بیوی کا پستان منہ میں لینےاور دود ھ پینےکا حکم:

سوال:
   اپنی بیوی کا پستان چوس کر اس کا دودھ پینا کیسا ہے؟
جواب:
   بیوی کا پستان منہ میں لینا اگرچہ جائز ہے لیکن اس کا دودھ پینا جائز نہیں، البتہ اگر منہ میں چلا جائے اور فورا تھوک دے تو مضائقہ نہیں، تاہم بیوی کا دودھ اگر حلق سے نیچے چلا جائے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار لابن عابدين، كتاب النكاح، باب الرضاع 3/ 225:
   مص رجل ثدي زوجته لم تحرم.
2. أيضا: كتاب النكاح، باب الرضاع 3/ 211:
(ولم يبح الإرضاع بعد موته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح.
3. بدائع الصنائع لابن مازه الحنفي، كتاب الرضاع، فصل في صفة الرضاع المحرم 4/ 5:
   وروي أن رجلا من أهل البادية ولدت امرأته ولدا فمات ولدها، فورم ثدي المرأة، فجعل الرجل يمصه، ويمجه، فدخلت جرعة منه حلقه، فسأل عنه أبا موسى الأشعري  رضي الله عنه، قال: قد حرمت عليك، ثم جاء إلى عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فسأله، فقال: هل سألت أحدا؟ فقال: نعم، سألت أبا موسى الأشعري، فقال: حرمت عليك فجاء ابن مسعود أبا موسى الأشعري رضي الله عنهما،فقال له: أما علمت أنه إنما يحرم من الرضاع ما أنبت اللحم؟.
4. أيضا: كتاب الرضاع، فصل في صفة الرضاع المحرم 4/ 6:
   وإذا ثبت أن رضاع الكبير لا يحرم ورضاع الصغير محرم فلا بد من بيان الحد الفاصل بين الصغير، والكبير في حكم الرضاع، وهو بيان مدة الرضاع المحرم، وقد اختلف فيه، قال أبو حنيفة: ثلاثون شهرا، ولا يحرم بعد ذلك سواء فطم، أو لم يفطم، وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى: حولان لا يحرم بعد ذلك فطم، أو لم يفطم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:800
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-28




گانا گانے یا سننےکا حکم:

سوال:
   شادی کے موقع پر گانا گانا اور سننا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
   گانا گانا یا سننا حرام اور نا جائز ہے، چاہے شادی کے موقع پر ہو یا اور کسی موقع پر۔ 

حوالہ جات:
1. روح المعاني للألوسي21/ 67:
   (ومن الناس من يشتري…) إلخ و(لهو الحديث) على ما روي عن الحسن كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها.
2. مرقاة المفاتيح للملا علي القاري، كتاب الآداب، باب البيان والشعر7/ 3024:
   وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع» . رواه البيهقي في شعب الإيمان.
3.  رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة 6/ 349:
   وفي التتارخانية عن العيون إن كان السماع سماع القرآن والموعظة يجوز، وإن كان سماع غناء فهو حرام بإجماع العلماء.
4. البحر الرائق لابن النجيم8/ 346:
   واستماع صوت الملاهي حرام كالضرب بالقصب وغيره، قال عليه الصلاة والسلام: استماع الملاهي معصية، والجلوس عليها فسق، والتلذذ بها كفر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:799
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-28




محلہ کی ہرمسجد میں اعتکاف کرنا ضروری ہے ؟:

سوال:
   ایک گاؤں میں اگر دو چار مسجدیں ہوں، تو ہر مسجد میں اعتکاف کے لیے ایک ایک آدمی بیٹھے گا، یا صرف ایک مسجد میں بیٹھنا کافی ہوگا ؟
جواب:
   جس طرح تراویح باجماعت محلہ کی ہر مسجد میں پڑھنا سنت موکدہ علی الکفایہ ہے، اسی طرح محلہ میں جتنی مساجد ہوں، ہر مسجد میں اعتکاف کرنا سنت موکدہ علی الکفایہ ہے، لہذا پورے محلہ میں سے ایک آدمی بھی اگر اعتکاف کے لیے بیٹھ جائے تو باقیوں کا ذمہ ساقط ہوگا، ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين،كتاب الصوم،باب الاعتكاف2/ 442:
   (قوله أي سنة كفاية) نظيرها إقامة التراويح بالجماعة فإذا قام بها البعض سقط الطلب عن الباقين فلم يأثموا بالمواظبة على ترك بلا عذر، ولو كان سنة عين لأثموا بترك السنة المؤكدة إثما دون إثم ترك الواجب.
2. أيضا :
   ( والجماعة فيها سنة على الكفاية الخ ) أفاد أن أصل التراويح سنة عين فلو تركها واحد كره بخلاف صلاتها بالجماعة فإنها سنة كفاية فلو تركها الكل أساؤوا… وهل المراد أنها سنة كفاية لأهل كل مسجد من البلدة، أو مسجد واحد منها أو من المحلة؟ ظاهر كلام الشارح الأول، واستظهر ط الثاني. ويظهر لي الثالث، لقول المنية: حتى لو ترك أهل محلة كلهم الجماعة فقد تركوا السنة وأساءوا، اھ. وظاهر كلامهم هنا أن المسنون كفاية إقامتها بالجماعة في المسجد، حتى لو أقاموها جماعة في بيوتهم ولم تقم في المسجد أثم الكل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:798
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-28




مکان کی دیوار وغیرہ پر الفاظ مقدسہ لکھنا:

سوال:
   نئے مکان پر ”ما شاء اللہ” یا ”ھذا من فضل ربی” لکھنا یا کسی تختہ پر لکھ کر لٹکانا جا ئز ہے یا نہیں؟
جواب:
   سوال میں ذکرکردہ الفاظ مکان کی دیوار پر لکھنا یا تختہ وغیرہ پر لکھ کر لٹکانا جائز ہے بشرطیکہ بے ادبی کا اندیشہ نہ ہو، اگر بے ادبی کا اندیشہ ہو تو مکروہ ہے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوی الهندية للجنة العلماء،كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف، وما كتب فيه شيء من القرآن3/ 260:
   لو كتب القرآن على الحيطان والجدران بعضهم قالوا: يرجى أن يجوز ذلك، وبعضهم كرهوا ذلك مخافة السقوط تحت أقدام الناس.
2. البحر الرائق لابن نجيم،كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل2/ 40:
   وليس بمستحسن كتابة القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن توطأ، وفي جامع النسفي مصلى أو بساط فيه أسماء الله تعالى يكره بسطه واستعماله في شيء.
3. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة، باب المياه1/ 179:
   أقول: في فتح القدير: وتكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدرهم والمحاريب والجدران وما يفرش. والله تعالى أعلم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:797
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-28




غیر مسلموں کے ساتھ کھانا کھانا:

سوال:
    کافر کے ساتھ کھانا کھانا يا اس کی ہاتھ کی پکی ہوئی چیز کھانا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
   غیر مسلموں کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار کھانا کھانا درست ہے، لیکن اس کی عادت بنانا مکروہ ہے،  اور ان کے ہاتھ  کی پکی ہوئی چیز كهانا جائز ہے بشرطیکہ وہ حرام نہ ہو۔

حوالہ جات:

1. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل السادس عشر في معاملة أهل الذمة5/ 362:
   قال عليه السلام: «سنوا بالمجوس سنة أهل الكتاب غير ناكحي نسائهم، ولا آكلي ذبائحهم» ولم يذكر محمد رحمه الله الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا؟ وحكي عن الحاكم عبد الرحمن الكاتب: أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به، فأما الدوام عليه يكره؛ لأنا نهينا عن مخالطتهم وموالاتهم وتكثير سوادهم، وذلك لا يتحقق في الأكل مرة أو مرتين، إنما يتحقق بالدوام عليه.




مردوں کے لیے کڑا پہننا کیسا ہے؟:

سوال:
   عورتوں کے لیے ہاتھوں میں چوڑیاں پہننا درست ہے یا نہیں؟ نیز اگر کوئی مرد ہاتھ میں کڑا پہنے تو جائز ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ خواتین کے لیے سونا، چاندی یا دیگر دھاتوں سے بنے ہوئے زیورات کا استعمال درست ہے، جبکہ مردوں کے لیے ساڑھے چار ماشے چاندی کی انگوٹھی کے علاوہ دیگر زیورات یا کڑا وغیرہ کا استعمال درست نہیں۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس 6/ 352:
   ولا بأس لهن بلبس الديباج والحرير والذهب والفضة واللؤلؤ.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الكراهية، فصل في اللبس، لبس ما سداه حرير ولحمته قطن أو خز8/ 216:
   (ولا يتحلى الرجل بالذهب والفضة إلا بالخاتم والمنطقة، وحلية السيف من الفضة) لما روينا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:795
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-28




بیوی طلاق کا دعوی کرے اور شوہر منکر ہو :

سوال:
  زید کی بیوی کا بیان ہے کہ مجھے میرے شوہر زید نے تین طلاقیں دی ہیں، اور زید طلاق دینے سے انکار کرتا ہے، اس صورت میں کس کا قول معتبر ہوگا؟ 
جواب:
   میاں بیوی کے درمیان جب طلاق دینے میں اختلاف ہوجائے، بیوی طلاق کا دعوی کرے اورشوہر انکار کرے، تو اگر بیوی کے پاس طلاق کے ثبوت پر دو عادل گواہ موجود ہوں، تو بیوی کا قول معتبر ہوگا، یعنی طلاق واقع ہوجائے گی، اور اگر بیوی کے پاس گواہ موجود نہ ہوں، تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہوگا، اگر وہ طلاق نہ دینے پر قسم کھائے تو طلاق واقع نہ ہوگی، اور اگر قسم  کھانے سے انکار کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی، تاہم اگر بیوی کو یقین ہو کہ شوہر نے طلاق دی ہے لیکن وہ اپنی بات ثابت کرنے سے قاصر ہو تو بیوی کو چاہیے کہ شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے بلکہ ماں باپ کے گھر بیٹھ جائے اور شوہر کو مال وغیرہ کا لالچ دے کر اس سے اپنی جان چھڑائے یا عدالت میں تنسیخ نکاح کا کیس دائر کرکے تنسیخ نکاح کی ڈگری وصول کرے، لیکن اگر خلاصی کی کوئی صورت نظر نہ آئے اور مجبورا  اس شوہر کے ساتھ رہنا پڑے تو ایسی صورت عورت عند اللہ معذور ہوگی اور سارا گناہ شوہر پر ہوگا۔

حوالہ جات:
1. سنن الترمذي، أبواب الأحكام ، باب ما جاء في أن البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه، الرقم: 1341:
   عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب الثاني في العمل بغالب الرأي 5/ 313:
   وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا، وجحد الزوج ذلك، وحلف فردها عليه القاضي لم يسعها المقام معه، وينبغي لها أن تفتدي بمالها.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق 3/ 251:
   والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:776
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-27




بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کی بہن سے نکاح کرنا :

سوال:
   زید نے فاطمہ کے ساتھ  نکاح کرکے اس کو طلاق دے دی، تو اب زید فاطمہ کی چھوٹی  بہن کیساتھ نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
   زید کا فاطمہ کی چھوٹی بہن سے نکاح کرنا درست ہے بشرطیکہ اس کی عدت پوری ہوچکی ہو۔ 

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب النكاح، فصل أنواع الجمع بين ذوات الأرحام منه جمع في النكاح 2/ 263:
   وكما لا يجوز للرجل أن يتزوج امرأة في نكاح أختها لا يجوز له أن يتزوجها في عدة أختها.
2. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب النكاح، الفصل الرابع عشر في بيان ما يجوز من الأنكحة وما لا يجوز 3/ 77:
   وكما لا يجوز للزوج أن يتزوج بأخت امرأته في عدة امرأته، فكذا لا يجوز له أن يتزوج أحداً من ذوات محارمها في عدتهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:775
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-27




” والدین کے گھر گئی تو تم میرے نکاح سے خارج ہو” کہنے کاحکم:

سوال:
   زید نے اپنی منکوحہ سے کہا کہ اگر تو اپنے والدین کے  گھر چلی گئی، تو تم میرے  نکاح سے خارج ہو، ابھی تک زید کی منکوحہ اپنے والدین کے گھرنہیں گئی ہے، اب دونوں میاں بیوی چاہتے ہیں کہ بیوی ماں کے گھر چلی جائے، تو اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ 
جواب:
   شخص مذکور کی بیوی کو چاہیے کہ اپنے والدین کے گھر چلی جائے، اس سے اس پر ایک طلاق بائن پڑجائے گی، اس کے بعد دوگواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ آپس میں نکاح کرلیں، اب آئندہ اگر وہ اپنے والدین کے گھر جائے گی تو دوبارہ طلاق نہیں پڑے گی۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب التعليق 3/ 352:
(وفيها) كلها (تنحل) أي: تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما، فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما 420/1:
وإذا أضافه إلى الشرط،  وقع عقيب الشرط اتفاقا، مثل: أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق، ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا، أو يضيفه إلى ملك.
3. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات 3/ 237:
وفي «فتاوى شمس الإسلام» رحمه الله: إذا قال لها: أنا أبرأتك عن الزوجية، يقع الطلاق من غير نية في حال الغضب وغيره.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:783
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-27




زبر دستی کسی سے طلاق دلوانا:

سوال:
   زيد كو كسی نے طلاق دینے پر مجبور کیا اور اس نے طلاق دے دی تو کیا یہ طلا ق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
جواب:
   بلا وجہ شرعی کسی سے زبردستی طلاق دلوانا اگرچہ گناہ ہے، تاہم زبردستی طلاق دلوانے سے بھی طلاق پڑ جاتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں طلاق پڑجائے گی۔

حوالہ جات:
1. في الدر المختار للحصفكي، كتاب الطلاق، ركن الطلاق3/ 235:
   (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا، بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق.
3. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الطلاق 2/ 194:
   ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ، ولو مكرها وسكران وأخرس:
4. الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي، كتاب الطلاق2/ 33:
   ويقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا) سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:768
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-26