يصرف إلى عمارة المسجد.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض، 2/ 477:
مسجد فيه شجرة تفاح يباح للقوم أن يفطروا بهذا التفاح قال الصدر الشهيد – رحمه الله تعالى -: المختار أنه لا يباح، كذا في الذخيرة.
وفي البحر الرائق لابن نجيم 5/ 340:
وما غرس في المساجد من الاشجارالمثمرة إن غرس للسبيل وهو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها، وإن غرس للمسجد لا يجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد الاهم فالاهم كسائر الوقوف.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:593
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




@123 مسجد کےوضو خانہ کے اوپر دکانیں بنانا

سوال:
مسجد کے وضو خانوں کے اوپر دوکانیں بنانا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ مسجد کے وضو خانہ کی جگہ مسجد کے انتظامی ضروریات کے لیے استعمال ہوتی ہے نہ کہ نماز پڑھنے کے لیے، اس لیے وضو خانوں کی جگہ دوکانیں بنانا جس کا کرایہ مسجد کی ضروریات میں خرچ کیا جائے درست ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب الوقف، مطلب: فرع أراد أهل المحلة نقض المسجد وبناءه أحكم من الأول 4/ 357، 358:
و إذا جعل تحته سرداباً لمصالحه… أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع.
وفي فتح القدير لابن الهمام ، كتاب الوقف، فصل إذا بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه 6/ 236:
و قد ذكر المصنف في علامة النون من كتاب التجنيس: قيم المسجد إذا اراد أن يبني حوانيت في المسجد أو في فنائه لا يجوز له أن يفعل لأنه المسجد سكناً تسقط حرمة المسجد، و أما الفناء فلأنه تبع للمسجد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:548
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-07




@123مرضِ موت میں اپنی زمین مدرسہ کےلیے وقف کرنا

سوال:
اگر کسی نے سخت مرض کی حالت میں اپنی زمین مدرسہ کے لیے وقف کردی تو یہ وقف صحیح ہوا یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ اگر اس شخص کی موت اسی مرض میں واقع ہوئی ہو اور مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین اس کے مال کے ایک تہائی کے برابر یا اس سے کم ہو تو اس وصیت پرعمل کرنا ضروری ہے، اور اگر یہ زمین تہائی مال سے زیادہ ہو تو صرف تہائی مال میں اس کو نافذ کیا جائے گا، البتہ اگر سب ورثہ بالغ ہوں اور وہ اجازت دے دیں، تو پھر پوری زمین مدرسہ کے لیے وقف ہوجائے گی، اور اگر مذکورہ شخص اس مرض سے صحت یاب ہوا ہو، تو وقف شدہ ساری زمین مدرسہ کے لیے وقف ہوجائے گی، اس میں ورثاء کا حق نہیں رہے گا۔

حوالہ جات:
لما في فتح القدير ابن الهمام، كتاب الوقف 6/ 208:
قوله: (ولو وقف في مرض الموت قال الطحاوي: هو كالوصية بعد الموت) حتى يلزم بعد الموت؛ لأن تصرفات المريض مرض الموت في الحكم كالمضاف إلى ما بعد الموت حتى يعتبر من ثلث ماله. والصحيح أنه لا يلزم عند أبي حنيفة إلا أن يحكم به فله بيعه ويورث عنه إذا مات قبل الحكم إلا أن تجيز الورثة. وعندهما: يلزم إلا أنه من الثلث ؛ لتعلق حق الورثة بخلافه في الصحة.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الوقف 1/ 375:
(الوقف في مرض موته، كهبة فيه) من الثلث مع القبض، (فإن خرج) الوقف (من الثلث، أو أجازه الوارث، نفذ في الكل، وإلا بطل في الزائد على الثلث).
وفي  درر الحكام لملا خسرو، كتاب الوقف، الوقف في مرض الموت 2/ 138:
(الوقف في مرض الموت، كالهبة فيه) فيعتبر من الثلث، ويشترط فيه ما يشترط فيها من القبض والإفراز، (فإن خرج من الثلث، أو أجازه الوارث، نفذ) في الكل، (وإلا بطل في الزائد على الثلث).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:418
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




ویران موقوفہ زمین کو بیچ کر اس کی قیمت دوسری مسجد میں خرچ کرنا:

سوال:
   ایک شخص نے زمین مسجد کے لیے وقف کر دی ہے جو ابھی تک ویران پڑی ہے، اس زمین کو دوسری جامع مسجد کی توسیع کے لیے فروخت کیا جاسکتا ہے یا نہیں، جبکہ واقف بھی اس پر راضی ہو؟
جواب:
   مالکِ زمین نے جب یہ زمین مسجد کے لیے وقف کر دی، تو یہ زمین مالک کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی گئی، اب اس کو فروخت کرنا یا اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر وہ زمین ایسی ویران جگہ پر ہو کہ فی الحال یا آئندہ اس پر مسجد بنانا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے دوسری جگہ زمین خریدی جائے اور اس پر مسجد بنائی جائے۔ 

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، الباب الأول في تعريفه وركنه وسببه وحكمه وشرائطه إلخ 2/ 454 :
   وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم، ولا يباع، ولا يوهب، ولا يورث، كذا في الهداية، وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما.
2. وفي رد المحتار، کتاب الوقف مطلب في استبدال الوقف وشروطه 386/4:
   لو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها، والمعتمد أنه بلا شرط يجوز للقاضي (استبداله)بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية، وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به، وأن لا يكون البيع بغبن فاحش، وشرط في الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل؛ لئلا يحصل التطرق إلى إبطال أوقاف المسلمين كما هو الغالب في زماننا.

 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:396
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-19




مدرسہ کی زمین میں مدرسہ کے فنڈ سے فصل کاشت کرنا:

سوال:
   مدرسہ کے لیے ایک زمین خریدی ہے اور زمین میں مدرسے کے فنڈ سے کاشت کاری کی جاتی ہے، اس سے جو منافع حاصل ہو، وہ مدرسہ کے فنڈ میں جمع کیا جاتا ہے، کیا اس طرح کرنا شرعاً درست ہے؟
جواب:
   سوال ميں ذکر کردہ طریقۂ کار شرعاً درست ہے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم5/ 360:
   ولو كانت الارض متصلة ببيوت المصر يرغب الناس في استئجار بيوتها، وتكون غلة ذلك فوق غلة الزرع والنخل كان للقيم أن يبني فيها بيوتا فيؤاجرها؛ لان الاستغلال بهذا الوجه يكون أنفع للفقراء.
2. فتاوى قاضيخان لحسن بن منصور الأوزجندي3/ 169 :

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:376
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




قبرستان کے درختوں کا حکم:

سوال:
   ایک قبرستان میں بڑے بڑے درخت ہیں، اگر ان کو فروخت کرکے ان کی قیمت قبرستان میں لگا دی جائے، تو جائز ہے يا نہیں؟
جواب:
   اگر قبرستان کے درخت زمین کو قبرستان بنانے سے پہلے اُگے ہیں، تو اگر وہ زمین پہلے کسی کی مملوکہ تھی اور اس نے اس قبرستان کو وقف کیا تھا، تو یہ درخت اس شخص کی ملکیت ہے جو چاہے کرے کیونکہ درخت اس وقف میں داخل نہیں اور اگر یہ درخت قبرستان بننے کے بعد اُگے ہیں، تو اگر اگانے والا معلوم  ہے، تو وہ اسی کے ہوں گے، اور اگر اگانے والا معلوم نہیں، تو وقف سمجھے جائیں گے اور ان میں قاضی کی رائے کا اعتبار ہوگا، اگر وہ چاہے تو ان کو بیچ کر قبرستان کی ضروریات میں خرچ کرسکتا ہے، اگر قاضی موجود نہ ہو تو علاقہ کے متدین افراد کی صوابدید پر ان کو بیچ کر قبرستان کی ضروریات میں خرچ کیا جاسکتا ہے، مثلا قبرستان کے ارد گرد اگر چاردیواری کی ضرورت ہو تو چاردیواری بنائی جائے، نیز قبروں کے بیچ میں مناسب راستہ بنایا جائے تاکہ لوگ بآسانی قبروں کے پاس آ جا سکیں، ایسے ہی وہاں روشنی کا مناسب انتظام کیا جائے تاکہ رات کے وقت کسی کو دفنانا آسان ہو، تاہم اگر قبرستان میں ضرورت نہ ہو تو ان پیسوں کو کسی دوسرے کارخیر میں بھی لگایا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض 2/ 473:
   مقبرة عليها أشجار عظيمة فهذا على وجهين: إما إن كانت الأشجار نابتة قبل اتخاذ الأرض أو نبتت بعد اتخاذ الأرض مقبرة، ففي الوجه الأول المسألة على قسمين: إما إن كانت الأرض مملوكة لها مالك، أو كانت مواتا، لا مالك لها، واتخذها أهل القرية مقبرة، ففي القسم الأول: الأشجار بأصلها على ملك رب الأرض يصنع بالأشجار وأصلها ما شاء، وفي القسم الثاني: الأشجار بأصلها على حالها القديم، وفي الوجه الثاني، المسألة على قسمين: إما إن علم لها غارس، أو لم يعلم، ففي القسم الأول، كانت للغارس، وفي القسم الثاني، الحكم في ذلك إلى القاضي إن رأى بيعها، وصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك.
2. فتاوى قاضيخان لحسن بن منصور الأوزجندي، فصل في الأشجار3/ 176:
   مقبرة فيها أشجار عظيمة … وإن نبتت الأشجار فيها بعد اتخاذ الأرض مقبرة، فإن علم غارسها، كانت للغارس، وإن لم يعلم الغارس، فالرأي فيها يكون للقاضي، إن رأى أن يبيع الأشجار ويصرف ثمنها إلى عمارة المقبرة فله ذلك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:375
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18