نماز استسقاءمیں خطبہ اور دعا کا وقت:

سوال:
   نماز استسقاء میں ایک خطبہ ہے یا دو؟ نیز خطبہ اور دعا کے اوقات کون کون سے ہیں؟
جواب:
   نماز استسقاء میں دو خطبے ہیں، جو کہ دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد دیئے جاتے ہیں، اور اس کے بعد دعا مانگی جاتی ہے۔

حوالہ جات:
1.الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب التاسع عشر في الاستسقاء1/ 153:
   وقالا: يخرج الإمام، ويصلي بهم ركعتين… ويخطب خطبتين بعد الصلاة، … وفي التحفة: وإذا فرغ الإمام من الخطبة يجعل ظهره إلى الناس، ووجهه إلى القبلة، ويقلب رداءه، ثم يشتغل بدعاء الاستسقاء قائما، والناس قعود مستقبلون ووجوههم إلى القبلة في الخطبة والدعاء، فيدعو الله تعالى، ويستغفر للمؤمنين، ويجددون التوبة، ويستغفرون.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، فصل في صلاة الاستسقاء 2/ 258:
    ثم بعد الفراغ من الصلاة يخطب عندهما، وعند أبي حنيفة: لا يخطب … وإذا فرغ من الخطبة جعل ظهره إلى الناس، ووجهه إلى القبلة، ويشتغل بدعاءالاستسقاء، والناس قعود مستقبلون بوجوههم الى القبلة في الخطبة والدعاء؛ لأن الدعاء مستقبل القبلة أقرب إلى الإجابة، فيدعو الله، ويستغفر للمؤمنين، ويجددون التوبة، ويستسقون.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:113
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-3

 




غلط فہمی کے وجہ سے مقیم کا قصر والی نمازیں پڑھنا:

سوال:
   میں اٹک شہر کا رہنے والا ہوں، ٹریننگ کے سلسلہ میں دو مہینوں کے لیے تربیلہ تبادلہ ہوا ہے، اور ہفتے میں ایک بار گھر آتا ہوں، کئی دن میں نے تربیلہ میں پوری نماز پڑھی، مگر بعد میں کسی نے بتایا، کہ آپ یہاں مسافر ہیں، لہذا قصر کیا کریں، بعد میں میں نے قصر شروع کردی، تو میری کونسی نمازیں درست ہیں؟  
جواب:
   واضح رہے کہ اٹک شہر سے تربیلہ تک بذریعہ موٹروے (74) کلومیٹر اور بذریعہ جی ٹی روڈ (72) کلو میٹر بنتا ہے، اس لیے تربیلہ میں آپ شرعی لحاظ سے مسافر نہیں بنتے، اور آپ کو جس نے مسئلہ بتایا ہے، وہ درست نہیں، چنانچہ آپ نے جو نمازیں پوری پڑھی ہیں،وہ درست ہیں،اورجو نمازیں قصر  کرکے پڑھی ہیں، ان نمازوں کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا، تاہم اگر آپ کسی ایسے راستے سے تربیلہ آتے ہوں جس کی مسافت سوا ستتر کلومیٹر سے زیادہ بنتی ہو تو پھر آپ کی قصر والی نمازیں درست ہوں گی اور دوسری نمازوں کا اعادہ کرنا ہوگا۔

حوالہ جات:
1. الصحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب كيف فرضت الصلاة في الإسراء، الرقم:350:
   عن عائشة رضي الله عنها قالت: فرض الله الصلاة حين فرضها ركعتين ركعتين في الحضر والسفر، فأقرت صلاة السفر، وزيد في الصلاة الحضر.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، باب المسافر 1/ 137:
   أقل مسافة تتغير فيها الأحكام، مسيرة ثلاثة أيام، كذا في التبيين، وهو الصحيح، كذا في جواهر الاخلاطي.
 3. غنية المتملي لإبرهيم الحلبي، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر1/ 461:
   اعلم أن أقل مدة السفر عندنا، مسافة ثلاثه أيام من أقصر أيام السنة بالسير الوسط، وهو مثل الأقدام، والإبل في البر، واعتدال الريح في البحر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:43
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-28




ہیٹرکےسامنے نماز پڑھنا کیسا ہے؟:

سوال:
   سردیوں کے موسم میں مساجد میں نمازیوں کے سامنے ہیٹر لگے ہوئے ہوتے ہیں، کیا ان کے سامنے نماز پڑھنا جائز ہے؟
جواب:
   ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے، کیونکہ اس کی  وجہ سے آگ کا پوجا کرنے والوں کے  ساتھ مشابہت لازم نہیں آتی؛ اس وجہ سے کہ وہ  لوگ جس آگ کی عبادت کرتے ہیں وہ یا تو آتشدان میں آنگاروں کی صورت میں ہوتی ہے یا تنور میں بھڑکائی جاتی ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ ہیٹر قبلہ کی بجائے شمال یا جنوب کی جانب لگایا جائے تاکہ دل میں وسوسہ سے حفاظت ہو یا ہیٹر کے سامنے لو ہے وغیرہ کی تختی لگائی جائے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها 2/ 56:
   (قوله: وإلى مصحف، أو سيف معلق) أي: لا يكره … (قوله: أو شمع أو سراج) ؛لأنهما لا يعبدان، والكراهة باعتبارها، وإنما يعبدها المجوس إذا كانت في الكانون وفيها الجمر، أو في التنور، فلا يكره التوجه إليها على غير هذا الوجه، وذكر في غاية البيان اختلاف المشايخ في التوجه إلى الشمع أو السراج، والمختار أنه لايكره.
2. الفتاوي الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب السابع، الفصل الثاني في ما يكره في الصلاة وما لا يكره1/ 108:
   من توجه في صلاته إلى تنور فيه نار تتوقد، أو كانون فيه نار يكره، ولو توجه إلى قنديل، أو إلى سراج لم يكره، كذا في محيط السرخسي وهو الأصح.
3. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها 1/ 417:
   (أو شمع أو سراج)؛ لأنهما لا يعبدان والكراهة باعتبارها، وإنما تعبدها المجوس إذا كانت في الكانون وفيها الجمر، أو في التنور، فلا يكره التوجه إليها على غير ذلك الوجه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:4
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-22

 




فرض کی پہلی دو نوں رکعتوں میں سے کسی ایک میں سورت بھول جانے کا حکم:

سوال:
   امام عصر کی نماز ادا کررہا تھا اور ایک رکعت میں اس سے سورت چھوٹ گئی، تو کیا امام کی نماز درست ہے یا دوبارہ پڑھے؟
جواب:
   فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا بھی واجب ہے اور واجب چھوڑنے سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں اگر امام نے نماز کے آخر میں سجدۂ سہو کرليا تھا تو اس کی نماز درست ہے، ورنہ وقت کے اندر اندر دوبارہ پڑھنا واجب ہے، اور وقت نکلنے کے بعد دوبارہ پڑھنا مستحب ہوگا۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 1/ 405:
   ولو سھا عن الفاتحة فيهما، أو في إحداهما، أو عن السورة فيهما، أو في إحداهما، فعليه السهو.
2. تبيين الحقائق للزيلعي،كتاب الصلاة، باب سجود السهو 1/ 473:
   ولو قرأ الفاتحة وحدها وترك السورة، يجب عليه سجود السهو.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:108
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-22

 




آخری قعدہ کرکےبھولےسے کھڑا ہونا:

سوال:
   کوئی شخص چار رکعت والی نماز میں آخری قعدہ کرکے بھولے سے کھڑا ہوگیا، پھر یاد آنے پربیٹھ گیا، اب یہ شخص    تشہد پڑھ کر سجدۂ سہو کرے گا، یا بیٹھتے ہی سجدہ سہو کرے گا؟
جواب:
    مذكوره صورت میں اس شخص كے ليے دوبارہ تشہد پڑھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ بیٹھتے ہی سجدۂ سہو کرے، اور سجدۂ سہو کے بعد التحیات وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 2/ 667:
   (وإن قعد في الرابعة)، مثلا قدر التشهد (ثم قام، عاد، وسلم) ولو سلم قائما صح … (وسجد للسهو) في الصورتين.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (عاد، وسلم)، أي: عاد للجلوس؛ لما مر أن دون الركعة محل الرفض، وفيه إشارة إلى أنه لا يعيد التشهد.
2. أيضا، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 2/ 651:
   (ویجب) … سجدتان، ويجب أيضا (تشهد وسلام)؛ لأن سجود السهو يرفع التشهد دون القعدة لقوتها.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، الباب الثاني عشر في سجود السهو 1/ 129:
   رجل صلى الظهر خمسا، وقعد في الرابعة قدر التشهد، إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة، أنها الخامسة، عاد إلى القعدة وسلم، هكذا في المحيط، ويسجد للسهو، وكذا في السراج الوهاج.
4. الجوهرة النيرة لأبي بكر الحدادي، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 1/ 202:
   (وإن قعد في الرابعة قدر التشهد، ثم قام إلى الخامسة، ولم يسلم يظنها القعدة الأولى، عاد إلى القعود ما لم يسجد في الخامسة، ويسلم، ويسجد للسهو)؛ لأن التسليم في حالة القيام غير مشروع في الصلاة المطلقة، فإن سلم قائما، لا تفسد صلاته، ولو عاد لايعيد التشهد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:104
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-20

 




نمازکے فساد کی صورت میں سنتوں کی قضا کا حکم:

سوال:
   امام صاحب نے عشاء کی نماز پڑھائی اور لوگوں نے فرض کے بعد سنتیں بھی پڑھ لیں، پھر کسی عذرکی وجہ سے نماز فاسد ہونے کا پتہ چلا، تو جن لوگوں نے سنتیں پڑھی ہیں، اب وہ لوگ سنتیں بھی دوبارہ پڑھیں گے یا نہیں؟  
جواب:
   مذکورہ صورت میں اگر اس نماز کا اعادہ وقت کے اندر اندر ہو رہا ہو، تو فرض نماز کے ساتھ سنتیں بھی پڑھیں، اور اگر وقت نکلنے کے بعد ہو رہا ہو تو سنتیں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات:
1. فتاوى التاتارخانيه لعالم بن علاء الهندى، كتاب الصلاة، الفصل قضاء الفائتة 2/ 450 :
   وفي الكافي: ولو صلى العشاء بلا وضوء، ثم توضأ، وصلى السنة والوتر، ثم علم أنه صلى العشاء بلا وضوء، يعيد العشاء عنده والسنة، ولا يعيد الوتر، وعندهما يعيد الوتر أيضا.
2. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الصلاة، الفصل الحادي عشر: التطوع قبل الفرض وبعده 2/ 235:
   وسائر النوافل إذا فاتت عن وقتها لا تقضى بالإجماع، سواء فاتت مع الفرض أو بدون الفرض، هذا هو المذكور في ظاهر الرواية.
3. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة 2/ 131:
   (ولم تقض إلا تبعاً) أي: لم تقض سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفرض فتقضي تبعا للفرض، سواء قضاها مع الجماعة أو وحده؛ لأن الأصل في السنة أن لا تقضي لاختصاص القضاء بالواجب.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:100
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-20

 




فجر کی سنتوں کے بعد بات چیت کرنا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر فجر کی سنتوں کے بعد کوئی بات چیت کرے، توکیا اس سے اس کی سنتیں باطل ہو جاتی ہیں؟
جواب:
   فجر کی سنتیں ہوں یا کسی اور نماز کی، فرض اور سنتوں کے درمیان دنیاوی بات چیت کرنے سے سنتیں فاسد نہیں ہوتیں، البتہ ان کے اجر وثواب میں کمی آجاتی ہے، اس لیے سنتیں پڑھنے کے بعد فرض نماز سے پہلے یا فرض پڑھنےکے بعد سنتوں کی ادائیگی سے پہلے غیر ضروری بات چیت کرنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصکفي، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 2 / 558:
   (ولو تكلم بين السنة والفرض لا يسقطها، ولكن ينقص ثوابها)، وقيل: تسقط (وكذا كل عمل ينافي التحريمة على الأصح).
2. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، باب النوافل: ص: 529:
   ولو أخر سنة لا تكون سنة على الصحيح، والكلام بين السنة والفرض وكل عمل ينافي التحريمة لا يسقطها، ولكن ينقص ثوابها على الأصح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:99
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-20

 




کیا کسی شخص کے دو وطنِ اصلی ہو سکتے ہیں؟:

سوال:
   کیا کسی شخص کے  بیک وقت دو وطنِ اصلی ہو سکتے ہیں؟
جواب:
   کتب فقہیہ میں وطنِ اصلی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ انسان کی  جائے ولادت یا جہاں اس نے شادی کر کے رہنے کی نیت کرلی ہو یا کسی جگہ مستقل سکونت اختیار کرلی ہو، تو یہ جگہ وطنِ اصلی بن جاتی ہے۔
اس تعریف کی رو سے اگر کسی شخص نے دو یا دو سے زیادہ جگہوں پر مستقل رہائش کی نیت  سے سکونت اختیار کی ہو، اس طور پر کہ کبھی ایک جگہ رہتا ہو اور کبھی دوسری جگہ،  تو یہ دونوں جگہیں اس کے لیے وطنِ اصلی کہلائیں گی  اور دونوں جگہ  پوری نماز پڑھے گا اگر چہ پندرہ دن کم رہنے کی نیت کی ہو۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، الكلام في الأوطان1/ 280:
   ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك، بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر، ولم يكن من نية أهله الخروج منها، وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة، حتى إنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله، ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله، فيصير مقيما من غير نية الإقامة.
2. الدر المختار للحصكفي مع الرد المختار، كتاب الصلاة، في الوطن الأصلي ووطن الإقامة 2/ 739:
   (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي، لم يبطل، بل يتم فيهما.
   قال ابن عابدين تحت قوله؛ (أو تأهله) أي: تزوجه، قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد، ولم ينو الإقامة به، فقيل: لايصير مقيما، وقيل: يصير مقيما، وهو الأوجه، ولو كان له أهل ببلدتين، فأيتهما دخلها صار مقيما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:98
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-20

 




دخولِ وقت سے پہلے اذان شروع کرنے کا حکم:

سوال:
   اگر کسی نے وقت داخل ہونے سے پہلےاذان شروع کردی، اور جب اذان ختم کر دی تو وقت داخل ہوا تھا، تو کیا اس اذان کو دوبارہ لوٹانا ضروری ہے یا نہیں؟ 
جواب:
   کسی بھی نماز کی اذان نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد دینی چاہیے، اگر اذان وقت سے پہلے دی گئی یا اذان کے دوران وقت داخل ہوا تو اذان ادا نہیں ہوئی، لہذا مذکورہ صورت میں چونکہ اذان وقت داخل ہونے سے پہلے شروع کی گئی تھی، اس لیے اس اذان کا اعادہ کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الأذان 1/ 456 ،457:
   (ولا يؤذن قبل وقت، ويعاد فيه)،أي: في الوقت إذا أذن قبله؛ لأن يراد الإعلام بالوقت فلا يجوز قبله.
2. الفتاوي الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، باب الأذان 1/ 53:
   تقديم الأذان على الوقت في غير الصبح لا يجوز اتفاقا، وكذا في الصبح عند أبي حنيفة و محمد رحمهما الله تعالى، وإن قدم يعاد في الوقت، هكذا في شرح مجمع البحرين لابن مالك.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الأذان 2/ 62:
   (لا) يسن (لغيرها) كعيد (فيعاد أذان وقع) بعضه (قبله) كالإقامة خلافا للثاني في الفجر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:97
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-20




وطن اقامت میں پندرہ دن سے کم رہنے کی صورت میں نماز کا حکم:

سوال:
   زید مردان میں ہاسٹل میں رہتا ہے، جبکہ اس کا اپنا علاقہ گلگت ہے، اور ہاسٹل میں پندرہ (15) دن سے زیادہ عرصہ  گزارا ہے، اب جب زید واپس گلگت جاکر واپس مردان میں ہاسٹل میں صرف ایک ہفتہ گزارنا چاہتا ہے، تو زید قصر کرےگا یا اتمام؟
جواب:
   زید نے جب مردان ہاسٹل میں سکونت اختیار کرکے ایک مرتبہ پندر(15) دن یا اس سے زیادہ عرصہ گزارا، تو مردان اس کا وطن اقامت بن گیا اور وطن اقامت بننے کے بعد جب تک یہاں سے مکمل طور پر سامان وغیرہ لے کرسکونت ختم  نہ کیا ہو، تو محض کچھ عرصہ کے لیے جانے گلگت جانے سے اس کا وطن اقامت ختم نہیں ہوگا، لہذا مذکورہ صورت میں زید اگر ایک ہفتہ بھی مردان ہاسٹل میں گزارے گا، تو پوری نماز پڑھے گا۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجیم، کتاب الصلاة، باب المسافر 2/ 239:
   وقيل: تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا، فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن، كوطن الإقامة تبقى ببقاء الثقل، وإن أقام بموضع آخر.
2. الدر المختار للحصکفي، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر 2/ 739:
   (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته، أو تأهله، أو توطنه، (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيها (لا غير) (و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بإنشاء (السفر)، الأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (أو توطنه) أي: عزم  على القرار فيه، وعدم الارتحال، وإن لم يتأهل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:96
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-20