@123طلاق دینےکےبعداسی طلاق کو تحریر میں لانےسےدوسری طلاق کاحکم

سوال:
ایک شخص نے چند سال قبل اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی تھی رجوع بھی کیا تھا، اور پھر اسی طلاق کو سٹامپ پیپر پر لکھ کر اس کی توثیق کی تھی، اس کے بعد آج تک دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں، طلاقِ رجعی دینے کے بعد اسی طلاق کو کاغذ پر تحریر کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
سابقہ دی ہوئی طلاق کوسٹامپ پیپر پردرج کرنے سے دوسری طلاق نہیں پڑتی، لہذا مذکورہ صورت میں صرف ایک طلاق رجعی ہی واقع ہوئی ہے۔

حوالہ جات:
لما في بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطلاق، فصل في النية في أحد نوعي الطلاق وهو الكناية 3/ 102:
ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق، فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار.
وفي الفتاوى الهندية لجنة علماء، كتاب الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح 1/ 355:
ولو قال لامرأته أنت طالق، فقال: له رجل ما قلت، فقال طلقتها، أو قال قلت هي طالق، فهي واحدة في القضاء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:428
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123دو طلاق صریح کےبعدرجوع کا حکم

سوال:
ایک شخص نے بیوی کو دو طلاقیں صریح دی، اب عدت کے دوران کیا اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے یا نہیں، اور رجوع کا کیا طریقہ ہوگا؟
جواب:
مذکورہ صورت میں عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے، تاہم رجوع کےبعد شوہر صرف ایک طلاق کا مالک ہوگا، اور رجوع کا طریقہ یہ ہے، کہ شوہر زبان سے کہہ دے، کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا، ایسا ہی میاں بیوی کے تعلقات قائم کرنے سے بھی رجوع ہوجاتا ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ دو مردوں کو گواہ کو بناکر ان کے روبرو زبان سے رجوع کرلے۔

حوالہ جات:
لما في اللباب في شرح الكتاب لعبد الغني الميداني، كتاب الرجعة 3/ 54:
إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية، أو تطليقتين، فله أن يراجعها في عدتها، رضيت بذلك، أو لم ترض، والرجعة أن يقول: راجعتك، أو راجعت امرأتي، أو يطأها، أو يقبلها، أو يلمسها بشهوة، أو أن ينظر إلى فرجها بشهوة، ويستحب أن يشهد على الرجعة شاهدين، فإن لم يشهد صحت الرجعة.
وفي الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب النكاح، باب الرجعة 2/ 6:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية، أو تطليقتين، فله أن يراجعها في عدتها، رضيت بذلك، أو لم ترض،والرجعة أن يقول: راجعتك، أو راجعت امرأتي، وهذا صريح في الرجعة، ولا خلاف فيه بين الأئمة.قال: أو يطأها، أو يقبلها، أو يلمسها بشهوة، أو ينظر إلى فرجها بشهوة، وهذا عندنا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:426
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123اپنی بیٹی کانکاح جس جگہ چاہوکردو،سےطلاق پڑنےکاحکم

سوال:
زید نے اپنی بیوی کے والد کو کہا کہ میری طرف سے اجازت ہے اپنی بیٹی کا نکاح جس جگہ چاہو کردو، ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب:
سوال میں ذکر کردہ الفاظ کنائی ہیں، جن میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے، اگر شوہر نے مذکورہ الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہو، تو اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، اور اگر طلاق کی نیت نہ کی ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم،كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق 3/ 326:
وحاصل ما في الخانية أن من الكنايات ثلاثة عشر: لا يعتبر فيها دلالة الحال، ولا تقع إلا بالنية: حبلك على غاربك، تقنعي، تخمري، استتري، قومي، اخرجي، اذهبي، انتقلي، انطلقي، تزوجي، اعزبي، لا نكاح لي عليك، وهبتك لأهلك، وفيما عداها تعتبر الدلالة.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الطلاق، الفصل الخامس: في الكنايات 3/ 460:
ولو قال لها: اذهبي فتزوجي لا يقع الطلاق، إلا بالنية، وإن نوى، فهي واحدة بالله.
وفي المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، باب من الطلاق 6/ 143:
ولو قال لامرأته: اذهبي فتزوجي، فإن كان نوى طلاقا، فهو طلاق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:424
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123 طلاق بائن کےبعددوطلاق رجعی دینے کا حکم

سوال:
زيد نے اپنی بیوی کو دو طلاق بائن دے دی، پھرعقد نکاح کرلیا، چند دنوں بعد پھر دو طلاق دے دی، تو اس صورت میں دوبارہ رجوع کرنے کا کیا طریقہ ہے۔
جواب:
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دے، تو تجدید نکاح کے بعد اسے صرف دو طلاق کا اختیار حاصل ہوتا ہے، یعنی نکاح کرنے کے بعد اگر اس کو مزید دو طلاق دے دے تو بیوی اس پر مکمل حرام ہوجائے گی، لہذا مذکورہ صورت میں زید کی بیوی پراب طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہے، زید کے لیے یہ عورت بغیر حلالہ کے حلال نہیں، اور حلالہ کا شرعی طریقہ یہ ہے، کہ یہ عورت عدت پوری کرکے کسی دوسری شخص سےنکاح کرے اور اس کے ساتھ صحبت بھی کرے، اس کے بعد اگر وہ شخص بغیر کسی دباؤ کے اپنی خوشی سے طلاق دے دے، توعدت گزرنے کے بعد زید اس عورت کی مرضی سے دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرکے ازدواجی تعلق قائم کرسکتا ہے۔

حوالہ جات:
لما في الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، باب الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة 2/ 257:
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث، فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها ؛ لأن حل المحلية باق ؛لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله.
وفي الفتاوى الهندية للجنة علماء، كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به 1/ 473:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة، وثنتين في الأمة، لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا، ويدخل بها، ثم يطلقها، أو يموت عنها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:423
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




شوہر تین طلاق سے مُکر جائے تو کس کا قول معتبر ہوگا؟:

سوال:
   زید اور اس کی بیوی کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ زید کہتا ہے کہ میں نے ایک طلاق دی ہے اور بیوی کہتی ہے کہ تین طلاقیں دی ہیں، تو کس کے قول کا اعتبار ہوگا؟
جواب:
   مذکورہ صورت بیوی کو چاہیے کہ اپنی بات پر گواہ پیش کرے، اگر بیوی کے پاس گواہ موجود نہ ہوں تو بیوی کے مطالبہ پر شوہر پر قسم آئے گی، اگر شوہر جرگہ کے سامنے اس طرح قسم اٹھا لیتا ہے کہ ”میں اللہ کے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق نہیں دی ہے بلکہ ایک طلاق دی ہے“ تو شوہر کی بات کو مانا جائے گا اور مزید دو طلاق واقع نہ ہوں گی، تاہم ایسی صورت میں بھی اگر بیوی نے طلاق کے الفاظ خود اپنے کانوں سے سنے ہوں تو بیوی کے لیے شوہر کو اپنے قریب آنے دینا جائز نہ ہوگا، بلکہ یہ ضروری ہوگا کہ کسی طرح شوہر کو مال کی لالچ دے کر زبانی طلاق یا تحریری طلاق لے کر یا خلع کا معاملہ کرکے شوہر سے اپنے آپ کو آزاد کرالے، لیکن اگر بیوی کے لیے اس طرح کرنا مشکل ہو اور مجبورا شوہر کے ساتھ رہنا پڑے تو بیوی کو چاہیے کہ خاوند کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، اگر شوہر زبردستی تعلقات قائم کرتا ہے تو اس کا گناہ شوہر پر ہوگا، بیوی گنہگار نہ ہوگی۔

حوالہ جات:
1. سنن الترمذي، أبواب الأحكام، باب ما جاء في أن البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه، الرقم: 1314 :
   عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه.
2. رد المحتار لابن عابدین، كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق3/ 251 :
   والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه، وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.
3. الفتاوى الهندية للجنة علماء، كتاب الكراهية، الباب الثاني في العمل بغالب الرأي5/ 313 :
   وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا، وجحد الزوج ذلك، وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه.
4. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الأول في العمل بخبر الواحد5/ 301:
   وكذلك إن سمعته أنه طلقها، وجحد الزوج ذلك وحلف، فردها القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها أو تهرب منه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:383
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




“تم کو طلاق ہے”تین دفعہ کہنے کا حکم:

سوال:
   میں نے اپنی بیوی کو فون پر باتوں کے دوران دو دفعہ کہہ دیا کہ تم کو طلاق ہے، طلاق ہے، اس نے پھر کہہ دیا کہ میں نہیں مانتی، میں نے دوبارہ کہہ دیا یعنی تیسری دفعہ کہہ دیا کہ تم کو طلاق ہے، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں شوہر کے تین دفعہ یہ الفاظ ”تم کو طلاق ہے“ کہنے سے عورت پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، اب یہ عورت شوہر پر حرام ہوئی ہے اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر ان دونوں کا آپس میں نکاح درست نہیں۔

حوالہ جات:
1. فتح القدير لابن الهمام، كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة 4/ 177:
   (وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها، ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230].
2. الفتاوى الهندية للجنة علماء، كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به 1/ 473:
   وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له، حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا، ويدخل بها، ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية، ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها، كذا في فتح القدير.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:374
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




میاں بیوی کا ایک دوسرے کو بہن، بھائی یا ماں، باپ کہنا:

سوال:
   شوہر بیوی کو رات بھر ماں، بہن کہتا رہا، اور بیوی شوہر کو باپ، بھائی کہتی رہی، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب:
   مذكوره صورت ميں شوہر کا اپنی بیوی کو ماں، بہن کہنا اور بیوی کا اپنے شوہر کو باپ، بھائی کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ مياں بيوی کا ایک دوسرے کے لیے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنا مکروہ ہے، آئندہ کے لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، باب الظهار 3/ 470:
   وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته: يا أخية، مكروه.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطلاق، باب الظهار4/ 107:
   قال: أنت أمي لا يكون مظاهرا، لكنه مكروه؛ لقربه من التشبيه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:373
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




بھائیوں سے بات چیت پر تین طلاق کو معلق کرنا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے یہ الفاظ کہے کہ ” اگر میں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ بات چیت کی یا میں ان کے جنازے میں شریک ہوا تو میری بیوی کو ایک، دو، تین طلاق ہوں گی “ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں جب یہ شخص اپنے بھائیوں سے بات چیت کرے گا یا ان کے جنازے میں شریک ہوگا، تو اس کی بیوی پر تین طلاقيں واقع ہو جائیں گی۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط إلخ 1/ 420:
   وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
2. البناية لبدر الدين العينى، كتاب الطلاق، أضاف الرجل الطلاق إلى شرط 5/ 413:
   (وإذا أضافه): أي أضاف الرجل الطلاق، (إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق)؛ لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط (وهذا بالاتفاق).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:372
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




“طلاق دیتا ہوں” کے الفاظ سے طلاق واقع ہونے کا حکم:

سوال:
   ایک شخص نے اپنی بیوی کو گھریلو مسائل کی بنا پر پانچ مرتبہ کہا کہ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، پشتو میں الفاظ یہ تھے”طلاق درکوم“ تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟
جواب:
   شخص مذکورکی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، اور یہ عورت شوہر پر حرام ہوچکی ہے، اب ان دونوں کے لیے میاں بیوی کی طرح رہنا جائز نہیں ہے، چنانچہ مذکورہ عورت عدت طلاق گزرنے کے بعد اگر کسی اور مرد سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
   فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه(البقرة: 2/ 230).
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطلاق، باب صریح الطلاق3/ 248:
   (قوله وما بمعناها من الصريح)… وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر.
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطلاق، باب ألفاظ الطلاق 3/ 271 :
   وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير.
4. فتح القدير لابن الهمام، كتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق 4/ 7:
   ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال.
وفي الفتاوى الهندية للجنة علماء، كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به1/ 473:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة، وثنتين في الأمة، لم تحل له، حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا، ويدخل بها ثم يطلقها، أو يموت عنها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:340
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




دورانِ عدت مطلقہ کا نان نفقہ کس کے ذمہ ہے؟:

سوال:
   جس عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں،  دورانِ عدت اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے یا نہیں؟
جواب:
   جس عورت کو ایک یا دو یا تین طلاقیں دی گئی ہوں، دورانِ عدت اس کا نان نفقہ یعنی کپڑے، کھانا اور رہائش شوہر کے ذمے واجب ہے، چاہے عورت حاملہ ہو یا غیرحاملہ۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة علماء، كتاب الطلاق، الفصل الثالث في نفقة المعتدة 1/ 557:
   المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى، كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا، حاملا كانت المرأة أو لم تكن.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطلاق، باب النفقة4/ 216:
   (قوله: ولمعتدة الطلاق) أي: تجب النفقة، والكسوة، والسكنى لمعتدة الطلاق، هذا هو ظاهر المختصر، وذكر الزيلعي النفقة، والسكنى، ولم يذكر الكسوة.
3. الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي الزبيدي، كتاب النفقات 2/ 85 :
   (قوله: وإذا طلق الرجل امرأته فلها النفقة، والسكنى في عدتها، رجعيا كان الطلاق، أو بائنا) وكذا الكسوة أيضا.
4. فتاوى قاضيخان لحسن بن منصور الأوزجندي، فصل في نفقة العدة1/ 215:
   المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا أو ثالثا حاملا كانت أو لم تكن.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:338
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13