گونگے کے لیے بوقتِ نکاح ایجاب وقبول کا طریقہ:

سوال:
   کوئی لڑکا گونگا ہو اور بالغ ہو تو اس کا نکاح کس طرح ہوسکتا ہے، یعنی خود بول نہیں سکتا، تو قبول کس طرح کرے گا؟
جواب:
   گونگا شخص اگر لکھنا جانتا ہو تو لکھ کر نکاح کو قبول کرے، اور اگر لکھنا نہ جانتا ہو تو اشارے سے بھی نکاح قبول کرسکتا ہے۔

حوالہ جات:
1. المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، باب طلاق الأخرس6/ 144:
   وإن كان الأخرس لا يكتب، وكانت له إشارة تعرف في طلاقه ونكاحه وشرائه وبيعه فهو جائز استحسانا.
2. بدائع الصنائع لابن علاء الهندي، كتاب النكاح، فصل ركن النكاح 2/ 231:
   كما ينعقد النكاح بالعبارة ينعقد بالإشارة من الأخرس إذا كانت إشارته معلومة، وينعقد بالكتابة.
3. البناية لبدر الدين العينى، كتاب الطلاق، طلاق الأخرس55/ 302:
(وطلاق الأخرس واقع بالإشارة) ش: إن كانت له إشارة تعرف في نكاحه وطلاقه وعتاقه وبيعه وشرائه، يقع استحسانا، سواء قدر على الكتابة أم لا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:764
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-26




دوران عدت نکاح کا حکم:

سوال:
   زید نے فاطمہ کو طلاق مغلظ دے دی، اور عدت کے دوران عمر نےاس سے نکاح کیا، تو شریعت میں اس نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   دورانِ عدت چونکہ نکاح باطل ہے، اس لیے عمر کا فاطمہ کے ساتھ نکاح کرنا درست نہیں۔

حوالہ جات:
1. المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، باب من الطلاق6/ 131:
   نكاح المعتدة باطل.
1. بدائع الصنائع للکاساني، كتاب الطلاق، فصل في أحكام العدة3/ 204:
   أما أحكام العدة فمنها: أنه لا يجوز للأجنبي نكاح المعتدة لقوله تعالى: {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235] قيل: أي: لا تعزموا على عقدة النكاح، وقيل: أي: لا تعقدوا عقد النكاح حتى ينقضي ما كتب الله عليها من العدة.
3. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات 2/ 108:
   (اعلم) أنه لا يجوز نكاح المعتدة من غيره على أي وجه لزمتها العدة، لقوله تعالى: {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235].

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:763
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-26




بوقتِ نکاح مہر مقرر نہ کرنے کا حکم:

سوال:
   نکاح کے وقت اگر مہر کا تذکرہ نہ کیا ہو تو نکاح ہو گیا یا نہیں؟
جواب:
   نکاح کے وقت اگر مہر کا تذکرہ نہ كيا ہو تو نکاح درست ہے، لیکن مہر مثل لازم ہوگا، یعنی جو مہر اس لڑکی کے پدری رشتہ دار عورتوں میں سے اس کی بہن، چچا زاد بہن، پھوپھی زاد بہن کا ہو وہی اس کا ہوگا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختارللحصكفي،كتاب النكاح، باب المهر3/ 137:
(و) الحرة (مهر مثلها) الشرعي (مهر مثلها) اللغوي: أي مهر امرأة تماثلها (من قوم أبيها) لا أمها إن لم تكن من قومه كبنت عمه، وفي الخلاصة: يعتبر بأخواتها وعماتها، فإن لم يكن فبنت الشقيقة وبنت العم، انتهى، ومفاده اعتبار الترتيب، فليحفظ.
2. الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني،كتاب النكاح، باب المهر1/ 199:
   وإن تزوجها، ولم يسم لها مهرا، أو تزوجها على أن لا مهر لها، فلها مهر مثلها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:762
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-24




بالغہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟:

سوال:
   ایک لڑکی سولہ سال کی ہے اور والد نے اس کا نکاح زبردستی کر دیا تو کیا یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے؟ اور ولی بالغہ لڑکی کا نکاح زبردستی کرسکتا ہے؟
جواب:
   شریعت نے بالغہ،عاقلہ لڑکی کو اپنی پسند اور مرضی کے مطابق نکاح کرنے کا حق دیا ہے، لہٰذا اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہیں کرسکتا، اگر اس نے کر دیا تو یہ نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوگا، اگر اس نے اجازت دے دی، تو نکاح درست ہو جائے گا، اور اگر انکار کیا تو درست نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح1/ 287:
   لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها، فإن أجازته جاز، وإن ردته بطل.
2. مجمع الأنهر لعبد الرحمن بن محمد، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء، 1/ 490:
   ولا يجبر ولي بالغة على النكاح، بل يجبر الصغيرة عندنا ولو ثيبا؛ لأن ولاية الإجبار ثابتة على الصغيرة دون البالغة ولو بكرا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:761
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-24




زانیہ کا زانی سے نکا ح کے بعد بچے کے نسب اور میراث کاحکم:

سوال:
   زید نے کسی عورت سے زنا کیا اور وہ عورت حاملہ ہوئی، پھر زید نے اس سے نکاح کیا اور بچہ پیدا ہوا، تو اب اس بچے کا نسب زید سے ثابت ہو گا یا نہی؟، نیز یہ بچہ زید کا وارث ہو گا؟
جواب:
   اگر بچہ نکاح کے چھ ماہ بعد پیدا ہوا ہو، تو اس کا نسب ثابت ہوگا، اور وارث بھی بنے گا، اور اگر چھ ماہ سے پہلے پیدا ہوا ہو، تو نہ نسب ثابت ہوگا، اور نہ وارث بنے گا، الا یہ کہ زید اس بچے کے باپ ہونے کا اقرار کرے اور زنا کا ذکر نہ کرے، تو پھر اس بچے کا نسب ثابت ہوگا، لیکن اگر وہ یہ اقرار کرے کہ یہ مجھ سے بطور زنا پیدا ہوا ہے، تو پھر نہ اس کا زید سے نسب ثابت ہوگا اور نہ وارث بنے گا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، فصل في المحرمات3/ 49:
   لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا، والولد له(قوله: والولد له) أي: إن جاءت بعد النكاح لستة أشهر، مختارات النوازل، فلو لأقل من ستة أشهر من وقت النكاح، لا يثبت النسب، ولا يرث منه إلا أن يقول: هذا الولد مني، ولا يقول: من الزنى خانية، والظاهر أن هذا من حيث القضاء، أما من حيث الديانة فلا يجوز له أن يدعيه؛ لأن الشرع قطع نسبه منه، فلا يحل له استلحاقه به، ولذا لو صرح بأنه من الزنى لا يثبت قضاء أيضا  وإنما يثبت لو لم يصرح؛ لاحتمال كونه بعقد سابق أو بشبهة حملاً لحال المسلم على الصلاح، وكذا ثبوته مطلقاً إذا جاءت به لستة أشهر من النكاح؛ لاحتمال علوقه بعد العقد، وأن ما قبل العقد كان انتفاخاً لا حملاً، ويحتاط في إثبات النسب ما أمكن”.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطلاق، الباب الخامس عشر في ثبوت النسب1/ 540:
   ولو زنى بامرأة فحملت، ثم تزوجها فولدت إن جاءت به لستة أشهر فصاعدا ثبت نسبه، وإن جاءت به لأقل من ستة أشهر لم يثبت نسبه إلا أن يدعيه ولم يقل: إنه من الزنا، أما إن قال: إنه مني من الزنا فلا يثبت نسبه، ولا يرث منه كذا في الينابيع.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:760
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-24




سوتیلی خالہ سے نکاح کرنا کیسا ہے؟:

سوال:
   سو تیلی خالہ (ماں اور خالہ کی والدہ ایک ہولیکن باپ الگ الگ ہوں) سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور آیت کریمہ میں ”خالاتکم“ سے کیا مراد ہے؟
جواب:
   خالہ چاہے سگی ہو یا سو تیلی اس سے نکاح کرنا جائز نہیں، اور قرآن کریم کی ذکر کردہ آیت سے دونوں قسم کی خالائیں مراد ہے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالٰى:
   حرمت عليكم أمهتكم وبناتكم وأخوتكم وعمتكم وخلتكم. (النساء4/23).
2.  تفسير الخازن، النساء، آية: 23/ 358):
   وَخالاتُكُمْ جمع خالة، وهي كل امرأة شاركت الأم في أصلها فيدخل فيه جميع أخوات الأم وأخوات أمهاتها، وقد تكون الخالة من جهة الأب أيضا، وهي أخت أم الأب.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات 1/ 273:
   (القسم الأول المحرمات بالنسب) وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات وبنات الأخ وبنات الأخت فهن محرمات نكاحا ووطئا ودواعيه على التأبيد فالأمهات:… وأما الخالات فخالته لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاته.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:759
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-24

 




امام کی نماز فاسد ہو نےسے مقتدی کی نماز کا حکم:

سوال:
   ایک آدمی جماعت كرا رہا ہے اور درمیان میں نماز کو فاسد کردے، تو مقتدی اپنی نماز پوری کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز كے تابع ہوتی ہے، امام کی نماز فاسد ہونے سے مقتدی کی نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے، لہٰذا مذکورہ صورت میں امام کی نماز فاسد ہونے کے بعد مقتدی کا اسی نماز کو پورا کرکے سلام پھیرنا درست نہیں، بلکہ ازسرِ نو پڑھنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي كتاب الصلاة، باب الإمامة1/ 591:
   (وإذا ظهر حدث إمامه) وكذا كل مفسد في رأي مقتد (بطلت فيلزم إعادتها) لتضمنها صلاة المؤتم صحة وفسادا.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الإمامة1/ 388:
   (قوله: وإن ظهر أن إمامه محدث، أعاد) أي على سبيل الفرض، فالمراد بالإعادة الإتيان بالفرض لا الإعادة في اصطلاح الأصوليين الجابرة للنقص في المؤدى، فلو قال: بطلت لكان أولى، وإنما بطلت صلاة المأموم؛ لأن الاقتداء بناء والبناء على المعدوم محال.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:734
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23




نابالغ سے خلع لینے کا حکم:

سوال:
   ہندہ اور بکر دونوں نابالغ ہیں، دونوں کا عقد نکاح ہوگیا، اب ہندہ بالغہ ہوگئی ہے اور اس نے سابقہ نکاح بر قرار رکھا، اب وہ خلع لینا چاہتی ہے، تو بکر نابالغ خود خلع دے سکتا ہے یا اس کا ولی خلع دے گا؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں جب تک  شوہر نابالغ ہے تب تک وہ یا اس کا والد اس کی بیوی کو نہ طلاق دے سکتے ہیں، اور نہ ہی خلع، لہذا شوہر کے بالغ ہونے کا انتظار کرنا ضروری ہے، بلوغت کے بعد اگر وہ خلع یا طلاق پر راضی ہو، تو خلع یا طلاق لینے میں  مضائقہ نہیں۔

حوالہ جات:
1. المبسوط لشمس الأئمة السرخسي، كتاب الحيل، باب الصلح 30/ 222:
   وإذا خلع الأب ابنته من زوجها بمالها على الزوج من الصداق لم يجز ذلك.
2. تبيين الحقائق للزيلعي،كتاب الطلاق، باب الخلع 2/ 273:
   (وإن خلع صغيرته بمالها لم يجز عليها) أي: لو خلع الأب ابنته الصغيرة بمالها لا ينفذ عليها.
3. الفتاوى الهنديةللجنة العلماء، كتاب الطلاق، الفصل الثالث في الطلاق على المال 1/ 504:
   إذا خالع الأب على ابنه الصغير لا يصح ولا يتوقف على إجازته كذا في فتاوى قاضي خان خلع السكران والمكره جائز عندنا وخلع الصبي باطل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:726
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22




والدہ اور بھائی میں سے ولایتِ نکاح کس کو حاصل ہے اور لڑکی کی بلوغت کی عمر کیا ہے؟:

سوال:
1)   ایک لڑکی جس کی عمر تیرہ برس ہے اور اس کے دو بالغ بھائی موجود ہیں، اس کا نکاح بھائیوں کی رضامندی کے بغیر والدہ نے کردیا ہے ، یہ نکاح جائز ہے ؟ 
2)   تیرہ برس کی لڑکی  بالغہ ہے یا نا بالغہ؟
جواب:
1)   بھائی کی موجودگی میں والدہ کو ولایتِ نکاح حاصل نہیں، لہذا والدہ نے بھائی کی اجازت کے بغیر جو نکاح کرایا ہے، وہ لڑکی کے بھائی کی اجازت پر موقوف ہے، اگر اس نے اجازت دے دی تو نکاح درست ہے ورنہ درست نہیں۔
2)   بلوغت كا معیار عمر کے لحاظ  سے کم از کم  پندرہ (15) سال ہے، اگر لڑکی کی عمر پندرہ سال سے کم ہو، تو اس کی بلوغت کا معیار حیض یا احتلام یا حمل کا  ٹھہرنا ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک ظاہر ہوا ہے تو بالغ ہے ورنہ نابالغ ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الولي 3/ 81:
   فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته، ولو تحولت الولاية إليه لم يجز إلا بإجازته.
2. الفتاوى الهندية للجنة علماء، كتاب النكاح وفيه أحد عشر بابا، الباب الرابع في الأولياء في النكاح 1/ 285:
   وإن زوج الصغير أو الصغيرة أبعد الأولياء فإن كان الأقرب حاضرا وهو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته.
3. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب المأذون، فصل بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال 5/ 203:
   فصل بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال … والجارية بالحيض والاحتلام والحبل وإلا فحتى يتم لها سبع عشرة سنة ويفتى بالبلوغ فيهما بخمس عشرة سنة) وهذا عند أبي يوسف ومحمد رحمهما الله وهو قول الشافعي ورواية عن أبي حنيفة والأول قول أبي حنيفة رحمه الله.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:717
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22




فرشتوں کو گواہ بنا کرنکاح کرنا:

سوال:
   زید اور زینب نے فرشتوں کو گواہ بنا کر نکاح کیا، تو کیا یہ نکاح درست ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ نکاح منعقد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں بوقت ایجاب و قبول  بطور گواہ موجود ہوں، لہذا فرشتوں کو گواہ بنانے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

حوالہ جات:
1. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، شروط النكاح وأركانه 2/ 98:
   (عند حرين أو حر وحرتين عاقلين بالغين مسلمين، ولو فاسقين أو محدودين أو أعميين أو ابني العاقدين) يعني ينعقد بتلك الألفاظ التي تقدم ذكرها إذا وجدت عند رجلين حرين أو رجل حر وامرأتين حرتين يعني به حضور الشهود ولا ينعقد إلا بحضورهم.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح 3/ 94:
   وفي الخانية والخلاصة: لو تزوج بشهادة الله ورسوله لا ينعقد.
3. الفتاوى السراجيه لسراج الدين الأوشي، كتاب النكاح، باب انعقاد النكاح 1/ 192:
   النکاح لا ینعقد بشهادة العبيد والسكران الذي لا يعقل وبشهادة الملائكة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:714
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22