عورتوں کا عیدین کی نماز کے لیےعیدگاہ جانا:

سوال:
   عورتوں کا عیدین کی نماز کے لیے جانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   خواتین پر عیدین کی نماز واجب نہیں، لیکن اگرخواتین عید گاہ جاکر نماز عید ادا کرلیں تو جائزہے، لیکن خواتین کا عیدگاہ جاکرنمازعید ادا کرنے میں چونکہ کئی مفاسد ہیں، اس لیے دیگر نمازوں کی طرح خواتین کے لیے عیدگاہ جاکر نماز عید ادا کرنا ممنوع ہے۔

حوالہ جات:
1. سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب ماجاء في خروج النساء الى المسجد، الرقم:570
   عن عبد الله رضى الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: صلاة المرءة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها، وصلاتها في مخدعها، أفضل من صلاتها في بيتها.
2. الدر المختار للحصكي، كتاب الصلاة، باب الإمامة 2/ 367:
   (ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة، وعيد، ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (علی المذهب) المفتى به؛لفساد الزمان.
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الجمعة 2/ 262:
   ولا يرد عليه النساء والصبيان، فإن الجمعة لا تصح بهم وحدهم؛ لعدم صلاحيتهم فيها بحال … (تجب صلاة العيدين على من تجب عليه الجمعة بشرائطها، سوى الخطبة).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:352
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-15




وترکےبعد نوافل بیٹھ کر پڑھے یا کھڑے ہوکر؟:

سوال:
   وتر نماز کے بعد دو رکعت نفل بیٹھ  کر پڑھے، یا کھڑے ہوکر پڑھے؟
جواب:
   نماز وتر کے بعد نفل نماز پڑھنا جائز ہے، چاہے بیٹھ کر پڑھے یا کھڑے ہوکر، تاہم کھڑے ہوکر پڑھنا بہترہے کیونکہ بیٹھ کر نفل نماز ادا کرنے والے کا ثواب کھڑے ہوکر پڑھنے کی بنسبت آدھا ہوگا، لیکن یہ بات امت کے حق میں ہے، نبی کریمﷺ کو  بیٹھ کر پڑھنے پر بھی پورا اجر ملتا تھا اس لیے آپ ﷺ بیٹھ کر پڑھ لیتے تھے، البتہ بعض حضرات سے منقول ہے کہ اگر کوئی اتباع سنت کی وجہ سے یہ دو رکعت نفل کبھی کبھار اس نیت سے بیٹھ كرپڑھے کہ نبی کریمﷺ نے اس كوبیٹھ کر پڑھا ہے، تواللہ کی رحمت سے بعید نہیں کہ اس  کو اس نیت کےمطابق پورا اجر دے دے۔

حوالہ جات:
1. صحيح المسلم، كتاب صلاة المسافرین وقصرھا، باب جواز النفل قائما وقاعدا، الرقم:120:
   عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما قال: حدثت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صلاة الرجل قاعدا نصف الصلاة، قال: فأتيته، فوجدته يصلي جالسا، فوضعت يدي على رأسه، فقال: مالك؟ يا عبد الله بن عمرو، قلت: حدثت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم، إنك قلت: صلاة الرجل قاعدا على نصف الصلاة، وأنت تصلي قاعدا، قال: أجل، ولكني لست كأحد منكم.
2. الدر مع الرد، باب الوتر والنوافل 36/1:
(ويتنفل مع قدرته على القيام قاعدا) لا مضطجعا إلا بعذر (ابتداء، و) كذا (بناء) بناء الشروع بلا كراهة في الاصح كعكسه”بحر“، وفيه أجر غير النبي على النصف إلا بعذر.
قال ابن عابدين: (قوله أجر غير النبي – صلى الله عليه وسلم -) أما النبي – صلى الله عليه وسلم – فمن خصائصه أن نافلته قاعدا مع القدرة على القيام كنافلته قائما؛ ففي صحيح مسلم «عن عبد الله بن عمرو قلت: حدثت يا رسول الله أنك قلت: صلاة الرجل قاعدا على نصف الصلاة وأنت تصلي قاعدا، قال: أجل، ولكني لست كأحد منكم» بحر ملخصا: أي لأنه تشريع لبيان الجواز؛ وهو واجب عليه.(قوله على النصف إلا بعذر) أما مع العذر فلا ينقص ثوابه عن ثوابه قائما لحديث البخاري في الجهاد «إذا مرض العبد أو سافر كتب له مثل ما كان يعمل مقيما صحيحا» فتح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:351
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-15




نمازِجنازہ کی تکبیرات میں ہاتھ اٹھانا:

سوال:
   نمازِجنازہ میں صرف پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھانے چاہیے، یا چاروں تکبیرات میں؟
جواب:
   نمازِ جنازہ میں صرف پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھانا مسنون ہے، باقی تکبیرات ميں هاتھ اٹھانا مسنون نہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة 3/ 128:
   (وهي أربع تكبيرات) كل تكبيرة قائمة مقام ركعة، ( يرفع يديه في الأولى فقط).
2. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الصلاة، الجنائز 3/ 77:
   ویرفع یدیه في تكبيرة الافتتاح في صلاة الجنازة، ولا يرفع في سائر التكبيرات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:345
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-15

 




بینا قاری کی موجودگی میں نابینا کی امامت:

سوال:
   ہماری جامع مسجد میں ایک نابینا حافظ ہے جو کہ عالم دین نہیں ہے، لیکن غریب اور صاحب  اولاد ہے، اس کو امام بنانا کیسا ہے، جبکہ اس مسجد میں دو قاری اوربھی موجود ہیں، اور امامت کے لائق ہیں، لہذا بینا کی موجودگی میں نابینا کو امام بنانا کیسا ہے؟ 
جواب:
   اگر اس نابینا حافظ قران کے علاوہ کوئی بینا قاری موجود ہو، تو اس کی موجودگی میں نابینا حافظ قران کو امام بنانا مکروہ ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الإمامة 2/ 355:
   (ویکرہ إمامة عبد، وأعرابي، وفاسق، وأعمى، إلا أن يكون) أي: غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (أي غير الفاسق) قيد كراهة إمامة الأعمى في المحيط وغيره: بأن لا يكون أفضل القوم، فإن كان أفضلهم، فهو أولى.
2. تبيين الحقائق لعلي بن عثمان الزيلعي، باب الإمامة والحدث في الصلاة 2/ 345:
   (وکرہ إمامة العبد والأعرابي والفاسق والمبتدع والأعمى)… قال رحمه الله: (والأعمى)؛ لأنه لا يتوقى عن النجاسة، ولا يهتدي إلى القبلة بنفسه، ولا يقدر على استيعاب الوضوء غالبا، وفي البدائع: إذا كان لا يوازيه غيره في الفضيلة، فهو أولى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:343
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-15

 




نفل نماز بلاعذر بیٹھ کر پڑھنا کیسا ہے؟:

سوال:
   ایک شخص نفل نماز کھڑے ہو کر شروع کرے، اور پھر بغیر عذرکے بیٹھ جائے اور اس کو  پورا کرے، تو یہ شرعا کیسا ہے؟
جواب:
   بلا عذر بیٹھ کر نفل پڑھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن بلا عذر بیٹھ کر نفل پڑھنے کی صورت میں ثواب آدھا ملے گا۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 2/ 110:
   (ویتنفل قاعدا مع قدرته على القيام ابتداء، و بناء) … وروی البخاري عن عمران بن حصين مرفوعا ”من صلى قائما فهو أفضل، ومن صلى قاعدا فله نصف أجر القائم“.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة 2 /583:
   (و يتنفل مع قدرته على القيام قاعدا) لا مضطجعا، إلا بعذر (ابتداء، و) كذا (انتهاء) بعد الشروع بلا كراهة في الأصح، كعكسه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:342
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-14

 




سترہ کے مسئلہ میں مسجدِ صغیر اور کبیر کا فرق:

سوال:
   ایک مسجد ہے جو شمالاً جنوباً تقریبا ساٹھ (60) سے ستر (70) فٹ ہے اور شرقاً غرباً چالیس(40) یا بیالیس (42) فٹ ہے، تو کیا یہ مسجدِ صغیر ہے یا کبیر؟ اور اس میں سترہ کا کیا حکم ہے؟ کیا دو صف چھوڑ کر نمازی کے آگے گزرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ مسجدِ کبیر وہ ہوتی ہے جس کی لمبائی، چوڑائی کم از کم چالیس (40) شرعی گز ہوں اور ایک شرعی گز(1.5) فٹ ہوتا ہے، جس کے لحاظ سے چالیس شرعی گز ساٹھ (60) فٹ بن گئے، پھر ساٹھ  مربع فٹ کو ساٹھ میں ضرب دینے سے چھتیس سو (3600) مربع فٹ بن گئے، جبکہ مسجد صغیر وہ ہے جس کی لمبائی، چوڑائی ملا کر چھتیس سو(3600) مربع فٹ سے کم بنتی ہو، اور مسجد کبیر میں نمازی کے سامنے بغیر سترہ کے سجدہ کی جگہ چھوڑ کر آگے سے گزرنا جائز ہوتا ہے، لیکن مسجد صغیر میں جائز نہیں ہوتا، اور سوال میں جس مسجد کا ذکر ہے، اس کی لمبائی، چوڑائی چونکہ مطلوبہ مقدار سے کم ہے، اس لیے یہ مسجدِ صغیر ہے، جس میں سترہ کے بغیر نمازی کے سامنے سے گزرنا جائز نہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فروع مشى المصلي مستقبل القبلة هل تفسد صلاته 1/ 634:
   (ومرور مار في الصحراء أو في مسجد كبير بموضع سجوده) في الأصح (أو) مروره (بين يديه) إلى حائط القبلة (في) بيت و (مسجد) صغير، فإنه كبقعة واحدة (مطلقا).
   قال ابن عابدين تحت قوله: (إلى حائط القبلة) أي: من موضع قدميه إلى الحائط، إن لم يكن له سترة، فلو كانت لايضر المرور وراءها على ما يأتي بيانه… (قوله: ومسجد صغير) هو أقل من ستين ذراعا، وقيل من أربعين، وهو المختار، كما أشار إليه في الجواهر،” قهستاني“ (قوله: فإنه كبقعة واحدة) أي: من حيث إنه لم يجعل الفاصل فيه بقدر صفين مانعا من الاقتداء، تنزيلا له منزلة مكان واحد، بخلاف المسجد الكبير؛ فإنه جعل فيه مانعا، فكذا هنا يجعل جميع ما بين يدي المصلي إلى حائط القبلة مكانا واحدا، بخلاف المسجد الكبير،والصحراء فإنه لو جعل كذلك لزم الحرج على المارة، فاقتصر على موضع السجود، هذا ما ظهر لي في تقرير هذا المحل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:339
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




خطبۂ جمعہ غیر عربی زبان میں دینا:

  سوال:
   خطبۂ جمعہ عربی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں میں دینا شرعاً کیسا ہے؟
جواب:
   آپ ﷺ کے زمانہ سے لے کر آج تک خطبۂ جمعہ عربی زبان میں دیا گیا ہے، حالانکہ صحابۂ کرام کے زمانہ میں اسلام عجمیوں تک پہنچ چکا تھا، اس لیے غیر عربی زبان میں خطبۂ جمعہ دینا ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے۔

حوالہ جات:
1. عمدة الرعاية لعبد الحي اللكنوي،  كتاب الصلوة، باب  الجمعة 3/ 56:
   أن الخطبة بغير العربية خلاف السنة المتوارثة عن النبي صلى الله عليه وسلم والصحابة رضي الله عنهم، فيكون مكروها تحريما.

2. آكام النفائش بأداء الأذكار، القنوت بغير العربية، ص: 120
   وتحقيقه أن في الخطبة جهتين:
الأولى: كونها شرطا لصلاة الجمعة، والثانية: كونها في نفسها عبادة.
ولكل منهما وصف على حدة؛ فمعنى قولهم: يجوز الخطبة بالفارسية: أنها تكفي لتأدية الشرط وصحة صلاة الجمعة، وهو لا يستلزم أن يخلو من البدعية والكراهة من حيث الجهة الثانية.

 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:320
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




حالتِ نماز میں جیب میں خون آلودہ رومال رکھنا:

سوال:
   جیب میں خون آلود رومال رکھنے سے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب:
    اگرخون آلود رومال پر خون کی مقدار درہم (ہتھیلی کے پھیلاؤ)سے کم ہو تو نماز مکروہِ تنزیہی ہے، اور اگر درہم کے برابر ہو تو مکروہِ تحریمی ہے اور اگر اس سے زیادہ ہو تو نماز درست نہیں، دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/317:
(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل.
في حاشية ابن عابدين: والأقرب أن غسل الدرهم،  وما دونه مستحب مع العلم به والقدرة على غسله، فتركه حينئذ خلاف الأولى، نعم الدرهم غسله آكد مما دونه، فتركه أشد كراهة،  كما يستفاد من غير ما كتاب من مشاهير كتب المذهب.

2. فيه أيضا، كتاب الصلاة، باب الأذان 1/402:
(وثوبه) وكذا ما يتحرك بحركته أو يعد حاملا له،  كصبي عليه نجس إن لم يستمسك بنفسه منع وإلا لا.
في حاشية ابن عابدين: (قوله وكذا ما) أي شيء متصل به يتحرك بحركته، كمنديل طرفه على عنقه، وفي الآخر نجاسة مانعة إن تحرك موضع النجاسة بحركات الصلاة منع وإلا، بخلاف ما لم يتصل كبساط طرفه نجس وموضع الوقوف والجبهة طاهر، فلا يمنع مطلقا.

 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:318
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13

 




خواتین کے لیے اذان کا جواب دینے کا حکم:

سوال:
   کیا خواتین اذان کا جواب دے سکتی ہیں یا نہیں؟ 
جواب:
   مردوں کی طرح خواتین کے لیے بھی اذان کا جواب دینا مستحب ہےاگرچہ حالتِ حیض میں کیوں نہ ہوں۔

حوالہ جات:
1. الدرالمختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الأذان 2/ 79:
   (ویجیب) وجوبا، وقال الحلواني: ندبا، والواجب الإجابة بالقدم (من سمع الأذان)، ولو جنبا، لاحائضا ولا نفساء.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، باب الأذان، ما یجب علی السامعین 1/ 383:
   وأما بيان ما يجب على السامعين عند الأذان, فالواجب عليهم الإجابة؛ لما روي عن النبيﷺ أنه قال: أربع من الجفاء: من بال قائما … ومن سمع الأذان، ولم يجب.
 3. الفتاوى السراجية لعثمان بن علي الأوشي 1/50:
   الحائض والجنب… ويجوز لهما الدعوات … وجواب الأذان.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:315
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-12




مسافر قصر نماز کہاں سے شروع کرے گا ؟:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کہ بارے میں کہ ہمارا گاؤں (باباگام ) تقریبا چھ سو (600) سے لے کر آٹھ سو (800) مکانات پر مشتمل ہے، جس میں آبادی کی مقدار تقریبا تین ہزار کے قریب ہے، اور ہمارے گاؤں سے تقریبا آٹھ کلومیٹر پر ایک بازار (زیمدارہ) ہے، جس میں ضروریاتِ زندگی موجود ہیں، جیسے ڈاکخانہ، تھانہ اور ایک چھوٹا ہسپتال موجود ہیں، اس سے تقریبا چھ کلو میٹر دور ایک اور بڑا بازار (کمبڑ) ہے، گاؤں کے اکثر لوگ اس بڑے بازار(کمبڑ) سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جب ہم سفر پر جاتے ہیں یا واپس آتے ہیں، تو کس جگہ سے ہم قصر نماز شروع کریں گے، اپنے گاؤں (باباگام) کے حدود سے نکلتے وقت، یا اس چھوٹے بازار (زیمدارہ) سے نکلتے وقت، یا بڑے بازار (کمبڑ) سے نکلتے وقت۔
واضح رہے کہ گاؤں اور بڑے بازار کے درمیان سولہ (16) کلو میٹر کا فاصلہ ہیں، اور درمیان میں کھیت اور چھوٹی چھوٹی ندیاں بھی آتی ہیں۔
جواب:
   انسان جب اپنے شہر یا گاؤں کی آبادی سے نکل جائے تو وہاں سے اس پر سفر کے احکامات جاری ہونا شروع ہوجاتے ہیں، چونکہ مذکورہ گاؤں اور دونوں بازاروں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہے، اس لیے مذکورہ گاؤں والے اپنے گاؤں کی آبادی کی حدود سے نکلنے پر قصر نماز شروع کریں گے، بازاروں کی حدود سے نکلنے کی ضرورت نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الصلاة، باب صلاةالمسافر 2/ 25:
   والصحيح ما ذكرنا أنه يعتبر مجاوزة عمران المصر إلا إذا كان ثمة قرية أو قرى متصلة بربض المصر، فحينئذٍ يعتبر مجاوزة القرى.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر1/ 139:
   قال محمد رحمه الله تعالى: يقصر حين يخرج من مصره،  ويخلف دور المصر، كذا في المحيط، وفي الغياثية هو المختار، وعليه الفتوى، كذا في التتارخانية، الصحيح ما ذكر أنه يعتبر مجاوزة عمران المصر لا غير إلا إذا كان ثمة قرية أو قرى متصلة بربض المصر، فحينئذ تعتبر مجاوزة القرى بخلاف القرية التي تكون متصلة بفناء المصر، فإنه يقصر الصلاة، وإن لم يجاوز تلك القرية، كذا في المحيط، وكذا إذا عاد من سفره إلى مصره لم يتم حتى يدخل العمران.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:297
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-10