ٹی وی والے کمرے میں نمازپڑھنا کیسا ہے؟:

سوال:
   جس کمرے میں ٹی وی چل رہا ہو، اس میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:
   ٹی وی چونکہ کئی خرافات کا مجموعہ ہے، اور آن ہونے کی صورت میں اس سے نماز کے خشوع وخضوع میں بھی  فرق آتا ہے، اس وجہ سے جس کمرہ میں ٹی وی چل رہا ہو اس کمرے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ اگر کسی جگہ ٹی وی بند حالت میں ہو تو وہاں نماز پڑھنے میں مضائقہ نہیں۔

حوالہ جات:
1. بذل المجهود شرح سنن أبي داود لخليل أحمد السهارنفوري، كتاب الصلاة، باب النهي عن الصلاة في مبارك الإبل 3/ 229:
(سئل رسول الله عن الصلاة في مبارك الإبل، فقال: لا تصلوا في مبارك الإبل إلخ) … وأيضا قد قيل: إن حكمة النهي ما فيها من النفور، فربما نفرت، وهو في الصلاة، فتؤدي إلى قطعها، أو أذى يحصل له منها، أو تشوش الخاطر الملهي عن الخشوع في الصلاة.

2. حاشية الطحطاوي لأحمد بن محمد الطحطاوي، كتاب الصلاة، فصل في المكروهات 1/ 360:
   (و) تكره بحضرة كل (ما يشغل البال) كزينة (و) بحضرة ما (يخل بالخشوع) كلهو ولعب. 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:281
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-08




نماز میں رونے کا حکم:

سوال:
   نماز کی حالت میں جہنم کا تذکرہ سننے سے رونے کی آواز نکلے، تو اس سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب:
   کسی تکلیف یا مصیبت کی وجہ سے نماز میں آواز نکال کر رونے سے اگرچہ نماز فاسد ہوجاتی ہے، لیکن جنت کے شوق یا جہنم کے خوف سےاگر رویا جائے، تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ 

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، وما يكره فيها 2/ 456:
   (يفسدها التكلم) … (والبكاء بصوت) يحصل به حروف (لوجع أو مصيبة) … (لا لذكر جنة أو نار).
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب السابع في ما يفسد الصلاة، وما يكره فيها 1/ 100:
   ولو أن في صلاته، أو تأوّه، أو بكى فارتفع بكاؤه، فحصل له حروف، فإن كان من ذكر الجنة، أو النار، فصلاته تامة، وإن كان من وجع، أو مصيبة، فسدت صلاته.
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، وما يكره فيها 2/ 6:
   وقوله: (لا من ذكر الجنة، أو نار) عائد إلى الكل أيضا، فالحاصل أنها إن كانت من ذكر الجنة أو النار، فهو دال على زيادة الخشوع، ولو صرح بهما فقال: اللهم إني أسألك الجنة، وأعوذ بك من النار، لم تفسد صلاته.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:254
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-27




ناپاک جگہ پر کپڑا بچھا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟:

سوال:
   ناپاک جگہ پر کپڑا بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   اگر ناپاک جگہ مکمل خشک ہوچکی ہو، تو وہاں ایسا مصلی وغیرہ بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے جس کے نیچے نجاست نظر نہ آتی ہو اور نہ نجاست کی بدبومحسوس ہوتی ہو۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، مطلب في التشبه بأهل الكتاب 2/ 468:
   وکذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة، فإن كان رقيقا يشف ما تحته، أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة، لاتجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظا بحيث لايكون كذلك، جازت.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب الثالث في شروط الصلاة 1/ 62:
   ولو کانت النجاسة رطبة، فألقى عليها ثوبا، وصلى، إن كان ثوبا يمكن أن يجعل من عرضه ثوبان كالنهالي، يجوز عند محمد، وإن كانت يابسة جازت إذا كان يصلح ساترا، كذا في الحلاصة.
3. غنية المتملي لإبراهيم الحلبي، كتاب الصلاة، فصل في الآسار 1/ 177:
   وليس هذا كالثوب إذا فرش على النجاسة، فإن حكم فرش الثوب على النجاسة إن كانت رطبة لايجوز الصلاة عليه، وإن كانت يابسة، فحكمه حينئذ كحكم التراب … وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة، فإن كان رقيقا يشف ما تحته، أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لايجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظا بحيث لايكون كذلك، جازت، بل إن كان غلظه بحيث يمكن أن يجعل من عرضه ثوبان كالنهالي، فهو بمنزلة اللبد الغليظ.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:249
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




نمازِعشاء رات کے آخری حصہ میں پڑھناکیسا ہے؟

سوال:
   زید نےعشاء کی نماز رات کے آخری حصہ میں پڑھی، تو نماز درست ہے یا نہیں؟ اور رات کے آخری حصہ تک عشاء کو مؤخر کرنا کیسا ہے؟
جواب:
   عشاء کی نماز رات کے آخری حصہ میں پڑھنے سے اگرچہ نماز ادا ہوجاتی ہے، لیکن     بلا عذر اس طرح کرنا مکروہ ہے۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، فصل في شرائط الأركان 1/ 325:
   وأما العشاء: فالمستحب فيها التأخير إلى ثلث الليل في الشتاء، ويجوز التأخير إلى نصف الليل، ويكره التأخير عن النصف.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة 1/ 226:
   ثم قيل تأخيرها إلى نصف الليل مباح، وإلى ما بعده مكروه لما فيه من تقليل الجماعة ،وقيل تأخيرها إلى ما بعد ثلث الليل مكروه، وقيل يستحب تعجيل العشاء في الصيف لقصر الليالي، فيغلب عليهم النوم، فيؤدي إلى تقليل الجماعة.
3. الجوھرة النيرة لأبي بكر الحدادي، كتاب الصلاة، مطلب في الأوقات المستحبة للصلاة 1/ 118:
   قوله: (وتأخير العشاء إلى ماقبل ثلث الليل) والتاخير إلى نصف الليل مباح، وإلى ما بعد النصف مكروه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:233
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




چار رکعات نفل نماز میں قعدہ اولی چھوڑنے کی صورت میں واپس لوٹنے کا حکم:

سوال:
   ایک شخص نے چار رکعت نفل نماز کی نیت باندھ لی، دوسری رکعت پڑھنے کے بعد قعدۂ اولیٰ بھول گیا، اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا، کھڑے ہونے کے بعد یاد آیا، تو یہ شخص  قعدہ کی طرف لوٹے گا یا نہیں؟ اور آخر میں سجدۂ سہو کرے گا یا نہیں؟
جواب:
   نماز میں قعدۂ اولیٰ چھوڑ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کی صورت میں راجح قول کے مطابق قعدہ کی طرف لوٹنے کی ضرورت نہیں، بلکہ نماز مکمل کرکے آخر میں سجدۂ سہو کرنے سے نماز درست ہوجائے گی۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب سجود السهو 2/ 661:
   (سها عن القعود الأول من الفرض) ولو عمليا، أما النفل فيعود ما لم يقيد بالسجدة … (وسجد للسهو) لترك الواجب.
   وفي حاشية ابن عابدين: قوله: (أما النفل فيعود … ) جزم به في المعراج والسراج، وعلله ابن وهبان بأن كل شفع منه صلاة على حدة، ولا سيما على محمد بأن القعدة الأولى منه فرض، فكانت كالأخيرة، وفيها يقعد، وإن قام، وحكى في المحيط فيه خلافا، وكذا في شرح التمرتاشي، قيل يعود، وقيل لا، وفي الخلاصة، والأربع قبل الظهر كالتطوع، وكذا الوتر عند محمد، وتمامه في النهر، لكن في التاتار خانية عن العتابية قيل في التطوع يعود مالم يقيد بالسجدة، والصحيح أنه لا يعود.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل 1/ 114:
   ولو قام المتطوّع إلى الثالثة، فتذكر أنه لم يقعد يعود، وإن كانت سنة الظهر.
3. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، فصل في سنن صلاة التراويح 1/ 647:
   وأصل المسألة يصلي التطوع أربع ركعات إذا لم يقعد في الثانية قدر التشهد، وقام، وأتم صلاته أنه يجوز استحسانا عندهما، ولا يجوز عند محمد قياسا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:214
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-21




امام کا رکوع یا سجدے میں تین مرتبہ سے زیادہ تسبیحات پڑھنا:

سوال:
   ایک امام رکوع اور سجدہ میں تسبیحات تین مرتبہ سے زیادہ پڑھتا ہے، جبکہ بعض مقتدی امام صاحب کے اس فعل کو مکروہ سمجھتے ہیں، شرعا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   انفرادی نماز میں اگر کوئی شخص رکوع یا سجدہ میں تسبیحات زیادہ مقدار میں پڑھے، تو مضائقہ نہیں، لیکن چونکہ باجماعت نماز میں بیمار اور کمزور افراد بھی ہوتے ہیں اس لیے امام کو چاہیے کہ نماز ہلکی اور مختصر پڑھائےاور رکوع، سجدہ اور قراءت وغیرہ میں سنت مقدار کا اہتمام کرے، تاکہ مقتدیوں کی رعایت ہوسکے، کیونکہ نماز میں مقتدیوں کی رعایت نہ رکھنا مکروہ ہے۔

حوالہ جات:
1. صحیح البخاری، كتاب العلم، باب الغضب في الموعظة والتعليم، الرقم: 90:
  «أيها الناس، إنكم منفرون، فمن صلى بالناس فليخفف، فإن فيهم المريض، والضعيف، وذا الحاجة».
2. رد المحتار لابن عابدين،كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مطلب في إطالة الركوع للجائي 1/ 494:
   وصرحوا بأنه يكره أن ينقص عن الثلاث، وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع مالم يكن إماما، فلا يطول.
3.  الفتاوى التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الصلاة، فصل في كيفية الصلاة 2/ 168:
   وفي الزاد: الأدنى هو الثلاث، والأوسط خمس مرات، والأكمل سبع مرات، قال الشيخ الإمام خواهر زاده: هذا في حق المنفرد، وأما الإمام، فلا ينبغي أن يطول على وجه يمل القوم؛ لأنه يصير سببا للتنفير، وذلك مكروه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:202
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-14

 




نماز میں غیر عربی زبان میں دعا مانگنا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے آخری قعدہ میں تشہد پڑھنے کے بعد یہ الفاظ کہہ دیئے (یا اللہ ته رازی شی يعنی اے اللہ! تو راضی ہوجا) تو کیا ان الفاظ کے کہنے سے اس شخص کی نماز فاسد ہوگئی یا نہیں؟  
جواب:
   نماز میں غیر عربی میں دعائیں مانگنا مکروہِ تحریمی ہے، چاہے فرض نماز ہو یا نفل اس لیے شخص مذکور کی نماز فاسد ہوچکی ہے، جس کا اعادہ واجب ہے۔

حوالہ جات:
1. ردالمحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة 1/521:
   قال في غرر الأفكار شرح درر البحار في هذا المحل: وكره الدعاء بالعجمية، لأن عمر نهى عن رطانة الأعاجم. والرطانة كما في القاموس: الكلام بالأعجمية…وظاهر التعليل أن الدعاء بغيرالعربية خلاف الأولى، وأن الكراهة فيه تنزيهية. هذا، …ولا يبعد أن يكون الدعاء بالفارسية مكروها تحريما في الصلاة وتنزيها خارجها، فليتأمل وليراجع.
 2.البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، آداب الصلاة 1/ 331:
   وقد قالوا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم يجب إعادتها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:199
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-14




دورانَ نمازعورت کے سر کا ننگا ہونا یا بچے کو دور کرنا:

سوال:
   میرا ایک بچہ ہے جس کی عمر تین سال ہے، میں جب نماز پڑھتی ہوں، تووه میرے پاس آکر میرا دوپٹہ اتار کھینچتا ہے، جس کی وجہ سے میرا سر ننگا ہو جاتا ہے، بسا اوقات میرے آگے آکر بیٹھ جاتا ہے، میں اس کو ایک طرف کر کےسجدہ کر لیتی ہوں، اب سر ننگا ہونے کی وجہ سے یا بچہ کو ہٹانے کی وجہ سےمیری نماز میں فساد آئے گا یا نہیں؟

جواب:
   اگر نماز کے دوران آپ کے سر کے بالوں کا چوتھائی حصہ ایک رکن (تین مرتبہ سبحان ربی العظیم) کہنے کے بقدر کھلا رہ چکا ہو تو آپ کی نماز فاسد ہو چکی ہے، جس کا اعادہ ضروری ہے، ایسے ہی اگر آپ نے ایک ہی رکن میں اپنے بچے کو تین مرتبہ یا اس سے زیادہ ہاتھ کے ذریعے سے ہٹایا ہو تو بھی آپ کی نماز فاسد ہو چکی ہے ، لیکن اگر سر کے بال ایک رکن کی مقدار سے کم کھل گئے تھے یا آپ نے ایک رکن میں تین مرتبہ  سے کم بچے کو اپنے آپ سے دور کیا تھا تو آپ کی نماز درست ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء،كتاب الصلاة، الفصل الثالث في شروط الصلاة 1/ 58:
    وإن انكشفت عورته في الصلاة فسترها بلا مكث جازت صلاته إجماعا، وإن أدى ركنا مع الانكشاف فسدت إجماعا.
2.الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها 1/104:
   إذا حك ثلاثا في ركن واحد تفسد صلاته، هذا إذا رفع يده في كل مرة، أما إذا لم يرفع في كل مرة فلا تفسد، ولو كان الحك مرة واحدة يكره.
3. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة 1/ 322:
   “و” يفسدها “العمل الكثير” لا القليل، والفاصل بينهما، أن الكثير هو الذي لا يشك الناظر لفاعله أنه ليس في الصلاة، وإن اشتبه فهو قليل على الأصح، وقيل: في تفسيره غير هذا، كالحركات الثلاث المتواليات كثير، ودونها قليل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:182
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-12

 




مسبوق امام کے پہلے سلام کے بعد کھڑا ہو یا دوسرے کے بعد؟:

سوال:
   جو شخص امام کے ساتھ دوسری یا تیسری رکعت میں شریک ہوا، تو یہ شخص بقیہ نماز کو پورا کرتے کے لیے امام کے داہنی طرف سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو گا، یا بائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد؟ 
جواب:
   مسبوق کے لیے بہتر یہی ہے کہ امام کے دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو، تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ امام پر سجد ۂ سہوہ واجب ہے یا نہیں، تاہم اگروہ امام کے داہنے طرف سلام پھیرنے کے بعد  کھڑا ہو جائے، تو بھی جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، باب صفة الصلاة 1/ 524، 597:
   وينبغي أن يصبر حتى يفهم أنه لا سهو على الإمام…ثم يسلم عن يمينه ويساره … وتنقطع به التحريمة بتسليمة واحدة، برهان، وقد مر.
   وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: وينبغي أن يصبر إلخ) أي: لا يقوم بعد التسليمة أو تسليمتين، بل ينتظر فراغ الإمام بعدهما، كما في الفيض، والفتح، والبحر. 
قوله: (وقد مر) أي: في الواجبات، حيث قال: وتنقضي قدوة بالأول قبل عليكم على المشهور عندنا.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الفصل السابع في المسبوق واللاحق 1/ 91:
   (ومنها) أنه لا يقوم إلى القضاء بعد التسليمتين، بل ينتظر فراغ الإمام، كذا في البحر الرائق، ويمكث حتى يقوم الإمام إلى تطوعه إن كان صلاة بعدها تطوع، أو يستدبر المحراب إن لم يكن، أو ينتقل عن موضعه، أو يمضي من الوقت مقدار ما لو كان عليه سهو، لسجد، كذا في التمرتاشي في باب صلاة العيد.
3. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ص: 464:
   وینبغي أن يمكث المسبوق بقدر ما يعلم أنه لا سهو عليه.
قال الطحطاوي تحت قوله: (بقدر ما يعلم أنه لا سهو عليه) وذلك بتسليم الإمام الثانية على الأصح، أو بعدهما بشيء قليل بناء على ما صححه في الهداية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:185
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-11

 




مغرب کی اذان اور جماعت کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟:

سوال:
   مغرب کی اذان اور جماعت کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟
جواب:
   عام حالات میں مغرب کی نماز میں جلدی کرنا افضل ہیں، چنانچہ دو رکعت پڑھنے کی مقدار(چار، پانچ منٹ) سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، اوراتنی تاخیر کرنا کہ ستارے چمک جائیں، مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اگر سفر وغیرہ کے عذر کی وجہ سے تاخیر ہو تو مکروہ نہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة 2/ 35:
    (والمستحب إلخ ) تعجيل (مغرب مطلقا) وتأخيره قدر ركعتين يكره تنزيها.
   وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: يكره تنزيها) أفاد أن المراد بالتعجيل أن لا يفصل بين الأذان والإقامة بغير جلسة أو سكتة على الخلاف، وأن ما في ’’القنية‘‘ من استثناء التأخير القليل محمول على ما دون الركعتين، وأن الزائد على القليل إلى اشتباك النجوم مكروه تنزيها، وما بعده تحريما إلا بعذر.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة 1/ 431:
   قوله: (والمغرب) أي: وندب تعجيلها لحديث الصحيحين: كان يصلي المغرب إذا غربت الشمس، وتوارت بالحجاب، ويكره تأخيرها إلى اشتباك النجوم … إلا من عذر، كالسفر ونحوه، أو يكون قليلا …وفي فتح القدير: تعجيلها هو أن لا يفصل بين الأذان والإقامة إلا بجلسة خفيفة أو سكتة على الخلاف الذي سيأتي، وتأخيرها لصلاة ركعتين مكروهة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:181
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-11