بھائی کے دروازے پر جانے کے ساتھ طلاق کو معلق کرنا:

سوال:
  ہم اخیافی بھائیوں کے درمیان کسی گھریلوں مسائل پر تکرار ہوا، اس دوران میری بہن اور بہنوئی بھی موجود تھے، تو وہ بھی اس میں شامل ہوگئے اور اچھا خاصا جھگڑا ہوا، اس جھگڑے کے دوران میری بہن کو اس کے شوہر نے کہا کہ اگر تو ان بھائیوں کے دروازے پر گئی، تو میرا تیرا تعلق ختم ہوگا، اور اس نے یہ بات صرف بیوی کے اپنے سگے بھائیوں کے بارے میں کہی تھی، جبکہ وہ میری اخیافی بہن ہے، خاوند نے کہا کہ تیرے گھر ہر وقت آسکتی ہے، لیکن اپنے سگے بھائیوں کے گھر بالکل نہیں جائے گی، اگرچہ ان کی ماں مری پڑی ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم نے گھر تو الگ کر دئیے، لیکن جب یہ بہن میری گھر آتی ہے، تو ان کے دروازے کے سامنے سے گزرتی ہے، تو کیا اس گزرنے سے میرے سالے نے جو جملہ کہا ہے (کہ میرا تیراتعلق ختم ہوگا) اس پر کچھ اثر پڑے گا یا نہیں؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں شوہر کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ ’’اگر تو اپنے بھائیوں کے دروازے پر گئی، تو میرا تیرا تعلق ختم‘‘ ان الفاظ سے عرف عام میں گھر میں داخل ہونا مراد ہوتا ہے، نہ کہ دروازے کے سامنے سے گزرنا، لہذا سگے بھائیوں کے دروازے کے سامنے سے گزرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات:
1. العناية لحمد بن محمد البابرتي، كتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق  4/ 116:
   (وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل: أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق، وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط) لأن الأصل بقاء الشيء على ما كان، وهو استصحاب الحال.
3. بداية المبتدي لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب الطلاق، فصل في المشئية 1/ 74:
   وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل: أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق، ولا تصح أضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا، أو يضيفه إلى ملك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:512
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01




کیا طلاق واقع ہونے کے لیے اس کا مطب سمجھنا ضروری ہے؟:

سوال:
   ایک شخص لفظِ طلاق کا معنی ومفہوم نہیں جانتا، اور بیوی نے اس کو کہا کہ تین مرتبہ مجھے مخاطب کرکے طلاق دے دو، اور اس نے طلاق دے دی، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجائے گی؟
جواب:
   شریعت مطہرہ میں طلاق دینے کے لیے شوہر کا لفظ طلاق کا معنی ومفہوم جاننا ضروری نہیں ہے، لہذا مذکورہ صورت میں اس شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اور بیوی اس پر مکمل حرام ہو جائے گی۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
   فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.البقرة  2/ 230
2. الدر المختار للحصكفي،كتاب الطلاق، باب ركن الطلاق 3/ 234:
   (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا، أو مكرها) … (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق فجرى على لسانه الطلاق، أو تلفظ به غير عالم بمعناه، أو غافلا، أو ساهيا.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلما، كتاب الطلاق، فصل فيما يقع به الطلاق وفيما لايقع 1/335:
   وإذا قال الرجل: لامرأته أنت طالق ولا يعلم معنى قوله، أنت طالق، فإنه يقع الطلاق وإذا قال: لامرأته أنت طالق، ولا يعلم أن هذا القول طلاق، طلقت في القضاء، ولا تطلق فيما بينه وبين الله تعالى، هكذا في الذخيرة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:511
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01




بہن سےبات کرنےپر تین طلاق کومعلق کرنا:

سوال:
   زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نے اپنی بہن سے بات کی، تو تجھے تین طلاق، شرعا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں زید كى بيوی جب بھی اپنی بہن سے باتیں کرے گی، تو اس پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور میاں بیوی ایک دوسرے پر مکمل حرام ہوجائیں گے، البتہ اگر عدت کے بعد یہ عورت کسی اور سے نکاح کرلے اور ہمبستری کے بعد نیا شوہر اس کو اپنی خوشی سے طلاق دے دے یا وہ فوت ہوجائے تو عدت کے بعد سابقہ شوہر کے ساتھ اس عورت کا نکاح درست ہے۔

حوالہ جات:
1. العناية لمحمد بن محمد البابرتي، كتاب الطلاق 4/ 116:
   (وإذا أضافه إلى شرط، وقع عقيب الشرط، مثل: أن يقول لامرأته، إن دخلت الدار فأنت طالق، وهذا بالاتفاق؛ لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط) لأن الأصل بقاء الشيء على ما كان، وهو استصحاب الحال.
2. الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي الزبيدي، كتاب الطلاق، باب طلاق الأخرس2/ 39:
   (وإذا أضاف الطلاق إلى شرط، وقع عقيب الشرط مثل: أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) هذا بالاتفاق؛ لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط؛ ولأنه إذا علقه بالشرط صار عند وجود الشرط، كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت، فإذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه وقع الطلاق؛ كأنه قال: لها في ذلك الوقت أنت طالق.
3. رد الحتار لابن عابدين، كتاب الطلاق، باب في ألفاظ الشرط 3/ 32:
   وفيها تنحل اليمين إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:509
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01




@123نامرد سےعلیحدگی کے بعد عدت کا حکم

سوال:
ايك عورت نے ايك لڑكے سے شادی كرلی بعد ميں معلوم ہوا کہ لڑکا نامرد ہے، علاج کے باوجود، نا امید ہو کر اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو کیا ایسی صورت میں بھی عورت پر عدت ضروری ہے؟
جواب:
اگر نامرد نے اپنی بیوی کے ساتھ خلوت ِصحیحہ کی ہو یعنی ایسی تنہائی گزاری ہو کہ جس میں ہمبستری کرنے سے کا کوئی رکاوٹ نہ ہو تو طلاق کے بعد عورت پر عدت لازم ہے ۔

حوالہ جات:
لمافي الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب المهر 4 / 254:
والخلوة كا لوطئ ولو كان الزوج مجبوبا أو عنينا … في تاكيد المهر … والعدة.
وفي البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب النكاح، باب المهر  3/ 155:
والخلوة كا لوطئ ولو كان الزوج مجبوبا أو عنينا أوخصيا في تاكيد المهر، والنفقة والسكنى.
وفي اللباب في شرح الكتاب لعبد الغني بن طالب الدمشقي، كتاب النكاح 3/ 25:
فإن كان عنينا أجله الحاكم حولا، فإن وصل إليها وإلا فرق بينهما إن طلبت المرأة ذلك والفرقة تطليقة بائنة، ولها كمال المهر إن كان قد خلا بها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:484
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01

 




تین طلاق دینے والےشوہرکےساتھ دوبارہ نکاح کرنا کب جائزہے؟:

سوال:
   سرہم میاں بیوی آپس میں بہت پیار کرتے ہیں، پھر کچھ غلط فہمی ہوئی، اور کچھ سازشوں کے تحت ہمارا رشتہ توڑا گیا، اور ہم میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں، سر ہم ابھی ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے، تو حلالہ کا کوئی طریقہ بتائیں، جس سے ہم پھر سے حلال طریقے سے زندگی گزار سکیں، سر یہ فتوی ہمیں چاہیے، آپ کی بہت مہربانی ہوگی، ہم دونوں کی خوشیاں تباہ ہوگئی ہیں، ہمیں حلالہ کے لیے فتوی چاہیے، بڑی مہربانی ہوگی؟
جواب:
   تین طلاق کے بعد مطلقہ عورت کا کسی شخص کے ساتھ اس شرط پر نکاح کرنا کہ ہمبستری کے بعد وہ اسکو طلاق دے گا، شرعا ناجائز ہے، احادیث میں ایسا کرنے والے پر لعنت آئی ہے، لہذا اس طرح کی اگریمنٹ کرکے نکاح کرنا تو گناہ ہے، البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد آپ کا کسی شخص سے بلا کسی شرط کے نکاح ہوجائے اور وہ اپنی خوشی سے ہمبستری کے بعد  طلاق دے دے یا وہ فوت ہوجائے توعدت گزرنے کے بعد آپ دونوں کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
   فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ. البقره: 2/230
2. صحيح البخاري، كتاب الطلاق، باب إذا طلقها ثلاثا ثم تزوجت بعد العدة، الرقم: 5317:
   عن عائشة رضي الله عنها: جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فأبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب، فقال: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك.
3۔ سنن أبي داؤد، كتاب النكاح، باب المحلل، الرقم:2075
   عن علي رضي الله عنه، قال إسماعيل: وأراه قد رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لعن الله المحلل، والمحلل له.
2۔ العناية شرح الهداية للبابرتي، كتاب الطلاق، باب الرجعة  4/177:
  وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة، أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره، نكاحا صحيحا، ويدخل بها، ثم يطلقها، أو يموت عنها، والأصل فيه قوله تعالى: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:505
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01




@123رخصتی سےپہلےبیوی کا شوہرکی اجازت کےبغیرکہیں جانا

سوال:
رخصتی سے پہلے شوہرکا اپنی منکوحہ کو کسی کام سے منع کرنا کیسا ہے؟
جواب:
جس عورت كا نكاح ہوچکا ہو لیکن رخصتی نہ ہوئی ہو تو ہمارے عرف میں یہ منکوحہ عورت ماں باپ کے اختیار میں ہوتی ہے، لہذا رخصتی سے پہلے یہ عورت والدین کی اجازت سے کہیں بھی جاسکتی ہے، شوہر کو منع کرنےکا حق حاصل نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرا ئق لزین الدین ابن نجیم، كتاب الطلاق، باب النفقة 4/ 211:
وفي الفتاوى في باب المهر: والمرأة قبل أن تقبض مهرها، لها الخروج في حوائجها، وتزور الأقارب بغير إذن الزوج، فإن أعطاها المهر، ليس لها الخروج إلا بإذن الزوج.
وفي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الطلاق، باب النفقة 3/ 58:
وفي الفتاوى في باب الغزاة: المرأة قبل أن تقبض مهرها، لها أن تخرج في حوائجها، وتزور الأقارب بغير إذن الزوج، فإن أعطاها المهر، ليس لها الخروج إلا بإذن الزوج.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:464
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-27




@123اپنی بیوی کو ماں کہنے کاحکم

سوال:
ایک شخص اپنی بیوی کو یہ کہنا چاہتا تھا، کہ تو میری ماتحت ہے، غلطی سے زبان سے نکلا کہ تومیری ماں ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
بیوی کو ماں کہنے سے اگرچہ طلاق وغیرہ واقع نہیں ہوتی، لیکن اس طرح کے الفاظ بیوی کے لیے استعمال کرنا مکروہ ہے اس لیے آیندہ اس قسم کے الفاظ سے مکمل احتراز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الظهار 4/ 107:
وقيد بالتشبيه لانه لو خلا عنه بأن قال أنت أمي لا يكون مظاهرا لكنه مكروه لقربه من التشبيه.
وفي درر الحكام لملا خسرو، كتاب الظهار 1/ 393:
ولا بد من أداة التشبيه، إذ لو تجرد الكلام عنها فقال: أنت أمي لا يكون مظاهرا ويكره لقربه من التشبيه.
وفي البناية شرح الهداية لبدر الدين العينى، باب الظهار 5/ 541:
لو قال أنت أمي لا يصير مظاهرا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:463
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-27




@123تیرہ چودہ سال کے لڑکےکی طلاق واقع ہوتی ہےیانہیں؟

سوال:
ایک لڑکا جس کی عمر تیرہ، چودہ سال ہے اس کا نکاح ایسی لڑکی کے ساتھ ہوا جس کی عمر بیس (20) سال ہے، تو یہ لڑکا اگر اس بیوی کو طلاق دے تو یہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب:
طلاق دینے کے لیے انسان کا عاقل بالغ ہونا شرط ہے، اس لیے مذکورہ لڑکے میں اگر علامتِ بلوغ مثلا احتلام وغیرہ ظاہر ہوچکی ہو، تو اس کا طلاق دینا درست ہے، اور اگرعلامتِ بلوغ ابھی تک ظاہر نہ ہوئی ہو، تو اس کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات:
لما في الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي الحدادي، كتاب الطلاق 2/ 33:
قوله: (ويقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا) ؛ لقوله: عليه الصلاة والسلام «كل الطلاق جائز، إلا طلاق الصبي والمجنون» قوله: (ولا يقع طلاق الصبي والمجنون)  ؛لأنه ليس لهما قول صحيح.
وفي الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب الطلاق، فصل ويقع طلاق كل زوج 1/ 224:
ويقع طلاق كل زوج، إذا كان عاقلا بالغا، ولا يقع طلاق الصبي، والمجنون، والنائم ” ؛لقوله عليه الصلاة والسلام ” كل طلاق جائز، إلا طلاق الصبي والمجنون ” ؛ ولأن الأهلية بالعقل المميز، وهما عديما العقل.
وفي الاختيار لتعليل المختار عبد الله بن محمود الموصلي البلدحي، كتاب الطلاق 3/ 124:
قال: (ويقع طلاق كل زوج، عاقل بالغ مستيقظ) ؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «كل طلاق واقع، إلا طلاق الصبي، والمعتوه» ، وفي رواية: «إلا طلاق الصبي والمجنون» ، ولا يقع طلاق الصبي، والمجنون  ؛لما روينا، ؛ ولأنهما عديما العقل، والتمييز والأهلية بهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:451
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-27




@123طلاق مکرہ کا حکم

سوال:
زید کو بعض لوگوں نے پکڑ کراس کو مار پیٹا، اور زبردستی اس پر اپنی بیوی کو طلاق دلوادی، تو یہ طلاق واقع ہوئی ہے؟
جواب:
جبراور زبردستی کی صورت میں زبان سے دی ہوئی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس لیے مذکورہ  صورت میں زید نے اگر واقعی زبان سے طلاق کے الفاظ استعمال کرلیے تھے تو اس کی طلاق واقع ہوچکی ہے۔

حوالہ جات:
لما في فتاوى قاضيخان لحسن بن منصور الأوزجندي، كتاب الإكراه 3/ 298:
و كذا لو أكره على الطلاق و العتاق، فطلق أو أعتق، يقع طلاقه، و عتاقه، عندنا.
وفي الأصل لمحمد بن الحسن الشيباني، باب الظهار 5/ 15:
وكذلك لو أكره على الطلاق، والعتاق، ففعل ذلك، كان ذلك لازماً.
وفي عمدة الرعاية لعبد الحي اللكنوي، كتاب الدعوى 8/ 233:
فإن من أكره على الطلاق، والعتاق، ففعل يقع الطلاق، والعتاق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:412
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123گناہ کا کام کرنےپرطلاق کومعلق کرنا

سوال:
گل زرین کی منگنی میں نکاح بھی ہوا، اور یہ صاحب سعودی عرب چلا گیا، بعد میں فون پر اپنی بیوی کو کہا کہ “اگر میں نے شب زفاف کے رات آپ کے ساتھ وطی فی الدبر نہیں کی تو تو مجھ پر طلاق ہے” اور اس نے شب زفاف میں بیوی کے ساتھ دبر میں وطی نہیں کیا، تو اس صاحب کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے، یا نہیں؟
جواب:
مذكوره صورت میں گل زرین کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، اور طلاق رجعی کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر اندر اگر شوہر رجوع کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

حوالہ جات:
لما في الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب الطلاق، فصل في المشيئة 1/ 251:
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق.
وفي الفتاوي الهندية للجنة العلماء، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط 1/ 420:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
وفي اللباب في شرح الكتاب، لعبد الغني الميداني، كتاب الطلاق 3/ 46:
وإن أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:429
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26