@123ناک کے بال صاف کرنے کا حکم

سوال:
ناک کے بال اکھڑنا بہتر ہے یا قینچی یا مشین سے کاٹنا بہتر ہے؟
جواب:
ناک کے بالوں کو اکھاڑنا نوچنا مکروہ ہے، اگر بال لمبے ہوں یا ناک سے باہر نکل آئیں، تو کاٹنا سنت ہے۔

حوالہ جات:
لما في  الفقه على المذاهب الأربعة، كتاب الحظر والإباحة، حكم إزالة الشعر وقص الأظافر 2/ 44:
ويكره نتف شعر الأنف، بل يسن قصه إن طال.
وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة 6/ 407:
ولا ينتف أنفه؛ لأن ذلك يورث الأكلة.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان إلخ 5/ 358:
ولا ينتف أنفه؛ لأن ذلك يورث الأكلة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:314
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-11




@123مسجد کے استعمال کی اشیاء کسی کو عاریتاً دینا

سوال:
مسجد کی اشیاء پنکھے، برتن، پائپ وغیرہ محلے والوں کو عاریۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ مسجد کے اشیاء عام طور پر صرف مسجد ہی کے لیے وقف ہوتے ہیں، اس لیے مسجد کے اشیاء کسی کو بھی گھر کے استعمال کے لیے دینا جائز نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الوقف، مطلب في وقف المرتد والكافر 4/ 351:
(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك، ولا يعار، ولا يرهن) قال ابن عابدين تحت قوله: (لا يملك) أي: لا يكون مملوكا لصاحبه، ولا يملك، أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه.
وفي عمدة الرعاية لعبد الحي اللكنوي، كتاب اللقيط 6/ 326:
فإذا صح الوقف لا يملك ولا يملک.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:313
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-11




@123کالےرنگ کے کپڑے پہننے کا حکم

سوال:
مردوں کے لیے کالے رنگ کا لباس استعمال کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
مردوں کے لیے کالے رنگ کا لباس استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، البتہ چونکہ محرم کے مہینے میں شیعہ لوگ سوگ منانے کے طور پر کالے رنگ کا کپڑے پہنتے ہیں، اس لیے محرم میں کالا لباس پہننے سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ شیعوں کے ساتھ مشابہت نہ آئے۔

حوالہ جات:
لما في مشكوة المصابيح، كتاب اللباس، الرقم: 4347:
قال: قال رسول اللہ صلی علیه وسلم : من تشبه بقوم فهو منهم. رواه أحمد وأبو داود.
قال القارئ تحت قوله: (من تشبه بقوم) أي: من شبه نفسه بالكفار، مثلا في اللباس وغيره، أو با لفساق، أو الفجار، أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل العاشر في اللبس إلخ 5/ 340:
ذکر محمد رحمه الله في “السير” في باب العمائم حديثا، يدل على أن لبس السواد مستحب.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:311
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-11




مندر بنانے کے لیے ہندو کو زمین فروخت کرنے کا حکم:

سوال:
   مسلمان کا کسی ہندو کو زمین فروخت کرنا جو اس میں مندر بنائے، شرعا کیسا ہے؟
جواب:
   كسی غیر مسلم کو جائز اشیاء کی خرید وفروخت اگرچہ جائز ہے، لیکن اگر بیچنے والے کو یقین ہو کہ خریدنے والا اس زمین میں مندر بنائے گا، تو ایسے شخص کے ہاتھ زمین کو فروخت کرنا چونکہ گناہ کے کام پر اس کے ساتھ تعاون کرنا ہے، اس لیے ناجائز ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة 6/ 392:
   (قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا؛ لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار، فينقطع نسبيته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر، وبيع الغلام من لوطي، والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته، … قال في المنح: وهو صريح في جواز بيع الغلام من اللوطي، والمنقول في كثير من الفتاوى أنه يكره وهو الذي عولنا عليه في المختصر.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع 8/ 230:
   قال رحمه الله: (وإجارة بيت ليتخذ بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد) يعني جاز إجارة البيت لكافر ليتخذ معبدا أو بيت نار للمجوس أو يباع فيه خمر في السواد وهذا قول الإمام وقالا: يكره كل ذلك لقوله تعالى {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان}، وله أن الإجارة على منفعة البيت؛ ولهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فيه فقطع نسبة ذلك إلى المؤجر، وصار كبيع الجارية لمن لا يستبرئها أو يأتيها في دبرها أو بيع الغلام ممن يلوط به، والدليل عليه أنه لو أجره للسكنى جاز، ولا بد فيه من عبادته، وإنما قيده بالسواد؛ لأنهم لا يمكنون من ذلك في الأمصار.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:300
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-10




@123شراب کو بطور دوا استعمال کرنا

سوال:
شراب کو بطور دوا استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ کسی بھی حرام چیز کو بطور دواء استعمال کرنا بھی حرام ہے، الا یہ کہ بیماری مہلک یا نا قابلِ برداشت ہو اور کوئی ماہر مسلمان اور دین دار ڈاکٹر کہے کہ اس بیماری کا علاج کسی حلال چیز سے ممکن نہیں، اور یہ غالب گمان ہوجائے کہ شفا اسی حرام چیز میں ہے، تو ایسی مجبوری کی حالت میں بقدر ضرورت حرام اشیاء کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
لما في تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الكراهية 6/ 33:
وقال في النهاية يجوز التداوي بالمحرم كالخمر والبول إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاء، ولم يجد غيره من المباح ما يقوم مقامه والحرمة ترتفع للضرورة فلم يكن متداويا.
وفي رد المحتار لابن عابدين، باب المتفرقات، مطلب في التداوي بامحرم 1/ 210:
قوله ( اختلف في التداوي بالمحرم ) ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر وفي الخانية في معنى قوله عليه الصلاة والسلام إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم كما رواه البخاري أن ما فيه شفاء لا بأس به كما يحل الخمر للعطشان في الضرورة وأفاد سيدي عبد الغني أنه لا يظهر الاختلاف في كلامهم لاتفاقهم على الجواز للضرورة واشتراط صاحب النهاية العلم لا ينافيه اشتراط من بعده الشفاء ولذا قال والدي في شرح الدرر إن قوله لا للتداوي محمول على المظنون وإلا فجوازه باليقين اتفاق كما صرح به في المصفى أقول وهو ظاهر موافق لما مر في الاستدل لقول الإمام لكن قد علمت أن قول الأطباء لا يحصل به العلم والظاهر أن التجربة يحصل به العلم
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الكراهية 1/ 122:
وقد وقع الاختلاف بين مشايخنا في التداوي بالمحرم ففي النهاية عن الذخيرة الاستشفاء بالحرام يجوز إذا علم أن فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:277
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-02




@123 سبز رنگ کاعمامہ پہننا

سوال:
سبز رنگ کا عمامہ حضورﷺ  سے ثابت ہے یا نہیں؟ بعض لوگ اس کو لازم سمجھتے ہیں شرعا اس کا كيا حکم ہے؟  نیز کس رنگ کا عمامہ سنت ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ سفید اور کھالے رنگ کا عمامہ حضورﷺ سے ثابت ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے،  سبز رنگ کا عمامہ آپﷺ سے كس صحیح مستند حدیث سے ثابت نہیں ہے، البتہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم نے سبز رنگ کا عمامہ باندھا ہیں، لہذا اگر کوئی سبز عمامہ کو دوسرے رنگوں پر ترجیح نہ دے، تو سبز عمامہ باندھنا درست ہے، البتہ بعض بدعتی لوگوں نے چونکہ سبز رنگ کے عمامہ کو اپنا شعار بنا لیا ہے اور سبز رنگ کو دوسرے رنگوں پر ترجیح دیتے ہیں، ایسی صورت میں سبز عمامہ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، تاکہ ان کی مشابہت لازم نہ آئے۔

حوالہ جات:
لما في مرقاة المفاتيح لملا علي قاري، كتاب الصلاة، باب الخطبة والصلاة 3/ 1045، تحت الرقم 1410، :
(وعن عمرو بن حريث: «أن النبي – صلى الله عليه وسلم – خطب وعليه عمامة سوداء، قد أرخى طرفيها بين كتفيه يوم الجمعة» . رواه مسلم). … ونقل السيوطي لبس العمامة السوداء عن كثير من الصحابة والتابعين منهم: أنس بن مالك، وعمار بن ياسر، ومعاوية، وأبو الدرداء، والبراء، وعبد الرحمن بن عوف، وواثلة، وسعيد بن المسيب، والحسن البصري، وسعيد بن جبير، وغيرهم.
وفي  عمدة القاري لبدر الدين العيني، كتاب اللباس، باب الثياب البيض 22/7:
عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم، وكفنوا فيها موتاكم، … وهي لباس الملائكة الذين نصروا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد وغيره.
وفي مجمع الانهر لشيخي زاده، كتاب اللباس 2/ 532:
(ويستحب) الثوب (الأبيض والأسود) لقوله – عليه الصلاة والسلام – «إن الله يحب الثياب البيض وإنه خلق الجنة بيضاء» وقد روي «أنه – عليه السلام – لبس الجبة السوداء والعمامة السوداء يوم فتح مكة» ولا بأس بالأزرق وفي الشرعة ولبس الأخضر سنة، (ويكره) الثوب (الأحمر والمعصفر) للرجال؛ لأنه – عليه السلام – «نهى عن لبس الأحمر والمعصفر» .
وفي المصنف لابن أبي شيبة، كتاب اللباس 12/ 545، الرقم: 25489:
عن سليمان بن أبي عبد الله ، قال : أدركت المهاجرين الأولين يعتمون بعمائم كرابيس سود، وبيض، وحمر، وخضر، وصفر، يضع أحدهم العمامة على رأسه، ويضع القلنسوة فوقها، ثم يدير العمامة هكذا، يعني على كوره، لا يخرجها من تحت ذقنه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:275
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-02




@123ڈاکخانہ کے ذریعہ دینی کتب بھیجنا کیسا ہے؟

سوال:
ڈاکخانہ کے ذریعے جو دینی کتب بھیجے جاتے ہیں اس بھیجنے کے دوران ان دینی کتب پر لوگ بیٹھتے ہیں اور ادھر ادھر باقی سامان کی طرح پھینکتے رہتے ہیں، ڈاکخانہ والے کہتے ہیں کہ ہم  لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اس کی بے ادبی ہوگی، مگر پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ ہماری کتابی بھیج دے، تو اب اس صورت میں کو ن گناہ گار ہوگا، ڈاکخانہ والے یا کتابیں منگوانے والے، یا وہ لوگ جو  اس کے اوپر بیٹھتے ہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ دینی کتب کا ادب واحترام ہر ایک پر لازم ہے، دینی کتب پر بیٹھنا ان کو ادھر ادھر پھینکنا اور بے حرمتی کرنا بڑا گناہ ہے، تاہم بوقتِ ضرورت ڈاکخانہ کے ذریعے دینی کتابیں بھیجنا  جائز ہے، لہٰذا پوری احتیاط کے ساتھ کتابیں کاٹن میں پیک کرکے ان پر لکھ دیا جائے، کہ یہ دینی کتابیں ہیں، اس کے باوجود بھی اگر کوئی لاپرواہی کرکے بے ادبی کرے گا، تو وہ گناہ گار ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة 1/ 212:
من التعظيم أن لا يمد رجله إلى الكتاب وفي التجنيس المصحف إذا صار كهنا أي عتيقا وصار بحال لا يقرأ فيه وخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن … بساط أو غيره كتب عليه الملك لله يكره بسطه واستعماله إلا إذا علق للزينة ينبغي أن لا يكره.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة، كتاب الاستحسان 5/ 321:
وإذا حمل المصحف أو شيء من كتب الشريعة على دابة في جوالق، وركب صاحب الجوالق على الجوالق، لا يكره.
وفي  الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة 1/ 655:
(كره) تحريما (استقبال القبلة بالفرج) ولو (في الخلاء) بالمد: بيت التغوط، وكذا استدبارها (في الأصح،(أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عن المحاذاة).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:272
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30




بچے کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا کیسا ہے؟:

سوال:
   بچوں کی شرم گا ہ کو دیکھنا اسی طرح حرام ہے جس طرح بڑوں کے شرم گاہ کو دیکھنا حرام ہے؟

جواب:
   اگر بچے کی عمر اتنی ہے کہ اس کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے سے شہوت پیدا نہیں ہوتی، تو اس کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر اس کی عمر اتنی ہو کہ اس کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے سے دل میں شہوت پیدا ہوتی ہو، تو پھر علاج وغیرہ کی مجبوری کے علاوہ اس کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا ناجائز ہے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة 1/ 285:
  وفي الظهيرية الصغيرة جدا لا تكون عورة ولا بأس بالنظر إليها ومنها، وفي السراج الوهاج، وأما فما داما لم يشتهيا فالقبل والدبر، ثم يتغلظ بعد ذلك إلى عشر سنين، ثم يكون كعورة البالغين.
3. الدر المختار مع رد المحتار، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة 1/ 407:
   وفي السراج: لا عورة للصغير جدا، ثم ما دام لم يشته فقبل ودبرثم تغلظ إلى عشر سنين، ثم كبالغ.
   قال ابن عابدين: (قوله لا عورة للصغير جدا) وكذا الصغيرة كما في السراج، فيباح النظر والمس … أقول: قد يؤخذ مما في جنائز الشرنبلالية ونصه: وإذا لم يبلغ الصغير والصغيرة حد الشهوة يغسلهما الرجال والنساء، وقدره في الأصل بأن يكون قبل أن يتكلم. 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:260
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30




@123مسجد کی زمین پر امام مسجد کے لیے گھر بنانا

سوال:
مسجد کے لیے وقف شدہ زمین میں امامِ مسجد کے لیے گھر بنانا کیسا ہے؟
جواب:
مسجد کا وہ حصہ جو نماز پڑھنے اور عبادات ادا کرنے کے لیے مختص کیا گیا ہو، اس میں امام کے لیے گھر بنانا جائز نہیں ہے، البتہ مسجد کی زمین کا وہ حصہ جو مسجد کے مصالح کے لیے ہو اس پر امام مسجد کے لیے گھر بنانا درست ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي،كتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا4/ 366:
(ويبدأ من غلته بعمارته)، ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد، ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف، فصل في أحكام المساجد 5/ 271:
وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام، فإنه لا يضر في كونه مسجدا؛ لأنه من المصالح.
وفي  لسان الحكام لأحمد بن محمد الحلبي، الفصل العاشر في الوقف، ص 301:
شرط الواقف يجب مراعاته، ولا يتجاوز عما شرطه، وإن لم يشترط ذلك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:256
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-27




@123میت کو غسل دینے سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت کرنے کا حکم

سوال:
کیا مردہ کے پاس غسل دینے سے پہلے تلاوت قرآن کی جاسکتی ہے؟
جواب:
اگر میت کا جسم چھپا ہوا ہو، تو میت کے پاس قرآن کی تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے غسل دینے سے پہلے ہو یا بعد میں، اور اگر میت کا جسم چھپا ہوا نہ ہو تو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب تلاوت کرنا مکروہ ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الجنائز، مطلب في القراءة عند الميت 2/ 194:
أن محل الكراهة إذا كان قريبا منه أما إذا بعد عنه بالقراءة فلا كراهة قلت: والظاهر أن هذا أيضا إذا لم يكن الميت مسجى بثوب يستر جميع بدنه لأنه لو صلى فوق نجاسة على حائل من ثوب أو حصير لا يكره  فيما يظهر، فكذا أذا قرأ عند نجاسة مستورة، وكذا ينبغي تقييد الكراهة بما إذا قرأ جهرا قال في الخانية: وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ، وما أشبه ذلك، وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهرا لا بأس بأن يرفع صوته بالقراء وإن لم يكن كذلك، فإن
قرأ في نفسه، ولا يرفع صوته فلا بأس به، ولا بأس بالتسبيح والتهليل، وإن رفع صوته.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء،  كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز الفصل الأول في المحتضر 1/ 157:
ويكره قراءة القرآن عنده حتى يغسل، كذا في التبيين.
وفي التبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة، باب الجنائز 1/ 235:
(قوله: ويكره قراءة القرآن عنده حتى يغسل إلخ) … وما ذكره من قراءة القرآن عند الميت مبني على عدم تنجسه بالموت، وما ذكره في المبسوط من كراهة قراءة القرآن عنده مبني على القول بنجاسته هذا ما ظهر لي حال المطالعة من التوفيق، والله الموفق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:247
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26