@123باپ کا کیا ہوا نکاح بلوغت کے بعد ختم کرنا

سوال:
زید نے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں کردیا تو لڑکی بالغ ہونے پر اپنا نکاح فسخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ والد کی شفقت چونکہ اولاد کے لیے کامل ہوتی ہے؛ اس لیے شریعت نے نابالغ لڑکے یا لڑکی کے نکاح کا اختیار اس کو دیا ہے، اور والد کے کئے ہوئے نکاح کو بہر صورت معتبر مانا ہے، اس وجہ سے بیٹا یا بیٹی کو بلوغت کے بعد اس قسم نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، الباب السادس في الوكالة بالنكاح وغيرها 1 / 294:
ولو زوج ولده الصغير من غير كفء بأن زوج ابنه أمة، أو ابنته عبدا، أو زوج بغبن فاحش بأن زوج البنت، ونقص من مهرها، أو زوج ابنه، وزاد على مهر امرأته جاز.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح، فصل في الأكفاء في النكاح 3/ 144:
(قوله ولو زوج طفله غير كفء أو بغبن فاحش صح، ولم يجز ذلك لغير الأب والجد) يعني لو زوج الأب الصاحي ولده الصغير أمة، أو بنته الصغيرة عبدا، أو زوجه، وزاد على مهر المثل زيادة فاحشة، أو زوجها، ونقص عن مهر مثلها نقصانا فاحشا، فهو صحيح من الأب والجد دون غيرهما عند أبي حنيفة، ولم يصح العقد عندهما على الأصح؛ لأن الولاية مقيدة بشرط النظر، فعند فواته يبطل العقد، وله: أن الحكم يدار على دليل النظر، وهو قرب القرابة، وفي النكاح مقاصد تربو على المهر.
وفي الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب النكاح، باب في الأولياء والأكفاء 1/ 193:
فإن زوجهما الأب، أو الجد يعني الصغير والصغيرة، فلا خيار لهما بعد بلوغهما؛ لأنهما كاملا الرأي وافرا الشفقة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:157
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-23

 




123@ولی اقرب کی غیر موجودگی میں ولی ابعد کا نکاح کرانا کیسا ہے؟

سوال:
ہندہ کا باپ فوت ہوگیا، اور ہندہ کا چچا اپنے شہر سے مسافت شرعی سے زیادہ فاصلے پر گیا ہے، اب ہندہ کی والدہ نے ہندہ کا نکاح خود کر دیا، چچا کو اطلاع نہ دی، تو کیا یہ شرعا جائز ہے؟
جواب:
شرعا اگرچہ ولایت میں چچا ماں سے مقدم ہے، لیکن اگر چچا اتنا دور ہو کہ اس کے آنے تک انتظار کرنے میں مناسب رشتہ فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو، تو والدہ کا کیا ہوا نکاح درست ہے، اور اگر اتنا دور نہ ہو، تو ایسی صورت میں والدہ کا کیا ہوا نکاح چچا کی اجازت پر موقوف ہوگا، اگر اس نے اجازت دے دی تو نکاح درست ہے ورنہ درست  نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الولي 3/ 78،76:
(الوالي في النكاح) لا المال (العصبة بنفسه) وهو من يتصل بالميت حتى المعتقة (بلا توسطة أنثى) بيان لما قبله (على ترتيب الإرث والحجب)… (فإن لم يكن عصبة فالولاية للأم) ثم لأم الأب وفي القنية عكسه…(وللولي الأبعد التزويج بغيبة الأقرب) فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته ولو تحولت الولاية إليه لم يجز إلا بإجازته بعد التحول.
وفي التاتارخانية عالم بن العلاء الهندي، كتاب النكاح، الفصل معرفة الأولياء 4/ 91:
وإن زوج الصغيرة أو الصغيرة أبعد الأولياء فإن كان الأقرب حاضرا وهو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:150
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-17