@123 جن مرد یا جنیہ عورت کے ساتھ نکاح کرنا

سوال:
انسان کا جنیہ عورت کے ساتھ نکاح شرعا درست ہے یا نہیں؟
جواب:
چونکہ انسان اور جنات دونوں الگ الگ جنس ہیں، اور نکاح کے لیے میاں بیوی کا ایک ہی جنس سے ہونا ضروری ہے، لہذا کسی مرد کا جنیہ عورت کے ساتھ اور جن مرد کا کسی انسان عورت  کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح 3/ 5:
لا تجوز المناكحة بين بني آدم والجن، وإنسان الماء؛ لاختلاف الجنس،  اهـ ، وفاد المفاعلة أنه لا يجوز للجني أن يتزوج إنسية أيضا.
و في الفتاوى السراجية لسراج الدين الأوشي، كتاب النكاح، باب نكاح المحارم 1/ 193:
لا یجوز المناكحة بين بني آدم والجن، والإنسان المائي لاختلاف الجنس.
و في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح 3/ 138:
والاولى أن يقال: إن محلية الانثى المحققة من بنات آدم … والجنية للانسى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:713
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22




@123عدت میں نکاح کرنا کیسا ہے؟

سوال:
میں نے ایک شخص کا نکاح پڑھایا، نکاح کے بعد معلوم ہوا کہ عورت تو عدت طلاق میں ہے، تو کیا یہ نکاح جائز ہے؟
جواب:
عدت میں کیا ہوا نکاح شرعا باطل اور ناجائز ہے، لہذا یہ نکاح منعقد نہیں ہوا ہے، میاں بیوی کو چاہیے کہ فورا ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور عدت گزرنے کے بعد اگر وہ آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں ۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح وفيه أحد عشر بابا، الباب الثالث في بيان المحرمات وهي تسعة أقسام، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير 1/ 280:
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره، وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج، سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح، باب العدة، عدة زوجة الصغير الحامل 4/ 156:
أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير؛ لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة، لكونه زنا كما في القنية.
وفي الدر المختار للحصکفی، كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في النكاح الفاسد 3/ 132:
أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير، لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة؛ لأنه زنى كما في القنية وغيرها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:711
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22




@123مہرِ شرعی کی مقدار

سوال:
مہرِ شرعی کی مقدار آج کل کے حساب سے کتنی ہے؟
جواب:
مہرِ شرعی کی مقدار کم سے کم دس درہم (2 تولے ساڑھے سات ماشے چاندی) یا ان کی قیمت ہے، اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی مقدار مقرر نہیں، البتہ مہر اتنی مقرر کرنی چاہیے کہ اس کی ادائیگی ممکن ہو۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب المهر 3/ 101:
(أقله عشرة دراهم) لحديث البيهقي وغيره «لا مهر أقل من عشرة دراهم» ورواية الأقل تحمل على المعجل (فضة وزن سبعة) مثاقيل كما في الزكاة (مضروبة كانت أو لا) ولو دينا أو عرضا قيمته عشرة وقت العقد.
وفي اللباب في شرح الكتاب عبد الغني بن طالب الحنفي، كتاب النكاح 3/ 14:
(وأقل المهر عشرة دراهم) وزن سبعة مثاقيل؛ سواء كانت مضروبة أو غير مضروبة، أو ما قيمته عشرة دراهم يوم العقد.
وفي  الهداية علي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب النكاح، باب المهر 1/ 198:
وأقل المهر عشرة دراهم.
وفي تبيين الحقائق عثمان بن علي الحنفي، كتاب النكاح، باب المهر 2/ 136:
أقل المهر عشرة دراهم، سواء كانت مضروبة أو غير مضروبة حتى يجوز وزن عشرة تبرا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:626
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




@123بیوی کی سوتیلی ماں کو ایک نکاح میں جمع کرنا

سوال:
زید نے ہندہ سے نکاح کرنے کے بعد صحبت بھی کرلی،  اب زید سسر کی  وفات کے بعد  ہندہ  کی سوتیلی ماں یعنی سسر  کی دوسری  بیوی سے بھی  نکاح  کرنا چاہتا ہے، تو یہ جائز  ہے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں زید کا نکاح ہندہ کی سوتیلی ماں سے  درست ہے؛ کیونکہ ان دونوں کے درمیان حرمت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

حوالہ جات:
لما في شرح مختصر الطحاوي لأبي بكر الجصاص، كتاب النكاح، باب ما يحرم نكاحه، وما يحرم الجمع بنسب 4/ 333:
(ولا بأس بالجمع بين امرأة وبين زوجة أبيها).
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 3/ 162:
وقيد بقوله: أية فرضت لأنه لو جاز نكاح إحداهما على تقدير مثل المرأة وبنت زوجها، أو امرأة ابنها، فإنه يجوز الجمع بينهما عند الأئمة الأربعة، وقد جمع عبد الله بن جعفر بين زوجة علي وبنته، ولم ينكر عليه أحد، وبيانه أنه لو فرضت بنت الزوج ذكرا بأن كان ابن الزوج لم يجز له أن يتزوج بها؛ لأنها موطوءة أبيه، ولو فرضت المرأة ذكرا لجاز له أن يتزوج ببنت الزوج؛ لأنها بنت رجل أجنبي.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 4/ 180:
فجاز الجمع بين امرأة وبنت زوجها أو امرأة ابنها، أو أمة، ثم سيدتها، لانه لو فرضت المرأة أو امرأة الابن أو السيدة ذكرا لم يحرم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:612
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12

 




@123بالغہ لڑکی کا نکاح ا س کی رضامندی کے بغیر کسی سےکرنا کیسا ہے؟

سوال:
زید نے اپنی نابالغ  بیٹی کی منگنی خالد کے ساتھ کی تھی، جس میں نکاح کا مجلس باقاعدہ منعقد نہیں ہوا تھا، اب بیٹی بالغ ہوگئی ہے، اور خالد کے ساتھ رشتہ پر راضی نہیں ہے، اب اس کا حل کیا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ منگنی کی شرعی حیثیت وعدۂ نکاح کی ہے، حقیقی نکاح نہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں زید کی بیٹی اگر اس رشتہ پر راضی نہ ہو، تواس  کا نکاح خالد سے نہیں کرانا چاہیے، بلکہ کسی اور مناسب مرد سے  کرلینا چاہیے،  چنانچہ اگر اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح خالد سے کیا گیا، اور حسب سابق لڑکی اس پر رضامند نہ ہو، تو یہ نکاح شرعا معتبر نہیں ہوگا ۔

حوالہ جات:
لما في تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء 2 / 118:
ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) يريد به أنه لا يزوجها بغير رضاها، فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها عندنا.
وفي البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء في النكاح 3/ 118:
(قوله ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) أي: لا ينفذ عقد الولي عليها بغير رضاها عندنا.
وفي  النهر الفائق لسراج الدين عمر بن إبراهيم لابن نجيم، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء 2/ 202:
(ولا تجبر بكر بالغة على النكاح) لأنها حرة مخاطبة فلا يكون لغيرها عليها ولاية، وإنما ملك الأب قبض الصداق برضاها دلالة.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الولي 3/ 58:
(ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ، (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:611
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




@123 ولی اقرب کی غیر موجودگی میں ولی ابعد کا نکاح کرانا کیسا ہے؟

سوال:
ہندہ کا باپ فوت ہوگیا، اور ہندہ کا چچا اپنے شہر سے مسافت شرعی سے زیادہ فاصلے پر گیا ہے، اب ہندہ کی والدہ نے ہندہ کا نکاح خود کر دیا، چچا کو اطلاع نہ دی، تو کیا یہ شرعا جائز ہے؟
جواب:
شرعا اگرچہ ولایت میں چچا ماں سے مقدم ہے، لیکن اگر چچا اتنا دور ہو کہ اس کے آنے تک انتظار کرنے میں مناسب رشتہ فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو، تو والدہ کا کیا ہوا نکاح درست ہے، اور اگر اتنا دور نہ ہو، تو ایسی صورت میں والدہ کا کیا ہوا نکاح چچا کی اجازت پر موقوف ہوگا، اگر اس نے اجازت دے دی تو نکاح درست ہے ورنہ درست  نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الولي 3/ 78،76:
(الوالي في النكاح) لا المال (العصبة بنفسه) وهو من يتصل بالميت حتى المعتقة (بلا توسطة أنثى) بيان لما قبله (على ترتيب الإرث والحجب)… (فإن لم يكن عصبة فالولاية للأم) ثم لأم الأب وفي القنية عكسه…(وللولي الأبعد التزويج بغيبة الأقرب) فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته ولو تحولت الولاية إليه لم يجز إلا بإجازته بعد التحول.
وفي التاتارخانية عالم بن العلاء الهندي، كتاب النكاح، الفصل معرفة الأولياء 4/ 91:
وإن زوج الصغيرة أو الصغيرة أبعد الأولياء فإن كان الأقرب حاضرا وهو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:588
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




@123نکاح سے پہلے اپنی منگیتر سے ملنا اور فون پر باتیں کرنا

سوال:
نکاح سے پہلے اپنی منگیتر سے ملنا، فون پر باتیں کرنا اور گھومنا پھرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ شریعت میں منگنی کی حیثیت ایک وعدہ کی سی ہے، لہذا جب تک باقاعدہ نکاح نہ ہوا ہو، تو اس وقت تک منگیتر اجنبیہ ہوگی، لہذا اس سے ملنا، بیٹھنا اور باتیں کرنا جائز نہیں، بلکہ بعض مرتبہ اس طرح ملنے جلنے اور باتیں کرنے سے ناچاقی پیدا ہو جاتی ہے، اور نکاح ہونے سے پہلے ہی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

حوالہ جات:
لما في صحيح مسلم،  باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، الرقم: 1341، 2/ 978:
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، وزهير بن حرب، كلاهما عن سفيان، قال أبو بكر: حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا عمرو بن دينار، عن أبي معبد، قال: سمعت ابن عباس، يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يقول: «لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها ذو محرم، ولا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم»، فقام رجل، فقال: يا رسول الله، إن امرأتي خرجت حاجة، وإني اكتتبت في غزوة كذا وكذا، قال: «انطلق فحج مع امرأتك».
و في الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، فصل في النظر والمس 6/ 369:
الخلوة بالأجنبية حرام…ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:587
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




@123غیر مسلم عورت کے قبول اسلام کے بعد نکاح کی شرعی حیثیت

سوال:
اگر کوئی کافر عورت مسلمان ہو جائے اور کافر شوہر سے جدا ہو جائے تو کسی مسلمان سے کب شادی کر سکتی ہے؟
جواب:
واضح رہے اگر کوئی عورت مسلمان ہو جائے اور شوہر مسلمان نہ ہوا ہو، تو میاں بیوی اگر دارالاسلام میں ہوں، قاضی شوہر پر اسلام پیش کرے گا اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کرے، تو قاضی دونوں کے درمیان تفریق کر دے گا، تفریق کے بعد عورت عدت (تین ماہواریاں) گزارنے کے بعد کسی مسلمان مرد سے نکاح کرسکتی ہے اور اگر دونوں دارالحرب میں ہوں یا ایسے اسلامی ملک میں ہوں جہاں شرعی قانون کے مطابق فیصلے نہ کیے جاتے ہوں، تو عورت تین ماہواریاں گزار کر اپنے کافر شوہر کے نکاح سے نکل جائے گی، یعنی اگر شوہر نے تین حیض گزرنے تک اسلام قبول نہیں کیا تو یہ عورت اپنے کافر شوہر کے نکاح سے خود بخود نکل جائے گی، اس کے بعد کسی مسلمان مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب نكاح الكافر3/ 191:
(ولو) (أسلم أحدهما) أي أحد المجوسيين أو امرأة الكتابي (ثمة) أي: في دار الحرب وملحق بها كالبحر الملح (لم تبن حتى تحيض ثلاثا) أو تمضي ثلاثة أشهر (قبل إسلام الآخر) إقامة لشرط الفرقة مقام السبب، وليست بعدة لدخول غير المدخول بها.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح، باب نكاح الكافر 3/ 370:
(ولو أسلم أحدهما ثمة لم تبن حتى تحيض ثلاثا فإذا حاضت ثلاثا بانت) لان الاسلام ليس سببا للفرقة، والعرض على الاسلام متعذر؛ لقصور الولاية ولا بد من الفرقة دفعا للفساد، فأقمنا شرطها، وهو مضي الحيض مقام السبب.
وفي فتح القدير لابن الهمام، كتاب النكاح، باب نكاح أهل مشرك 3/ 427:
(وإذا خرجت المرأة إلينا مهاجرة جاز لها أن تتزوج ولا عدة عليها) عند أبي حنيفة. وقالا: عليها العدة؛ لأن الفرقة وقعت بعد الدخول في دار الإسلام فيلزمها حكم الإسلام.
وفي تبيين الحقائق عثمان بن علي الزيلعي الحنفي، كتاب النكاح، باب نكاح الكافر 2/ 174:
(وإذا أسلم أحد الزوجين عرض الإسلام على الآخر فإن أسلم وإلا فرق بينهما) وهذا الكلام على إطلاقه يستقيم في المجوسيين؛ لأنه بإسلام أحدهما أيهما كان يفرق بينهما بعد الآباء، وأما إذا كانا كتابيين فإن أسلمت هي فكذلك وإن أسلم هو فلا يتعرض لها لجواز تزوجها للمسلم ابتداء فلا حاجة إلى العرض … فيؤجل إلى انقضاء ثلاث حيض كما في الطلاق حيث ينقطع قبل الدخول بنفسه وبعده لا ينقطع حتى تنقضي عدتها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:586
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




@123چچازاد بھائی کی بیٹی سے شادی کرنا

سوال:
چچا زاد بھائی کی لڑکی سے شادی کرنا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
چچا زاد بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في قوله تعالى:
{وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ } [النساء: 24]
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، القسم الأول المحرمات بالنسب 1/ 273:
وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت، فهن محرمات نكاحا.
وفي البناية شرح الهداية، كتاب النكاح،فصل في الوكالة بالنكاح وغيرها 5/ 122:
(ويجوز لابن العم أن يزوج بنت عمه من نفسه).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:585
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




@123نو مسلمہ کے سرپرست کااس سے نکاح کر نا کیسا ہے؟

سوال:
زید نے ایک ہندو بچی کو مسلمان کیا اب وہ بالغ ہوگئی ہے، اور زید اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو زید کا اس کے ساتھ نکاح جائز ہے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں اس لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح، 3/ 85:
(قوله: هو عقد يرد على ملك المتعة قصدا) أي النكاح عند الفقهاء والمراد بالعقد مطلقا نكاحا كان أو غيره مجموع إيجاب أحد المتكلمين مع قبول الآخر سواء كان باللفظين المشهورين من زوجت وتزوجت أو غيرهما مما سيذكر أو كلام الواحد القائم مقامهما أعني متولي الطرفين.
وفي تبيين الحقائق عثمان بن علي، كتاب الطلاق، 2/ 94:
(هو عقد يرد على تملك المتعة قصدا) احترز بقوله: قصدا عن عقد تملك به المتعة ضمنا كالبيع والهبة ونحوهما؛ لأن المقصود فيها ملك الرقبة ويدخل ملك المتعة فيها ضمنا إذا لم يوجد ما يمنعه.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الولي 3/ 55:
(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:583
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-09