@123عیدکے موقع پر والدین کی قبر پرحاضری دینا کیسا ہے؟

سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عیدین کے دن والدین کی قبر پر جانا شرعا کیسا ہے؟ نیز اپنے والدین یا اولاد کی زیارت قبر کے لیے کب جانا چاہیے؟
جواب:
قبروں کی زیارت اور مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے کسی بھی وقت قبرستان جانا درست ہے، لیکن عید کے دن قبرستان جانے کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے، لہٰذا اگر کوئی عید کے دن والدین کے قبر پرجانے کو ضروری یا سنت نہ سمجھتے ہوئے چلا جائے تو اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے، لیکن آج کل لوگوں نے اس کو ضروری سمجھ لیا ہے اور کسی مباح یا مستحب عمل کو لازم سمجھنے سے وہ بدعت کی شکل اختیار کرتا ہے، اس لیے عیدین کے موقع پر قبرستان جانے سے گریز کرنا چاہیے، کسی کی قبر پر حاضری کے لیے جمعہ، ہفتہ، پیر اور جمعرات کے دن بہتر ہیں، پھر ان میں سے جمعہ کے دن جانا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

حوالہ جات:
لما في صحيح البخاري، كتاب الصلح،  باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، الرقم: 2697:
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:”من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد”.
وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، مطلب في زيارة القبور 2/ 242:
وتزار في كل أسبوع كما في مختارات النوازل، قال في شرح لباب المناسك إلا أن الأفضل يوم الجمعة والسبت والاثنين والخميس، فقد قال محمد بن واسع: الموتى يعلمون بزوارهم يوم الجمعة ويوما قبله ويوما بعده، فتحصل أن يوم الجمعة أفضل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:235
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




@123جاندار کی تصویروں والی کتاب سے پڑھانا کیسا ہے؟

سوال:
ہمارا تعلق ایک پرائیوٹ ادارہ سے ہے اور ہماری کوشش ہے کہ کوئی کام بھی شریعت کے خلاف نہ کی جائے، مسئلہ یہ ہے کہ اسکول کی کتابوں پر تصاویر بنی ہوئی ہوتی ہیں، تو ان کتابوں کو ہم  اسکول کے بچوں کو پڑھا سکتے ہیں، اسی طرح حکومت نے ہر بچے کے داخلہ فارم پر اس کی تصویر کو لگانا بھی لازم کیا ہے، تو ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:
    واضح رہے کہ سکول کی نصابی کتابوں میں جاندار کی بنی ہوئی تصاویر دیکھنا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ مضمون سمجھانا اور پڑھانا مقصود ہوتا ہے، لہٰذا ان کتابوں کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، تاہم اگر ایسی کتاب دستیاب ہو جن میں جاندار کی تصاویر بنی ہوئی نہ ہوں، تو ان کو نصاب میں داخل کرنے کا اہتمام کیا جائے، باقی داخلہ فارم پر ہر بچے کی تصویر لگانا چونکہ قانونی مجبوری ہے اس  لیے اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
لما في صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب التصاوير، الرقم: 5949:
عن أبي طلحة، رضي الله عنهم قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير».
وفي شرح سنن أبي داود لبدر الدين العينى، كتاب الطهارة،  باب الجنب يؤخر الغسل 1/ 505:
وأما تصوير صورة الشجر ونبات الأرض وغيرِ ذلك مما ليس فيه صورة حيوان، فليس بحرام.
وفي شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، الماده 21: 1/ 55:
الضرورات تبيح المحظورات هذه قاعدة أصولية مأخوذة من النص وهو قوله تعالى: ((إلا ما اضطررتم إليه)) والإضطرار الحاجة الشديدة ، والمحظور المنهي عن فعله ، يعني أن الممنوع شرعا، يباح عند الضرورة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:224
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-22




@123میاں بیوی کا ایک دوسرے کونام سے پکارنا کیساہے؟

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زوجین ایک دوسرے کو اپنے نام سے پکار سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:
اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فوقیت دی ہے، اس وجہ سے بیوی شوہر کو کسی تعظیمی نام سے پکارے، البتہ شوہر اپنی بیوی کو نام سے پکارے تو مضائقہ نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، فرع يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس 6/ 418:
(ويكره أن يدعو الرجل أباه وأن تدعو المرأة زوجها باسمه).
قال ابن عابدين تحت قوله: (ويكره أن يدعو إلخ) بل لا بد من لفظ يفيد التعظيم كيا سيدي ونحوه؛ لمزيد حقهما على الولد والزوجة، وليس هذا من التزكية؛ لأنها راجعة إلى المدعو بأن يصف نفسه بما يفيدها لا إلى الداعي المطلوب منه التأدب مع من هو فوقه.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة 5/ 362:
يكره أن يدعو الرجل أباه والمرأة زوجها باسمه، كذا في السراجية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:222
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-22

 




@123ختنہ کے موقع پرلوگوں کو جمع کرکےدعوت کا اہتمام کرنا

سوال:
ختنہ کے موقع پر لوگوں کو جمع کرکے دعوت کھلانا شرعاً جائز ہے؟
جواب:
    ختنہ کرانا مسنون عمل ہے، اور اس کی خوشی میں دعوت کرنا اور اس دعوت میں شرکت کرنا جائز ہے، لیکن اس موقع پر خرافات یا خلاف شرع کام کرنا یا اس دعوت کو ضروری سمجھنا درست نہیں۔
    واضح ر ہے کہ ختنہ کے موقع پر دعوت کے بارے میں صحابہ کے آثار میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے، بعض سے جواز ثابت ہوتا ہے اور بعض سے عدمِ جواز، جن میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ عدمِ جواز والے آثار کو اس دعوت پر محمول کیا جائے، جس میں خلافِ شرع امور پائے جاتے ہوں۔

حوالہ جات:
لما في فتح الباري لابن حجر العسقلاني، باب حق إجابة الوليمة والدعوة 242/ 9، تحت الرقم: 5172:
وقد وقع في آخر حديث أبي هريرة الذي أوله الوليمة حق وسنة كما أشرت إليه في باب الوليمة حق، قال: والخرس والإعذار والتوكير أنت فيه بالخيار.
وفي المصنف لابن أبي شيبة، كتاب النكاح، من كان يقول: يطعم في العرس والختان، الرقم: 17166:
عن نافع كان ابن عمر يطعم على ختان الصبيان.
وفي الأدب المفرد لمحمد بن إسماعيل البخاري، باب الدعوة في الختان، الرقم: 1246:
عن عمر بن حمزة قال: أخبرني سالم قال: ختنني ابن عمر أنا ونعيما، فذبح علينا كبشا، فلقد رأيتنا، وإنا لنجذل به على الصبيان أن ذبح عنا كبشا.
وفي المعجم الكبير للطبراني، باب من اسمه عمر، الرقم: 8381
عن الحسن، قال: دعي عثمان بن أبي العاص إلى ختان فأبى أن يجيب، فقيل له: فقال: «إنا كنا لا نأتي الختان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يدعى إليه».
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات 5/343:
لا ينبغي التخلف عن إجابة الدعوة العامة، كدعوة العرس والختان ونحوهما، وإذا أجاب، فقد فعل ما عليه أكل أو لم يأكل، وإن لم يأكل، فلا بأس به، والأفضل أن يأكل لو كان غير صائم، كذا في الخلاصة.
وفي النتف في الفتاوى للسغدي، كتاب الأطعمة، السنة في الطعام 1/ 242:
وأما السنة فعلى ثلاثة أوجه: أحدها طعام الوليمة، والثاني طعام الختان، والثالث طعام القدوم من السفر، وفي ذلك جاءت الآثار.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:216
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-21

 




@123تلاوتِ کلام پاک کے اختتام پر تالیاں بجانا

سوال:
بعض اوقات ہمارے سکول میں پروگرام منعقد ہوتا ہے، اس پروگرام میں تلاوتِ کلام پاک بھی ہوتی ہے، جس کے اختتام پر لوگ تالیاں بجاتے ہیں، کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے؟
جواب:
    تلاوتِ کلام پاک کے بعد تالیاں بجانا درست نہیں کیونکہ تالیاں بجانا کفار اور مشرکین کا شعار ہے، البتہ قاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ”ماشاء اللہ “ یا ”سبحان اللہ “ کہنے میں مضائقہ نہیں۔

حوالہ جات:
لما في سنن أبي داود، كتاب اللباس، باب ما جاء في اللباس، الرقم: 4031:
عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “من تشبه بقوم فهو منهم”.
وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع 6/ 395:
(قوله وكره كل لهو) أي: كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات، والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة؛ لأنها زي الكفار.
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة وأركانها، فصل في صفة الأذكار 1/ 319:وأما الرقص، والتصفيق، والصريخ وضرب الأوتار والصنج والبوق الذي يفعله بعض من يدعي التصوف فإنه حرام بالإجماع؛ لأنهازي الكفار.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:212
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-21

 




@123پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت

سوال:
آج کل جو لوگ گولی مار کر قتل کر دیئے جاتے ہیں، ان کی میت کا ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے، جس سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ جسم پر کتنی گولیاں ماری گئیں؟ کہاں کہاں ماری گئیں؟ پوسٹ مارٹم کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ میت کو برہنہ کرکے میز پر ڈال دیتے ہیں، پھر ڈاکٹر آکر اس کا معائنہ کرتا ہے، عورت، مرد دونوں کا پوسٹ مارٹم اسی طرح ہوتا ہے، کیا شریعت میں یہ پوسٹ مارٹم جائز ہے؟ جبکہ میت کے ورثاء منع کرتے ہیں کہ پوسٹ مارٹم نہیں کرائیں گے، ایک تو ظلم  یہ ہوا کہ فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، اور دوسرا یہ کہ قتل کے بعد پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:
     پوسٹ مارٹم کا طریقہ جو آپ نے ذکر کیا ہے شریعت میں اس طرح کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ انسانی بدن مرنے کے بعد بھی اسی طرح قابل تکریم ہے، جس طرح مرنے سے پہلے، تاہم اگر قانونی مجبوری کی وجہ سے پوسٹ مارٹم کرالیا گیا، تو ورثاء گناہ گار نہ ہوں گے۔

حوالہ جات:
لما في سنن أبي داؤد، كتاب الجنائز، باب في الحفار يجد العظم، هل يتنكب ذلك المكان الرقم: 3207:
عن عائشةرضي الله عنها، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:”كسر عظم الميت ككسره حيا”.
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح لملا علي القاري، كتاب الجنائز، باب دفن الميت، الرقم: 1714:
(وعن عائشة: أن رسول صلى الله عليه وسلم: قال ” «كسر عظم الميت ككسره حيا» ” يعني في الإثم كما في رواية، قال الطيبي: إشارة إلى أنه لا يهان ميتا، كما لا يهان حيا، قال ابن الملك: وإلى أن الميت يتألم، قال ابن حجر: ومن لازمه أنه يستلذ بما يستلذ به الحي، وقد أخرج ابن أبي شيبة عن ابن مسعود قال: أذى المؤمن في موته كأذاه في حياته.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:209
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-18

 




@123شاگرد کو سزا دینے کی حد؟

سوال:
بچوں کو پڑھانے والے استاد کا بچوں کو مارنا کس قدر جائز ہے؟
جواب:
اگر استاد کو بچے کے والد نے مارنے کی اجازت دی ہو، تو پھر استاد سبق یاد نہ کرنے یا تربیت کی خاطر معتاد طریقے سے ہلکی سزا دے سکتا ہے، لیکن یاد رہے مارنے میں چھوٹی لکڑی سے صرف پیٹھ پر مارے، سر اور چہرے پر مارنے سے مکمل احتراز کرے اور تین بار سے زیادہ نہ مارے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين،كتاب الحظر والإباحة، فرع يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس 6/ 430:
قوله: ( والأب يأمر ) جملة حالية أي لا يجوز ضرب ولد الحر بأمر أبيه أما المعلم فله ضربه؛ لأن المأمور يضربه نيابة عن الأب؛ لمصلحته، والمعلم يضربه بحكم الملك بتمليك أبيه؛ لمصلحة التعليم، وقيده الطرسوسي بأن يكون بغير آلة جارحة، وبأن لا يزيد على ثلاث ضربات، ورده الناظم بأنه لا وجه له، ويحتاج إلى نقل، وأقره الشارح قال الشرنبلالي: والنقل في كتاب الصلاة يضرب الصغير باليد لا بالخشبة، ولا يزيد على ثلاث ضربات.
وفي مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح لحسن بن عمار الشرنبلالي، كتاب الصلاة، مدخل 1/ 71:
وتضرب عليها لعشر بيد لا بخشبة” أي عصا كجريدة رفقا به، وزجرا بحسب طاقته، ولا يزيد على ثلاث ضربات بيده.
وفي البناية شرح الهداية لبدر الدين العينى، كتاب الحدود، وجب الحد وكان الزاني غير محصن 6/ 274:
ولا خلاف في اتقاء الوجه والفرج؛ (لقوله صلى الله عليه وسلم للذي أمره بضرب الحد: «اتق الوجه والمذاكير» … والنهي عن ضرب الوجه في الصحيحين عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم: «إذا ضرب أحدكم فليتق الوجه».

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:201
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-14

 




@123گناہ کے کاموں میں والد کے حکم کی تعمیل کرنا

سوال:
میرے والد صاحب بڑے گناہوں میں مبتلا ہیں مثلاً جوا، شراب وغیرہ اور مجھے کہتے ہیں کہ مجھے جوا اور شراب کی جگہ میں لے جاؤ اور واپس بھی لے آؤ، تو اب میرے لیے ان کو لے جانا اور واپس لانا جائز ہے؟
جواب:
چونکہ والدین کی اطاعت جائز کاموں میں فرض اور ضروری ہے اور ناجائز کاموں میں ان کی اطاعت ناجائز ہے، لہٰذا مذکورہ صورت میں آپ کے لیے والد صاحب کو شراب خانہ وغیرہ لے جانا جائز نہیں، البتہ اگر وہ شراب خانہ جاچکے ہوں تو ان کو وہاں سے واپس لانے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
لما في سنن أبي داود،كتاب الجهاد، باب في الطاعة، الرقم: 2626:
عن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ أنه قال: “السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره، ما لم يؤمر بمعصية، فإذا أمر بمعصية، فلا سمع ولا طاعة”.
وفي مصنف ابن أبي شيبه، كتاب السير، باب الشعار، في إمام السرية يأمرهم بالمعصية من قال: لا طاعة له، الرقم: 33717:
عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق.
وفي المحيط البرهاني، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الثامن والعشرون في الرجل يخرج إلى السفر ويمنعه أبواه، أو أحدهما إلخ 5/ 389:
ولا يجب طاعة المخلوق في معصية الخالق، قال الله تعالى: {وإن جاهداك على أن تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما} ، وقال عليه السلام: «لا طاعة
للمخلوق في معصية الخالق».

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:198
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-14

 




@123 گڑ میں رنگ کاٹ ڈالنا

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گڑ میں رنگ کاٹ ڈالنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
گڑ کا معیار بہتر بنانے کے لیے رنگ کاٹ استعمال کیا جائے اور گاہک کو بھی بتایا جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اگر گاہک کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو ملاوٹ کے حکم میں ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في سنن الترمذي، باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع 3/ 598:، تحت الرقم 1315:
قَالَ: مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا.
و في النهر الفائق لسراج الدين عمر الحنفي، باب المتفرقات 3/ 519:
لا بأس ببيع المغشوش إذا بين، أو كان ظاهراً يرى، وقال في رجل معه وضية نحاس: لا يبيعها حتى يبين، ولا بأس أن يشتري سوقة إذا بين، وأرى أن للسلطان أن يكسرها، لعلها تقع في أيدي من لا يبين.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب البيوع، فصل في الاحتكار 3/ 215:
ولا بأس ببيع المغشوش إذا كان الغش ظاهرا، كالحنطة بالتراب، وإن طحنه لم يجز حتى يبينه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:194
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 




@123 میت کا تیجہ، ساتواں، گیارہو اں کرناکیسا ہے؟

سوال:
میت کا تیجہ، ساتواں، گیارہواں، چہلم وغیرہ میں اسی طرح محرم کے مہینے میں شیعہ یا مسلمانوں کی طرف سے کھیر وغیرہ غریب اور مالدار لوگوں پر تقسیم کی جاتی ہے، اور گھروں میں بھیجی جاتی ہے، تو کیا یہ جائز ہے، اور اس کے کھانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ میت کے ایصالِ ثواب تو وہ ہر وقت، ہر موقع پر کرنا جائز ہے، اور میت کو اس کا فائدہ بھی پہنچتا ہے، لیکن اس کے لیے تیسرے دن اور چالیسویں دن اورسال وغیرہ کی تخصیص کرنا شرعا ثابت نہیں ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، مطلب في الثواب على المصيبة 2/ 240:
ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة، وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت، وصنعهم الطعام من النياحة.
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، فصل في حملها ودفنها 1/ 618:
ويكره الضيافة من أهل الميت؛ لأنها شرعت في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة، وقال عليه السلام: لا عقر في الإسلام، وهو الذي كان يعقر عند القبر بقرة، أو شاة، ويستحب لجيران الميت والأباعد من أقاربه تهيئة طعام لأهل الميت يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: اصنعوا لآل جعفر طعاما، فقد جاءهم ما يشغلهم، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم، فيضعفهم، والله ملهم الصبر ومعوض الأجر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:193
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13