شوہر کی اولاد کو زکوٰۃ دینا کیساہے؟:

سوال:
   ہندہ اپنے شوہر کی اولاد کو جو اس کی پہلی بیوی سے ہے، زکوۃ دے سکتی ہے یا نہیں؟
جواب:
   ہندہ کے شوہر کی سابقہ بیوی سے اولاد چونکہ ہندہ کی حقیقی اولاد نہیں؛ اس لیے ہندہ ان کو بوقتِ ضرورت زکوٰۃ دے سکتی ہے، بشرطیکہ وہ مستحق زکوٰۃ ہوں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكاة، باب المصرف 2/ 349:
   (ولا ) إلى (من بينهما ولاد) ولو مملوكا لفقير (أو ) بينهما (زوجية).
   قال ابن عابدين تحت قوله: (ولا إلى من بينهما ولاد) … وقيد بالولاد؛ لجوازه لبقية الأقارب كالاخوة ولأعمام والأخوال الفقراء، بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة.
2. خلاصة الفتاوى لطاهر بن عبد العزيز، كتاب الزكاة، الفصل الثامن في اداء الزكاة 1/ 242:
   وأصل هذا أنه لايجوز دفع الزكوة إلى أولاده، وأولاد أولاده، من قبل الذكور والإناث، وإن سفلوا، ولا إلى والديه وأجداده وجداته، وإن علوا من قبل الأباء والأمهات، ويجوز إلى سائر قرابته نحو: الإخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات.
3. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الزكاة، باب المصرف 2/ 425:
   قوله: (وأصله وإن علا وفرعه وإن سفل) بالجر أي: لا يجوز الدفع إلى أبيه وجده وإن علا، ولا إلى ولده، وولد ولده، وإن سفل؛ لأن المنفعة لم تنقطع عن الملك من كل وجه كما قدمه في تعريف الزكاة … وقيد بأصله وفرعه؛ لأن من سواهم من القرابة يجوز الدفع لهم، وهو أولى؛ لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات الفقراء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:438
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-24

 




کرایہ پر دیے ہوئے مکان پر زکوٰۃ

سوال:
زید نے مکان خریدا، جس کی قیمت پچاس لاکھ (5000000)روپے ہے، اس کو کرایہ پر دیا، ماہانہ کرایہ تیس ہزار (30000)روپے ہے، تو سال گزرنے پرمکان کی قیمت پر زکوٰۃ آئے گی یا نہیں؟
جواب:
کرایہ پر دئے ہوئے مکان کی مالیت پر زکوٰۃ نہیں، البتہ اس سے جو کرایہ حاصل ہوتا ہے اگر وہ بقدرِ نصاب ہو، اور اس پر سال بھی گزر جائے، تو اس کرایہ کی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الزكاة، باب شروط وجوب الزكاة 2/ 224:
ولو آجر عبده، أو داره بنصاب إن لم يكونا للتجارة، لا تجب ما لم يحل الحول بعد القبض في قوله، وإن كان للتجارة كان حكمه كالقوي؛ لأن أجرة مال التجارة كثمن مال التجارة في صحيح الرواية.
وفي الدرالمختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الزكاة 2/ 265:
(فلا زكاة على المكاتب) …(وأثاث المنزل، ونحوها) إذا لم تنو للتجارةإلخ. 
قال ابن عابدين تحت قوله ونحوها: أي: كثياب البدن الغير المحتاج إليها، وكالحوانيت، والعقارات.
وفي فتح القدير لابن الهمام، كتاب الزكاة 2 /172:
وليس في الدور السكنى، وثياب البدن، وأثاث المنازل، ودواب الركوب، وعبيد الخدمة، وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية، وليست بنامية أيضا، وعلى هذا كتب العلم لأهلها، وآلات المحترفين لما قلنا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:359
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-23




زکات کی رقم سے مسجد کے لیے جنریٹر خریدنا کیساہے؟

سوال:
ایک آدمی اپنی زکوٰۃ کی رقم سے مسجد کے لیے جنریٹر خرید سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
زکوٰۃ میں چونکہ کسی فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے، لہذا مسجد کے لیے زکوٰۃ کی رقم سے جنریٹر خریدنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر یہ رقم کسی مستحق زکوٰۃ غریب کو دی جائے اور وہ مالک بننے کے بعد اپنی خوشی سے مسجد کے لیے جنریٹر خرید لے تو یہ جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في فتح القدير لابن الهمام، كتاب الزكاة 2 /272:
(ولا يبنى بها مسجد، ولا يكفن بها ميت؛ لانعدام التمليك، وهو الركن)  قوله: لانعدام التمليك، وهو الركن،  فإن الله سماها صدقة، وحقيقة الصدقة تمليك المال من الفقير، وهذا في البناء ظاهر، وكذا في الميت؛ لأنه ليس تمليكا للكفن من الميت، ولا الورثة.
وفي الدر المختارللحصكفي، كتاب الزكاة 3/ 203:
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة، كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد، و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه.)
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الحيل، الفصل الثالث في مسائل الزكاة 6/ 392:
(والحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:358
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-23




بغرض تجارت خریدی ہوئی زمین کی واپسی کی صورت میں گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ

سوال:
ایک شخص نے تجارت کی عرض سے زمین خریدی، چار پانچ سال تک اس کے پاس رہی، اور زکوٰۃ ادا نہیں کی، اب بائع نے زبردستی سابقہ قیمت کے ساتھ واپس لے لی، اب سوال یہ ہے، کہ ان چار پانچ سالوں كی زکوٰۃ اس پر لازم ہے یا نہیں؟
جواب:
چونکہ مذکورہ شخص نے یہ زمین تجارت کی نیت سے خریدی تھی، اور تجارت کی غرض سے خریدی ہوئی زمین پر زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، لہذا اس پر گزشتہ چار، پانچ سالوں کی زکوٰۃ دینا لازم ہے، البتہ بائع نے یہ زمین چونکہ اپنی سابقہ قیمت پر واپس لے لی ہے، تو گویا کہ زمین کی موجودہ قیمت فروخت یہی ہے اور زکوۃ چونکہ قیمتِ فروخت پر دی جاتی ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں بھی گزشتہ سالوں کی زکوۃ نکالنے میں واپسی والی قیمت کا اعتبار ہوگا، چنانچہ گزشتہ ہر سال کے بدلے ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کی جائے گی، اور اس مقدار کو اگلے سال کی زکوٰۃ سے منہا کرکے اس سے اگلے سال کی زکوٰۃ ادا کی جائےگی، اس طرح یہ عمل باقی سالوں میں بھی بروئے کار لایا جائے گا۔ 

حوالہ جات:
لما في الفتاوي الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة،1/ 179:
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم 2/ 286:
وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء، وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:357
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-23




گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کس ریٹ کے حساب سے ادا کی جائے گی؟

سوال:
ایک آدمی کے پاس دس تولہ سونا ہے، نو سال پہلے اس کی قیمت (24) ہزار روپے تھی، اور (9) سال بعد (43) ہزار ہے، اب اس شخص پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ لازم ہے کہ نہیں، اگر لازم ہے، تو کس حساب سے لازم ہے۔
جواب:
مذکورہ صورت میں اس بندے نے جتنی سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی ہے، ان تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا اس پر فرض ہے، اور جس دن زکوٰۃ ادا کرے گا، اس دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا، یعنی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ موجودہ ریٹ کے حساب سے ادا کرے گا، اور گزشتہ ہر سال کے بدلے ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرے گا، اور اس مقدار کو اگلے سال کی زکوٰۃ سے منہا کرے گا، اگر چند سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد مال نصاب سے کم رہ جائے، تو مزید زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم 3/ 251:
وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا:يوم الأداء، وفي السوائم يوم الأداء، وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح. قال ابن عابدين: تحت قوله (وهو الأصح)… وفي المحيط يعتبر يوم الأداء بالإجماع، وهو الأصح.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الزكاة، باب التصرف في مال الزكاة 2/ 115:
وأما وجوب الزكاة، فمتعلق بالنصاب إذ الواجب جزء من النصاب، واستحقاق جزء من النصاب، يوجب النصاب إذ المستحق كالمصروف، وبيان ذلك: أنه إذا كان لرجل مائتا درهم، أو عشرين مثقال ذهب، فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة، وعند زفر يؤدي زكاة سنتين، وكذا هذا في مال التجارة، وكذا في السوائم، إذا كان له خمس من الإبل السائمة، مضى عليها سنتان ولم يؤد زكاتها، أنه يؤدي زكاة السنة الأولى، وذلك شاة، ولا شيء عليه للسنة الثانية، ولو كانت عشرا، وحال عليها حولان يجب للسنة الأولى شاتان، وللثانية شاة.
وفيه أيضا، كتاب الزكاة، فصل صفة الواجب في أموال التجارة 2/ 22:
وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء، فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:356
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-23




مستحقین زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی رقم سے افطاری کرانا:

سوال:
   زکوٰۃ کی رقم سے غرباء کو افطاری کرانا کیسا ہے؟
جواب:
   زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے کسی مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے، اس لیے افطاری کرانےاور کھانا کھلانے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، البتہ اگر ہرمستحق کو کھانا وغیرہ کا مالک بنا کر دیا جائے کہ وہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے، تو اس طرح کرنا درست ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكاة 3/ 203، 204:
   (هي)… (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم، كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (إلا إذا دفع إليه المطعوم)؛ لأنه بالدفع إليه بنية الزكاة يملكه فيصير آكلا من ملكه، بخلاف ما إذا أطعمه معه.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الزكاة،  فصل ركن الزكاة 2/ 39 :
   وکذلك إذا اشترى بالزكاة طعاما فأطعم الفقراء غداء وعشاء، ولم يدفع عين الطعام إليهم لا يجوز؛ لعدم التمليك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:331
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




پیش امام کو صدقۂ فطر دینا کیسا ہے؟:

سوال:
   مسجد کے پیش امام کو صدقۂ فطر دینا کیسا ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ صدقۂ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے، لہٰذا اگر پیش امام مستحق زکوٰۃ ہو تو اس کو صدقۂ فطر دینا جائز بلکہ بہتر ہے، اور اگر مستحق زکوٰۃ نہ ہو، تو جائز نہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكاة، مطلب في مقدار الفطرة 2/ 369 :
   (وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال.
2. الفتاوى الهندية للجنه العلماء، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف1/ 187:
   (منها الفقير) وهو من له أدنى شيء، وهو ما دون النصاب، أو قدر نصاب غير نام، وهو مستغرق في الحاجة… التصدق على الفقير العالم أفضل من التصدق على الجاهل، كذا في الزاهدي.
3. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الزكاة، الفصل الثامن في المسائل المتعلقة بمن توضع الزكاة فيه 2/ 285:
   قال محمد رحمه الله: ولا تحل الزكاة لمن له مائتا درهم فصاعداً، ولا بأس بأن يأخذها من له أقل من مائتي درهم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:330
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




دودھ کے لیے پالی جانے والی بھینسوں پر زکوٰۃ:

سوال:
   ایک شخص دودھ بیچنے کے لیے فارم میں بھینس پالتا ہے اور اس کے لیے پیسوں سے چارہ خریدتا ہے، تو کیا ایسی بھینسوں میں زکوۃ ہے یا نہیں؟
جواب:
   فارم میں پالی ہوئیں بھینسوں سے مقصود اگر دودھ حاصل کرنا ہے لیکن ان کو پیسوں سے خریدا ہوا چارہ کھلایا جاتا ہے، تو ان بھینسوں کی قیمت پر زکوٰۃ واجب نہیں، البتہ دودھ سے حاصل شدہ آمدنی اگر نصاب تک پہنچ جائے یا پہلے سے موجود قابل زكوٰۃ اموال کے ساتھ ملا کر نصاب تک  پہنچ جائے اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكاة، باب السائمة 3/ 232،235:
   باب السائمة (هي) الراعية، وشرعا (المكتفية بالرعي) المباح، ذكره الشمني (في أكثر العام لقصد الدر والنسل) …(فلو علفها نصفه لا تكون سائمة)، فلا زكاة فيها للشك في الموجب.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الزكاة، باب صدقة السوائم 1/ 259 :
   (باب صدقة السوائم) … والسوائم جمع سائمة، يقال سامت الماشية سوما أي: رعت، وأسامها صاحبها، والمراد التي تسام للدر والنسل، فإن أسامها للحمل والركوب، فلا زكاة فيها، وإن أسامها للبيع والتجارة، ففيها زكاة التجارة، لا زكاة السائمة؛ لأنهما مختلفان قدرا وسببا، فلا يجعل أحدهما من الآخر، ولا يبنى حول أحدهما على حول الآخر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:329
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




@123آج کل سید کو زکوۃ دینا کیسا ہے؟

سوال:
موجودہ دور میں کوئی سید تنگ دست غریب ہو، تو اس کو زکوۃ دینا درست ہے یا نہیں آج کل سرکاری خزانہ سے ان کو کوئی وظیفہ نہیں ملتا؟
جواب:
سادات کو نفلی صدقہ دیاجا سکتا ہے، لیکن راجح قول کے مطابق ان کو زکوٰۃ دینا موجودہ دور میں بھی درست نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكوة، باب مصرف الزكاة والعشر 2/ 350:
(و) لا إلى (بني هاشم) … ثم ظاهر المذهب إطلاق المنع.
قال ابن عابدين تحت قوله: (إطلاق المنع إلخ) يعني سواء في ذلك كل الأزمان، وسواء في ذلك دفع بعضهم لبعض ودفع غيرهم لهم.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الزكاة، الفصل الثامن في المسائل المتعلقة بمن توضع الزكاة فيه 2/ 284:
ولا يجوز أن يعطى من الزكاة فقراء بني هاشم، ولا مواليهم، قال عليه السلام «الصدقة محرمة على بني هاشم» ومولى القوم من أنفسهم، وقال عليه السلام: «يا بني هاشم إن الله تعالى كره لكم غسالة الناس، وعوضكم منها بخمس الخمس من الغنيمة».
وفي الجوهرة النيرة  أبو بكر بن علي بن محمدالحنفي، كتاب الزكاة، باب مصارف الزكاة 1/ 130:
(قوله ولا يدفع إلى بني هاشم) يعني الأجنبي لا يدفع إليهم بالإجماع وهل يجوز أن يدفع بعضهم إلى بعض عندهما لا يجوز.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:303
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-10

 




@123قرض واپس نہ ملنے کی صورت میں زکاۃ کا حکم

سوال:
ایک عورت کا تین تولہ سونا تھا، اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء میں اس کا شوہر، بیٹا اور 2 بیٹیاں اور ماں زندہ ہیں، جب شوہر نے دوسری شادی کی، تو اس دوسری بیوی کو پہلی بیوی کا ہی زیور حق مہر میں دے دیا، جبکہ بچے اس کے سب نابالغ تھے، صرف اتنا بتایا کہ یہ ٹھیکا بڑی بیٹی کا ہے، یہ واپس کرنا ہے، لیکن اس دوسری بیوی نے کچھ عرصہ بعد بتایا، کہ اس کا اپنا بیٹا جب بیمار ہوا تھا، تو اس نے فروخت کیا ہے، اب اس صورتِ حال میں بڑی بیٹی بالغ ہوچکی ہے، تو کیا اس کو زکاۃ کا مال دیا جاسکتا ہے۔
جواب:
مذکورہ صورت میں عورت کے وفات ہونے پر اس نے ترکہ میں تین تولہ سونا اور اس کے علاوہ دیگر جتنا کچھ نقد وغیرہ چھوڑا ہے ان سب کو اڑتالیس (48) برابر حصوں میں تقسیم کرکے شوہر کو بارہ (12) حصے، ماں کو آٹھ (8) حصے، بیٹے کو چودہ (14) حصے، اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کے سات سات (7) حصے بنتے ہیں، لہٰذا بڑی بیٹی کا صرف سونے میں جو حصہ بنتا ہے، وہ تقریبا 25 .5 ماشے سونا ہیں، پس اگر اس لڑکی کے پاس اس کے علاوہ کچھ نقد رقم یا سونا یا چاندی یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو کہ ان سب کو ملا کر 52.5 تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچتا ہو، اور جو سونا قرض ہے اس کے ملنے کی قوی امید بھی ہو، تو اس کے لیے زکوۃ لینا جائز نہیں ہے، لیکن اگر اس کو اپنا قرض سونا یا اس کی قیمت ملنے کی امید نہ ہو، اور اس کے علاوہ اس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو جو نصاب کو پہنچتا ہو، تو اس کو زکوۃ دینا جائز ہے، اور اس كے ليے لينا۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الزكاة، باب المصرف 2/ 420:
والذي له دين مؤجل على إنسان إذا احتيج إلى النفقة، يجوز له أن يأخذ من الزكاة قدر كفايته إلى حلول الأجل، وإن كان الدين غير مؤجل، فإن كان من عليه الدين معسرا يجوز له أخذ الزكاة … وإن كان المديون موسرا معترفا لا يحل له أخذ الزكاة،وليس عنده نصاب فاضل في الفصلين.
وفي فتح القدير لابن الهمام، كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز 2/ 268:
(والغارم من لزمه دين) أو له دين على الناس لا يقدر على أخذه، ولیس عندہ نصاب فاضل في الفصلين.
وفي النهر الفائق لعمر بن إبراهيم، كتاب الزكاة، باب المصرف 1/ 460:
وفي الخانية: أن من له مؤجل إذا احتاج إلى النفقة، يجوز له أخذ الزكاة قدر كفايته إلى حلول الأجل، ولو كان حالا إلى أن الذي عليه الدين معسر، يجوز له الأخذ في أصح الأقاويل؛ لأنه بمنزلة ابن السبيل، ولو كان موسرا معترفا، لا يحل.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة، باب المصارف 1/ 188:
(ومنها الغارم) وهو من لزمه دين، ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه، أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:285
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-08