اونٹ کی منت مان کر اس کی جگہ اونٹ کی قیمت یا سات بکریاں دینا:

سوال:
   ایک شخص نے کہا کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو ایک اونٹ ذبح کروں گا، اب اس کا کام ہوگیا اور اونٹ کہیں نہیں مل رہا تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں اونٹ کے بجائے سات (7) بکریاں ذبح کرے یا متوسط درجہ کے اونٹ کی قیمت مساکین پر تقسیم کردے تو بھی نذرپوری کرنے کے لیےکافی ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الأيمان 3/ 740 :
   (ولو قال لله علي أن أذبح جزورا وأتصدق بلحمه، فذبح مكانه سبع شياه جاز) كذا في مجموع النوازل، ووجهه لا يخفى.
   قال ابن عابدین تحت قوله: (ووجهه لا يخفى) هو أن السبع تقوم مقامه في الضحايا والهدايا.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الأيمان 4/ 321 :
   ولو قال: لله علي أن أذبح جزورا وأتصدق بلحمه، فذبح مكانه سبع شياه جاز، وهو يدل على أن مرادهم بالواجب الفرض من قولهم وأن يكون من جنسه واجب؛ لأن الأضحية واجبة، وهو الذبح لا التصدق مع أنه صريح بأنه لا يصح النذر بالذبح من غير تصريح بالتصدق بلحمه.
3. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الزكاة، زكاة الخيل 1/ 271 :
   نذر أن يتصدق بشاتين وسطين فتصدق بشاة تعدلهما جاز؛ لأن المقصود إغناء الفقير، وبه تحصل القربة، وهو يحصل بالقيمة.
4. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف، شروط الواقفين 5/ 267 :
   ولو نذر أن يتصدق بعبده على الفقراء أو شاته أو ثوبه جاز التصدق بعينه أو بقيمته.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:389
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




شادی نہ کرنے کی قسم کھاکر کسی ضرورت سے توڑنا کیسا ہے؟:

سوال:
   زید نے قسم کھائی تھی کہ میں دوسری شادی نہیں کروں گا، اب اولادِ نرینہ نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں زيد کے لیے دوسری شادی کرنا شرعاً جائز ہےاور قسم توڑنے پر وہ گنہگاربھی نہیں ہوگا، لیکن جوں ہی وہ دوسری شادی کرے گا، اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوجائے گا، اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلائے، یا متوسط کپڑوں کا ایک ایک جوڑا دس مساکین کو دے دے، اور اگران دونوں کی طاقت نہ ہو، تو تین دن مسلسل روزے رکھے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ، المائدة 89/5.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الأيمان 3/ 725 :
   (وكفارته) … (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) … (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط، وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و(يستر عامة البدن)… (وإن عجز عنها) كلها (وقت الأداء) عندنا… (صام ثلاثة أيام ولاء).
3. الفتاوي الهندية للجنة العلماء، كتاب الأيمان، الباب الأول في تفسير الأيمان شرعا وركنها وشرطها وحكمها2/ 52:
   ومنعقدة، وهو أن يحلف على أمر في المستقبل أن يفعله، أو لا يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عند الحنث… ونوع لا يجوز حفظها، وهو أن يحلف على ترك طاعة، أو فعل معصية، ونوع يتخير فيه بين البر والحنث، والحنث خير من البر، فيندب فيه إلى الحنث، ونوع يستوي فيه البر والحنث في الإباحة، فيتخير بينهما، وحفظ اليمين أولى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:337
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




متعین لوگوں کے لیے مانی ہوئی نذر کسی دوسری جگہ خرچ کرنا:

سوال:
   ایک شخص نے کہا کہ اگر میرا فلاں کام ہوا تو میں محلہ کی مسجد میں مصلیوں میں پانچ سیر بتاسے  تقسیم کروں گا، اب اس کا کام پورا ہوا ہے، تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:
   اگر کسی مخصوص جگہ کے افراد پر کوئی چیز تقسیم کرنے کی منت مانی جائے تو اس مخصوص جگہ میں اس کو تقسیم کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ کسی اور جگہ بھی اس کو تقسیم کرنا درست ہوتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں نذر ماننے والے پر پانچ سیر بتاسے تقسیم کرنا واجب ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ محلے کی مسجد کے نمازیوں میں تقسیم کرے، بلکہ جہاں چاہے تقسیم کر سکتا ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصکفی، كتاب الأيمان 3/ 735:
   (ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط، وكان من جنسه واجب) أي: فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء، وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث من نذر وسمى، فعليه الوفاء بما سمى.
2. وفيه ايضا:
   (نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره، جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه.
3. العناية لمحمد بن محمد البابرتي، كتاب الأيمان، أدنى الكسوة في كفارة اليمين 5/ 92:
   وإن علق النذر بشرط سواء كان شرطا أراد كونه، أو لم يرد، فوجد الشرط، فعليه الوفاء بنفس النذر.
4. الفتاوى الهندية للجنه العلماء، كتاب الأيمان، الفصل الثاني في الكفارة 2/ 66:
رجل قال: مالي صدقة على فقراء مكة إن فعلت كذا فحنث، وتصدق على فقراء بلخ، أو بلدة أخرى جاز، ويخرج عن النذر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:327
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




” فلاں کام کروں، تو ایمان سے خارج ہوجاؤں” کہنے کا حکم:

سوال:
   ایک شخص نے قسم کھائی کہ اگر وہ دس ذی الحجہ تک اپنی بیوی سے جماع کرے، تو وہ دین وایمان سے خارج ہو جائے گا، اب اس نے دس ذی الحجہ سے پہلے جماع کر لیا، تو وہ مسلمان رہا یا کافر ہوگیا، اور کفارہ لازم ہے یا نہیں؟
جواب:
   ذکر کردہ صورت میں اگر اس شخص کا اعتقاد یہ نہیں تھا کہ ان الفاظ  کے کہنے سے وہ کافر ہو جائے گا، تو وہ شخص اس سے کافر نہیں ہوگا، البتہ یہ الفاظ چونکہ قسم کے ہیں، اس لیے اس قسم کو توڑنے کی وجہ سے اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا، تاہم اگر وہ یہ سمجھتا ہو کہ واقعی ایسا کام کرنے سے وہ دین سے خارج ہوجائے گا، پھر بھی  اس کام کو قصدا کر لیا، تو ایسا کرنا موجبِ کفر ہے، جس کی وجہ سے تجدیدِ ایمان وتجدید نکاح ضروری ہوگا۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الأيمان، فصل في ركن اليمين بالله تعالى 3/ 8:
   ولو قال: إن فعل كذا فهو يهودي، أو نصراني، أو مجوسي، أو بريء عن الإسلام، أو كافر، أو يعبد من دون الله، أو يعبد الصليب، أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرا، فهو يمين استحسانا، والقياس أنه لا يكون يمينا، وهو قول الشافعي.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الأيمان 3/ 717:
   والقسم أيضا بقوله: إن فعل كذا فهو يهودي، أو نصراني،، أو فأشهدوا علي بالنصرانية، أو شريك للكفار، أو كافر، فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس، واختلف في كفره، و الأصح أن الحالف لم يكفر، سواء علقه بماض، أو آت إن كان عنده في اعتقاده أنه يمين، وإن كان جاهلا، وعنده أنه يكفر في الحلف بالغموس وبمباشرة الشرط في المستقبل، يكفر فيهما؛ لرضاه بالكفر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:325
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




@123منت میں متعین جانور کی جگہ اس کی قیمت غرباء کو دینا کیسا ہے؟

سوال:
کسی نے معین جانور کی نذر مانی، اب اس جانور کے بجائے اس کی قیمت غرباء کو دینے سے نذر پوری ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب:
اگر معین جانور قربان کرنے کی نذر مانی جائے، تو اس کی جگہ اس کی قیمت فقراء کو دینا درست نہیں، بلکہ معین جانور کی قربانی کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الأضحية، الباب الثاني في وجوب الأضحية بالنذر وما هو في معناه 5/ 294:
رجل اشترى شاة للأضحية وأوجبها بلسانه، ثم اشترى أخرى جاز له بيع الأولى في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى ، وإن كانت الثانية شرا من الأولى، وذبح الثانية، فإنه يتصدق بفضل ما بين القيمتين؛ لأنه لما أوجب الأولى بلسانه، فقد جعل مقدار مالية الأولى لله تعالى، فلا يكون له أن يستفضل لنفسه شيئا، ولهذا يلزمه التصدق بالفضل.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الأضحية، الفصل الثاني في وجوب الأضحية بالنذر، وما هو في معناه 6/ 87:
أجمع أصحابنا رحمهم الله: أن الشاة تصير واجبة الأضحية بالنذر بأن قال: لله علي أن أضحي هذه الشاة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:251
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26