پہلی رکعت پر بیٹھنے سےسجدۂ سہو کب واجب ہوگا؟

سوال:
میں چار رکعت سنت پڑھ رہا تھا، مگر پہلی رکعت پڑھنے کے بعد کھڑا ہونے کے بجائے بیٹھ گیا، مگر ابھی تک کچھ پڑھا نہیں تھا کہ یاد آگیا، اور جلدی سے آٹھ گیا، اور آخر میں سجدۂ سہوہ بھی بھول گیا، تو کیا اب میں دوبارہ نماز پڑھ لوں۔
جواب:
مذکورہ صورت میں اگر آپ پہلی رکعت پر تین مرتبہ ”سبحان ربي العظيم“ کہنے کے بقدر بیٹھے تھے، تو آپ پر سجدۂ سہو لازم تھا، اور چونکہ آپ نے سجوۂ سہو نہیں کیا تھا؛ اس لیے آپ یہ نماز دوبارہ پڑھیں گے، لیک اگر آپ اتنی مقدار نہیں بیٹھے تھے تو آپ کی نماز درست ہے، دہرانے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، واجبات الصلاة 1/ 469:
وكذا القعدة في آخر الركعة الأولى، أو الثالثة فيجب تركها، ويلزم من فعلها أيضا تأخير القيام إلى الثانية، أو الرابعة عن محله، وهذا إذا كانت القعدة طويلة، أما الجلسة الخفيفة التي استحبها الشافعي فتركها غير واجب عندنا، بل هو الأفضل كما سيأتي، وهكذا كل زيادة بين فرضين يكون فيها ترك واجب بسبب تلك الزيادة؛ ويلزم منها ترك واجب آخر، وهو تأخير الفرض الثاني عن محله.
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ص: 474:
“وجب عليه سجود السهو” إذا شغله التفكرعن أداء واجب بقدر ركن، أو شغله عن الوضوء بعد سبق الحدث لشكه أنه صلى ثلاثا، أو أربعا، يجب السهو، وإلا فلا، كذا في الشرح، ولم يبينوا قدر الركن، وعلى قياس ما تقدم أن يعتبر الركن مع سنته، وهو مقدر بثلاث تسبيحات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:432
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-23




نماز میں سورت فاتحہ کے بعد چند لمحات کے لیے خاموش رہنے سے سجدۂ سہو کا حکم

سوال:
ایک شخص نے نماز پڑھتے ہوئے جب سورۂ فاتحہ پوری کرلی، تو سورت پڑھنے میں چند لمحات کے لیے سوچنے لگا، لیکن تین مرتبہ سبحان اللہ سے کم مقدار خاموش رہا ہو، تو اس پر سجدۂ سہو آئے گا یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ فقہائے کرام نے تاخیر کی کم سے کم مقدار تین مرتبہ”سبحان ربي العظيم“ کے بقدر بتلائی ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں نماز درست ہے، سجدۂ سہو کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 2/ 677:
ثم الأصل في التفكر أنه منعه عن أداء ركن كقراءة آية، أو ثلاث، أو ركوع، أو سجود، أو عن أداء واجب كالقعود، يلزمه السهو؛ لاستلزام ذلك ترك الواجب، وهو الإتيان بالركن، أو الواجب في محله، وإن لم يمنعه عن شيء من ذلك بأن كان يؤدي الأركان ويتفكر، لا يلزمه السهو، وقال بعض المشايخ: إن منعه التفكر عن القراءة أو عن التسبيح يجب عليه سجود السهو، وإلا فلا.
وفي خاشیة منحة الخالق على البحر الرائق لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 2/ 173:
ولو شك في ركوعه، أو في سجود، وطال تفكره، يلزمه السهو… فرغ من الفاتحة، وتذكر ساعة ساكتا أي سورة يقرأ مقدار ركن، يلزمه السهو، ومنهم من فصله بالطول، وعدمه، وأطلق آخرا كصاحب خزانة الفتاوى فقال: تفكر في الصلاة، إن طال، يجب سجود السهو، وإلا فلا، والفاصل أنه إذا شغله عن شيء من فعل صلاة، وإن قل، يجب سجود السهو.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:431
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-23




قعدۂ اولی رہ جانے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟:

سوال:
   زید چار رکعت والی نماز میں پہلا قعدۂ بھول گیا، مگر تیسری رکعت کی بعد وہ قعدۂ ادا کرليا، اور چوتھی رکعت کے بعد بھی قعدۂ کیا، اور سجدہ سہوہ بھی کیا، تو کیا اس کی نماز ہوئی یا نہیں؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں زید کی نماز اگرچہ درست  ہے، تاہم زید کے لیے مناسب یہ تھا، کہ تیسری رکعت پر قعدۂ نہ کرتا، بلکہ نماز مکمل کرنے کے بعد آخر میں سجدۂ سہو کرلیتا تو بھی اس کی نماز درست ہوجاتی۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، باب سجودالسهو1/ 126:
   ويجب إذا قعد فيما يقام، أو قام فيما يجلس فيه، وهو إمام، أو منفرد، أراد بالقيام إذا استتم قائما، أو كان إلى القيام أقرب،  فإنه لا يعود إلى القعدة، هكذا في فتاوى قاضي خان، وسجد للسهو.
2. بدائع الصنائع للكاساني،  كتاب الصلاة، باب سجود السهو 1/ 401:
   وأما بيان سبب الوجوب، فسبب وجوبه، ترك الوجب الأصلي في الصلاة، أو تغييره، أو تغيير فرض منها عن محله الأصلي ساهيا؛ لأن كل ذلك يوجب نقصانا في الصلاة، فيجب جبره بالسجود، يخرج على هذا الأصل مسائل… فإن كان من أفعال، بأن قعد في موضع القيام، أو قام في موضع القعود سجد للسهو؛ لوجود تغيير الفرض، وهو تأخير القيام عن وقته، أو تقديمه على وقته مع ترك الواجب، وهو قعدة الأولى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:355
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-23




مقیم کی اقتدا میں مسافر کی نماز فاسد ہونے سے قضا کا حکم:

سوال:
   ایک مسافر شخص عصر کی نماز میں مقیم امام کے پیچھے آخری قعدہ میں شریک ہوا، اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس نے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا، جبکہ اس کے ذمہ چار رکعت نماز کی ادائیگی تھی، تو اب یہ مسافر شخص اس نماز کی قضا لاتے ہوئے چار رکعت پڑھے گا یا دو رکعت؟
جواب:
   واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں اب اس شخص کے ذمہ چار نہیں، بلکہ دورکعت کی قضاء لازم ہے، اس وجہ سے کہ مسافر جب مقیم امام کی اقتداء کرلیتا ہے تو امام کی اتباع میں اس پر چار رکعت لازم ہوجاتی ہیں، لیکن اگرکسی بھی وجہ سے اس نے نماز توڑ دی، تو اس کے ذمہ مسافر ہونے کی وجہ سے صرف دو رکعت کی قضا آئے گی۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب المسافر،2/ 235:
   (ولو اقتدى مسافر بمقيم في الوقت صح، وأتم)؛ لأنه يتغير فرضه إلى الأربع للتبعية … وإذا كان التغيير لضرورة الاقتداء فلو أفسده صلى الركعتين لزواله.
2. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب المسافر2 /736:
   وأما اقتداء المسافر بالمقيم، فيصح في الوقت، ويتم لا بعده فيما يتغير.
   قال ابن عابدين: تحت قوله: (فيصح  في الوقت، ويتم ) … ولو أفسده صلى ركعتين لزوال المغير، بخلاف ما لو اقتدى به متنفلا حيث يصلي أربعا، إذا أفسده؛  لأنه التزم صلاة الإمام.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:354
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-23




شہر کے قریب گاؤں میں نمازِ جمعہ ادا کرنا:

سوال:
ہمارا گاؤں شہر سے تقریبا ایک كلو ميٹر دور ہے، اور ہمارے گاؤں کی آبادی تقریبا (55) گھروں پر مشتمل ہے، اور ہمارے گاؤں کی کچھ ضروریات زندگی گاؤں کی دکانوں سے پوری ہوتی ہے، تو کیا ہمارے گاؤں کی مسجد میں نماز جمعہ درست ہے یا نہیں؟
جواب:
   شرعی لحاظ سے نماز جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے اس جگہ کا شہر یا فنائے شہر، یا بڑا گاؤں ہونا ضروری ہے، فنائے شہر سے مراد وہ جگہ ہے، جہاں سے شہر کی ضروریات مثلا ہسپتال، چھاؤنی، قبرستان وغیرہ وابستہ ہوں، اور بڑے گاؤں سے مراد وہ جگہ ہے، جس کی آبادی ڈھائی تین ہزار لوگوں پر مشتمل ہو، اور وہاں ضروریات زندگی بآسانی مل جاتی ہوں، لہذا ذکر کردہ صورت میں اس گاؤں پر چونکہ بڑے گاؤں کا اطلاق نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی شہر کی ضروریات اس کے ساتھ وابستہ ہیں، اس لیے اس میں نمازِ جمعہ پڑھنا درست نہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الجمعة 6/2:
   (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول، (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى؛ لظهور التواني في الأحكام، وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير، وقاض يقدر على إقامة الحدود … (أو فناؤه) بكسر الفاء، (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا، كما حرره ابن الكمال وغيره، ( لأجل مصالحه) كدفن الموتى، وركض الخيل، والمختار للفتوى تقديره بالفرسخ ، ذكره الولوالجي.
قال ابن عابدين تحت قوله: (قوله وظاهر المذهب إلخ) … عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق، ولها رساتيق، وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث، وهذا هو الأصح.
 2. البحرالرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة باب الجمعة 2/ 246:
   ویجوز في جميع أفنية المصر، لأنها بمنزلة المصر في حوائج أهله … فاختار في الخلاصة والخانية، أنه الموضع المعد لمصالح المصر، متصل به، ومن كان مقيما في عمران المصر وأطرافه، وليس بين ذلك الموضع وبين عمران المصر فرجة، فعليه الجمعة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:353
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-19




ملازمت کے لیےروزانہ گھر سےسفرکی مسافت پر نکلنے کا حکم:

سوال:
   اگر کوئی شخص روزانہ اسی (80) کلو میٹر سے زیادہ مسافت طے کرتا ہو، ملازمت کی جگہ جاتے ہوئے، لیکن رات کو واپس گھر آتا ہو، تو ایسا شخص روزانہ ملازمت کی جگہ قصر کرے گا، یا اتمام؟
جواب:
   اگر شخص مذکور کے شہر کی حدود سے جائے ملازمت کی حدود تک کم ازکم سوا ستتر(77.25) کلومیٹربنتا ہو، اورشخص مذکورنےابھی تک ایک مرتبہ بھی جائے ملازمت میں  پندرہ(15) دن ٹھہر نے کی نیت نہ کی ہو، تو یہ شخص اپنے شہر کی حدود سے نکلنے کے بعد واپس اپنے شہر کی حدود میں داخل ہونے تک مسافر رہےگا، اور نمازِ قصرادا کرے گا۔ 

حوالہ جات:
1. العناية شرح الهداية محمد بن محمد البابرتي، كتاب الصلاة، باب صلاة السفر 2/ 33:
   (وإذا فارق المسافر بيوت المصر صلى ركعتين)؛ لأن الإقامة تتعلق بدخولها، فيتعلق السفر بالخروج عنها.
2. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر2/ 226:
   (من جاوز بیوت مصرہ مریدا سیرا وسطا ثلاثة أيام في بر، أو بحر، أو جبل، (قصر الفرض الرباعي) … أما الأول: فهو مجاوزة بيوت المصر لما صح أنه عليه السلام أنه قصر العصر بذي الحليفة. وعن علي أنه خرج من البصرة، فصلى الظهر أربعا، ثم قال إنا لو جاوزنا هذا الخص لصلينا الركعتين.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر1/ 139:
ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما، أو أكثر، كذا في الهداية.


واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:371
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-16

 




عشاءکی نمازسے پہلےچار رکعتوں کا حکم:

سوال:
   عشاء کی نماز سے پہلے چاررکعت سنت پڑھنے کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب:
عشاء کی نماز سے  پہلے ایک سلام سے چار رکعت سنتیں پڑھنا مستحب ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 2/ 546:
   (ویستحب أربعا قبل العصر، وقبل العشاء وبعدها بتسليمة) وإن شاء ركعتين.
2. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي،كتاب الصلاة، صلاة التطوع 2/ 233:
   وأما التطوع قبل العشاء، فإن تطوع قبلها بأربع ركعات فحسن.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:350
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-16

 




کیا تراویح اور وترا الگ الگ امام پڑھاسکتے ہیں؟:

سوال:
   اگرتراویح ایک شخص پڑھائے اور وتر دوسرا شخص تو کیا یہ جائز ہے؟
جواب:
   جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. تبيين الحقائق لعثمان بن علي الزيلعي، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 1/ 180:
   وأما في رمضان فأداؤها في جماعة أفضل من أدائها في منزله؛ لأن عمر رضي الله عنه كان يؤمهم في الوتر، وذكر قبل هذا، أن عمر كان يؤمهم في الفريضة، والوتر، وكان أبي يؤمهم في التراويح.
2. الجوهرة النيرة لأبی بكر بن علي الحدادي، كتاب الصلاة، باب قيام شهر رمضان 1/ 98:
   والأفضل أن يصلي التراويح بإمام واحد…وكان عمر رضي الله عنه يؤمهم في الفريضة، والوتر، وكان أبي بن كعب رضي الله عنه يؤمهم في التراويح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:349
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-24

 




نماز میں سورۂ فاتحہ کی کوئی آیت رہ جانے کا حکم:

سوال:
   کسی شخص سے فرض نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کی ایک آیت رہ جائے، تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟
جواب:
   مفتی بہ قول کے مطابق نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اور وتر، سنن ونوافل کی تمام رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پورا پڑھنا واجب ہے، اگر ان نمازوں میں سورۂ فاتحہ کی ایک آیت يا اس سے كم رہ جائے، تواس کی تلافی کے لیے نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرنا لازم ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة 2/ 116:
   (قراءة فاتحة الكتاب) فيسجد للسهو بترك أكثرها لا أقلها، لكن في المجتبى: يسجد بترك آية منها إلخ.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (وهو أولى) لعله للمواظبة المفيدة للوجوب قوله: (وعليه) أي: وبناء على ما في المجتبى، فكل آية واجبة، وفيه نظر؛ لأن الظاهر أن ما في المجتبى مبني على قول الإمام، بأنها بتمامها واجبة، وذكر الآية تمثيل، لا تقييد، إذ بترك شيء منها آية، أو أقل، ولو حرفا، لا يكون آتيا بكلها الذي هو الواجب.
2. البحرالرائق لابن نجيم المصري، كتاب الصلاة ، باب سجود السهو 2/ 166:
   الأول: قراءة الفاتحة،  فإن تركها في إحدى الأوليين، أو أكثرها، وجب عليه السجود، كذا في المحيط۔، وسواء كان إماما أومنفردا، كذا في التجنيس، وفي المجتببى: إذا ترك من الفاتحة آية وجب عليه السجود، وإن تركها في الأخريين لا يجب، إن كان في الفرض، وإن كان في النفل، أو الوتر، وجب عليه؛ لوجوبهما في الكل۔

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:348
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-15




قالین یا  نرم گدے پر نماز پڑھنے کاحکم:

سوال: 
   قالین يا  نرم گدے پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟  
جواب:
   واضح رہے کہ قالین میں چونکہ سختی ہوتی ہے اس لیے اس پر نماز پڑھنا درست ہے، البتہ اگر گدا نرم ہوتو اس کے حکم میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ ایسا ہو کہ اس پرسجدہ کرتے وقت پیشانی کسی ایک جگہ پر جم جاتی ہو، اور پیشانی میں مکمل ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہو تو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے، اور اگروہ اتنا نرم ہو کہ سجدہ کرتے وقت پیشانی کو زوردينے کے باوجود زمین کی سختی کو محسوس نہ کرے، تواس پرنماز پڑھناجائز نہیں۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة 2/ 252:
   (وأن يجد حجم الأرض) تفسيره: أن الساجد لو بالغ لا يستفل رأسه أبلغ من ذلك، فصح على طنفسة وحصيرة … ومن ههنا يعلم الجواز على طراحة القطن، فإن وجد الحجم جاز، وإلا فلا.
2. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الصلاة، باب آداب الصلاة 1/ 337:
   والأصل كما أنه يجوز السجود على الأرض، يجوز على ما هو بمعنى الأرض، مما تجد جبهته حجمه، وتستقر عليه، وتفسير وجدان الحجم: أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك، فيصح السجود على الطنفسة والحصيرة والحنطة والشعير والسرير والعجلة، إن كانت على الأرض؛ لأنه يجد حجم الأرض.
3. المحيط البرهاني لابن مازه الحنفي، كتاب الصلاة، الفصل السادس عشر في التغني والألحان 1/ 365:
   وإذا صلى على التبن، أو القطن المحلوج، وسجد عليه، إن استقر جبهته وأنفه على ذلك، ووجد الحجم، يجوز، وإن لم تستقر جبهته، لا يجوز.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:347
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-15