رضاعی ماں کے دوسرے شوہر سے پیدا ہونے والی بیٹی سے نکاح کرنا:

سوال:
   زید نے اپنی پھوپھی کا دودھ پیا ہے، پھر پھوپھا وفات پاگیا، اور پھوپھی نے دوسری جگہ شادی کرلی، اب دوسرے شوہر سے بیٹی پیدا ہوئی، تو زید کا نکاح اس کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   زید نے چونکہ اپنی پھوپھی کا دودھ پیا ہے، تو یہ پھوپھی زید کی رضاعی ماں بن گئی ہے، اور اس کی تمام اولاد خواہ ان کی پیدائش زید کے دودھ پینے سے پہلے ہوئی ہو یا بعد میں موجودہ شوہر ہوں یا پہلے شوہر سے، وہ تمام زید کے رضاعی  بہن بھائی بن چکے ہیں، جن کا زید کے ساتھ محرمیت کا رشتہ قائم ہوچکا ہے، لہذا زید کا اپنی رضاعی ماں کی کسی بھی بیٹی کی ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
   وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ. النساء 4/ 23:
2. سنن النسائي،كتاب النكاح، باب مايحرم من الرضاع، الرقم: 5436:
   عن عمرة، قالت سمعت عائشة ر ضى الله عنها تقول: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الرضاع   4/ 398:
   (ولا حل بين رضيعي امرأة) لكونهما أخوين، وإن اختلف الزمن والأب، (ولا) حل (بين الرضيعة، وولد مرضعتها) أي: التي أرضعتها (وولد ولدها)؛ لأنه ولد الأخ.
4. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح، باب المحرمات من الرضاع  3  /244:
   (ولا حل بين رضيعي ثدي) أي: بين من اجتمعا على الارتضاع من ثدي واحد في وقت واحد؛ لأنهما أخوان من الرضاع، فإن كان اللبن من زوجين، فهما أخوان لأم أو أختان لأم، وإن كان لرجل فأخوان لأب وأم، أو أختان لهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:504
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01




ساس زنا کا دعوی کرےاور داماد منکر ہو:

سوال:
   ساس کہتی ہے کہ داماد نے میرے ساتھ زنا کیا ہے اور داماد منکر ہے، تو کیا ساس کے اس دعوی سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں اگر ساس کے پاس اپنے دعوی پر گواہ موجود نہ ہوں، تو داماد کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی، اور حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔

حوالہ جات:
   الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 3/ 37:
   (وإن ادعت الشهوة) في تقبيله، أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل، فهو مصدق) لا هي.
قال ابن عابدين تحت قوله:
(فهو مصدق)؛ لأنه ينكر ثبوت الحرمة، والقول للمنكر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:472
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-29




@123ولدالزنا کےنسب اورمیراث کامسئلہ

سوال:
ایک شخص نے ناجائز طریقہ سے ایک عورت سے بدفعلی کی اور حمل ٹھر گیا پھر اس عورت سے نکاح کرلیا، اس صورت میں یہ بچہ حلالی ہوگا یا حرامی، اور شخص مذکور کی جائیداد میں اس کو حصہ ملے گا یا نہیں؟
جواب:
اگر یہ بچہ چھ ماہ یا اس سے زائد مدت کے بعد پیدا ہوا ہو، تو اس بچے کا نسب اس شخص سے ثابت ہوگا، اور شخص مذکورکے جائیداد میں اس کو حصہ بھی ملے گا، لیکن اگر نکاح کے بعد چھ مہینے سے کم مدت میں بچہ پیدا ہوا ہو، تو اس صورت میں بچے کا نسب اس شخص سے ثابت نہیں ہوگا، اور شخص مذکور کی جائیداد میں اس کو حصہ بھی نہیں ملےگا، البتہ اگر یہ شخص خود یہ دعوی کرے کہ یہ بچہ میرا ہی ہے، تو اس صورت میں بچے کا نسب اس سے ثابت ہو جائے گا، اور یہ نہ کہے کہ یہ بچہ مجھ سے بطور زنا پیدا ہوا ہے، تو ایسی صورت میں اس بچہ کا نسب اس سے ثابت ہوگا، اور وراثت میں حصہ بھی ملے گا۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية لجنة علماء، كتاب الطلاق، الباب الخامس عشر في ثبوت النسب 1/ 540:
ولو زنى بامرأة فحملت، ثم تزوجها فولدت إن جاءت به لستة أشهر، فصاعدا، ثبت نسبه، وإن جاءت به لأقل من ستة أشهر، لم يثبت نسبه، إلا أن يدعيه، ولم يقل: إنه من الزنا، أما إن قال: إنه مني من الزنا، فلا يثبت نسبه، ولا يرث منه.
وفي الجوهرة النيرة لأبو بكر بن علي الحدادي،كتاب العدد، العدة في النكاح الفاسد 2/ 82:
ولو زنى بامرأة، فحبلت، ثم تزوجها، فولدت، إن جاءت به لستة أشهر، فصاعدا ثبت نسبه، وإن جاءت به لأقل، لم يثبت إلا أن يدعيه، ولم يقل إنه من الزنا، أما إذا قال هو ابني من الزنا، لا يثبت نسبه، ولا يرث منه.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب النكاح، الفصل السابع عشر في ثبوت النسب /125:
رجل زنى بامرأة، فحملت منه، فلما استبان حملها، تزوجها الذي زنى بها، فالنكاح جائز، فإن جاءت بالولد بعد النكاح لستة أشهر، فصاعداً يثبت النسب منه، وترث منه، لأنها جاءت به في مدة حمل، بأنه عقيب نكاح صحيح، فإن جاءت به لأقل من ستة أشهر، لا يثبت النسب، ولا ترث منه، إلا أن يقول: هذا الولد مني، ولم يقل من الزنى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:427
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123نکاح میں شرط فاسد لگانا

سوال:
زید نے اپنی بیٹی کا نکاح خالد سے اس شرط پر کرلیا، کہ خالد اس کو اپنے گھر میں رکھے گا، تو نکاح باقی، ورنہ نہیں، اب خالد اپنی بیوی کو دوسری جگہ لے جائے، تو نکاح باقی رہے گا، یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ نکاح شرط فاسد کی وجہ سے فاسد نہیں ہوتا، بلکہ خود وہ شرط فاسد ہوتی ہے، لہذا خالد اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے جاسکتا ہے، اس کی وجہ سے اس کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات:
لما في بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل أن لا يكون مجهولا جهالة تزيد على جهالة مهر المثل 2/ 285:
ولو تزوج امرأة على ألف إن لم يكن له امرأة، وعلى ألفين إن كانت له امرأة، أو تزوجها على ألف إن لم يخرجها من بلدها، وعلى ألفين إن أخرجها من بلدها، أو تزوجها على ألف إن كانت مولاة، وعلى ألفين إن كانت عربية، وما أشبه ذلك، فلا شك أن النكاح جائز؛ لأن النكاح المؤبد الذي لا توقيت فيه، لا تبطله الشروط الفاسدة.
وفي البحرالرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب البيع، فروع متعلقة بالتصرف في مال الغائب 6/ 203:
قوله: (والنكاح) بأن قال تزوجتك على أن لا يكون لك مهر، يصح النكاح، ويفسد الشرط، ويجب مهر المثل، كما عرف في موضعه، ومن هذا القبيل، لو قال تزوجتك على أني بالخيار ويجوز النكاح ولا يصح الخيار؛ لأنه ما علق النكاح بالشرط فيبطل الخيار، كذا في الخانية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:422
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




لے پالک بیٹے کو غیر حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنا:

سوال:
   اولاد کسی کو دینا کیسا ہے، اور حقیقی والد کی جگہ سوتیلا باپ کا نام ڈومیسائل وغیرہ میں درج کرنا کیسا ہے؟
جواب:
   کسی بچے کو لے پالک بنانا درست ہے، تاہم شریعت کی رو سے حقیقت میں وہ اس شخص کا بیٹا اور وہ شخص اس کا باپ نہیں بنتا، بلکہ اس بچے کا حقیقی باپ وہی ہے جس کے نطفے سے وہ پیدا ہوا ہے اور بچے کا نسب بھی اس حقیقی باپ سے ثابت ہوگا، لہٰذا ڈومیسائل وغیرہ میں حقیقی باپ کی جگہ پرورش کرنے والے شخص کا نام لکھنا جائز نہیں، ایک روایت کے مطابق ایسے پر شخص پر جنت کو حرام کیا گیا ہے جس کی نسبت غیر باپ کی طرف کیا جاتی ہواور اس کو یہ بات معلوم بھی ہو۔

حوالہ جات:
قال الله تعالى:
   {وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيلَ * ادْعُوهُمْ لأًّبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُواْءَابَاءَهُمْ فَإِخوَانُكُمْ فِى الدِّينِ وَمَوَلِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَآ أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَّحِيماً *}  [الأحزاب: 4،5] .
2. صحيح البخاري، باب غزوة الطائف في شوال سنة ثمان، الرقم: 1804:
   عن عاصم قال: سمعت أبا عثمان قال: سمعت سعدا وهو أول من رمى بسهم في سبيل الله وأبا بكرة وكان تسور حصن الطائف في أناس فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالا: سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول: “من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم؛ فالجنة عليه حرام”.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:401
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-19




کیا راستے میں بوس وکنارکرنا خلوتِ صحیحہ کے قائم مقام ہے؟:

سوال:
   ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ رخصتی سے پہلے عام راستہ میں بوس وکنار کرے، تو کیا اس سے خلوتِ صحیحہ ثابت ہوجائے گی؟
جواب:
   خلوتِ صحیحہ کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی کو كسی کمرہ وغیرہ میں ایسی تنہائی حاصل ہوجائے، جہاں کسی اور کا آنا ممنوع ہو اور مباشرت کرنے سے کوئی بھی رکاوٹ نہ ہو، لہٰذا مذکورہ صورت میں راستہ میں بوس وکنار کرنے سے خلوتِ صحیحہ ثابت نہیں ہوگی۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة1/ 304:
   والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء، حسا أو شرعا، أو طبعا، كذا في فتاوى قاضي خان.
2. وفيه أيضا: 1/ 305 :
   لا تصح الخلوة في الصحراء ليس بقربهما أحد إذا لم يأمنا مرور إنسان، وكذا لو خلا على سطح ليس على جوانبه ستر أو كان الستر رقيقا أو قصيرا بحيث لو قام إنسان يقع بصره عليهما لا تصح الخلوة إذا خافا هجوم الغير فإن أمنا صحت الخلوة.
3. المحيط البرهاني لابن مازة، كتاب النكاح، الفصل السادس عشر في المهور3 / 110 :
   لا تصح الخلوة في المسجد، والطريق الأعظم، والحمام.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:395
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-19




رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا:

سوال:
   ایک شخص نے مدتِ رضاعت میں اپنی نانی کا دودھ پیا، تو آیا خالہ کی لڑکی سے اس شخص کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں یہ شخص اپني خالہ کا رضاعی بھائی بن گیا، اور خالہ کی بیٹی رضاعی بھانجی بن گئی، تو جس طرح حقیقی ماموں کا اپنی بھانجی سے نکاح كرنا جائز نہیں، اسی طرح رضاعی ماموں کا بھی اپنی رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
1. سنن ابن ماجه، باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، الرقم: 1937 :
   عن عائشة، قالت: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب”.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 2/ 103:
   (والكل رضاعا) أي يحرم عليه جميع من تقدم ذكره من الرضاع، وهن أمه وبنته وأخته وبنات إخوته وعمته وخالته وأم امرأته وبنتها وامرأة أبيه وامرأة ابنه كل ذلك يحرم من الرضاع كما يحرم من النسب؛ لقوله تعالى {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: 23] ولقوله عليه الصلاة والسلام «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب».

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:394
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-19




نکاح میں خطبہ نکاح اور گواہوں کی شرعی حیثیت:

سوال:
   لڑکی کا والد لڑکی کے ہوتے ہوئے لڑکے کے والد کو بغیر خطبۂ نکاح کے یہ الفاظ کہے ”میں نے اپنی بیٹی آپ کے بیٹے کو دے دی“ لڑکی کی رضامندی کے ساتھ، اور لڑکے کا والد لڑکے کی رضامندی کے ساتھ اس کا وکیل بن کر اس لڑکی کو اپنے بیٹے کے لیے قبول کرتا ہے، تو شریعت کی رو سے یہ نکاح درست ہے یا نہیں؟ اور اب لڑکی کا دوسرے لڑکے کے ساتھ قانوناً ورواجاً نکاح ہو چکا ہے، پہلے نکاح کے بعد، تو یہ دوسرا نکاح درست ہے یا نہیں؟
جواب:
   عقد نکاح میں ایجاب وقبول سے پہلے عربی میں خطبہ پڑھنا سنت ہے، فرض نہیں ہے، لہٰذا اگر دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کے الفاظ صحیح طور پر ادا کیے گئے ہوں، اور گواہوں نے سن لیے ہوں، تو یہ نکاح درست ہے، اور دوسرا نکاح باطل ہے، البتہ اگر پہلے نکاح میں دو گواہ موجود نہیں تھے اور دوسرے میں موجود تھے، تو پہلا نکاح معتبر نہیں،  دوسرا نکاح معتبر ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح 8/3:
ويندب إعلانه وتقديم خطبة،  وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول.
2. بدائع والصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل في نكاح المسلم؟ المسلمة 2/ 254:
   وروي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا نكاح إلا بشهود» وروي «لا نكاح إلا بشاهدين».
3. البحر الرائق لابن نجيم 3/ 144:
   (وينعقد بإيجاب وقبول وضعا للمضي أو أحدهما)أي: ينعقد النكاح أي: ذلك العقد الخاص، ينعقد بالايجاب والقبول، حتى يتم حقيقة في الوجود.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:341
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




مطلقہ بیوی کی عدت کے دوران سالی سے نکاح کرنا:

سوال:
   مطلقہ بیوی کی عدت کے اندر اندر اس کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے يا نہیں؟ اگر کوئی کرے تو نکاح منعقد ہوگا یا عدت کے بعد دوبارہ کرنا پڑے گا؟
جواب:
   جس طرح بیک وقت دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں، اسی طرح دورانِ عدت بھی جمع کرنا درست نہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں عدت ختم ہونے سے پہلے اپنی سالی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، اگر نکاح کر چکا ہے تو فورا جدا ہونا اور عدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالىٰ:
   وَأَن تجمعُوا بَين الْأُخْتَيْنِ، النساء: 23.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل أنواع الجمع بين ذوات الأرحام منه جمع في النكاح 2/ 263:
   وكما لا يجوز للرجل أن يتزوج امرأة  في نكاح أختها لا يجوز له أن يتزوجها في عدة أختها.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 3/ 38 :
   (و) حرم (الجمع) بين المحارم (نكاحا) أي عقدا صحيحا (وعدة ولو من طلاق بائن).
   قال ابن عابدین تحت قوله: (ولو من طلاق بائن) شمل العدة من الرجعي، أو من إعتاق أم ولد خلافا لهما أو من تفريق بعد نكاح فاسد، وأشار إلى أن من طلق الأربع لا يجوز له أن يتزوج امرأة قبل انقضاء عدتهن، فإن انقضت عدة الكل معا، جاز له تزوج أربع، وإن واحدة فواحدة بحر.
4. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 2/ 103:
   (والجمع بين الأختين نكاحا ووطئا بملك اليمين) لقوله تعالى {وأن تجمعوا بين الأختين} [النساء: 23] ولقوله – عليه الصلاة والسلام – «من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يجمعن ماءه في رحم أختين» ولأن الجمع بينهما يفضي إلى القطيعة فيحرم، وقد انعقد الإجماع على تحريم الجمع بينهما نكاحا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:336
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




مجلس نکاح میں لڑکی کے وکیل سے ایجاب کرائے بغیر لڑکے سے قبول کروانا:

سوال:
   ایک لڑکے اور لڑکی کا نکاح ہو رہا تھا، مولوی صاحب نے گواہوں اور اس لڑکی کے بھائی کو لڑکی سے اجازت لینے کے لیے بھیجا، جب لڑکی سے اجازت لے کر واپس آئے، تو مولوی صاحب نے صرف لڑکے سے قبول کرالیا اور وکیل یعنی لڑکی کے بھائی سے کچھ بھی نہیں پوچھا اور نہ ایجاب کرایا، تو یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ ایجاب وقبول نکاح کا رکن ہے، ان کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا، چنانچہ اگر لڑکا لڑکی مجلس میں خود موجود ہوں تو ان سے ایجاب وقبول کرانا چاہیے اور اگر لڑکی کی طرف سے کوئی وکیل مقرر ہو تو اس سے ایجاب کرانا چاہیے یا خطیب اس سے اختیار لے کر خود ایجاب کرے اور لڑکے سے قبول کروائے، لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر مولوی صاحب نے لڑکی کے وکیل سے نہ ایجاب کرایا تھا اور نہ اس سے اختیار لیا تھا بلکہ صرف لڑکے سے قبول کروایا تھا، تو اس طریقہ سے کیا ہوا نکاح درست نہیں، دوبارہ باندھنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح 3/ 9 :
   (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي)؛ لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت).
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، شروط النكاح وأركانه 2/ 96 :
   (وينعقد بإيجاب وقبول وضعا للماضي أو أحدهما) أي ينعقد النكاح بالإيجاب والقبول بلفظين وضعا للماضي، أو وضع أحدهما للماضي، والآخر للمستقبل؛ لأن النكاح عقد، فينعقد بهما كسائر العقود.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:335
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13