@123والدین کے گھر جانے والی بیوی کے نفقہ کا حکم

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی عورت کا شوہر عنین ہو اور بیوی اس کی بیماری کی وجہ سے والدین کے گھر چلی جائے اور پھر واپس نہ آئے تو نفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے؟
جواب:
اگر شوہر نے بیوی سے گھر آنے کا مطالبہ کیا ہو اور بیوی نے انکار کیا ہو، تو شوہر پر نفقہ لازم نہیں ہے، لیکن اگر شوہر نے گھر واپس آنے کا مطالبہ نہ کیا ہو، تو پھر نفقہ دینا لازم ہے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الأول في نفقة الز وجة 1/ 545:
فإن كان الزوج قد طالبها بالنقلة، فإن لم تمتنع عن الانتقال إلى بيت الزوج فلها النفقة، فأما إذا امتنعت عن الانتقال، فإن كان الامتناع بحق بأن امتنعت لتستوفي مهرها فلها النفقة، وأما إذا كان الامتناع بغير الحق بأن كان أوفاها المهر أو كان المهر مؤجلا، أو وهبته منه فلا نفقة لها، كذا في المحيط.
وفي فتاوى قاضيخان لحسن بن منصور الأوزجندي، باب في المحرمات، فصل في المتعة 1/ 208:
وأما نفقة المرأة فمقابلة بالاحتباس وقد احتبست بحق الزوج فكان لها النفقة على الزوج.
وفي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الطلاق، باب النفقة 3/ 51:
قال: في الهداية النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها في منزله، فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها، قال الكمال: وقوله إذا سلمت نفسها في منزله ليس شرطا لازما في ظاهر الرواية بل من حين العقد الصحيح، وإن لم تنتقل إلى منزل الزوج إذا لم يطلب الزوج انتقالها، فإن طلبه فامتنعت لحق لها كمهرها لا تسقط أيضا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:250
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




@123مسجد کے فنڈ سےقرض لینے کا حکم

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کا فنڈ جس کے پاس جمع ہوتا ہے، اس کا مسجد کے فنڈ سے کچھ رقم قرض کے طور پر لینا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
مسجد کا فنڈ جس کے پاس جمع ہوتا ہے وہ اس کے پاس امانت ہے، اس کو بعینہ محفوظ رکھنا چاہیے، اس کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا یا قرض لینا اوردینا جائز نہیں ہے، اگرمسجد کے فنڈ سے کچھ رقم قرض کے طور پر لیا یا کسی کو قرض دیا، تو گنہگار ہوگا اوراس پر اتنی رقم مسجد کے فنڈ میں جمع کرانا واجب ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الإيداع 8/ 474:
وفي الخلاصة: والوديعة لا تودع، ولا تعار، ولا تؤجر، ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف،الباب الثالث عشر في الأوقاف التي يستغنى عنها 2/ 480:
في فتاوى أبي الليث رحمه الله تعالى: رجل جمع مالا من الناس لينفقه في بناء المسجد فأنفق من تلك الدراهم في حاجته، ثم رد بدلها في نفقة المسجد لا يسعه أن يفعل ذلك.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف فصل في التصرفات الناظر في الوقف 5/ 259:
مع أن القيم ليس له إقراض مال المسجد، قال في جامع الفصولين: ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله، ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن، وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة، وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به، وفي العدة: يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:246
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




@123 حرام مال والے سے قرض لینا

سوال:
ایک غریب شخص جس کے پاس پیسے بالکل نہیں ہے، اور اپنا مختصر سا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے، مگر کوئی اس کو قرض دینے کے لیے تیار نہیں ہے، اور ایک شخص جس کا سارا مال حرام ہے، وہ قرضہ دینے کے لیے تیار ہے، تو یہ شخص اس سے قرض لے سکتا ہے؟ یا کوئی اور طریقہ ہے جس کے ذریعے غریب شخص حرام مال والے کے مال کو استعمال کرسکے؟
جواب:
جس شخص کی آمدنی یقینی طور پر حرام ہو اور قرض لینے والے کو معلوم بھی ہو کہ اس کی آمدنی حرام ہے تو اس کو چاہیے کہ حتی الوسع حلال قرض لینے کا بندوبست کرے، تاہم شدید ضرورت ہو، اور حلال آمدنی والے سے قرض نہ مل رہا ہو تو مجبوری میں اس سے قرض لینے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
لما في الأشباه والنظائر للسيوطي، القاعدة الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها  1/ 84:
الضروريات تبيح المحظورات بشرط عدم نقصانها عنها ،ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، وإساغة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة الكفر للإكراه، وكذا إتلاف المال، وأخذ مال الممتنع من أداء الدين بغير إذنه، ودفع الصائل، ولو أدى إلى قتله.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة 3/ 532:
الضرورات تبيح المحظورات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:188
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 




@123مسجد کی رقم کسی کو قرض دینا

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس مسجد کے پیسے ہیں اور گاؤں کا ایک آدمی مجھ سے قرض لینا چاہتا ہے، تو کیا میں اس کو مسجد کی رقم قرض دے سکتا ہوں؟

جواب:
مسجد کا فنڈ خزانچی کے پاس امانت ہوتا ہے، جسے صرف مسجد کی ضروریات میں خرچ کیا جاسکتا ہے، کسی کو بطور قرض نہیں دیا جاسکتا، اگر کسی کو بطور قرض دے دیا تو وہ ضامن ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف،  تصرفات الناظر في الوقف 5/ 259:
أن القيم ليس له إقراض مال المسجد، قال في جامع الفصولين: ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله، ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن، وكذا المستقرض.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، الباب الثالث عشر في الأوقاف التي يستغنى عنها 2/ 480:
رجل جمع مالا من الناس لينفقه في بناء المسجد، فأنفق من تلك الدراهم في حاجته، ثم رد بدلها في نفقة المسجد، لا يسعه أن يفعل ذلك  … أما الضمان فواجب، كذا في الذخيرة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:160
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-27