@123میت کے پاس قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا
سوال:
بعض علاقوں میں جب کسی کا انتقال ہو جائے، تو کچھ لوگ میت کے پاس جمع ہو کر قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں، شرعا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب تلاوت کرنے میں یہ تفصیل ہے، کہ میت کو غسل دینے پہلے اس کے قریب بیٹھ کر اونچی آواز سے تلاوت کرنا مکروہ ہے، البتہ دور بیٹھ کر یا قریب بیٹھ کر آہستہ آواز سے تلاوت کرنا مکروہ نہیں، نیز غسل دینے کے بعد بھی مکروہ نہیں، تلاوت چاہے بلند آواز سے کرے یا آہستہ، میت کے قریب بیٹھ کر کرے یا دور۔
حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي مع ردالمحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز، مطلب في القرأة عند الميت 3/ 99،98:
(كره قراءة القرآن عنده إلى تمام غسله) عبارة الزيلعي: حتى يغسل، وعبارة النهر: قبل غسله. قال ابن عابدين: وذكر ط : أن محل الكراهة إذا كان قريبا منه، أما إذا بعد عنه بالقراءة فلا كراهة، قلت: والظاهر أن هذا أيضا إذا لم يكن الميت مسجى بثوب يستر جميع بدنه؛…وكذا ينبغي تقيد الكراهة بما إذا قرأ جهرا.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الجنائز 2/ 301:
وتكره قراءة القرآن عنده إلى أن يغسل.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، باب الجنائز، الباب الحادي والعشرون في الجنائز 1/ 157:
ويكره قراءة القرآن عنده حتى يغسل، كذا في التبيين.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:561
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08