@123رشتہ دار اور اجنبی میں سے کس کو زکوٰۃ دی جائے؟

سوال:
زکوٰۃ کی رقم اپنے قریبی مستحقِ زکوۃ رشتہ دار کو دینا افضل ہے یا اجنبی مستحقِ زکوۃ کو؟
جواب:
اجنبی شخص کے بجائے اپنے قریبی مستحقِ زکوۃ رشتہ دار کو زکوۃ دینا افضل ہے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة، باب المصرف  1/ 190:
والأفضل في الزكاة، والفطر، والنذر الصرف إلى الإخوة والأخوات، ثم إلى أولادهم، ثم إلى الأعمام والعمات، ثم إلى أولادهم، ثم إلى الأخوال والخالات، ثم إلى إولادهم، ثم إلى ذوي الأرحام، ثم إلى الجيران، ثم إلى أهل حرفته، ثم إلى أهل مصره أو قريته.
وفي فتح القدير لابن الهمام، كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه، ومن لايجوز 2/ 283:
قالوا: الأفضل في صرفها أن يصرفها إلى إخوانه الفقراء، ثم أولادهم، ثم أعمامه الفقراء، ثم أولادهم، ثم أخواله، ثم ذوي الأرحام، ثم جيرانه، ثم أهل سكته، ثم أهل مصره.
وفي الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي الحدادي، كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه، ومن لا يجوز 1/ 320:
واعلم أن الأفضل في الزكاة، والفطر، والنذور الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات، ثم إلى أولادهم، ثم إلى الأعمام والعمات، ثم إلى أولادهم، ثم إلى الأخوال والخالات، ثم إلى أولادهم، ثم إلى ذوي الأرحام من بعدهم، ثم إلى الجيران، ثم إلى أهل حرفته، ثم إلى أهل مصره أو قريته.
وفي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الزكاة، باب المصرف 1/ 305:
قالوا: الأفضل في صرف الصدقة أن يصرفها إلى إخوته، ثم أولادهم، ثم أعمامه الفقراء، ثم أخواله الفقراء، ثم ذوي الأرحام، ثم جيرانه ثم أهل سكنه، ثم أهل مصره.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:172
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-08




@123کھیتوں کے ارد گرد درختوں میں عشر کا حکم

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کھیتوں کے ارد گرد درختوں میں زکوۃ ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ کھیت کے کناروں پر خودرو درختوں میں عشر واجب نہیں ہے، البتہ اگران درختوں کوباقاعدہ لگایا گیا ہو، اوران کی دیکھ بھال کی جاتی ہو تو ایسی صورت میں ان درختوں میں عشر واجب ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة، الباب السادس في زكاة الزرع والثمار1/ 186:
فلا عشر في الحطب، والحشیش، والقصب، والطرفاء، والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء، بل تفسدها، حتى لو استنمی بقوائم الخلاف، والحشيش، والقصب، وغصون النخل، أو فيها دلب، أو صنوبر، ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه، يجب فيه العشر، كذا في محيط السرخسي.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الزكاة، فصل وأما شرائط المحلية فأنواع 2/ 178:
ومنها: أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض، وتستغل الأرض به عادة، فلا عشر في الحطب، والحشيش، والقصب الفارسي؛ لأن هذه الأشياء لا تستمني بها الأرض، ولا تستغل بها عادة؛ لأن الأرض لا تنمو بها، بل تفسد، فلم تكن نماء الأرض حتى قالو في الأرض إذا اتخذها مقصبة، وفي شجره الخلاف التي يقطع في كل ثلاث سنين، أو أربع سنين، أنه يجب فيه العشر؛ لأن ذلك غلة وافرة.

وفي العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، باب الزكاة والعشر 1/ 12:

(سئل) في رجل له أشجار مثمرة في أرض عشرية فقطعها ويريد العشري أخذ عشرها فهل له ذلك؟ (الجواب) : لا عشر في نفس الأشجار المثمرة، كما في الزيلعي والبحر وغيرهما۔ (أقول:) وإنما العشر في نفس الثمر، وفي الأشجار المعدة للقطع، كما مر”.
(سئل) في أوراق التوت هل يجب فيها العشر أم لا؟ (الجواب) : قال في صور المسائل نقلاً عن الزاهدي ما صورته: قلت: يمكن أن يلحق به أغصان التوت عندنا وأوراقها ؛ لأنه يقصد بها الاستغلال بخوارزم وخراسان، وقد نص عليه في درر الفقه، فقال: يجب العشر في أوراق التوت وأغصان الخلاف التي تقطع في أوان تقليم الكروم وغير ذلك”.

وفي الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الجهاد، باب العشر والخراج والجزية 1/ 339:
وأما الأشجار التي على المسناة فلا شيء فيها.
قال ابن عابدين تحت قوله: (على المسناة) قال في جامع اللغة: المسناة العرم، وهو ما يبنى للسيل ليرد الماء … والظاهر أن الحكم فيها كذلك؛ لأن ذلك ليس محل الزرع فلا يسمى شاغلا للأرض فيكون تابعا لها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:170
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-28




@123 ایڈوانس زکوۃ ادا کرنا

سوال:
میرے پاس گیارہ تولہ سونا ہے، جس کی زکوۃ میں رجب کے مہینے میں ادا کرتا ہوں، پچھلے سال رجب میں نے آئندہ سال کی زکوٰۃ بھی ادا کرلی، تو شرعی لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ جب آدمی نصاب کا مالک ہو جائے، تو زکوۃ اس  کے ذمہ واجب ہوجاتی ہے، اور سال گزرنے پر اس کا ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے، اگرسال پورا ہونے سے پہلے زکوۃ ادا کرے  تب بھی جائز ہے، لہذا مذکورہ صورت میں آپ کی زکوۃ کی ادائیگی درست ہے، البتہ سال مکمل ہونے کے بعد حساب کتاب کر لینا چاہیے، اگر حساب کتاب کے بعد پتہ چلا کہ زکوۃ کم دی گئی تھی تو کمی کو پورا کر لینا چاہیے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوی الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة 1/ 176:
وکما یجوز التعجیل بعد ملك النصاب واحد عن نصاب واحد، يجوز عن نصب كثيرة، كذا في فتاوى قاضي خان.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الزكاة، فصل في الغنم 2/ 390:
(ولو عجل ذو نصاب لسنين، أو لنصب، صح)
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم 2/ 293:
(ولو عجل ذو نصاب) زکاته (لسنين، أو لنصب، صح) لوجود السبب.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:159
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-27

 




@123قرض واپس نہ ملنے کی صورت میں زکاۃ کا حکم

سوال:
ایک عورت کا تین تولہ سونا تھا، اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء میں اس کا شوہر، بیٹا اور دو(2) بیٹیاں اور ماں زندہ ہیں، جب شوہر نے دوسری شادی کی، تو اس دوسری بیوی کو پہلی بیوی کا ہی زیور حق مہر میں دے دیا، جبکہ بچے اس کے سب نابالغ تھے، صرف اتنا بتایا کہ یہ ٹھیکا بڑی بیٹی کا ہے، یہ واپس کرنا ہے، لیکن اس دوسری بیوی نے کچھ عرصہ بعد بتایا، کہ اس کا اپنا بیٹا جب بیمار ہوا تھا، تو اس نے فروخت کیا ہے، اب اس صورتِ حال میں بڑی بیٹی بالغ ہوچکی ہے، تو کیا اس کو زکاۃ کا مال دیا جاسکتا ہے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں عورت کے وفات ہونے پر اس نے ترکہ میں تین تولہ سونا اور اس کے علاوہ دیگر جتنا کچھ نقد وغیرہ چھوڑا ہے ان سب کو اڑتالیس (48) برابر حصوں میں تقسیم کرکے شوہر کو بارہ(12) حصے، ماں کو آٹھ (8) حصے، بیٹے کو چودہ(14) حصے، اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کے سات سات(7) حصے بنتے ہیں، لہذا بڑی بیٹی کا صرف سونے میں جو حصہ بنتا ہے، وہ تقریبا25. 5 ماشے سونا ہیں، پس اگر اس لڑکی کے پاس اس کے علاوہ کچھ نقد رقم یا سونا یا چاندی یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو کہ ان  سب کو ملا کر 52.5تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچتا ہو، اور جو سونا قرض ہے اس کے ملنے کی قوی امید بھی ہو، تو اس کے لیے زکوۃ لینا جائز نہیں ہے، لیکن اگر اس کو اپنا قرض سونا یا اس کی قیمت ملنے کی امید نہ ہو، اور اس کے علاوہ اس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو جو نصاب کو پہنچتا ہو، تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے، اور اس كے ليے لينا۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الزكاة، باب المصرف 2/ 420:
والذي له دين مؤجل على إنسان إذا احتيج إلى النفقة، يجوز له أن يأخذ من الزكاة قدر كفايته إلى حلول الأجل، وإن كان الدين غير مؤجل، فإن كان من عليه الدين معسرا يجوز له أخذ الزكاة … وإن كان المديون موسرا معترفا لا يحل له أخذ الزكاة،وليس عنده نصاب فاضل في الفصلين.
وفي فتح القدير لابن الهمام، كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز 2/ 268:
(والغارم من لزمه دين) أو له دين على الناس لا يقدر على أخذه، ولیس عندہ نصاب فاضل في الفصلين.
وفي النهر الفائق لعمر بن إبراهيم، كتاب الزكاة، باب المصرف 1/ 460:
وفي الخانية: أن من له مؤجل إذا احتاج إلى النفقة، يجوز له أخذ الزكاة قدر كفايته إلى حلول الأجل، ولو كان حالا إلى أن الذي عليه الدين معسر، يجوز له الأخذ في أصح الأقاويل؛ لأنه بمنزلة ابن السبيل، ولو كان موسرا معترفا، لا يحل.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة، باب المصارف 1/ 188:
(ومنها الغارم) وهو من لزمه دين، ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:156
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-23

 




123@غیر مستحق کا کسی سے زکوۃ لے کر بعد میں فقراء میں تقسیم کرنا

سوال:
اگر کوئی مستحقِ زکوۃ نہ ہو، لیکن پھر بھی زکوۃ وصول کرے، لیکن اس کو اپنی ذاتی استعمال میں نہیں لاتا، بلکہ آگے کسی مستحقِ زکوۃ کو یہ رقم دیتا ہے، گویا یہ وصول کرنے والا بغیر کہے اپنے آپ کو وکیل بناتا ہے، تو کیا یہ طریقہ کار جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ مذکورہ شخص چونکہ مالدار ہے اس لیے اس شخص کا مذکورہ طریقے سے زکوۃ لے کر فقیروں میں تقسیم کرنا درست نہیں، البتہ اگر یہ شخص مالک کو بتا دے کہ یہ میں کسی اور کے لیے لے رہا ہوں، اور وہ بخوشی اس کو قبول کر کے اس کو وکیل بنا دے تو ایسی صورت اس کے لیے زکوۃ وصول کرکے فقراء میں تقسیم کرنا درست ہے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف 1/ 189:
وكذا لو كان عنده من المصاحف وهو يحتاج إليه وإن كان لا يحتاج إليه وهو يساوي مائتي درهم لا يجوز صرف الزكاة إليه ولا يجوز له أخذها.
وفي الجوهرة النيرة أبو بكر بن علي اليمني الحنفي، كتاب الزكاة، باب شروط وجوب الزكاة 1/ 115:
لا يجوز صرف الزكاة إليه إذا كانت تساوي مائتي درهم وسواء كانت الكتب فقها أو حديثا أو نحوا وفي الخجندي إذا كان له مصحف قيمته مائتا درهم لا تجوز له الزكاة لأنه قد يجد مصحفا يقرأ فيه.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الزكاة، باب شروط وجوب الزكاة 2/ 222:
وإنما يفيد ذكر الأهل في حق مصرف الزكاة فإذا كانت له كتب تساوي مائتي درهم، وهو محتاج إليها للتدريس وغيره يجوز صرف الزكاة إليه، وأما إذا كان لا يحتاج إليها، وهي تساوي مائتي درهم لا يجوز صرف الزكاة إليه اهـ.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر154
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-19

 




123@زکوۃ کی رقم سے خریدی گئی کتابیں صرف استعمال کے لیے دینا

سوال:
زکوۃ کی رقم سے اہلِ مدرسہ کتابیں خرید کر طلباء کو صرف استعمال کے لیے دیتے ہیں اور سال ختم ہونے پر اہلِ مدرسہ ان سے واپس لیتے ہیں اس سے زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ زکوۃ کے روپیہ کے لیے تملیک یعنی مستحقِ زکوۃ کو مالک بنانا شرط ہے، اور کتب خرید کر طلباء کو صرف استعمال کے لیے دینے سے تملیک نہیں پائی جاتی اس  لیے مذکورہ صورت میں زکوۃ ادا نہیں ہوگی، زکوۃ کی درست ادائیگی کے لیے ان کو باقاعدہ بااختیار مالک بنانا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي مع رد المختار، كتاب الزكاة، باب المصرف 2 /345،344:
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).
وفيه ايضا، كتاب الزكاة، باب المصرف 2 /271:
وحيلة التكفين بها التصدق على فقير، ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما، وكذا في تعمير المسجد.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف 1/ 188:
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر153
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-11-19

 




@123زکوۃ کی رقم سے کسی کا قرض ادا کرنا

سوال:
ایک عورت مستحق ِزکوۃ اور مقروض ہے، اگر کوئی شخص اس عورت کا قرض اس نیت سے ادا کرے کہ آئندہ زکوۃ میں اس کو منہا کرتا رہے گا، تو یہ جائز ہوگا؟ اور اس طرح اس شخص کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟
جواب:
مذکورہ صورت میں اگر یہ شخص اس عورت کا قرض اس کی اجازت سے ادا کرے، تو زکوٰۃ ادا ہوگی، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات:
لما في تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الزكاة، باب المصرف1/ 300:
قال رحمه الله: (وتكفين ميت وقضاء دينه) أي: لا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت؛ لانعدام ركنها، وهو التمليك … وأما قضاء دينه فلأن قضاء دين الحي لا يقتضي التمليك من المديون بدليل أنهما لو تصادقا أن لا دين عليه يسترده الدافع، وليس للمديون أن يأخذه، وذكر في الغاية معزيا إلى المحيط، والمفيد أنه لو قضي بها دين حي أو ميت بأمره جاز
وفي العناية شرح الهداية، كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الزكاة إليه، ومن لا يجوز 2/ 269:
(ولا يقضى بها دين ميت)؛ لأن قضاء دين الغير لا يقتضي التمليك منه لا سيما من الميت … وإنما قيد بدين الميت؛ لأنه لو قضى دين حي بأمره وقع عن الزكاة كأنه تصدق على الغريم، فيكون القابض كالوكيل له في قبض الصدقة.
وفي البناية شرح الهداية لبدر الدين العينى، كتاب الزكاة، باب دفع الزكاة إلى الذمي 3/ 463:
(ولا يقضى بها دين ميت؛ لأن قضاء دين الغير لا يقتضي التمليك منه) … وإنما قيده بقوله: (دين ميت)؛ فإنه لو قضى بها دين حي بأمره يجوز، وتقع الزكاة، كأنه تصدق على المديون، والقابض وكيل في قبض الصدقة.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الزكاة، باب المصارف 2/ 39:
لو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير؛ لعدم قبضه، وإن كان بأمره، يجوز عن الزكاة؛ لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه، وملكه من الغريم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:142
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-15