@123 کیا کافر مسلمان عورت کا ولی بن سکتا ہے؟

سوال:
ایک عورت مسلمان ہوئی، اور مسلمان کے ساتھ نکاح کا ارادہ ہے، اور اس عورت کا والد اور بھائی  کافر ہیں، کیا اس کے نکاح میں والد یا بھائی ولی بن سکتا ہے؟
جواب:
کافر کو چونکہ  مسلمان پر ولایت حاصل  نہیں ہے، اس لیے ذکر کردہ صورت میں یہ عورت عاقلہ بالغہ ہو، تو اس کا کسی مسلمان مرد سے نکاح  کرنے لیے کافر والد یا کافر بھائی نہ اس کا ولی بن سکتا ہے اور نہ ان سے اجازت کی ضرورت ہے، صرف عورت کی رضامندی کافی ہے، اگر یہ عورت مسلمان کے ملک میں رہائش پزیر ہے تو حاکم وقت یا اس کا نائب قاضی اس کا ولی بنے گا اور اس کا نکاح کرائے گا اور اگر غیر مسلموں کے ملک  میں رہائش پزیر ہے تو وہا ں پر کوئی اسلامک سنٹر ہو تو اس کا  مدیر یا امام مسجد اور خطیب اس کا ولی ہوگا اور اس کا نکاح کرے گا۔

حوالہ جات:
لما في  سنن أبي داود، كتاب النكاح، باب في الولي، الرقم:  2083:
عن عائشة قالت: قال رسول الله  صلى الله عليه وسلم  “أيما امرأة نكحت بغير إذن مواليها فنكاحها باطل – ثلاث مرات – فإن دخل بها فالمهر لهابما أصاب منها، فإن تشاجروا فالسلطان ولي من لا ولي له.
و في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح 1/ 284:
ولا ولاية لصغير ولا مجنون ولا لكافر على مسلم ومسلمة، كذا في الحاوي. ولا لمسلم على كافر وكافرة، كذا في المضمرات.
وفي التاتار خانية لعالم بن علا الهندي، كتاب النكاح، الفصل معرفة الأولياء 4/ 86:
يجب أن يعلم بأن الولي من كان من اھل للمیراث وهو عاقل بالغ حتى لا يثبت الولاء للصبي والمجنون، ولا يثبت الولاء للكافر على المسلم، ولا للمسلم على الكافر، ولا تثبت الولاية للعبد.
وفي تبيين الحقائق لزيلعي،كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء 2/ 125:
قال  رحمه الله  (ولا ولاية لصغير وعبد ومجنون) … (ولا لكافر على مسلمة) لقوله تعالى {ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا} ولهذا لا تقبل شهادته.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:572
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08

 




@123 دیوبندی لڑکے کا بریلوی لڑکی سے نکاح کرنا کیسا ہے

سوال:
دیوبندی لڑکے کا نکاح بریلوی لڑکی سے جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:
دیوبندی لڑکے کا بریلوی لڑکی سے نکاح کرنا اگرچہ جائز ہے، لیکن نکاح کے رشتہ کو دائمی طورپر خوش گوار بنانے کے لیے میاں بیوی کے درمیان مذہبی و ذہنی ہم آہنگی ہونا ضروری ہے اور مسلکی اختلاف کی صورت  میں نکاح کے رشتہ میں دوام مشکل ہوتا ہے، لہذا اگر ہم مسلک مناسب لڑکی مل جائے تو اس کو ترجیح دینا چاہیے تاکہ ازدواجی زندگی اختلاف کا شکار نہ ہو۔

حوالہ جات:
لما في بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما 2/ 270:
ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن}.
وفي الدر المختارللحصكفي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات ص: 181:
تجوز مناكحة المعتزلة، لانا لا نكفر أحدا من أهل القبلة إن وقع إلزاما في المباحث.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:570
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08

 




@123بالغ لڑکی کابوقت اجازت نکاح خاموشی کا حکم

سوال:
کسی بالغ لڑکی سے اس کا والد اجازت نکاح طلب کرے اور وہ خاموش رہے، تو یہ اجازت سمجھی جائے گی یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے اگر کنواری لڑکی سے اجازتِ  نکاح طلب کرنے پر اگر وہ خاموشی اختیار کرے، تو یہ شرعا اجازت سمجھی جائے گی، لہذا مذکورہ صورت میں  نکاح منعقد ہوا ہے۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم،كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء في النكاح 3/ 121:
لا تنكح الأيم حتى تستأمر ولا تنكح البكر حتى تستأذن، قالوا: يا رسول الله، وكيف إذنها؟ قال أن تسكت فهو لبيان، السنة للاتفاق على أنها لو صرحت بالرضا بعد العقد نطقا فإنه يجوز وأراد ببلوغها الخبر: علمها بالنكاح فدخل فيه ما لو زوجها الولي وهي حاضرة فسكتت فإنه إجازة على الصحيح.
وفي تبيين الحقائق لزيلعي، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء 2/ 118:
(ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) … وقال ابن المنذر ثبت أنه عليه الصلاة والسلام قال: «لا تنكح الثيب حتى تستأمر ولا تنكح البكر حتى تستأذن، قالوا وكيف إذنها يا رسول الله؟ قال: تسكت.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:571
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08

 




@123 حقیقی بھانجے کی بیٹی سے نکاح کا حکم

سوال:
حقیقی ماموں کا اپنے حقیقی بھانجے کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟
جواب:
حقیقی ماموں کا اپنے حقیقی بھانجے کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 2/ 101 :
قوله: (وفروع أبويه وإن نزلوا) أي فتحرم بنات الإخوة والأخوات وبنات أولاد الإخوة والأخوات وإن نزلن.
وفي عمدة الرعاية بتحشية شرح الوقاية لمحمد عبد الحي اللكنوي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 4 / 33:
وحرم على المرء أصله، وفرعه، وأخته، وبنتها، وبنت أخيه، وعمته، وخالته، وبنت زوجته إن وطئت، وأم زوجته، وإن لم توطأ، وزوجة أصله وفرعه لفظ (المختصر) وحرم أصله، وفرعه، وفرع أصله القريب، وصلبية أصله البعيد، فالأصل القريب: الأب، والأم، وفرعهما: الإخوة، والأخوات، وبنات الإخوة، والأخوات، وإن سفلت، فيحرم جميع هؤلاء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:560
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08




@123 رضاعی بہن کے بھائی سے نکاح کرنےکا حکم

سوال:
میری بیٹی مسلمہ بنت گل پنوشہ نے پاسمینہ کا دودھ پیا ہے، اب میں اپنے بیٹے ریاض کے لیے پاسمینہ کی بیٹی ثناء کا رشتہ مانگنا چاہتا ہو، تو کیا میرے بیٹے ریاض کا پاسمینہ کی بیٹی ثناء کے ساتھ نکاح جائز ہے؟
جواب:
ذکر کردہ صورت میں مسلمہ نے پاسمینہ کا دودھ پیا ہے، تو مسلمہ پاسمینہ کی رضاعی بیٹی بن گئی اور مسلمہ پاسمینہ کے تمام  بیٹوں پر حرام ہو گئی ہے، لیکن مسلمہ کا بھائی ریاض کا پاسمینہ اور اس کے بیٹیوں کے ساتھ کوئی رضاعی رشتہ نہیں ہے، اس لیے ریاض کا پاسمینہ کی بیٹی ثناء کے ساتھ  نکاح  کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في  تبيين الحقائق لزيلعي، كتاب الرضیع 2/ 184:
(وتحل أخت أخيه رضاعا ونسبا) مثاله في النسب أن يكون له أخ من أب له أخت من أمه جاز له أن يتزوج بها ومثاله في الرضاع ظاهر قال – رحمه الله – (ولا حل بين رضيعي ثدي)؛ لأنهما أخوان من الرضاع قال رحمه اللہ (وبين مرضعة وولد مرضعتها)؛ لأنهما أخوان من الرضاع أيضا ولا يشترط الاجتماع على ثديها هنا ولهذا ساغ ذكرها وإلا كانت المسألة مكررة.
وفي درر الحكام شرح غرر الأحكام لملا خسرو، كتاب الرضاع، باب ما يحرم بالرضاع 1/ 356:
(وتحل أخت أخيه مطلقا) أي يجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع كما يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب كالأخ من الأب إذا كانت له أخت من أمه جاز لأخيه من أبيه أن يتزوجها.
وفي المبسوط لمحمد بن أحمد شمس الأئمة السرخسي،كتاب الرضاع، باب تفسير لبن الفحل 30/ 301:
ولو أن امرأتين لإحداهما بنون وللأخرى بنات فأرضعت التي لها البنات ابنا من بني الأخرى، فإنما تحرم بناتها على ذلك الابن بعينه؛ لأنه صار أخا لهن من الرضاعة، ولا يحرم أحد من بناتها على سائر بني المرأة الأخرى؛ لأنه لم يوجد بينهم الأخوة من الرضاعة حيث لم يجتمعوا على ثدي واحد، ولو كانت المرأة التي لها البنون أرضعت إحدى بنات الأخرى حرمت تلك الابنة على بني المرضعة وغيرها من بناتها يحل على المرضعة، ولو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها؛ لأنها أختهم من الرضاعة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:559
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08

 




کیا بیوی اپنے فوت شدہ شوہر کا بوسہ لے سکتی ہے؟:

سوال:
   ایک عورت کا خاوند فوت ہوجائے، تو یہ عورت اس میت ( اپنے شوہر) کا بوسہ لے سکتی ہے؟ یا اس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ سکتی ہے؟
جواب:
   شوہر کے انتقال کے بعد عدتِ وفات تک بیوی کا نکاح چار (4) ماہ دس دن برقرار رہتا ہے، لہذا عورت کا اپنے فوت شده شوہر  كے ماتهے كو بوسہ دينا یا اس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھنا جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطهارة، فصل  في بيان من يغسل 1/ 304:
   والنكاح بعد الموت باق إلى وقت انقطاع العدة، بخلاف ما إذا ماتت المرأة حيث لا يغسلها الزوج؛ لأن هناك انتهى ملك النكاح لانعدام المحل، فصار الزوج أجنبيا، فلا يحل له غسلها.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة  2/ 199:
   وفي البدائع: المرأة تغسل زوجها؛ لأن إباحة الغسل مستفادة بالنكاح، فتبقى ما بقي النكاح، والنكاح بعد الموت باق إلى أن تنقضي العدة بخلاف ما إذا ماتت، فلا يغسلها لانتهاء ملك النكاح لعدم المحل، فصار أجنبيا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:523
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03




@123سالی کے ساتھ زنا کرنا کیسا ہے؟

سوال:
کیا سالی یعنی بیوی کی بہن سے زنا کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب:
سالی کی ساتھ غلط تعلقات رکھنا سخت گناہ ہے، خاص طور سے اس سے زنا كرنا اپنی بیوی کے ساتھ بہت بڑی خیانت ہے، جس پر توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، اور آئندہ کے لیے سالی سے مکمل تعلقات ختم کرکے اس سے پردہ کرنا ضروری ہے، البتہ اس زنا کی وجہ سے شوہر پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوگی، بلکہ نکاح بدستور قائم ہے، مگر جب تک سالی کو ایک دفعہ ماہواری آکر اس سے پاک نہ ہوجائے یا اگر وہ حاملہ ہے تو جب تک وضع حمل نہ ہوجائے، اس وقت تک بیوی سے ہم بستری کرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب النكاح ، باب المحرمات 3/ 34:
وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته، لا تحرم عليه امرأته. قال ابن عابدين تحت قوله: (وفي الخلاصة) لو وطئ أخت امرأة بشبهة، تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبهة، وفي الدراية عن الكامل: لو زنى بإحدى الأختين لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى.
وفي مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر لراماد أفندي، كتاب النكاح 1/ 325:
وفي الدراية: لو زنى بإحدى الأختين، لا يقرب الأخرى حتى تحيض الأخرى بحيضة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:510
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01




@123اولیاء کی اجازت کے بغیر عدالتی نکاح کا حکم

سوال:
عدالتی نکاح کی شرعی حثیت کیا ہے؟ کیا اس سے نکاح منعقد ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب:
اولاد کو اپنے والدین کی رضامندی اور ان کی مشورہ سے نکاح کرنا چاہیے، اس میں خیرو برکت ہوتی ہے، اولیاء کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح کا اقدام کرنا مناسب نہیں ہے، اس طرح کا کیا ہوا نکاح عموما پائیدار نہیں ہوتا، تاہم اگر کوئی ہم پلہ خاندانی لڑکا اور لڑکی باہمی رضامندی سے مہر مثل کے ساتھ دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں مجلس نکاح میں باقاعدہ ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کریں، تو یہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے، اور اگر لڑکا لڑکی کا ہم پلہ نہ ہو، تو لڑکی کے اولیاء کو عدالت کے ذریعہ نکاح فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

حوالہ جات:
وأخرجه المسلم في صحيح المسلم، كتاب النكاح، الرقم:1421:
عن ابن عباس رضى الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الأيم أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأذن في نفسها، وإذنها صماتها؟ قال: نعم.
وفي البناية شرح الهداية لبدرالدين العيني، كتاب النكاح، باب الأولياء ولأكفاء5/ 170:
وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها، وإن لم يعقد عليها ولي، سواء كانت بكرا، أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله  في ظاهر الرواية.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الولي  4/ 150:
(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي)، والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه، وما لا فلا، (وله) أي: للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم، كابن عم في الأصح، خانية، وخرج ذوو الأرحام، والأم، والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي، ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد، وينبغي إلحاق الحبل الظاهر، به (ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى؛ (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا، نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه، فليحفظ … وفیه ايضا (ولو نكحت بأقل من مهرها فللولي) العصبة (الاعتراض حتى يتم) مهر مثلها (أو يفرق) القاضي بينهما دفعا للعار.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:508
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01




@123بیوی کو ملنے والامہر،ہار وغیرہ کس کی ملکیت کہلائے گی؟

سوال:
ایک لڑکا شادی کے (18) دن بعد فوت ہوگیا، اور مہر میں تین تولہ سونا مقرر کیا تھا، اور عورت کو ادا بھی کیا ہے، اس کے علاوہ لڑکی کو شوہر کے گھر والوں نے بطور تحفہ ایک ہار اور ایک انگوٹھی دی تھی، اور لڑکی نے اس پر قبضہ بھی کرلیا تھا، لیکن اب یہ تینوں چیزیں لڑکے کے گھر والوں کے پاس ہیں، اب سوال یہ ہے، کہ یہ ہار، انگوٹھی اور تین تولہ سونا جو لڑکے کے گھر والوں کے پاس ہیں، اس لڑکی کا حق ہے یا نہیں؟
جواب:
مذکورہ صورت میں عورت كو پورا مہر دینا شوہر کے ذمہ لازم ہوچکا ہے، مہر میں مقرر کردہ تین تولہ سونا چونکہ عورت کا حق ہے، اس لیے شوہر کے گھر والوں کو چاہیے کہ تین تولہ سونا عورت کو واپس کردے، اور باقی ایک ہار اور انگوٹھی عورت کو سسرال والوں نے دیتے وقت یہ تصریح ہو، کہ یہ بطورِعاریت یعنی صرف استعمال کرنے کے لیے ہے، تو پھر یہ زیورات شوہر کے گھر والوں کی ملکیت ہوں گے، اور اگر سسرال والوں نے بطورِ گفٹ مالک بناکر دینے کی تصریح کی ہو، تو پھر ان زیورات کی مالکہ عورت ہوگی، اور اگر دیتے وقت کوئی تصریح نہ کی گئی ہو تو پھر شوہر کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا، اگر ان کا عرف ورواج عاریت کا ہے تو یہ عاریت ہوگی، اور اگر ہبہ کا ہے تو پھر یہ ہبہ شمار ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في سنن ابن ماجه، باب العارية، الرقم: 2399
عن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: العارية مؤداة، والمنحة مردودة.
في الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب النكاح، باب المهر  3/ 102:
ويتأكد (عند وطء، أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) أو تزوج ثانيا في العدة،
وفيه ايضا:
قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد، والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك، أو من دراهم، أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية، لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابه، ونحوها صبيحة العرس أيضا.
وفيه ايضا: والمعتمد البناء على العرف، كما علمت.
وفي الدرالمختار للحصكفي،كتاب الهبة  1/ 561:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب، لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب، منع تمامها، وإن شاغلا لا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:507
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01




بیوی کی وفات کے بعد اس کی بھتیجی سے نکاح کرنا:

سوال:
   زید نے ایک عورت سے نکاح کیا، دو بچے بھی پیدا ہوئے، اس کے بعد عورت فوت ہوگئی، اب زید بیوی کی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، شرعا کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
   بیک وقت نکاح میں کسی عورت کے ساتھ اس کی محرمات ميں كسی ایسی عورت کو جمع کرنا جائزنہیں ہوتا جن میں سے اگر ایک کو مرد فرض کیا جائے اور دوسری کو عورت تو ان کا آپس میں درست نہ ہو، ان اصول کی رو سے بیوی کی زندگی میں اس کی بھتیجی سے تو نکاح درست نہیں، تاہم بیوی کی فوتگی کے بعد اپنی فوت شدہ بیوی كى بھتیجی سے نکاح کرنا درست ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب النكاح ، فصل في المحرمات  4/ 122:
   ماتت امرأته، له التزوج بأختها بعد يوم من موتها، كما في الخلاصة عن الأصل، وكذا في المبسوط لصدرالإسلام، والمحيط للسرخسي، والبحر، والتتارخانية وغيرها من الكتب المعتمدة.
2. فتح القدير لابن الهمام، كتاب النكاح 1/ 279:
   ويجوز لزوج المرتدة، إذا لحقت بدار الحرب تزوج أختها قبل انقضاء عدتها، كما إذا ماتت.
3. البحر الرائق لابن نجيم المصري، كتاب النكاح  2/ 144:
   حرم الجمع بين امرأتين، إذا كانتا بحيث لو قدرت إحداهما ذكرا، حرم النكاح بينهما، أيتهما كانت المقدرة ذكرا، كالجمع بين المرأة وعمتها، والمرأة وخالتها، والجمع بين الأم والبنت نسبا، أو رضاعا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:506
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01