رمضان میں دن کو حیض سے پاک ہونے کے بعد کھانا پینا کیسا ہے؟:

سوال:
   اگر کوئی حائضہ عورت دن کو پاک ہو جائے، تو غروب آفتاب تک کھا پی سکتی ہے یا نہیں؟
جواب:
   حائضہ عورت جب دن کو پاک ہو جائے، تو غروب آفتاب تک اس کے لیے کھانا اور پینا جائز نہیں، بلکہ غروب آفتاب تک روزہ داروں کی طرح رہنا ضروری ہے، البتہ یہ دن روزہ میں شمار نہ ہوگا، بلکہ بعد میں اس روزہ کی قضاء کرنی پڑے گی۔ 

حوالہ جات:
1.  بدائع الصنائع، للكاساني الحنفي، كتاب الصوم، فصل حكم الصوم المؤقت إذا فات عن وقته 2/ 102:
   أما وجوب الإمساك تشبها بالصائمين فكل من كان له عذر في صوم رمضان في أول النهار مانع من الوجوب، أو مبيح للفطر، ثم زال عذره، وصار بحال لو كان عليه في أول النهار لوجب عليه الصوم، ولا يباح له الفطر كالصبي إذا بلغ في بعض النهار، وأسلم الكافر،  وأفاق المجنون، وطهرت الحائض، وقدم المسافر مع قيام الأهلية يجب عليه إمساك بقية اليوم.
2. الهداية لعلي بن أبي بكرالمرغيناني، كتاب الصوم، فصل في من كان مريضا في رمضان 1/ 126:
   وإذا قدم المسافر أو طهرت الحائض في بعض النهار أمسكا بقية يومهما.
3. مراقي الفلاح لحسن بن عمار الشرنبلالي، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم من غير كفارة 1/ 255:
   يجب الإمساك بقية اليوم على من فسد صومه، وعلى حائض ونفساء طهرتا بعد طلوع الفجر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:707
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-21




روزہ کی حالت میں ہمبستری کرنا:

سوال:
   ایک شخص نے روزے کی حالت میں بیوی سے دن میں ہمبستری کرلی، اور انزال نہیں ہوا تو شرعا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   روزے کی حالت میں ہمبستری کرنے سے میاں بیوی دونوں کا روزہ فاسد ہوجاتا ہے، چاہے انزال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اور بعد میں اس روزہ کی قضا بھی لازم ہے اور کفارہ بھی، تاہم ہمبستری میں اگر بیوی کی رضامندی شامل نہ ہو بلکہ اس کو ہمبستری پر مجبور کیا گیا ہو، تو ایسی صورت میں بیوی پر صرف قضا لازم ہے کفارہ نہیں۔

حوالہ جات:
1. خلاصة الفتاوى لطاهر ابن عبد الرشيد، كتاب الصوم، الفصل الثالث فيما يفسده وما لا يفسد 1/ 259:
   الصائم إذا جامع إمرأته متعمدا في نهار رمضان، فعليه القضاء، والكفارة إذا توارت الحشفة أنزل، أو لم ينزل.
2. الفتاوى قاضي خان لحسن بن منصور الأوزجندي، كتاب الصوم1/ 104:
   (وأما ما يوجب القضاء والكفارة) إذا أصبح صائما في رمضان، فجامع امرأته متعمدا، عليه القضاء والكفارة إذا توارت الحشفة، أنزل أو لم ينزل، وعلى المرأة مثل ما على الرجل.
3. المبسوط لمحمد بن الحسن الشیباني، كتاب الصوم 205/2:
إن أكل وشرب في شهر رمضان متعمدا فعليه ما على من جامع من القضاء والكفارة؟ قال: نعم، قلت: وعلى المرأة مثل ذلك إذا هي طاوعته؟ قال: نعم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:704
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-20




گرمی میں فصل کاٹنے کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا:

سوال:
   زمین دار فصل پکنے کے زمانے میں سخت گرمی کی وجہ سے روزہ نہ رکھے اور بعد میں قضا کرلےتو شرعا کیسا ہے؟
جواب:
   موجودہ دور میں فصل کی  کٹائی کے لیے چونکہ جدید ترین مشینیں موجود ہیں، مثلا: ہارویسٹر مشین (Harvester  Machine) وغیرہ اس لیے کٹائی کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا جائز نہیں، تاہم اگر فصل مکمل پک چکی ہو، اور تاخیر کرنے سے فصل خراب ہونے کا اندیشہ ہو، اور فصل کاٹنے کے لیے کوئی اور معقول انتظام نہ ہوسکتا ہو، بلکہ خود ہی کاٹنا مجبوری ہو، تو ایسی صورت میں روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصوم، فصل في الغوارض 2/ 493:
   لا يجوز للخباز أن يخبز خبزا يوصله إلى ضعف مبيح للفطر، بل يخبز نصف النهار ويستريح في النصف، قيل له: لا يكفيه أجرته أو ربحه، فقال: هو كاذب، وهو باطل بأقصر أيام الشتاء.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده 3/ 460:
   وقال الرملي: وفي جامع الفتاوى: ولو ضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة، فله أن يفطر، ويطعم لكل يوم نصف صاع اهـ ، أي: إذا لم يدرك عدة من أيام أخر، يمكنه الصوم فيها، وإلا وجب عليه القضاء، وعلى هذا الحصاد إذا لم يقدر عليه مع الصوم، ويهلك الزرع بالتأخير لا شك في جواز الفطر والقضاء، وكذا الخباز … وكذا لو خاف هلاك زرعه، أو سرقته، ولم يجد من يعمل له بأجرة المثل، وهو يقدر عليها؛ لأن له قطع الصلاة لأقل من ذلك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:672
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




مریض کا نمازِفجر کے بعد روزه توڑنے کا حکم:

سوال:
   ایک شخص مریض تھا رمضان میں کسی دن روزہ رکھتا تھا، کسی دن افطار کرتا تھا، ایک دن روزہ کی نیت کی، پھر فجر کے بعد افطار کرلیا، تو اس صورت میں قضاء واجب ہے یا کفارہ؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں اگر مریض کی حالت ناقابل برداشت تھی اور اس کا ظن غالب تھا کہ اگر روزہ نہ توڑے گا تو جان چلی جائےگی یا سخت تکلیف میں پڑجانے گا تو ایسی صورت میں اس کے  لیے روزہ توڑنے کی گنجائش ہے اور روزہ توڑنے کی وجہ سے اس پر صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصوم، فصل في عوارض الفطر في رمضان 2/ 303 :
   (قوله: لمن خاف زيادة المرض الفطر) لقوله تعالى: {فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر} [البقرة: 184] فإنه أباح الفطر لكل مريض لكن القطع بأن شرعية الفطر فيه إنما هو لدفع الحرج، وتحقق الحرج منوط بزيادة المرض أو إبطاء البرء أو إفساد عضو، ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض، والاجتهاد غير مجرد الوهم، بل هو غلبة الظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق.
2. فتح باب العناية بشرح النقاية للقاری، كتاب الصوم، فصل في الكفارة 2/ 250:
   وتسقط الكفارة اتفاقا، لو طرأ في يوم الإفساد حيض، أو نفاس، أو مرض مبيح للفطر؛ لأن الكفارة إنما تجب بالإفطار في صوم مستحق، واستحقاقه في يوم واحد لا يتجزأ ثبوتا وسقوطا، فبعروض المرض والحيض في آخره تمكنت شبهة انتفاء الاستحقاق في أوله.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:667
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




روزے کے دوران بے ہوش ہونے کا حکم:

سوال:
   ہمارے پڑوس میں ایک باباجی رہتے ہیں، پچھلے جمعہ کو رمضان کا پہلا جمعہ تھا، وہ مسجد میں نماز فجر کے بعد بے ہوش ہوگئے اور عصر کی نماز تک بے ہوش ہی رہے، ہوش میں آنے پر بھی انہوں نے روزہ افطار نہیں کیا، بلکہ مغرب کے وقت تھوڑا سا پانی لیا، کیا ان کا روزہ برقرار تھا، اور اتنی دیر بے ہوشی سے روزہ نہیں ٹوٹتا؟
جواب:
    روزہ کی حالت میں صرف بے ہوشی کا آنا مفطرِ صوم (روزہ کو توڑنے والا) نہیں ہے، لہذا مذکورہ باباجی کے اس دن کا روزہ بالک درست تھا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، 2/ 432:
   (وقضى أيام إغمائه، ولو) كان الإغماء (مستغرقا للشهر) لندرة امتداده (سوى يوم حدث الإغماء فيه، أو في ليلته) فلا يقضيه إلا إذا علم أنه لم ينوه.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصوم 2/ 449:
   ولم يجعلوا العقل، والاقامة شرطين للصحة؛ لان من نوي الصوم من الليل، ثم جن في النهار أو أغمي عليه، يصح صومه في ذلك اليوم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:663
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




@123روزے کی حالت میں کوئی چیز کا چکھنا

سوال:
میں نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ والدہ یا بڑی بہن وغیرہ افطاری بناتے وقت کبھی نمک وغیرہ چکھتی ہے اور فورا تھوک دیتی ہے، تو کیا روزے کی حالت میں چکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ روزہ کی حالت میں کسی چیز کو بلاعذر چکھنا مکروہ ہے، البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلا کسی عورت کا شوہر ایسا بد مزاج ہو کہ نمک وغیرہ کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے غصہ ہوگا، تو ایسی عورت کے لیے کھانے کا نمک زبان پر رکھ کر چکھنا درست ہے، اس سے روزہ مکروہ نہ ہوگا، تاہم اس صورت میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ چکھنے میں سالن کے ذرات حلق سے نیچے نہ اترے، ورنہ روزہ فاسد ہو جائے گا۔

حوالہ جات:
لما في فتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره 1/ 199:
وكره ذوق شيء، ومضغه بلا عذر كذا في الكنز، ومن العذر في الأول ما لو كان زوج المرأة وسيدها سيئ الخلق فذاقت المرقة، ومن العذر في الثاني أن لا تجد من يمضغ الطعام لصبيها من حائض أو نفساء أو غيرهما ممن لا يصوم، ولم تجد طبيخا، ولا لبنا حليبا كذا في النهر الفائق.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الزكاة، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده 2/ 416:
(وكره) له (ذوق شيء و) كذا (مضغه بلا عذر) قيد فيهما قاله العيني ككون زوجها أو سيدها سيئ الخلق فذاقت.
وفي كنز الدقائق لامام النصفي، كتاب الزكاة، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده 1/ 221
(وكره ذوق شيء ومضغه بلا عذر ومضغ العلك).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:581
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-09




@123بحالتِ روزہ کان میں دوا ڈالنے کا حکم

سوال:
بحالتِ روزہ کان میں دوا ڈالنا مفسد صوم ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ جمہور فقہاء کرام کے نزدیک روزے کی حالت میں کان میں دوا یا تیل ڈالنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، اور روزے کی فاسد ہونے کی بنیاد یہ بتلائی ہے، کہ کان میں دوا ڈالنے سے دماغ یا حلق تک دواپہنچ جاتی ہے، لہذا روزہ فاسد ہو جاتا ہے، جبکہ جدید تحقیق کے مطابق ماہر اطباء کا اس بات پر اتفاق ہے، کہ کان میں ایک باریک مضبوط پردہ ہے جو دوا کے دماغ یا حلق تک پہنچنے میں مانع ہے، البتہ اگر وہ پردہ پھٹ جائے یا اس میں سوراخ ہوجائے، تو ایسی صورت میں دوا براہ راست حلق تک پہنچ جاتی ہے، لہذا اگر کان کا پردہ صحیح سالم ہو تو روزے کی حالت میں کان میں دوا ڈالنے سے روزہ فاسد نہ ہوگا، تاہم کوئی شخص قدیم  جمہور فقہاء کرام کے قول پر عمل کرتے ہوئے روزے کی حالت میں کان میں دوا ڈالنے سے احتراز کرے تو یہ بات شبہات سے دور ہونے کی وجہ سے زیادہ بہتر ہے۔

حوالہ جات:
لما في فتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد 1/ 204:
ومن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنه دهنا أفطر، ولا كفارة عليه هكذا في الهداية.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصوم، فصل فصاد الصوم 2ْ243:
وما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ عن المخارق الأصلية كالأنف والأذن والدبر بأن استعط أو احتقن أو أقطر في أذنه فوصل إلى الجوف أو إلى الدماغ فسد صومه.
وفي تبيين الحقائق عثمان بن على الزيلعي، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده 2/ 181:
(وإن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنه أو داوى جائفة أو آمة بدواء ووصل إلى جوفه أو دماغه أفطر).
وفي فتح القدير للكمال ابن الهمام، كتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء والكفارة 2/ 348:
(قوله: ولو أقطر في إحليله لم يفطر عند أبي حنيفة، وقال أبو يوسف: يفطر، وقول محمد مضطرب فيه) والإفطار في أقبال النساء، قالوا أيضا هو على هذا الخلاف، وقال بعضهم: يفسد بلا خلاف لأنه شبيه بالحقنة قال في المبسوط: وهو الأصح (قوله: فكأنه وقع إلخ) يفيد أنه لا خلاف لو اتفقوا على تشريح هذا العضو فإن قول أبي يوسف بالإفساد إنما هو بناء على قيام المنفذ بين المثانة والجوف، فيصل إلى الجوف ما يقطر فيها، وقوله بعدمه بناء على عدمه، والبول يترشح من الجوف إلى المثانة فيجتمع فيها، أو الخلاف مبني على أن هناك منفذا مستقيما أو شبه الحاء فيتصور الخروج ولا يتصور الدخول لعدم الدافع الموجب له، بخلاف الخروج، وهذا اتفاق منهم على إناطة الفساد بالوصول إلى الجوف. ويفيد أنه إذا علم أنه لم يصل بعد بل هو في قصبة الذكر لا يفسد، وبه صرح غير واحد.
لما في المقالات الفقهيه لمفتي محمد رفيع العثماني، مفطرات الصوم في المذاهب الاربعه 110/ 143:
وأما الأذن: فلأن الدواء أو الماء أو الدهن ونحوها لا تصل بالإقطار فيها إلى الحلق إذا كانت طبلة الأذن سليمة غىر مخروقة، لأن فتحة الأذن ليست بنافذة إلى الحلق لا مباشرة، ولابواسط قناة أو جوف اخر إلا إذا كانت الطلبة فخروقة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:580
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-09




عورت کا روزہ کی حالت میں اپنی شرمگاہ میں تر انگلی ڈالنا:

سوال:
   روزہ کے حالت میں کوئی عورت تر انگلی اپنی شرمگاہ میں داخل کرے، تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا یا نہیں، اگر فاسد ہوتا ہو تو قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے؟
جواب:
   اگر کوئی کوئی روزہ کی حالت میں تر انگلی اپنی شرمگاہ میں دا خل کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائےگا، جبکہ روزہ سے ہونا یاد ہو، البتہ اس روزہ کی صرف قضاء لازم ہے، کفارہ نہیں، تاہم یہ حکم فرج داخل یعنی شرمگاہ کے اندرونی حصہ سے متعلق ہے، اگر شرم گاہ کے اوپر والے حصہ میں تر انگلی ڈالی ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الصوم 4/ 424:
   (أو أدخل أصبعه اليابسة فيه) أي: دبره أو فرجها ولو مبتلة فسد.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (ولو مبتلة فسد) لبقاء شيء من البلة في الداخل، وهذا لو أدخل الأصبع إلى موضع المحقنة، كما يعلم مما بعده، قال: ومحله إذا كان ذاكرا للصوم وإلا فلا فساد، كما في الهندية عن الزاهدي.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة، باب الاستنجاء بحجر منق 1 /253:
   ويحترز من دخول الأصبع المبتلة، كل ذلك يفسد الصوم، وفي كتاب الصوم من الخلاصة: إنما يفسد إذا وصل إلى موضع المحقنة، وقلما يكون ذلك.
3. الفتاوى الهنديه للجنة العلماء، كتاب الصوم1/ 204:
   ولو أدخل أصبعه في استه، أو المرأة في فرجها لا يفسد، وهو المختار إلا إذا كانت مبتلة بالماء، أو الدهن، فحينئذ يفسد لوصول الماء، أو الدهن، هكذا في الظهيرية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:502
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-31




کفارہ کے روزوں میں تسلسل برقرار نہ رہنے کا حکم:

سوال:
   ايک شخص نے كفاره كے روزے دس دن ركهے، گيارہویں دن فجر کی اذان کے وقت سحری کھالی، تو روزہ درست ہوا یا نہیں؟ اور روزہ نہ ہونے کی صورت میں کفارہ کے روزے از سرِنو شروع کرے گا یا نہیں؟
جواب:
   روزہ رکھنے اور کھولنے کا مدار وقت پر ہے، اذان پر نہیں، لہذا اگر مذکورہ شخص نے سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد سحری کھالی ہو، تو اس کا روزہ درست نہیں ہوا، اب کفارہ کے روزے از سرِنو رکھے، اور اگر وقت ابھی ختم نہیں ہوا تھا، تو روزہ درست ہے، از سرِنو رکھنے کے ضرورت نہیں۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
   وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَد مِنَ الفَجرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ. البقرة 2 /106:
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصوم 4 /436:
   (أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي: الوقت الذي أكل فيه (ليلا و) الحال أن (الفجر طالع، والشمس لم تغرب) لف، ونشر… (قضى) في الصورة كلها، (فقط.)
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصوم، باب مايفسد الصوم وما لا يفسد 2/ 485:
   فلو أفطر  يوما في خلال المدة، بطل ما قبله، ولزمه الاستقبال سواء أفطر لعذر، أو لا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:501
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-31




دودھ پلانے والی عورت کے لیےروزہ توڑنے کا حکم:

سوال:
   ایک عورت کی گود میں دودھ پیتا بچہ ہے، تو کیا یہ عورت دودھ پلانے کی وجہ سے افطار کرسکتی ہے؟ اور بعد میں فدیہ دے گی یا قضا لائے گی؟
جواب:
   اگر روزہ رکھنے سے دودھ میں کمی نہ آتی ہو اور بچہ کی خوارک کا دیگر ذرائع سے بندوبست ہو سکتا ہو، تو ایسی صورت ميں بچے کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں، لیکن اگر روزہ رکھنے کی صورت میں دودھ کی کمی کی وجہ سے بچہ کو مکمل خوراک میسرنہ ہو اور بچہ کے بیمار یا ہلاک ہو نے کا اندیشہ ہو یا خود عورت کے بیمار یا ہلاک ہونے کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے، اور فوت شدہ روزوں کی بعد میں قضا کرنا ضروری ہے، بلاعذر فدیہ دینا جائز نہیں۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصوم، فصل حكم فساد الصوم 2/ 250:
   وأما حبل المرأة وإرضاعها: إذا خافتا الضرر بولدهما فمرخص، وقد روي عن النبي  صلى الله عليه وسلم  أنه قال: يفطر المريض، والحبلى، إذا خافت أن تضع ولدها، والمرضع إذا خافت الفساد على ولدها … وعليهما القضاء ولا فدية عليهما عندنا.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصوم، فصل حكم فساد الصوم 1/ 206:
   والحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أو ولديهما أفطرتا وقضتا؛  دفعا للحرج؛  ولا كفارة عليهما؛  لأنه إفطار بعذر؛  ولا فدية عليهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:370
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-30