خانہ کعبہ کی تصویر والے جائے نماز پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

سوال:
   جس جائے نماز پر خانہ کعبہ کی تصویر ہو اس پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:
   خانہ کعبہ کی تصویر والی جائے نماز پر اگرچہ نماز پڑھنا جائز ہے تاہم جائے نماز وغیرہ پر نقش ونگار پسندیدہ نہیں؛ کیونکہ اس کی وجہ سے خشوع وخضوع میں خلل واقع ہوتا ہے، نیز جس جائے نماز پر خانہ کعبہ کی تصویرہو اس کا احترام کرنا لازم ہے، لہذا تصویر والی جگہ  پر پاؤں رکھنے، یا بیٹھنے سے اجتناب کیا جائے۔

حوالہ جات:
1. الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها 1/ 283:
    (ولا يكره تمثال غير ذي الروح) ؛ لأنه لا يعبد.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، وما يكره فيها 1/ 415:
   (ولبس ثوب فيه تصاوير)؛ لأنه يشبه حامل الصنم، فيكره … (إلا أن تكون صغيرة)… (أو مقطوعة الرأس) … (أو لغير ذي روح) أي: أو كانت الصورة صورة غير ذي الروح مثل أن تكون صورة النخل وغيره من الأشجار؛ لأنها لا تعبد عادة.
3. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها 1/658:
قوله ( لأنه يلهي المصلي ) أي فيخل بخشوعه من النظر إلى موضع سجوده ونحوه، وقد صرح في البدائع في مستحبات الصلاة أنه ينبغي الخشوع فيها، ويكون منتهى بصره إلى موضع سجوده الخ، وكذا صرح في الأشباه أن الخشوع في الصلاة مستحب،والظاهر من هذا أن الكراهة هنا تنزيهية فافهم.

  

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:148
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-02




دورانِ اذان کھانسی کی وجہ سے وقفہ کرنا:

سوال:
   ایک شخص اذان دے رہا تھا اچانک اس کو کھانسی آئی جس کی وجہ سے اذان چھوڑ دیا، اب یہ شخص دوبارہ اذان دے گا یا بنا کرے گا یعنی جہاں سے اذان چھوٹ گئی تھی  وہی سے شروع کرے گا؟
جواب:
اگر اذان دیتے ہوئے  کھانسی کی وجہ سے اس شخص نے اذان میں معمولی سا وقفہ کیا ہو  مثلا ایک آدھ منٹ، تو اذان کو جاری رکھے، اور اگر بیچ میں وقفہ زیادہ آیا ہو مثلا تین چار منٹ ہو، تو ازسر نو اذان دے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الأذان 1/ 459:
   وفي القنية: وقف في الأذان لتنحنح أو سعال لا يعيد، وإن كانت الوقفة كثيرة، يعيد.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، باب الأذان 1/ 61:
   إذا وقف في خلال الأذان يعيده إذا كانت الوقفة بحيث تعد فاصلة، وإن كانت يسيرة، مثل التنحنح والسعال، لا يعيد،
3. الفتاوى التاتارخانية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، باب الأذان 2/ 149:
   سئل عمن یقف فی خلال الأذان: قال: يعيد الأذان، قال رضي الله عنه: هذا إذا كانت الوقفة كثيرة، بحيث تعد فاصلة، فأما إذا كانت يسيرة مثل التنحنح، والسعال، فإنه لا يعيد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:147
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-02




جائے ملازمت میں پندرہ دن سے کم قیام ہو، تو نمازکس طرح پڑھے؟

سوال:
   میں ایک سرکاری ملازم ہوں، میری ڈیوٹی شانگلہ سوات میں ہے اور گھر مردان میں ہے، ڈیوٹی کی جگہ گھر سے مسافت ِسفر پر ہے، لیکن میں مہینے میں بارہ دن ڈیوٹی پر ہوتا ہوں، اور پھر پانچ (5) چھ(6) دن چھٹی پر گھر آتا ہوں، سوال یہ ہے کہ میں ڈیوٹی کے دنوں میں وہاں قصر کی نماز پڑھوں یا پوری نماز؟ 
جواب:
   مذكوره صورت میں اگرآپ شانگلہ جاکر بارہ دن گزار کر واپس مردان آجاتے ہیں تو آپ شانگلہ میں قصر یعنی سفرانہ نماز پڑھیں گے، البتہ اگر آپ ایک دفعہ بھی شانگلہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرکے وہاں مقیم ہوگئے، تو شانگلہ آپ کا وطن اقامت بن جائے گا، پھر جب تک نوکری کے سلسلے میں وہاں آپ کا آنا جانا رہے گا، اس وقت تک پوری نماز پڑھیں گے، چاہیے تین چار دن کے لیے ٹھہرنا ہو۔

حوالہ جات:
1. الهداية لعلي بن بكر المرغيناني، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر 1/ 363:
   ولا یزال علی حكم السفر حتى ينوي الإقامة في قرية أو بلدة خمسة عشر يوما، أو أكثر، وإن نوى الإقامة أقل من ذلك، قصر.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر 2/ 729:
   (فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي: في نصف شهر.
3. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، فصل ما يصير المسافر به مقيما 1/268:
   فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة … وهي خمسة عشر يوما.
4. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الصلاة، باب صلاۃ المسافر 2/ 233، 239:
   (وقصر إن نوى أقل منها، أو لم ينو، وبقي سنين) أي: أقل من نصف شهر … وقیل: تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا، فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن،  كوطن الإقامة تبقی ببقاء الثقل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:146
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-02

 




ریکاڈ شدہ تلاوت سننے سے سجدۂ تلاوت کا حکم:

سوال:
   ٹی وی کیمرہ یا کیسٹ میں ریکارڈ شدہ تلاوت سنتے وقت اگر آیتِ سجدہ آئے تو اس کے سننے سے سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب:
   ریکارڈ شدہ تلاوت کی آواز کی حیثیت آواز بازگشت اور طوطے کی آواز کی طرح ہے، اور آوازِ باز گشت اور طوطے کی آواز کے سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا، اس لیے ریکارڈ شدہ تلاوت میں آیتِ سجدہ  سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
1. النهر الفائق لعمر بن إبراهيم بن نجيم، كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة 1/ 339:
   (أو ) من (سمع) وعلى من سمع آية السجدة (وكان غير قاصد) للسماع بشرط كون المسموع منه آدميا، وجب عليه الصلاة، أو لا، حتى لو سمعها من طير، لا تجب.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، فصل بيان من تجب عليه 1/ 440:
   فینظر إلى أهلية التالي، وأهليته بالتمييز … فتجب السجدة، بخلاف السماع من الببغاء والصدى، فإن ذلك ليس بتلاوة.
3. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة، باب سجود التلاوة 1/ 502:
   وکذا لا تجب بقراءة النائم، أو المغمى عليه في رواية، ولو سمعها من طوطي لا تجب على الصحيح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:145
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-19

 




عورت کےلیے تحیۃ الوضو یا تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم:

سوال:
   عورت تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد پڑھ سکتی ہے یا نہیں اور اس کو ثواب ملے گا یا نہیں؟
جواب:
   اگر کوئی خاتون کسی مسجد میں مثلا: مسجد حرام یا مسجد نبوی میں نماز ادا کررہی ہو تو اس کے لیے بھی مردوں کی طرح تحیۃ المسجد پڑھنا مسنون ہوگا، تاہم فتنہ کی وجہ اب چونکہ عام مساجد میں ان کے لیے نماز پڑھنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے؛ اس لیے اب جس طرح وہ اعتکاف اپنے گھر کی مسجد میں کرتی ہے اسی طرح وہاں نماز پڑھنے سے پہلے اگر وہ تحیۃ المسجد کی نیت سے دو رکعت ادا کرلے تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کو اجر مل جائے گا، باقی تحیۃ الوضو کے لیے تو چونکہ مسجد شرط نہیں لہذا وضو کے بعد اگر کوئی خاتون تحیۃ الوضو ادا کرے گی تو اس کو پورا ثواب ملے گا۔ 

حوالہ جات:
1. بذل المجهود لخليل أحمد السهارنفوري، كتاب الصلاة، باب ما جاء في الصلاة عند دخول المسجد 3/ 207:
   عن أبي قتادة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا جاء أحدكم المسجد فليصل سجدتين من قبل أن يجلس.
2. بذل المجهود لخليل أحمد السهارنفوري، كتاب الصوم، باب أين يكون الاعتكاف 8/ 699:
   وقال أبو حنيفة: يصح اعتكاف المرأة في مسجد بيته، وهو الموضع المهيَّأ من بيتها لصلاتها، قال: ولا يجوز للرجل في مسجد بيته.
3. فتح الباري لابن حجر العسقلاني، باب بناءالمساجد في البيوت 3/ 170:
   وقد روي من حديث هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، أن رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أمر ببناء المساجد في الدور، وأن تنظف وتطيب.
4. 
الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الوترو النوافل 2/18:
   (ويسن تحية) رب (المسجد، وهي ركعتان، وأداء الفرض) أو غيره، وكذا دخوله بنية فرض أو اقتداء (ينوب عنها) بلا نية.
5. 
رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 2/22:
   (قوله وندب ركعتان بعد الوضوء) لحديث مسلم «ما من أحد يتوضأ فيحسن الوضوء ويصلي          ركعتين يقبل بقلبه ووجهه عليهما إلا وجبت له الجنة» خزائن.

 

 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:140
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-15




خطبۂ جمعہ کے دوران مسجد کے لیے چندہ کرنا:

سوال:
   خطبۂ جمعہ کے دوران مسجد کے لیے چندہ جمع کرنا اور چندہ دینا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
   خطبۂ جمعہ کے دوران خاموش رہنا اور خطبہ کو غور سے سننا اور ہراس بات سے بچنا ضروری ہے جو خطبہ سننے میں خلل ڈالنے والی ہو، یہا ں تک کہ زبان سے  درود شریف یا تسبیحات وغیرہ پڑھنا بھی درست نہیں، لہذا خطبہ کے دوران چندہ جمع کرنا ناجائز ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الجمعة 2/ 39:
   (وكل ما حرم في الصلاة، حرم فيها) فيحرم أكل وشرب وكلام ولو تسبيحا، أو رد سلام أو أمر بمعروف، بل يجب عليه أن يستمع، ويسكت.
2. النهر الفائق لعمر بن إبراهيم، كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة 1/ 373:
   (وإذا خرج الإمام، فلا صلاة ولا كلام) … وكذا قراءة القرآن، وكذا الصلاة، وكذا كل ما شغل عن سماع الخطبة من التسبيح والتهليل والكتابة، ونحوها.
3. فتح القدير لابن الهمام، كتاب الصلاة، باب  صلاة الجمعة 2/ 66:
   یحرم في الخطبة  الكلام وإن كان أمرا بمعروف، أو تسبيحا، والأكل والشرب والكتابة، ويكره تشميت العاطس، ورد السلام.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:139
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-12

 




کیا کسی شخص کے دو وطنِ اصلی ہو سکتے ہیں؟:

سوال:
   کیا کسی شخص کے بیک وقت دو(2) وطنِ اصلی ہو سکتے ہیں؟
جواب:
   فقہائے کرام نے وطنِ اصلی کی تعریف یہ کی ہے کہ انسان کی  جائے ولادت یا جہاں اس نے شادی کرکے رہنے کی نیت کرلی ہو یا کسی جگہ مستقل سکونت اختیار کرلی ہو، تو یہ جگہ وطنِ اصلی بن جاتی ہے، اس تعریف کی رو سے اگر کسی شخص نے دو یا دو سے زیادہ جگہوں پر مستقل رہائش کی نیت سے سکونت اختیار کی ہو، اس طور پر کہ کبھی ایک جگہ رہتا ہو اور کبھی دوسری جگہ، تو یہ دونوں جگہیں اس کے لیے وطنِ اصلی کہلائیں گی اور دونوں جگہ  میں پوری نماز پڑھے گا اگرچہ پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت کی ہو۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، الكلام في الأوطان1/ 280:
   ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك، بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر، ولم يكن من نية أهله الخروج منها، وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة، حتى إنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله، ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله، فيصير مقيما من غير نية الإقامة.
2. الدر المختار للحصكفي مع الرد المختار، كتاب الصلاة، في الوطن الأصلي ووطن الإقامة 2/ 739:
   (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما … (والأصل إن الشيئ يبطل بمثله)
وقال ابن عابدين تحت قوله؛ (أو تأهله) أي: تزوجه. قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد، ولم ينو الإقامة به، فقيل: لا يصير مقيما، وقيل: يصير مقيما، وهو الأوجه، ولو كان له أهل ببلدتين، فأيتهما دخلها صار مقيما.
3. التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الصلاة، فصل في صلاة السفر 2/ 510:
   ومن حكم الوطن الأصلي أن ينتقض بالوطن الأصلي؛ لأنه مثله، والشيئ ينتقض بما هو مثله، حتى إذا انتقل من البلد الذي تأهل به أهله وعياله، وتوطن ببلدة أخرى بأهله وعياله، لاتبقى البلد المنتقل عنها وطنا له.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:136
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-11

 




قعدۂ اخیرہ میں تشہد کی جگہ سورۂ فاتحہ پڑھنا:

سوال:
   اگر کوئی شخص آخری قعدہ میں بیٹھ کر بھولے سے تشہد کے بجائے سورۂ فاتحہ یا کوئی اور سورت پڑھنا شروع کرے، تو کیا اس پر سجدۂ سہوہ واجب ہوگا؟
جواب:
   آخری قعدہ میں تشہد پڑھنا چونکہ واجب ہے، اس لیے تشہد کی جگہ اگر سورۂ فاتحہ یا کوئی اور سورت پڑھے تو واجب میں تاخیر کرنے کی وجہ سےسجدۂ سہوہ لازم ہوگا۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 2/ 172:
   لو قرأ آية في الركوع أو السجود أو القومة فعليه السهو، كما في الظهيرية وغيره، وعلله في المحيط بتأخير ركن أو واجب عليه، وكذا لو قرأها في القعود إن بدأ بالقرأة، وإن بدأ بالتشهد، ثم قرأها فلا سهو عليه.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، باب في سجود السهو 1/ 128:
   وإذا قرأ الفاتحة مكان التشهد، فعليه السهو، وكذلك إذا قرأ الفاتحة، ثم التشهد كان عليه السهو.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:135
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-11




فجر کی سنتیں پڑھنے کا بہتر وقت:

سوال:
   سنت ِفجر وقت داخل ہونے کے بعد اذان کے بعد فورا پڑھنا بہتر ہے، یا نماز فجر سے پہلے؟
جواب:
   فجر کی سنتیں  وقت داخل ہونے کے فورا بعد پڑھنا بہتر ہے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 2/ 885:
   وفي الخلاصة: والسنة في ركعتىی الفجرثلاث … والثاني أن يأتي بهما أول الوقت، والثالثة أن يأتي بهما في بيته.
2. الدر المختار للحصكفي مع رد المختار، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل 2/ 559:
   الإسفار بسنة الفجر أفضل، وقيل: لا.
وقال ابن عابدين تحت قوله: (وقيل: لا) … السنة في ركعتىی الفجر … والإتيان بها أول الوقت، وفي بيته.
3. التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الصلاة، الفصل العاشر في التطوع 2/ 305:
  والسنة في ركعتیی الفجر ثلاث … أن يأتي بهما أول الوقت.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:132
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-11




قعدۂ اخیرہ میں دوبارہ تشہد پڑھنے کا حکم:

سوال:
   آخری قعدہ میں تشہد دوبارہ پڑھنے سے سجدۂ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب:
   آخری قعدہ میں دوبارہ تشہد پڑھنے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 2/ 183:
   ولو كرر التشهد في القعدة الأخيرة، فلا سهو عليه.
2. التاتارخانىة لعالم بن علاء الهندي، كتاب الصلاة، الفصل السبع عشر سجود السهو 2/ 401:
   إذا كرر التشهد في القعدة الأولى، فعليه سجود السهو، وإذا كررها في القعدة الثانية، فلا.
3. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الصلاة، فصل في سجود السهو 2/ 315:
   وإذا تشهد مرتين، فلا سهو عليه، قيل: أراد به في القعدة الأخيرة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:131
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-11