سردی یا گرمی سے بچنے کے لیے پہنے ہوئے کپڑوں کے کسی حصہ پر سجدہ کرنا:

سوال:
   نمازی پہنے ہوئے کپڑوں پر سردی یا گرمی کی شدت کی وجہ سے سجدہ کرسکتا ہے؟
جواب:
   گرمی یا سردی کی شدت سے بچنے کے لیے نمازی کا پہنے ہوئے کپڑوں پر سجدہ کرنا بلا کراہت جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكرہ 1/ 108:
   رجل يصلي على الأرض، ويسجد على خرقة وضعوها بين يديه ليقي بها الحر لا بأس به، كذا في الظهيرية.
2. المحيط البرهاني ل بن مازة الحنفي، كتاب الصلاة، الفصل السادس عشر في التغني والألحان 1/ 365:
   وإذا بسط كُمه وسجد عليه أن…. يُبقي التراب عن وجهه يكره ذلك؛ لأن هذا نوع يبقي التراب عن ثيابه، ويسجد عليه لا يكره … رجل يصلي على الأرض ويسجد على حرفها وضعها بين يديه يبقى به الحر لا بأس به.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:697
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-20




تہجد پڑھنے کا افضل وقت:

سوال:
   کیا وتر کے بعد تہجد کی نماز ادا ہوجاتی ہے؟ تہجد کا بہتر وقت کون سا ہے؟
جواب:
   وتر پڑھنے کے بعد تہجد کی نماز پڑھنا جائز ہے، تاہم اگر تہجد کے لیے اٹھنے کا معمول ہو، تو ایسی صورت میں نماز وتر تہجد کی نماز کے بعد ادا کرنا افضل ہے اور نماز تہجد کا بہتر وقت یہ ہےکہ غروب آفتاب سے لے کر صبح صادق تک کا وقت چھ (6) برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے، پہلے تین حصوں میں آرام کرے، چوتھے اور پانچویں حصہ میں تہجد پڑھے اور چھٹے حصہ میں پھر آرام کرے۔

حوالہ جات:
1. مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، باب صلاة الليل، الفصل الأول 1/ 105:
   عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في ما بين أن يفرغ من صلاة العشاء إلى الفجر أحدى عشر ركعة إلى آخره.
2.  تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة، الأوقات التي يستحب فيها الصلاة 1/ 84:
   (والوتر إلى آخر الليل لمن يثق بالانتباه) أي ندب تأخير الوتر إلى آخر الليل إذا كان يثق من نفسه أنه ينتبه ليصلي ليكون الوتر ختما لقيام الليل كله لقوله – عليه الصلاة والسلام – «اجعلوا آخر صلاتكم من الليل وترا».
3. رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل  25/2:
(قوله ولو جعله أثلاثا إلخ) أي لو أراد أن يقوم ثلثه وينام ثلثيه فالثلث الأوسط أفضل من طرفيه لأن الغفلة فيه أتم والعبادة فيه أثقل ولو أراد أن يقوم نصفه وينام نصفه فقيام نصفه الأخير أفضل لقلة المعاصي فيه غالبا وللحديث الصحيح «ينزل ربنا إلى سماء الدنيا في كل ليلة حين يبقى ثلث الليل الأخير، فيقول: من يدعوني فأستجيب له؟ من يسألني فأعطيه من يستغفرني فأغفر له» ومعنى ينزل ربنا ينزل أمره كما أوله به الخلف وبعض أكابر السلف، وتمامه في تحفة ابن حجر، وذكر أن الأفضل من الثلث الأوسط السدس الرابع والخامس للخبر المتفق عليه «أحب الصلاة إلى الله تعالى صلاة داود، كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه» . اهـ. وبه جزم في الحلية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:695
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-20




مردوں کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہاتھ اٹھانے کی مقدار :

سوال:
   مردوں کے لیے نماز میں تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہاتھ  کہاں تک  اٹھانے چاہیے؟ 
جواب:
   مردوں کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے کانوں تک ہاتھ اٹھانا سنت ہے اس طرح کہ انگوٹھے کے سرے کان کی لو کے برابر ہو جائیں، کانوں کی لو کو ہاتھ لگانا ضروری نہیں، البتہ انگوٹھوں کے سرے کانوں کی لو کو لگانا بہتر ہے، اس سے کانوں کے محاذات میں یعنی برابر میں ہاتھوں کے آنے کا یقین ہو جاتا ہے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها 1/ 73:
   (وكيفيتها) إذا أراد الدخول في الصلاة كبر، ورفع يديه حذاء أذنيه، حتى يحاذى بإبهاميه شحمتي أذنيه، وبرؤس الأصابع فروع أذنيه.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة 1/ 531:
   (وإذا اراد الدخول في الصلاة كبر) أي: تكبير الافتتاح قائما … قوله: (ورفع يديه حذاء أذنيه) لما رويناه، ولما رواه الحاكم، وصححه عن أنس قال: رأيت النبيﷺ كبر فحاذى بإبهاميه أذنيه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:691
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

 




قضا روزے اور نماز کی ادائیگی کا حکم:

سوال:
   ایک شخص کافی عرصہ سے بیمار تھا، بیماری کی وجہ سے جو نمازیں اور  روزے فوت ہوئے تھے، ان سب کا  فدیہ دے دیا، اُس کے بعد یہ شخص صحت یاب ہوگیا تو کیا اس پر قضا نمازوں اور روزوں کی ادائیگی لازم ہوگی یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ مریض جب اپنی بیماری سے صحت یاب ہو جائے، اور اس کو اتنا وقت مل جائے کہ اس میں وہ قضا نمازوں اور روزوں کی ادائیگی کر سکتا ہو، تو اس پر قضاء نمازوں اور روزوں کی ادائیگی لازم ہوگی، اور جو فدیہ دیا ہے، وہ نفلی صدقہ شمار ہوگا، تاہم اگر اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو روزوں کے لیے جو فدیہ دیا  گیا ہے، وہی کافی ہے، لیکن نمازوں کے لیے جو فدیہ دیا گیا ہے، وہ کافی نہیں ہے، وہ دوبارہ دیا جائے گا کیونکہ زندگی میں نمازوں کا فدیہ دینا درست نہیں۔ 

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت 2/ 646:
   وفي القنية: ولا فدية في الصلاة حالة الحياة، بخلاف الصوم.
2. الهندية للجنة العلماء، كتاب الصوم، الباب  الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار 1/ 207:
   ولو قدر على الصيام بعد ما فدى، بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم.
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصوم، فصل في العوارض 2/ 502:
   ولو قدر على الصوم يبطل حكم الفداء؛ لأن شرط الخلفية استمرار العجز في الصوم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:684
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




نیندکی حالت میں نماز کا کوئی رکن ادا کرنا:

سوال:
   ایک شخص نماز کے دوران سوگیا اور ایک دو رکن اس نے سونے کی حالت میں ادا کیے یا یہ کہ اسے بالکل  شعور نہ رہا، مثلا سوتے ہوئے سجدہ، یا رکوع، یا قرأت کی اور ان ارکان کی ادائیگی کے وقت اس میں بالکل بیداری نہ رہی ہو، تو ایسے شخص کی نماز کا کیا حکم ہے؟ 
جواب:
   دوران نماز سونے کی حالت میں اگر اس شخص نے ہیئتِ مسنونہ پر رہتے ہوئے ارکان اداء کر لیے تھے تو اس کی نماز ہوگئی، اور اگر ہیئت ِمسنونہ بر قرار نہ رہی تھی، خاص طور سے سجدہ میں تو اس كا وضو ٹوٹ گيا اور وضو ٹوٹنے کی وجہ سے اس کی نماز بھی ٹوٹ گئی، جس كا اعادہ كرنا ضروری ہوگا۔
ہیئتِ مسنونہ کا مطلب یہ ہے کہ مثلا مرد نے اس طرح سجدہ کیا ہو کہ پیٹ ران سے اور بازو پہلو سے جدا ہوں۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الخامس في نواقض الوضوء 1/ 12:
ولا ينقض نوم القائم والقاعد ولو في السرج أو المحمل ولا الراكع ولا الساجد مطلقا إن كان في الصلاة وإن كان خارجها فكذلك إلا في السجود فإنه يشترط أن يكون على الهيئة المسنونة له بأن يكون رافعا بطنه عن فخذيه مجافيا عضديه عن جنبيه وإن سجد على غير هذه الهيئة انتقض وضوءه. كذا في البحر الرائق ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين غلبته وتعمده وعن أبي يوسف النقض في الثاني والصحيح ما ذكر في ظاهر الرواية. هكذا في المحيط.
2. رد المحتار لابن عابدين، سنن الوضوء 141/1:
(قوله: وساجدا) وكذا قائما وراكعا بالأولى، والهيئة المسنونة بأن يكون رافعا بطنه عن فخذيه مجافيا عضديه عن جنبيه كما في البحر. قال ط: وظاهره أن المراد الهيئة المسنونة في حق الرجل لا المرأة

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:678
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

 




نماز کے دونوں سجدوں کا حکم:

سوال:
   نماز میں دونوں سجدے فرض ہیں، یا دونوں واجب ہیں، یا ایک فرض ہے اور ایک واجب، نیز اگر کسی آدمی نے دوسرا سجدہ یا پہلا سجدہ ترک کردیا، تو کیا سجدۂ سہو سے اس کی نماز درست ہوجائے گی یا نماز کا اعادۂ کرنا پڑے گا؟
جواب:
   نماز کے دونوں سجدے فرض ہیں، اگر کسی آدمی نے سہوا ایک سجدہ چھوڑدیا تو نماز ختم ہونے سے قبل جب بھی یاد آئے وہ سجده ادا کرلے، اور دونوں سجدوں کے درمیان ترتیب ساقط ہونے پر سجدۂ سہو بھی کرلے، تو نماز ہوجائے گی، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر سلام پھیرنے کے بعد یاد آگیا اور سینہ قبلہ سے نہ پھیرا ہو تو فورا سجدہ کرے اور پھر تشہد پڑھ کر سجدۂ سہو کرے، اس کے بعد تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے، اور اگر سینہ قبلہ سے پھر چکا ہو تو نماز فاسد ہوگئي از سرِ نو نماز کا اعادہ کرے۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، فصل في أركان الصلاة 1/ 105:
   وأما أركانها فستة … (ومنها) الركوع (ومنها) السجود .
2.  تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة، باب الإمامة والحدث في الصلاة، الإستخلاف في الصلوة 1/ 152:
   أنه لو ترك سجدة من الركعة الأولى إلى آخر صلاته، لم تفسد صلاته، ولو كان الترتيب في أفعال صلاة واحدة فرضا لفسدت.
3. فتح القدير لابن الهمام، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 1/ 516:
   إذا سلم وانصرف، ثم ذكر أن عليه سجدة صلبية أو سجدة تلاوة، فإن كان في المسجد ولم يتكلم وجب عليه أن يأتي به.
4. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 3/ 91:
   ولو نسي السهو أو سجدة صلبية أو تلاوية يلزمه ذلك ما دام في المسجد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:675
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




کیا نابالغ بچے کو عورت اور نابالغہ بچی کو مرد غسل دے سکتا ہے؟:

سوال:
   نابالغ بچہ اور بچی کو مرد اورعورت دونوں غسل دے سکتے ہیں، یا بچہ کو مرد اور بچی کوعورت ہی غسل دے گی؟
جواب:
   نابالغ لڑکا اور لڑکی کو مرد اور عورت دونوں غسل دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ حدِ شہوت کو نہ پہنچے ہوں کہ جس کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہو، اور فقہائے کرام نے اس کی حد یہ بتلائی ہے کہ بچہ یا بچی بولنا شروع کردے، تاہم بہتر یہ ہے کہ بچہ کو مرد اور بچی کو عورت غسل دے۔ 

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز 5/ 224:
   قال في الفتح (الصغير والصغيرة إذا لم يبلغا حد الشهوة، يغسلهما الرجال والنساء) وقدره في الأصل: بأن يكون قبل أن يتكلم.
2. الفتاوى التاتارخانيه لعالم بن علاء الهندي، كتاب الصلاة، الفصل: الثاني والثلاثون، الجنائز، غسل الميت 3/ 16:
   وتغسل المرأة الصبي الذي لم يتكلم، ويغسل الرجل الصبية التي لم تتكلم، وفی الخانیة: إذا لم يبلغا حد الشهوة؛ لأنه ليس لأعضائهما حكم العورة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:674
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




مسواک کرنے کا سنت طریقہ:

سوال:
   مسواک کرنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ اور مسواک کس طرح پکڑنی چاہیے؟
جواب:
   مسواک پکڑنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ مسواک کو دائیں ہاتھ میں اس طرح پکڑا جائے کہ چھوٹی انگلی (چھنگلی) اور انگوٹھا مسواک کے نیچے رہیں، اور باقی تین انگلیاں مسواک کے اوپر رہیں۔
   اور مسواک کرنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلے اوپر والے دانتوں کو دائیں طرف سے تین مرتبہ صاف کیا جائے، پھر بائیں طرف والے دانتوں کو تین مرتبہ صاف کیا جائے، اسی طرح پھر نیچے والے دانتوں کو پہلے دائیں طرف سے تین مرتبہ صاف کیا جائے، اس کے بعد بائیں طرف والے دانتوں کو تین مرتبہ صاف کیا جائے، اور ہر مرتبہ مسواک کو دھویا جائے، اس کے بعد زبان اور تالو کو مسواک سے صاف کیا جائے، دانتوں پر مسواک چوڑائی میں کی جائے، اور زبان پر مسواک لمبائی میں کی جائے۔

حوالہ جات:
1. غنية المتملي لإبراهيم الحلبي، كتاب الطهارة، ص: 30:
   يستاك عرضا لا طولا، أي: مع عرض الأسنان الذي هو طول الفم، لا العكس؛ خشية إلحاق الضرر باللثة، ويبدأ بالجانب الأيمن من العليا، ثم بالأيسر منها، ثم بالأيمن من السفلى، ثم بالأيسر منها، ويدلك ظاهر الأسنان وباطنها وأطرافها، ويبل السواك إن كان يابسا، و يغسله عند الاستياك وعند الفراغ منه.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة 1/ 42،43:
   قوله: والسواك … وكيفية أن يستاك أعالي الأسنان وأسافلها والحنك، ويبتدئ من الجانب الأيمن، وأقله ثلاث في الأعالي وثلاث في الأسافل بثلاث مياه … ويستاك عرضا لا طولا … ويستحب إمساكه باليد اليمنى، والسنة في كيفية أخذه أن تجعل الخنصر من يمينك أسفل السواك تحته، والبنصر والوسطى والسبابة فوقه، واجعل الإبهام أسفل رأسه تحته، كما رواه ابن مسعود، ولا يقبض القبضة على السواك … ويبدأ بالأسنان العليا من الجانب الأيمن، ثم الأيسر، ثم السفلى كذلك، كذا في شرح منية المصلي.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، الفصل الثاني في سنن الوضوء 1/ 7:
   (ومنها السواك)… ويندب إمساكه بيمينه بأن جعل الخنصر أسفله والإبهام أسفل رأسه وباقي الأصابع فوقه، كذا في النهر الفائق، ثم وقت الاستياك هو وقت المضمضة، كذا في النهاية، ويستاك أعالي الأسنان وأسافلها، ويستاك عرض أسنانه، ويبتدئ من الجانب الأيمن، كذا في الجوهرة النيرة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:669
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




قضائےعمری کی شرعی حیثیت:

سوال:
   رمضان کے آخری جمعہ  میں قضائےعمری کرنا درست ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ قضائےعمری کے نام سے جو نماز مشہور ہے کہ رمضان المبارک کے آخر میں ایک نماز باجماعت یا علیحدہ عليحده قضائے عمری کے نام سے پڑھتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ یہ نماز عمر بھر کی قضاء نمازوں کے لیے کافی ہوجاتی ہے، تو یہ بدعت اور بے اصل ہے۔
اس کے بارے میں جو حدیث پیش کی جاتی ہے وہ بھی بے اصل اور من گھڑت ہے، لہٰذا اس طرح  کرنے سے قضاء نمازوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی، بلکہ تمام قضا نمازوں کی یکے بعد دیگرے قضاء کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. صحيح البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب قضاء الصلوات الأولى فالأولى، الرقم: 320:
عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم  قال: من نسي صلاة، فليصل إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك، {وأقم الصلاة لذكري}.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت 2/ 86:
   فالأصل فيه أن كل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبها فيه فإنه يلزم قضاؤها سواء تركها عمدا أو سهوا أو بسبب نوم وسواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة.
3. الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة لملا على قارئ،  الرقم: 519 :
   من قضى صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان، كان ذلك جابرا لكل صلاة، فائتة في عمره إلى سبعين سنة باطل قطعا، لأنه مناقض للإجماع على أن شيئا من العبادات، لا يقوم مقام فائتة سنوات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:665
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




دورانِ وضو گھنی داڑھی کو دھونے کا طریقہ:

سوال:
   دوران وضو گھنی داڑھی کے بالوں کا دھونا فرض ہے یا مستحب؟ اور جڑوں میں پانی پہنچانا ضروری ہے یا صرف بالوں کا مسح کرنا کافی ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ جب داڑھی اتنی گھنی ہو جس کے نیچے کھال كی رنگت نظر نہ آتی ہو، تو داڑھی کے ان بالوں کا دھونا ضروری ہے، جو چہرے کے حدود کے اندر ہوں، یعنی نچھلے جبڑے کے اوپر سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک، باقی داڑھی کے نیچے کھال تک یا بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری نہیں ہے، اور نہ داڑھی کے ان بالوں کا دھونا ضروری ہے، جو چہرے کے حدود سے باہر ہیں، تاہم گھنی داڑھی کے بالوں کے اندر انگلیوں سے خلال کرنا مسنون ہے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الفصل الأول في فرائض الوضوء 1/ 4:
   ويغسل شعر الشارب والحاجبين، وما كان من شعر اللحية على أصل الذقن، ولا يجب إيصال الماء إلى منابت الشعر، إلا أن يكون الشعر قليلا تبدوا منه المنابت، كذا في فتاوى قاضي خان …   وروي عن أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله، أنه يجب إمرار الماء على ظاهر اللحية، هو الأصح، كذا في التبيين، وهو الصحيح، كذا في الزاهدي، والشعر المسترسل من الذقن لا يجب غسله، كذا في المحيطين.
2.  تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الطهارة 1/ 33:
   وروي عن أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله، أنه يجب إمرار الماء على ظاهر اللحية، وهو الأصح؛ لأنه لما تعسر غسل ما تحت الشعر، انتقل الواجب إليه من غير تغيير كالحاجبين وأهداب العينين، وأقرب منه مسح الرأس؛ لأنه لما تعسر انتقل الوظيفه إلى الشعر من غير تغيير، وهذا كله في غير المسترسل، وأما المسترسل عن الذقن، فلا يجب إيصال الماء إليه؛ لأنه ليس من الوجه.
3. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الطهارة 1/ 225:
   (وغسل جمیع اللحية فرض) يعني عمليا (أيضا) على المذهب الصحيح المفتى به المرجوع إليه، وما عدا هذه الرواية مرجوع عنه، كما في البدائع، ثم لا خلاف أن المسترسل لا يجب غسله ولا مسحه، بل يسن، وأن الخفيفة التي ترى بشرتها، يجب غسل ما تحتها، كذا في النهر، وفي البرهان: يجب غسل بشرة لم يسترها الشعر كحاجب وشارب وعنفقة في المختار. قال ابن عابدين تحت قوله: (أن المسترسل) أي: الخارج عن دائرة الوجه … ولذا قال في البدائع: الصحیح أنه يجب غسل الشعر الذي يلاقي الخدين وظاهر الذقن، لا ما استرسل من اللحية عندنا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:662
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16