بدچلن عورت کو طلاق دینےکے بعد مہر کا حکم:

سوال:
   جو عورت بد چلن ہو اور بد چلنی کی وجہ سے اس کا شوہر طلاق دے دے تو مہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:
   اگر طلاق جماع یا خلوتِ صحیحہ (میاں بیوی ایسی تنہائی جس میں صحبت سے کوئی مانع نہ ہو) کے بعد دی گئی ہو تو کامل مہر لازم ہوگا اور اگر طلاق جماع یا خلوتِ صحیحہ سے پہلے دی گئی ہو، تو آدھا مہر لازم ہو گا۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل بيان ما يتأكد به المهر 2/ 291:
(وأما) بيان ما يتأكد به المهر فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين، سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط شيء منه بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، أما التأكد بالدخول فمتفق عليه، والوجه فيه أن المهر قد وجب بالعقد، وصار دينا في ذمته، والدخول لا يسقطه؛ لأنه استيفاء المعقود عليه، واستيفاء المعقود عليه، يقرر البدل لا أن يسقطه كما في الإجارة؛ ولأن المهر يتأكد بتسليم المبدل من غير استيفائه لما نذكر فلأن يتأكد بالتسليم مع الاستيفاء أولى.
2. فتح القدير لابن الهمام، كتاب الطلاق، فصل وإذا طلق الرجل امرأته فلها النفقة 4/ 408:
   (وكل فرقة جاءت من قبل المرأة بمعصية مثل الردة وتقبيل ابن الزوج فلا نفقة لها) لأنها صارت حابسة نفسها بغير حق فصارت كما إذا كانت ناشزة، بخلاف المهر بعد الدخول لأنه وجد التسليم في حق المهر بالوطء، وبخلاف ما إذا جاءت الفرقة من قبلها بغير معصية كخيار العتق وخيار البلوغ والتفريق لعدم الكفاءة ؛لأنها حبست نفسها بحق، وذلك لا يسقط النفقة كما إذا حبست نفسها لاستيفاء المهر.
3. البناية شرح الهداية لبدر الدين العينى، كتاب النكاح، باب المهر 5/ 147:
   والخلوة الصحيحة قائمة مقام الدخول عندنا في تأكيد المهر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:575
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-11

 




@123 گونگا اپنی بیوی کو کیسے طلاق دےگا؟

سوال:
گونگے آدمی کا اپنی بیوی کو طلاق دینے کی کیا صورت ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ جو شخص پیدائشی گونگا ہو یا بعد میں گونگا ہوگیا ہو اور اس کے گونگے پن پر کم از کم ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہو، اور اس کے اشارے جانے پہچانے ہوں اور وہ لکھنے پر قادر نہ ہو، تو اگر اس نے اپنی بیوی کو آواز کے ساتھ ایسے اشارے سے طلاق دی، جسے لوگ طلاق سمجھتے ہوں تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی، لیکن اگر وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو، تو اس کی طلاق لکھنے سے ہی پڑے گی، اشارہ کرنے سے نہیں ہوگی۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطلاق، مطلب في تعريف السكران وحكمه 3/ 241:
ويقع طلاق الأخرس بالإشارة، ويريد به الذي ولد وهو أخرس، أو طرأ عليه ذلك، ودام حتى صارت إشارته مفهومة، وإلا لم يعتبر… ففي كافي الحاكم الشهيد ما نصه: فإن كان الأخرس لا يكتب، وكان له إشارة تعرف في طلاقه ونكاحه وشرائه وبيعه فهو جائز، وإن كان لم يعرف ذلك منه، أو شك فيه فهو باطل. اهـ. فقد رتب جواز الإشارة على عجزه عن الكتابة، فيفيد أنه إن كان يحسن الكتابة لا تجوز إشارته.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق وفيه سبعة فصول، الفصل الأول في الطلاق الصريح 1/ 354:
ويقع طلاق الأخرس بالإشارة يريد بالأخرس الذي ولد وهو أخرس أو طرأ عليه ذلك ودام حتى صارت إشارته مفهومة كذا في المضمرات… وإذا كان الأخرس يكتب كتابا يجوز به طلاقه كذا في الهداية في مسائل شتى.
وفی تبيين الحقائق عثمان بن علي الزيلعي الحنفي، کتاب الطلاق 2/ 196:
وطلاق الأخرس بالإشارة إن كانت تعرف؛ لأنه يحتاج إلى ما يحتاج إليه الناطق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:592
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




طلاق نامہ پر دستخط لینے سے طلاق کا حکم:

سوال:
   ایک شخص نے اپنی بیوی کو زبان سے لفظِ طلاق نہیں کہا، بلکہ بیوی کے ماں باپ نے طلاق نامہ لکھ کر اس سے دستخط كرا لیا تو اس سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں اگر طلاق نامہ پر دستخط زبردستی کروایا گیا ہو، اور شخصِ مذکور نے زبان سے طلاق کے الفاظ استعمال نہ کیے ہوں تو طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن اگر زبردستی کی گئی ہواور اس نے زبان سے طلاق کے الفاظ استعمال کرلیے ہوں یا برضاء ورغبت طلاق نامہ پر دستخط کر لیے تھے تو طلاق واقع ہو چکی ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق 3/ 247،236:
   فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ؛لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا…وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه، ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى الزوج 3/ 100:
   وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس ؛لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارة.
3. فتاوى قاضيخان الأوزجندي، 1/ 234:
   رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلأنة بنت فلان ابن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:591
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




رخصتی سے پہلے طلاق دینے سے عدت واجب ہے یا نہیں؟:

سوال:
 زید نے فاطمہ کے ساتھ عقدِ نکاح کر لیا، اور رخصتی سے پہلے طلاق دے دی، تو اب فاطمہ پر عدتِ طلاق لازم ہے یا بغیر عدت کے بھی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے؟
جواب:
   اگر نکاح کے بعد کسی لڑکی کو رخصتی سے پہلے دی گئی یعنی اس کے ساتھ نہ ہمبستری ہوئی ہو، نہ خلوتِ صحیحہ (ایسی تنہائی جس میں میاں بیوی کے لیے ہمبستری سے کوئی مانع نہ ہو) تو ایسی صورت میں ایک ہی طلاق سے بیوی بائنہ (نکاح سے الگ) ہو جاتی ہے اور اس پر عدت بھی لازم نہیں ہوتی، عدت گزارے  بغیر کسی اور جگہ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ المُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ، فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا، فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا. (الأحزاب 49/33)
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة 1/ 526:
    أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها 3/ 286:
   (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق، قوله (وكذا أنت طالق ثلاثا متفرقات).
4. الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب الطلاق، فصل في الطلاق قبل الدخول 1/ 233:
وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها … فإن فرق الطلاق بانت بالأولى، ولم تقع الثانية والثالثة “.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:590
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




@123حد قذف جاری ہونے کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح کرنا

سوال:
میاں بیوی کے لعان کرنے کے بعد شوہر نے کہا میں نے جھوٹ بولا تھا، بیوی بے قصور تھی، عدالت نے اس پر حد قذف جاری کردی، اب وہ اسی عورت سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو کیا ان کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
مذکورہ صورت میں لعان کے بعد اگر شوہر نے بیوی کو طلاق نہ دی ہو اور نہ قاضی نے میاں بیوی کے درمیان جدائی کا فیصلہ کیا ہو، تو حد قذف کے بعد ان کا نکاح برقرار ہے، اگر میاں بیوی آپس میں رہنے پر رضامند ہوں، تو رہ سکتے ہیں، البتہ اگر شوہر نے طلاق دی ہو یا شوہر کا طلاق دینے سے انکار پر قاضی نے تفریق کر دی ہو، اب میاں بیوی کا مذکورہ صورت میں جب شوہر قسم کھانے کے بعد اپنا جھوٹ مان کر سزا پائے تو لعان ختم ہو جائے گا اور میاں بیوی کے درمیان باہمی حرمت بھی ختم ہوجائے گی، لہذا اس کے بعد میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنے کے لیے تجدید نکاح ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في البناية شرح الهداية، كتاب الطلاق، باب التفرقة بين المتلا عنين 5/ 573:
(وهو خاطب إذا أكذب نفسه) ش: هذه مسألة مبتدأة، أي هذا الرجل بعد الإكذاب صار خاطبا من الخطاب، أي يجوز له أن يتزوجها كما لغيره يجوز أن يتزوجها فعليه الحد بإكذاب نفسه.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطلاق، الباب الحادي عشر في اللعان 1/ 516،515:
وكذا لو أكذب الرجل نفسه حل الوطء من غير تجديد النكاح كذا في النهاية… إذا التعنا فرق الحاكم بينهما ولا تقع الفرقة حتى يقضي بالفرقة على الزوج فيفارقها بالطلاق فإن امتنع فرق القاضي بينهما، وقبل أن يفرق الحاكم لا تقع الفرقة والزوجية قائمة يقع طلاق الزوج عليها، وظهاره وإيلاؤه ويجري التوارث بينهما إذا مات أحدهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:584
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-09




تحریری طلاق دینے کا حکم:

سوال:
   زید نے اپنے بیوی کو خط لکھا کہ میں نے اپني  بیوی کو طلاق دی تو اس  صورت  میں کون سی طلاق واقع ہوتی ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ جس طرح زبان سے طلاق دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے، اس طرح خط لکھنے کے ذریعے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، چنانچہ مذکورہ صورت میں ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگی۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء،كتاب الطلاق، الفصل السادس في الطلاق بالكتابة 1/ 378:
   (الفصل السادس في الطلاق بالكتابة) … وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد؛ فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق، وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى الزوج 3/ 100:
   وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة، وبالإشارة المفهومة من الأخرس ؛لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ، والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:573
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-09

 




@123 کیا دوسرے نکاح کے لیے عورت کا اتنا کہنا کافی ہے کہ مجھے طلاق ہوچکی ہے؟

سوال:
کسی عورت کے شوہر کا پتہ نہ ہو، اور یہ عورت یہ ظاہر کرتی ہو کہ میرا شوہر مجھے طلاق دے چکا ہے، اس عورت سے کسی مرد کا درست ہے یا نہیں؟
جواب:
مذکورہ صورت میں اس عورت سے دوسرے مرد کا نکاح درست ہے جبکہ یہ عورت عدت گزار چکی ہو، اور اس مرد کا عورت کے بارے میں غالب گمان ہو کہ یہ عورت سچ کہہ رہی ہے، تاہم اگر بعد میں پتہ چلا کہ اس عورت کا پہلے سے نکاح موجود ہے، تو یہ دوسرا نکاح کالعدم شمار ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في المبسوط السرخسي، كتاب الطلاق، باب الإحصان 5/ 151:
(قال:) وإذا قالت: طلقني زوجي، أو مات عنى، وانقضت عدتي حل لخاطبها أن يتزوجها ويصدقها؛ لأن الحل والحرمة من حق الشرع، وكل مسلم أمين مقبول القول فيما هو من حق الشرع، إنما لا يقبل قوله في حق الغير إذا أكذبه من له الحق، ولا حق لأحد هنا فيما أخبرت به، فلهذا جاز قبول خبرها في ذلك.
وفي الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب البيوع  3/ 376:
وكذا لو قالت لرجل طلقني زوجي، وانقضت عدتي فلا بأس أن يتزوجها.
وفي تبيين الحقائق لعثمان بن علي الزيلعي، كتاب البيوع  6/ 26:
وكذا لو قالت لرجل طلقني زوجي، وانقضت عدتي فلا بأس أن يتزوجها … لأن القاطع طار على ما بينا.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطلاق، 4/ 164:
فرع في الخلاصة، قال: جاءت امرأة إلى رجل وقالت: طلقني زوجي، وانقضت عدتي ووقع في قلبه أنها صادقة، وهي عدلة أولا، حل له أن يتزوجها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:541
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-06




@123عدالت کی ڈگری کے ذریعے خلع لینا

سوال:
ایک شخص (زید) کا نکاح عورت (زینب) کے ساتھ ہوا ہے لیکن رخصتی نہیں ہوئی، اب رخصتی سے پہلے عورت کی والد کہتا ہے کہ میں عدالت کی ذریعہ سے ان دونوں کے درمیان خلع کرنا چاہتا ہو، حالانکہ خلع میں شوہر کے رضامندی نہیں ہیں، کیا شرعا یہ جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ شریعت میں خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر معاملات معتبر ہونے کے لیے عاقدین کی رضامندی ضروری ہے، اس طرح خلع کی معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کے رضامندی کی بغیر عورت یا اس کی والدین عدالت کے ذریعہ یک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل  کرے تو شرعا ایسا خلع معتبر نہیں ہوگا، اور میں بیوی کے درمیان نکاح بدستور قائم رہے گا، اس کی مناسب صورت یہ ہے کہ جرگہ کے ذریعے شوہر کو مالی معاوضہ یا مہر کی معاف کی لالچ دے کر کسی طریقہ سے خلع پر رضامند کیا جائے۔

حوالہ جات:
لما في بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق 3/ 144:
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب الخلع  3/ 441:
باب الخلع (هو) لغة الإزالة، واستعمل في إزالة الزوجية بالضم، وفي غيره بالفتح، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح) … وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:537
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-06




خلع لینے کی صورت میں عدت کے نفقہ کا حکم:

سوال:
   زید نے اپنی بیوی کو خلع کے ذریعے سے فارغ کردیا ہے، اب عدت کے دوران بیوی کا نفقہ زید کی ذمہ ہے یا نہیں؟
جواب:
   خلع کرتے وقت اگر شوہر کی طرف سے نفقہ سے بری ہونے کی شرط لگائی گئی ہو، تو شوہر پر عدت کے دوران نفقہ لازم نہیں، اور اگر نفقہ سے بری ہونے کی شرط نہ لگائی گئی ہو، تو عدت کا نفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے۔

حوالہ جات:
1. درر الحكام شرح غرر الأحكام لملا خسرو، كتاب الطلاق، باب الخلع 1/ 392:
   (ويسقط الخلع والمبارأة) … (كل حق لكل منهما على الآخر مما يتعلق بالنكاح)… وأما نفقة العدة فلا تسقط إلا بالذكر، قيد بالنكاح؛ لأنه لا يسقط ما لا يتعلق به كالقرض، وثمن ما اشترت من الزوج، ونحوهما.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب الخلع  452/3:
   (ويسقط الخلع) في نكاح صحيح، ولو بلفظ بيع وشراء كما اعتمده العمادي، وغيره (والمبارأة) أي الإبراء من الجانبين (كل حق) … (لكل منهما عن الآخر مما يتعلق بذلك النكاح) … (إلا نفقة العدة) وسكناها فلا يسقطان (إلا إذا نص عليها) فتسقط النفقة لا السكنى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:522
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03




”میں نے آزاد کردیا“ کہنے سے طلاق کا حکم:

سوال:
  ایک شخص کو سسر نے کہا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ، اور میری بیٹی کو بھی چھوڑ دو، اس نے غصے سے کہہ دیا کہ تمہارے کہنے پر میں نے آزاد کردیا، میں نے آزاد کردیا، میں نے آزاد کردیا، لیکن اس کا ارادہ آزاد کر دینے کا نہیں تھا، تو اس صورت میں اس كى بیوی کو طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ لفظ ’’آزاد کردیا‘‘ بذات خود اگرچہ لفظ کنایہ ہے، جس سے طلاق کا وقوع نیت پر مبنی ہے، تاہم عرف میں یہ لفظ طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے فقہاء کرام نے اس کو طلاق صریحی میں شمار کرکے بغیر نیت کے بھی اس سے طلاق واقع ہونے کو کہا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں جب اس نے تین مرتبہ یہ الفاظ استعمال کیے، تو ان سے تین طلاقیں واقع ہوگئیں، اور یہ عورت شوہر پر حرام ہوگئی، اب نہ رجوع کرسکتا ہے، اور نہ تجدید نکاح سے یہ عورت واپس نکاح میں آسکتی ہے، تاہم اگر یہ عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، اور وہ شخص اس سے جماع کرکے کسی وجہ سے طلاق دیدے تو عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي،كتاب الطلاق، باب الكنايات  3/ 299:
   فإن سرحتك كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال ” رهاكردم ” أي: سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا.
2. فتاوى التاتارخانية لعالم بن علاء الهندي، كتاب الطلاق، فصل في الكنايات 4/ 465:
   ولو قال: رها كردمت مضافا إلى المرأة، فهو صريح يوجب الرجعة، ولا يصدق أنه لم ينو به الطلاق، خصوصا عند مذاكرة الطلاق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:513
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-02