@123حلالہ کی نیت سےنکاح کرنا

سوال:
اگر زید بکر کی مطلقہ سے اس نیت سے نکاح کرے، کہ مباشرت کے بعد طلاق دے دوں گا، تو اس نیت سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
    مذکورہ صورت میں اگر زید بکر کی مطلقہ سے صرف دل میں اس نیت سے نکاح کرے کہ مباشرت کے بعد طلاق دے دوں گا، تو اس نیت سے نکاح کرنا جائز ہے، لیکن اگرزید نے بکر سے بطور شرط کہہ دیا کہ نکاح کے بعد تم اس کو طلاق دو گے اور وہ تیار ہوجائے، تو یہ درست نہیں، آپﷺ نے ایسے شخص پر لعنت فرمائی ہے، تاہم کسی نے اس طرح نکاح کرلیا اور بعد میں طلاق دے دی، تو عدت گزرنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی اگرچہ شرط لگانے والا اور شرط قبول کرنے والا دونوں گنہگار ہوں گے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب الرجعة 1/ 231:
(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث لعن المحلل والمحلل له (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للاول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق كما حققه الكمال.
وفي مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر لداماد أفندي، كتاب الطلاق، باب الرجعة 1/ 439:
(بشرط التحليل كره) أي يكره التزوج بشرط التحليل بالقول بأن قال: تزوجتك على أن أحللك له، أو قالت المرأة ذلك؛ لقوله عليه الصلاة والسلام «لعن الله المحلل والمحلل له» أما لو نويا ذلك بقلبهما، ولم يشترطا بقولهما فلا عبرة به، وقيل: الرجل مأجور بذلك، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر، (وتحل) المرأة (للأول) لوجود الدخول بنكاح صحيح.
وفي المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق 6/ 9:
(قال) فإن تزوج بها الثاني على قصد أن يحللها للزوج الأول من غير أن يشترط ذلك في العقد صح النكاح، ويثبت الحل للأول إذا دخل بها الثاني وفارقها، فإن شرط أن يحللها للأول فعند أبي حنيفة رحمه الله تعالى الجواب كذلك، ويكره هذا الشرط.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:215
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-21

 




@123بیوی کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لکھنا

سوال:
کیا فرماتے ہیں کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شادی کے بعد شوہر کا نام بیوی اپنے نام کے ساتھ لگا سکتی ہے یا نہیں؟
جواب:
     شادی کے بعد بیوی کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا پورا نام یا نام کا کچھ حصہ لکھنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، کیونکہ قرآنِ کریم اور احادیث میں اسی طرح بہت سے نام آئے ہیں، جن میں بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لکھا گیا ہے۔

حوالہ جات:
لما في قوله تعالىٰ:[التحريم: 66/10]
ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ.
وفي صحيح البخاري، كتاب الزكاة، باب الزكاة على الأقارب، الرقم: 1462:
جاءت زينب، امرأة ابن مسعود، تستأذن عليه، فقيل: يا رسول الله، هذه زينب، فقال: «أي الزيانب؟» فقيل: امرأة ابن مسعود، قال: «نعم، ائذنوا لها» فأذن لها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:210
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-18




@123بیٹے کی مزنیہ سے باپ کا نکاح کرنے کا حکم

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیٹے کی مزنیہ سے باپ کا نکاح کرنا شرعاً کیسا ہے؟
جواب:
     زنا کرنے سے مرد وعورت کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، جس کے تحت زانی اور مزنیہ کے اصول وفروع ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں زانی کے باپ کا اس مزنیہ عورت کے ساتھ نکاح کرنا حرام وناجائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، فصل الثاني المحرمات بالصهرية 1/ 274:
فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها، وإن علت، وابنتها، وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني، وأجداده، وإن علوا، وأبنائه، وإن سفلوا، كذا في فتح القدير.
وفي فتح القدير لابن همام، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 3/ 210:

(ومن زنی بامرأة حرمت عليه أمها، وبنتها) … وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني، وأجداده، وإن علوا، وأبنائه، وإن سفلوا.
وفي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 2/ 107:
من زنى بامرأة حرمت عليه أمها أي: وإن علت، فتدخل الجدات بناء على ما قدمنا من أن الأم هي الأصل لغة، وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني، وأجداده، وإن علوا، وأبنائه، وإن سفلوا هذا إذا لم يفضها الزاني، فلو أفضاها لا تثبت هذه الحرمات لعدم تيقن كونه في الفرج إلا إذا حبلت، وعلم كونه منه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:208
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-18

 




@123بھائی کی ربیبہ سے نکاح کرنے کا حکم

سوال:
زید اور بکر دونوں بھائی ہیں، ہندہ زید کی منکوحہ ہیں، زینب کو ہمراہ لائی ہیں جو ہندہ کی بیٹی نہیں ہے صرف پرورش میں ہے، بلکہ خالد اور فاطمہ کی بیٹی ہیں، زید کا بھائی (بکر) زینب سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو یہ جائز ہے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں بکر کا نکاح زینب کے ساتھ جائز ہے، کیونکہ یہ بکر کے محرمات میں سے نہیں ہے۔

حوالہ جات:
لما في قوله تعالىٰ: سورة النساء 4/ 24:
وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ إلخ.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 3/ 28:
أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة، فهي سبعة: ذكرها المصنف بهذا الترتيب وبقي التطليق ثلاثا، وتعلق حق الغير بنكاح أو عدة ذكرهما في الرجعة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:206
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-15




@123لاپتہ زوج کے بیوی کے لیے نکاح کا حکم

سوال:
میرے والدصاحب (2004) کو نوکری کے سلسلے میں اپنے گھر سے نکلا، اس کے بعد گھر واپس نہیں آئے، ہم نے پولیس والوں کو اطلاع دی، تو پولیس والوں نے اپنی انکوائری شروع کی، ایک سال کے بعد پولیس والوں نے لاپتہ افراد کی رپورٹ جاری کردیا، تو آیا میری والدہ اب دوسری جگہ اپنی عقد کراسکتی ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ لاپتہ شخص کی بیوی اپنا مقدمہ عدالت میں پیش کرے، اور گواہوں کے ذریعہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، پھر گواہوں کے ذریعے اس کا لاپتہ ہونا ثابت کر دے، اس کے بعد قاضی اس کی تفتیش وتلاش کرے، اور پوری کوشش کے باوجود پتہ چلنے سے مایوسی ہوجائے، تو قاضی عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم دے، پھر چار سال گزرنے کے بعد اگر لاپتہ شخص کا پتہ نہ چلے، تو عورت قاضی کے پاس جاکر دوبارہ درخواست کرے، جس پر قاضی اس کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنادے، اس فیصلہ کے بعد یہ عورت چار ماہ دس دن عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہو گا، اور اگر عورت عصمت کو خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ ظاہر کرے، تو ایسی صورت میں چار سال کی بجائے ایک سال انتظار کا حکم دیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ ایک سال مقدمہ دائر کرنے سے شمار ہوگا، یا زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو، لیکن مفقود کا اتنا مال نہ ہو، جو ان چار سال میں بیوی کے نان نفقہ کے لیے کافی ہو، تو اس صورت میں نان نفقہ دینے کے بغیر کم از کم ایک ماہ گزرا ہو، تو قاضی نکاح ختم کر سکتا ہے، اوران آخری دو صورتوں میں یہ عورت عدت کے بجائے عدت طلاق گزاری گی، جو قاضی کے فیصلہ کے وقت سے شمار ہو گا۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب المفقود، كان مع المفقود وارث يحجب به 5/ 178:
(لا يفرق بينه وبينها) أي: وبين زوجته؛ لقوله عليه السلام في امرأة المفقود، إنها امرأته حتى يأتيها البيان، وقول علي رضي الله عنه فيها، هي امرأة ابتليت، فلتصبر حتى يتبين موت، أو طلاق.
وفي منح الجليل لمحمد بن أحمد المالكي، باب في النفقة بالنكاح والملك والقرابة 4/ 406:
ثم بعد التلوم وعدم وجدان النفقة والكسوة طلق …  وإن كان غائبا … يعني أن الغائب البعيد الغيبة، وليس له مال، أو له مال، لا يمكنها الوصول إليه إلا بمشقة، حكمه حكم العاجز الحاضر.
وفي حيلة ناجزة لأشرف علي تهانوي ص:124:                                       
وهذا بعد التلوم بنحو شهرا وباجتهاده عند المالكية وفورا، أو متراخيا عند الحنابلة، وبعد ثلاثة أيام عند الشافعية، وإن كان لخوفها الزناوتضررها بعدم الوطي
والعنا مع وجود النفقة والغنا، فبعد صبرها سنة، فاكثر عند جل المالكية، وبعد ستت اشهر عند الحنابلة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:196
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 




@123کیا سوتیلی ساس سے پردہ کرنا ضروری ہے؟

سوال:
بیوی کی سوتیلی ماں (سوتیلی ساس) سے پردہ کرنا واجب ہے یا نہیں یا حقیقی ساس کی طرح اس سے بھی پردہ کرنا ضروری نہیں ہے؟
جواب:
داماد کے لیے سوتیلی ساس (بیوی کی سوتیلی ماں) غیرمحرم ہے، اس لیے اس سے  پردہ کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في قوله تعالى: النساء 4/24:
وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل أنواع الجمع إلخ 2/263:
ما وراء ما حرمه الله تعالى، والجمع بين المرأة وعمتها وبنتها وبين خالتها مما قد حرمه الله تعالى على لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي هو وحي غيرمتلو على أن حرمة الجمع بين الأختين معلولة بقطع الرحم، والجمع ههنا يفضي إلى قطع الرحم، فكانت حرمة ثابتة بدلالة النص، فلم يكن ما وراء ما حرم في آية التحريم، ويجوز الجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل، أو بين امرأة وزوجة، كانت لأبيها وهما واحد؛ لأنه لا رحم بينهما فلم يوجد الجمع بين ذواتي رحم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:195
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 




@123رضاعی بھائی کی نسبی بہن کے ساتھ نکاح کرنا

سوال:
زید نے خالد کی ماں جو (زید کی چچی ہے) کا بچپن میں دودھ پیا ہے، اب زید کی بہن کا نکاح خالد کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
چونکہ رضاعی بھائی کی نسبی بہن کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں خالد کا اپنے رضاعی بھائی زید کی بہن کے ساتھ نکاح کرنا درست ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الرضاع 3/ 217:
(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما.
وفي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، كتاب الرضاع 2/ 184:
(وتحل أخت أخيه رضاعا ونسبا).
وفي النهر الفائق لسراج الدين عمر الحنفي، كتاب النكاح، كتاب الرضاع 2/ 302:
وتحل أخت أخيه رضاعًا ونسبًا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:176
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-11

 




@123رخصتی سےپہلےشوہر کے وفات ہونے کی صورت میں مہر کا حکم

سوال:
زید کا فاطمہ سے نکاح ہوگیا، اور رخصتی سے پہلے زید فوت ہوگیا، تو کیا فاطمہ کو مہر ملے گا یا نہیں؟
جواب:
نکاح کے بعد جس طرح میاں بیوی کے ملنے سے پورا مہر لازم ہوتا ہے، اسی طرح ان دونوں میں سے کسی ایک کے مرنے سے بھی پورا مہرلازم ہوتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں شوہر کے فوت ہونے پر بیوی پورے مہر کا حق دار ہے۔

حوالہ جات:
لما فی الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب النكاح، باب المهر 1/ 199:
ومن سمى مهرا عشرة فما زاد فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها ” لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بانتهائه يتقرر ويتأكد فيتقرر بجميع مواجبه.
وفي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، فصل بيان ما يتأكد به المهر 2/ 291:
فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل ما يجب به المهر 2/ 294:
لا خلاف في أن أحد الزوجين إذا مات حتف أنفه قبل الدخول في نكاح فيه تسمية، أنه يتأكد المسمى.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، فصل في بيان ما يجب به المر 1/ 303:
(الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل، حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:173
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-08

 




@123 نانا کی بیوہ سے نکاح کرنےکا حکم

سوال:
شیخ فانی نانا جو جماع پر قادر نہیں ہے اپنی خدمت کے لیے کسی نوجوان عورت سے نکاح کرے تو اس کے فوت ہونے کے بعد اس عورت سے مذکورہ شیخ فانی کا نواسہ نکاح کرسکتا ہے؟
جواب:
مذكوره صورت ميں نواسے کے لیے نانا کی بیوہ کے ساتھ نكاح کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:
لما في قوله تعالٰی: سورة النساء 4/ 22:
وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءإلخ.
وفي الفتاوى الهندية  للجنة العلماء، كتاب النكاح، القسم الثاني المحرمات بالصهرية1/ 274:
نساء الآباء والأجداد من جهة الأب أو الأم وإن علوا، فهؤلاء محرمات على التأبيد نكاحا ووطئا.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل أن تكون المرأة محللة 2/ 257:
وتحرم عليه جداته من قبل أبيه وأمه وإن علون بدلالة النص.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:163
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-27

 




@123 موبائل کے ذریعے نکاح کرنا

سوال:
ایک لڑکا اورلڑکی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور آپس میں شادی کرنا چاہتے ہیں ،مگر لڑکی کے والدین اس پر راضی نہیں ہیں،اب یہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم موبائل کے ذریعے نکاح  کرلیں گے، اور لڑکے کاکہنا ہے کہ جب لڑکی موبائل پر بات کرے گی،تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہی لڑکی ہے،جس سے نکاح کر رہا ہوں تو اس طرح نکاح کرنا جائز ہے؟
جواب:
چونکہ نکاح کے منعقد  ہونے کے لیے عاقدین یا ان کے وکلاء کا ایجاب وقبول کرتے وقت مجلس نکاح میں ہونا ضروری ہے، اور موبائل فون کے ذریعے نکاح کرتے ہوئےیہ شرط نہیں پائی جاتی، اس لیے موبائل  پر نکاح منعقد نہیں ہو سکتا ہے، البتہ اگر موبائل  کے ذریعے لڑکی کسی اور کو اپنے نکاح کا وکیل مقرر کر ے، اور پھر وہ وکیل اور لڑکا مجلس میں دو گواہوں کے سامنےایجاب وقبول کر لیں، تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔

حوالہ جات:
لما  في الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح 3/ 14:
ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس.
قال ابن عابدين تحت قوله: (اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد.
وفيه أيضا: 3 /21، 22:
(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا).
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل شرائط الركن، أنواع منها شرط الانعقاد 2/ 232:
(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين، وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد، حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:158
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-23