دعا مانگتے ہوئے ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہیے؟

سوال:
   نماز کے بعد یا ویسے ہی دعا مانگتے وقت ہاتھ  کیسے اور کہاں تک اٹھانے چاہیے؟
جواب:
   دعا مانگتے ہوئے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر ہاتھوں کو سینے یا کندھوں تک اٹھانا مسنون ہے۔

حوالہ جات:
1. البناية لبدر الدين العينى، كتاب الحج، طواف الزيارة 4/ 255:
   يرفع يديه بالدعاء حذو منكبيه.
2. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح لأحمد بن محمد الطحطاوي، كتاب الصلاة، فصل في صفة الأذكار، ص:          317:
    يرفع يديه حتى يرى بياض إبطيه.
3. أيضا: كتاب الطهارة،  فصل في بيان واجب الصلاة، ص: 172:
   كالداعي فيرفع يديه حذاء صدره باسطا كفيه، نحو السماء، ويكون بينهما فرجة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:651
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-15




طلوعِ شمس کے وقت نمازِ فجر ادا کرنا:

سوال:
   آج کل لوگ عام طور پر فجر کی نماز وقتِ مکروہ یعنی طلوع شمس کے وقت پڑھتے ہیں، اس کا شرعا کیا حکم ہے؟
جواب:
   عین طلوعِ شمس کے وقت نمازِ فجر پڑھنا ممنوع ہے، اگر کسی نے اس وقت نماز پڑھ لی تو اس کی نماز ادا نہیں ہوئی، بعد میں اس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة 2/ 42:
   قوله: (بخلاف الفجر إلخ) أي: فإنه لا يؤدي فجر يومه وقت الطلوع؛ لأن وقت الفجر كله كامل فوجبت كاملة، فتبطل بطروء الطلوع الذي هو وقت فساد … واعلم أن الأوقات المكروهة نوعان: الأول: الشروق والاستواء والغروب، والثاني: ما بين الفجر والشمس، وما بين صلاة العصر إلى الاصفرار، فالنوع الأول، لا ينعقد فيه شيء من الصلوات التي ذكرناها إذا شرع بها فيه، وتبطل إن طرأ عليها، إلا صلاة جنازة حضرت فيها، وسجدة تليت آيتها فيها، وعصر يومه .
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الفصل الأول في بيان أوقات التي لاتجوز فيها الصلاة، وتكره فيها 1/ 52:
   ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة، إذا طلعت الشمس حتى ترتفع، وعند الانتصاف إلى أن تزول، وعند احمرارها إلى أن تغيب، إلا عصر يومه ذالك؛ فإنه يجوز أداؤه عند الغروب، هكذا في فتاوى قاضيخان .

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:638
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-14




امام کا سجدہ سہو مقتدی پر کب لازم ہوتا ہے؟

سوال:
   اگر کوئی شخص امام کے ساتھ ایسی حالت میں شریک ہوا کہ امام سجدۂ سہو کا دوسرا سجدہ کرچکا تھا، تو اب مقتدی بعد میں سجدۂ سہو کرے گا یا نہیں؟
جواب:
   مقتدی امام کے ساتھ سجدۂ سہو تب کرے گا جب وہ امام کے سجدۂ سہو سے پہلے امام کے ساتھ شریک ہوجائے،  لہذا مسبوق اگر امام کے سجدۂ سہو کے بعد اس کی اقتداء کرتا ہے، تو امام کا سجدۂ سہو اس سے ساقط ہے۔

حوالہ جات:
1. الدرالمختار للحصکفی مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود السھو 2/ 659:
   (والمسبوق یسجد مع إمامه مطلقا) سواء کان السھو قبل الاقتداء أو بعدہ.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (سواء کان السھو قبل الاقتداء أو بعدہ) بیان للإطلاق، وشمل أیضا ما إذا سجد الإمام واحدۃ،  ثم اقتدى به، قال في البحر: فإنه یتابعه في الأخری، ولا یقضي قضاء الأولی،  کما لا یقضیھما، لو اقتدى به بعد ما سجدھما.
2. الفتاوی الھندیة للجنة العلماء،کتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السھو، فصل سھو الامام 1/ 128:
   وإن دخل معه بعد ما سجدهما، لا يقضيهما، كذا في التبيين.
3. بدائع الصنائع للکاساني، کتاب الصلاة، فصل وأما بیان من یجب علیه السھو 1/ 423:
   وإن أدركه بعد ما فرغ من السجود، صح اقتداؤه به، وليس عليه السهو بعد فراغه من صلاة نفسه؛ لما ذكرنا إلخ .

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:637
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-14




نماز کے آخری وقت میں حیض آنے کی صورت میں نماز کاحکم:

سوال:
   اگر اذان کے بعد کسی عورت کو حیض کا خون آجائے اور نما ز نہ پڑھ سکے، تو کیا اس نماز کی قضاء کرنا اس پر لازم ہے؟ نماز کے آخری وقت میں حیض آنے کی صورت میں
جواب:
   چونکہ نماز کی قضاء ہونے کا تعلق آخری وقت سے ہے اور یہ عورت آخری وقت میں حائضہ ہوگئی، جس کی وجہ سے اس سے یہ نماز ساقط ہوگئی، لہذااس پر اس نماز کی قضا لازم نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجیم، کتاب الطھارۃ، باب الحیض 1/ 356:
    وفي الخلاصة: فإن أدرکھا الحیض في شيء من الوقت، سقطت الصلاۃ عنھا إن افتتحھا.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصه بالنساء، ألفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والإستحاضة 1/ 38:
   إذا حاضت في الوقت، أو نفست سقط فرضه، بقي من الوقت ما یمكن أن تصلي فیه أو لا، ھکذا في الذخیرۃ، لو افتتحت الصلاۃ في آخر الوقت ثم حاضت، لا یلزمھا قضاء ھذہ الصلاۃ .

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:646
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-14




نمازِ تہجد کے دوران صبح صادق ہونے پر وہ نماز تہجد کی شمار ہوگی یا نہیں ؟:

سوال:
   کوئی نمازِ تہجد پڑھ رہا ہو، اس دوران فجر کی اذانیں شروع ہوجائیں، نماز سے فارغ ہوکر معلوم ہوا کہ دورانِ تہجد فجر طلوع ہوچکی تھی، تو یہ دو رکعت نفل نماز شمار ہوگی یا فجر کی سنتیں؟
جواب:
   تہجد پڑھتے وقت اگر فجر کی اذان شروع ہوجائے تو نماز کو ختم نہیں کرنا چاہیے، بلکہ نماز کو جاری رکھے، البتہ نماز ختم ہونے کے بعد دیکھا جائے کہ فجر کا وقت داخل ہوچکا ہے یا نہیں؟ اگر ابھی تک داخل نہیں ہوا تھا بلکہ اذان وقت سے پہلے ہوئی تھی تو تہجد ادا ہوگئی اور اگر واقعی وقت داخل ہوچکا تھا تو یہ دو رکعت ویسے ہی نفل ہوگئیں، فجر کی سنتیں الگ سے پڑھنی چاہیے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، مطلب يشترط العلم بدخول الوقت 2/ 45،44:
   لو صلى تطوعا في آخر الليل، فلما صلى ركعة طلع الفجر، فإن الأفضل إتمامها؛ لأن وقوعه في التطوع بعد الفجر لا عن قصد، ولا ينوبان عن سنة الفجر على الأصح.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الفصل الثالث في بيان الأوقات التي لاتجوز فيها الصلاة، وتكره فيها 1/ 52:
   ومن صلی تطوعًا في آخر الليل، فلما صلى ركعة، طلع الفجر، كان الإتمام أفضل؛ لأن وقوعه في التطوع بعد الفجر لا عن قصد، ولا تنوبان عن سنة الفجر على الأصح، هكذا في السراج الوهاج والتبيين.
3. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة 1/ 234:
   ولو شرع في النفل قبل طلوع الفجر، ثم طلع، فالأصح أنه لا يقوم عن سنة الفجر ولايقطعه؛ لأن الشروع فيه كان لا عن قصد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:633
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




تیمم کرکے نماز پڑھنے کے بعد پانی پر قادر ہونا یا صحت یاب ہونا:

سوال:
   اگر کوئی شخص تیمم کرکے نماز پڑھے، اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے یہ  شخص پانی کے استعمال پر قادر ہوگيا، یعنی اس کو پانی مل گیا، تو کیا اس کے ذمہ وضوبنا کر دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب:
   اگرتیمم کی شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے، کسی نے تیمم کرکے نما ز پڑھ لی اور نماز کا وقت ابھی ختم نہیں ہواتھا کہ پانی مل گیا یا بیمار صحتیاب ہوا تو اس پر نماز کا اعادہ لازم نہیں ہے، البتہ اگر ابھی نماز نہ پڑھی ہو،  اور پانی مل جائے یا صحتیاب ہوجائے،  تو وضو کرکے نماز پڑھنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، باب التيمم 1/ 440:
   (من عجز) مبتدأ، خبره تيمم (عن استعمال الماء) المطلق الكافي لطهارته لصلاة تفوت إلى خلف (لبعد)، ولو مقيما في المصر (ميلا) … (تيمم).
2. غنية المتملي لإبراهيم الحلبي، كتاب الطهارة، باب التيمم1/ 70:
   ولو صلی بالتیمم، ثم وجد الماء في الوقت، لا يعيد.
3. كتاب الأصل للإمام محمد بن حسن الشيباني، كتاب الصلاة، باب التيمم بالصعيد 1/ 85:
   قلت: أرأيت مسافرا تيمم في أول الوقت، وصلى، ولم ينتظر إلى آخر الوقت، ثم وجد الماء بعد ما سلم، قال:صلاته تامة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:618
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




فحش تصاویر والے موبائل کے ساتھ نماز پڑھنا:

سوال:
   جس موبائل فون میں فحش تصاویر ہوں اس کو مسجد لے جانا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ موبائل فون میں محفوظ تصاویر کے ساتھ نماز پڑھنے سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس لیے کہ اس میں یہ تصاویر صرف ڈیٹا کی شکل میں موجود ہوتی ہیں، سکرین پر نمایاں نہیں ہوتیں، لہذا ایسا موبائل مسجد لے جانا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها 2/ 29:
   رجل في يديه تصاوير، وهو يؤم الناس لا تكره إمامته؛ لأنها مستورة بالثياب فصار كصورة في نقش خاتم، وهو غير مستبين اهـ . وهو يفيد أن المستبين في الخاتم تكره الصلاة معه، ويفيد أنه لا يكره أن يصلي، ومعه صرة أو كيس فيه دنانير أو دراهم فيها صور صغار؛ لاستتارها، ويفيد أنه لو كان فوق الثوب الذي فيه صورة ثوب ساتر له، فإنه لا يكره أن يصلي فيه؛ لاستتارها بالثوب الآخر، والله سبحانه أعلم.
3. الدر المختار للحصكفي مع ردالمحتار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها 1/ 648:
   لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه، لأنها مهانة (أو في يده) عبارة الشمني بدنه؛ لأنها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين، قال في البحر: ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر.
   وقال ابن عابدين تحت قوله: (لا المستتر بكيس أو صرة) بأن صلى ومعه صرة أو كيس فيه دنانير أو دراهم فيها صور صغار فلا تكره؛ لاستتارها، بحر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:607
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




بیماری میں قضا شدہ کن نمازوں کا کتنا فدیہ دینا ضروری ہے؟

سوال:
   ایک آدمی فوت ہوچکا ہے جو کہ چار ماہ بیمار تھا، پہلے ایک ماہ میں تو وہ بالکل بے ہوش رہا اور باقی تین ماہ میں ایسا تھا کہ بات بھی نہ کرسکتا تھا، خوراک پائپ کے ذریعے دیا جاتا تھا، اور بول وبراز کا بھی اس کو کچھ پتہ نہ چلتا تھا، لیکن بغور دیکھنے سے لوگوں کو پہچان سکتا تھا، تو کیا اس دوران اس پر نماز فرض تھی یا نہیں؟ اگر فرض تھی تو فدیہ کس طرح ادا کیا جائے؟
کیا یہ فدیہ مدرسہ یا مسجد میں دے سکتا ہے یا نہیں؟ کیا فقیر یا غنی کو فدیہ دینے میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟اور فدیہ کی رقم سے کوئی رفاہی کام کیا جاسکتا ہے، یا کسی کو مالک بنانا اس میں شرط ہے؟
جواب:
   مذکورہ شخص کو ایک ماہ کی نمازیں بوجہ مکمل بے ہوش  ہونے کے معاف ہے، البتہ باقی تین مہینوں میں اگر اس شخص کی حالت ایسی تھی کہ سر کے اشارے سے بھی نماز پڑھنے کی قدرت نہیں رکھتا تھا، تو ان مہینوں کے نمازیں اس کے ذمہ لازم نہیں تھیں، لہذا ان کا فدیہ ادا کرنا بھی اس کے ذمہ لازم نہیں ہے، اور اگر اس کی حالت ایسی تھی کہ سر کے اشارے سے نماز پڑھنے کی قدرت رکھتا تھا تو پھر ان مہینوں کی نمازوں کی قضا اور مرتے وقت وصیت کرنا اس کے ذمہ واجب ہے، لہذا اگر مرحوم نے اپنی نمازوں کے فدیہ دینے کی وصیت کی ہو، تو  اس کے مال کی تین تہائی حصہ سے فدیہ دینا واجب ہے، اور فدیہ ہر دن کے چھ نمازوں میں سے ہر ایک نماز کا ادا کرنا ضروری ہے (یعنی پانچ فرض نمازیں اور ایک وتر کی نماز)
فدیہ کی مقدار پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ہے اور جو، کجھور اور کشمش کے اعتبار سے ساڑھے تین کلو یا اس کی قیمت ہے، لیکن اگر مرنے سے پہلےاس نے وصیت نہ کی ہو تو ورثاء کی ذمے فدیہ دینا واجب نہیں، البتہ اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور اپنی خوشی سے دے دیں، تو امید ہے کہ مرحوم کا ذمہ فارغ ہو جائے گا، اور فدیہ کسی مستحق زکوۃ کو دینا ضروری ہے، مدرسہ یا مسجد یا کسی رفاہی کام میں خرچ کرنے سے پہلے کسی کو اس کا مالک بنانا ضروری ہے، مالک بنائے بغیر براہ راست ان کاموں میں خرچ کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار،كتاب الصلاة، باب صلاة المريض 2/687:
   (وإن تعذر الإيماء) برأسه (وكثرت الفوائت) بأن زادت على يوم وليلة (سقط القضاء عنه) وإن كان يفهم في ظاهر الرواية (وعليه الفتوى).
قال ابن عابدين تحت قوله(قوله بأن زادت على يوم وليلة) أما لو كانت يوما وليلة أو أقل وهو يعقل، فلا تسقط بل تقضى اتفاقا، وهذا إذا صح، فلو مات، ولم يقدر على الصلاة، لم يلزمه القضاء، حتى لا يلزمه الإيصاء بها كالمسافر إذا أفطر، ومات قبل الإقامة كما في الزيلعي. قال في البحر: وينبغي أن يقال محمله ما إذا لم يقدر في مرضه على الإيماء بالرأس، أما إن قدر عليه بعد عجزه فإنه يلزمه القضاء.
2.البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت 2/160:
   إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة،  وأوصى بأن يعطى كفارة صلاته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر، وللوتر نصف صاع.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، باب الحادي عشر في قضاء الفوائت 1/125:
   إذا مات الرجل عليه صلوات فائتة،  وأوصى بأن تعطى كفارة صلاته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر، وللوتر نصف صاع.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:562
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08




وتروں میں دعائے قنوت کی جگہ سورۂ اخلاص پڑھنا:

سوال:
   جس کو دعائے قنوت یاد نہ ہو، اس کے لیے دعائے قنوت کی جگہ سورۂ اخلاص پڑھنا جائز ہے یا نہیں، اور سورۂ اخلاص کے پڑھنے سے اس کی نماز ادا ہوگی یا نہیں؟
جواب:
   وتر میں  قنوت کے لیے کوئی مخصوص دعا پڑھنا ضروری نہیں ہے، بلکہ کوئی بھی دعا پڑھی جاسکتی ہے، البتہ دعائے قنوت (اللهم انا نستعينك الخ) پڑهنا بہتر ہے، اگر کسی کو یہ دعا یاد نہ ہو، تو وہ اس کو یاد کرنے کی کوشش کرتا رہے، اور جب تک یاد نہ ہو اس کی جگہ (اللهم ربنا اتنا في الدنيا حسنة إلخ) یا تین مرتبہ (اللهم  اغفرلي) پڑھتا رہے، نیز اگر کسی نے تین مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھ لی تو بھی درست ہے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب الثامن في الصلاة الوتر 1/ 111:
   وليس في القنوت دعاء مؤقت، كذا في التبيين، والأولى أن يقرأ (اللهم إنا نستعينك) ويقرأ بعده (اللهم اهدنا فيمن هديت) ومن لم يحسن القنوت يقول، (ربنا أتنا في الدنيا حسنة، و في الآخرة حسنة، و قنا عذاب النار) كذا في المحيط، أو يقول (اللهم اغفرلنا) ويكرر ذلك ثلاثا، وهوا اختيار أبي الليث، كذا في السراجية.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 2/ 74:
   ومن لا يحسن القنوت بالعربية، أو لا يحفظه،  ففيه ثلاثة أقوال مختارة: قيل: يقول: (يا رب) ثلاث مرات، ثم يركع، وقيل (اللهم اغفرلي) ثلاث مرات، وقيل (ربنا أتنا في الدنيا حسنة، و في الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار).
3. الدر المختار للحصكفي مع ردالمحتار، كتاب الصلاة، مطلب في منكر الوتر السنن أو الإجماع 2/ 533،534:
(وقنت فيه) ويسن الدعاء المشهور، ويصلي على النبيﷺ، به يفتى. وقال ابن عابدين تحت قوله: (ويسن الدعاء المشهور)قدمنا في بحث الواجبات التصريح بذلك عن النهر، وذكر في البحر عن الكرخي أن القنوت ليس فيه دعاء مؤقت؛ لأنه روي عن الصحابة أدعية مختلفة، ولأن المؤقت من الدعاء يذهب برقة القلب.
4. السعاية في كشف ما في شرح الوقاية لعبد الحي اللكنوي، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة 2/ 139:
   في المقدمة الغزنوية: إن كان لا يحسن القنوت يقرأ ثلاث مرات (قل هو الله أحد إلخ) أو ثلاث مرات (اللهم اغفرلنا).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:558
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08




سنتوں کے بعد اجتماعی دعا کرنا

سوال:
   ایک مرتبہ فرض نماز کے بعد دعا ہوجائے، تو پھر امام کا نماز کے اختتام پر سنتوں کے بعد دوبارہ اجتماعی دعا مانگنا جائز ہے؟
جواب:
   فرض نماز کے اگر امام اور مقتدی دعا کے لیے ہاتھ اٹھالے، جس سے ایک اجتماعی ہیئت بن جائے تو اس کی گنجائش ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ سے فرضوں کے بعد جہرا دعا مانگنا ثابت ہے، لیکن سنتوں کے بعد اجتماعی ہیئت پر دعا کا اہتمام والتزام کرنا خلافِ سنت بلکہ بدعت ہے، کیونکہ فرض نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد سنت اور نوافل انفرادی طور پر پڑھی جاتی ہے، تو اس کی دعا بھی انفرادی ہونی چاہیے، اسی وجہ سے سنتوں کے بعد اجتماعی دعا مانگنا نبی کریم ﷺ یا آپ کے صحابہ سے ثابت نہیں، تاہم سنت اور لازم نہ سمجھے بغیر اگر کبھی کبھار کسی نے سنتوں کے بعد دعا مانگ لی، تو اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
1. السنن الكبرى للنسائي، كتاب عمل اليوم والليلة، ما يستحب من الدعاء دبر الصلوات المكتوبات، الرقم: 9856: 
    أخبرنا محمد بن يحيى بن أيوب قال: حدثنا حفص بن غياث قال: حدثنا ابن جريج، عن ابن سابط، عن أبي أمامة قال: قلت: يا رسول الله، أي الدعاء أسمع؟ قال: «جوف الل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات».
2. المعجم الکبیر للطبراني الرقم: 14907:

   قال: رأيت عبدالله بن الزبير ورأى رجلا رافعا يديه يدعو قبل أن يفرغ من صلاته، فلما فرغ منها قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن يرفع يديه حتى يفرغ من صلاته.
3. إعلاء السنن لظفر أحمد العثماني، كتاب الصلاة، بيان ما يقرأ إذا فرغ من الصلاة 3/ 205:
   ورحم الله طائفة من المبتدعة في بعض أقطار الهند حيث واظبوا على أن الإمام، ومن معه يقومون بعد المكتوبة بعد قرائتهم: (أللهم أنت السلام ومنك السلام إلخ)، ثم إذا فرغوا من فعل السنن والنوافل يدعو الإمام عقب الفاتحة جهرا بدعاء مرة ثانية، والمقتدون يؤمنون على ذلك، وقد جرى العمل منهم بذلك على سبيل الالتزام والدوام حتى أن بعض العوام اعتقدوا أن الدعاء بعد السنن والنوافل باجتماع الإمام والمأمومين ضروري واجب…ومن لم يرض بذلك يعزلونه عن الإمامة، ويطعنونه، ولا يصلون خلف من لا يصنع بمثل صنيعهم، وأيم الله! إن هذا أمر محدث في الدين.
4. سنن أبي داود، باب ركعتي المغرب، أين تصليان، الرقم: 1301، 2/ 472:
   عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يطيل القراءة في الركعتين بعد المغرب حتى يتفرق أهل المسجد.
5. معارف السنن، بيان الأحاديث الواردة في الدعاء بعد الصلاة وحكمها 3/ 124:
   ثم إن ما راج في كثير من بلاد الهند الجنوبية الدعاء بكيفية مخصوصة بعد الرواتب: يستقبل الإمام المقتدين،  ويدعون رافعي أيديهم، ثم ينادي الإمام بصوت حال: الفاتحة، فيقرأ هو والمقتديون الفاتحة،  ثم يصلون على النبي ﷺ وبعضهم يتفنن فيه،  فيقول: إلى روح النبي الكريم ﷺ الفاتحة، ويواظبون على هذا طول أعمارهم في جميع صلواتهم، ويلتزمونه التزام واجب، وينكرون على الإمام وماموم لا يفعل ذلك، وربما يفضى بهم الإنكار إلى خصام شديد وجدال قبيح، بل يؤدي إلى قبائح وفظائع من الجهالات الفاحشة، ففي مثل هذه يقال: إنه بدعة تضمنت بدعات كثيرة، لا أرى لمثل هذا وجهة من السنة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:557
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-07