ٹی وی یا آلاتِ معصیت کی خرید وفروخت کا حکم:

سوال:
ٹی وی وغیرہ کی خرید وفروخت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ ٹی وی فی نفسہ آلہ لہو ولعب نہیں، بلکہ اسے اصلاحی، تعلیمی، تربیتی، اور سائنسی معلومات کے لیے بھی استعمال کیا جا سكتا ہے، اور فقہاء نے ہر اس چیز کی خرید وفروخت کو جائز قرار دیا ہے، جس میں جائز استعمال کا پہلو موجود هو، لہٰذا ٹی وی کی خرید وفروخت جائز ہے، لیکن چونکہ اس کا استعمال اکثر خرافات اور ناجائز چیزوں میں ہوتا ہے، اس لیے اس کی خرید وفروخت  کراہت سے خالی نہیں، لہٰذا اس قسم کے کاروبار سے بچنے میں احتیاط ہے۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب البيوع، فصل الشرائط التي يرجع إلى المعقود عليه 5/ 144:
   ويجوز بيع آلات الملاهي من البربط، والطبل، والمزمار، والدف، ونحو ذلك عند أبي حنيفة، لكنه يكره، وعند أبي يوسف، ومحمد: لا ينعقد بيع هذه الأشياء؛ لأنها آلات معدة للتلهي بها موضوعة للفسق، والفساد فلا تكون أموالا فلا يجوز بيعها، ولأبي حنيفة – رحمه الله – أنه يمكن الانتفاع بها شرعا من جهة أخرى.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الكراهية، فصل في البيع 6/ 391:
   وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية، والكبش النطوح، والحمامة الطيارة، والعصير، والخشب ممن يتخذ منه المعازف.
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب البيوع 8/ 142:
   (وصح بيع هذه الأشياء) وهذا قول الإمام، وقالا: لا يجوز بيع هذه الأشياء؛ لأنها ليست بمال متقوم، وجواز البيع ووجوب الضمان مبنيان على المالية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:265
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30

 




زیادہ مقدار میں کوئی چیز خریدنے پر انعام رکھنا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض دکانداروں نے آج کل یہ طریقہ اختیار کیا ہے، کہ جو گاہک ہم سے تین عدد سوٹ خریدے گا، اس کو ایک عدد وسوٹ مفت ملے گا، تو کیا خریداروں کے لیے اس مفت سوٹ حاصل کرنے کی نیت سے اس دکاندار سے خریداری کرنا جائز ہے؟
جواب:
   دکاندار کا گاہک کو راغب کرنے کے لیے اور اپنے سیل کو بڑھانے کے لیے کسی خاص مقدار میں کوئی چیز خریدنے پر انعام رکھنا جائز ہے، تاہم خیال رکھنا چاہیے کہ اتنی قیمت پر فروخت کرے جو کہ عام مارکیٹ میں اس قسم کے کپڑوں کی رائج ہو، یعنی انعام کی وجہ سے قیمت میں اضافہ نہ کیا ہو، اور کپڑوں کی ورائٹی بھی ناقص نہ ہو۔

حوالہ جات:
1. الموسوعة الفقهية الكويتية للجنة لعلماء، حرف الألف 15/ 77:
   الأصل إباحة الجائزة على عمل مشروع سواء أكان دينيا أو دنيويا؛ لأنه من باب الحث على فعل الخير والإعانة عليه بالمال وهو من قبيل الهبة.
2. بحوث قضايا فقهية معاصرة لمفتي تقي عثماني، كتاب البيوع، أحكام الجوائز 2/ 158:
   الجوائز على شراء المنتجات: وإن حكم مثل هذه الجوائز أنها تجوز بشروط:الشرط الأول: أن يقع شراء البضاعة بثمن مثله. الشرط الثاني: أن لا تتخذ هذه الجوائز ذريعة لترويج البضاعات المغشوشة. الشرط الثالث: أن يكون المشتري يقصد شراء المنتج للانتفاع به، ولا يشتريه لمجرد ما يتوقع من الحصول على الجائزة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:264
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30




بیرونی ممالک سے کرنسی بھیجنے پر پوائنٹس ملنے کا حکم:

سوال:
   باہر ملکوں میں مقیم پاکستانی جب اپنی محنت کی کمائی پاکستان میں بھیجتے ہیں، تو ان میں زیادہ تر لوگ غیر قانونی ”ھونڈی“ استعمال کرتے ہیں، جسکا ملک کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے پیسے بھیجنے کے طریقے کو قانونی بنانے کے لیے حکومت پاکستان نے ”سوھنی دھرتی“ کے نام سے ایک پروگرام متعارف کرایا، اس پروگرام کی مدد سے جب باہر ملک میں مقیم پاکستانی اپنے پاسپورٹ سے رجسٹرڈ ہوتا ہے اور پھر وہ قانونی طریقے سے ملک پیسے بھیجتا ہے، تو اسے سو پاکستانی روپے کے برابر پوائنٹس مل جاتے ہیں، تو وہ ان پوائنٹس کو روپیوں میں تبدیل نہیں کرسکتا، بلکہ انہیں یوٹیلٹی سٹورز، ہوائی ٹکٹ وغیرہ کچھ اداروں میں خرچ کرسکتا ہے۔
   کچھ لوگ ان کی خرید وفروخت بھی کرتے ہیں، خرید وفروخت اس طرح ہوتی ہے کہ ایک ہزار پوائنٹس آٹھ سو یا نوسو روپے میں خریدے جاتے ہیں۔
   تو کیا یہ پوائنٹس حاصل کرنا، انہیں خود خرچ کرنا یا ان کی خرید وفروخت کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ ”سوہنی دھرتی“ اپلیکیشن کے ذریعہ جو لوگ پاکستان سے باہر ممالک میں موجود ہیں وہ اپنی رقم بینک یا ایکسچینج کمپنی کے ذریعہ پاکستان بھیجتے ہیں تو اس کے لیے اکاؤنٹ کھولتا ہے، جس میں رقم رکھوانے یا پیسے بھیجنے کے عوض بینک یا ایکسچینج کمپنی پوائنٹس دیتی ہے جو کہ قرض پر فائدہ حاصل کرنے کی ایک صورت ہے اور شرعا قرض سے کسی بھی قسم کا اور کسی بھی عنوان سے مشروط نفع لینا دینا سود ہے، البتہ اگر یہ پوائنٹس حکومتِ پاکستان اپنی طرف سے اس ایپلیکیشن کے استعمال پر دیتی ہو اور اکاونٹ میں پیسے موجود ہونے اور نہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، تو یہ حکومت کی طرف سے تبرع ہوگا، جس کا لینا اور استعمال کرنا شرعا جائز ہے، اور چونکہ ان پوائنٹس کو متعین جگہ میں خرچ کرنا حکومت کی پالیسی میں داخل ہے جس کا یہ انعام وصول کرنے والا پابند ہوتا ہے، اس لیے ان کو آگے کسی اور کو نقد رقم کے بدلہ فروخت کرنا درست نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الحوالة 4/ 175:
   قال: (وكره السفاتج) وهو قرض استفاد به المقرض أمن خطر الطريق … وإنما كره لما روي أنه عليه الصلاة والسلام  ”نهى عن قرض جر نفعا“ وقيل إذا لم تكن المنفعة مشروطة، فلا بأس به والله أعلم.
2. رد ا المحتار لابن عابدين، كتاب الربا، مطلب: كل قرض جر نفعا فهو ربا 5/ 166:
   قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي: إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض فعلى قول الكرخي لا بأس به.
3. درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة: 58، التصرف على الرغبة منوط 57/1:
فالتبرع هو إعطاء الشيء غير الواجب، إعطاؤه إحسانا من المعطي. 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:262
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30

 




شریک کاروبارمیں ایک فریق کا کا م نہ کرنے کی شرط لگانا:

سوال:
   زید کے سو(100) روپے ہیں اور بکر کے بیس (20) روپے ہیں، دونوں نے کہا کہ اس رقم سے فلاں تجارت کریں گے، اور جو نفع یا نقصان ہوگا وہ آدھا آدھا ہوگا، اور زید نے یہ بھی کہا کہ میں اس تجارت میں کوئی کام نہیں کروں گا، تو کیا یہ معاملہ جائز ہے؟
جواب:
   کاروبار کا مذکورہ صورت شرعا درست نہیں ہے، البتہ اگر اس طرح ہو جائے کہ جس نے شرط لگائی ہے، کہ میں کام نہیں کروں گا، اس کا حصہ اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نہ ہو، نیز   نفع ونقصان بھی سرمایہ کے تناسب سے تقسیم ہو، تو پھر درست ہے۔

حوالہ جات:
   تحفة الفقهاء لأبي بكر علاء الدين السمرقندي، كتاب الشركة 3/ 7:
   ثم لا شك أنهما إذا شرطا الربح بينهما نصفين جاز بالإجماع إذا كان رأس مالهما على السواء، سواء شرط العمل عليهما، أو على أحدهما؛ لأن استحقاق الربح بالمال أو بالعمل، وقد وجد التساوي في المال، وإن شرطا الربح بينهما أثلاثا، فإن كان العمل عليهما جاز، سواء كان فضل الربح لمن كان رأس ماله أكثر، أو أقل؛ لأنه يجوز أن يكون له زيادة حذاقة، فيكون الربح بزيادة العمل، وإن شرطا العمل على أحدهما، فإن شرطا العمل على الذي شرط له فضل الربح، جاز؛ لأنه عامل في ماله، وربحه له، وعامل في مال شريكه ببعض ربحه، والربح يستحق بالعمل، وإن شرطا العمل على أقلهما ربحا خاصة، لا يجوز؛ لأنه شرط للآخر فضل ربح بغير عمل ولا ضمان، والربح لا يستحق إلا بمال أو عمل أو ضمان، ولا نعني بقولنا العمل وجوده، بل نعني به شرط العمل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:259
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30




@123نئے نوٹ زیادہ قیمت پرخریدنا کیسا ہے؟

سوال:
آج کل لوگ نئے نوٹ خریدتے ہیں زیادہ پیسوں سے، یعنی گیارہ سو(1100) پرانے نوٹوں کے بدلے ہزار(1000) روپے نئے نوٹ خریدتے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟ اور اس کی جواز کی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں نئے نوٹوں کو پرانے نوٹوں کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ خریدنا یا فروخت کرنا سود ہے، تاہم اگر مجبوری ہو توجواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ نئے نوٹ دینے والا شخص ان نوٹوں کے ساتھ ایک اضافی چیز ملاکر ایک ہی عقد میں فروخت کردے، مثلا ایک قلم ساتھ رکھ دے، چنانچہ ایک ہزار روپے ایک ہزار کے بدلے میں ہوجائیں گے اور اضافی رقم قلم کے عوض ہوجائے گی۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب البيوع، باب الربا 5/ 257:
(هو) لغة الزيادة. وشرعا (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح (إن اتحد جنسا وإن) وصلية (اختلفا جودة وصياغة) لما مر في الربا.
قال ابن عابدين تحت(قوله: وإن اختلفا جودة وصياغة) قيد إسقاط الصفقة بالأثمان؛ لأنه لو باع إناء نحاس بمثله وأحدهما أثقل من الآخر جاز مع أن النحاس وغيره مما يوزن من الأموال الربوية أيضا؛ لأن صفة الوزن في النقدين منصوص عليها، فلا تتغير بالصنعة ولا يخرج عن كونه موزونا بتعارف جعله عدديا لو تعورف ذلك بخلاف غيرهما، فإن الوزن فيه بالعرف فيخرج عن كونه موزونا بتعارف عدديته إذا صيغ وصنع، كذا في الفتح، حتى لو تعارفوا بيع هذه الأواني بالوزن لا بالعدد لا يجوز بيعها بجنسها إلا متساويا، كذا في الذخيرة نهر.
وفي الهداية  لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب البيوع، باب الربا 3/ 63:
ويجوز بيع الفلس بالفلسين بأعيانهما” عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد: لا يجوز لأن الثمنية تثبت باصطلاح الكل فلا تبطل باصطلاحهما، وإذا بقيت أثمانا لا تتعين، فصار كما إذا كانا بغير أعيانهما، وكبيع الدرهم بالدرهمين.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:255
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-27




@123مسجد کے چندہ کی رقم تجارت میں لگانا

سوال:
مسجد کے چندہ کی رقم سے تجارت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
چونکہ کاروبار کے ساتھ نفع ونقصان دونوں جڑے ہوتے ہیں اور نقصان کی صورت میں مسجد کے مالِ وقف کے ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اس لیے مسجد کے مال سے کاروبار وغیرہ کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی نے مسجد کو چندہ دے کر یہ کہدیا کہ اس کو مناسب کاروبار میں لگایا جائے کہ اس سے مسجد کی ضروریات پوری کی جاسکیں، تو ایسی صورت میں اس کو مناسب کاروبارمیں صرف کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الإيداع 8/ 337:
وفي الخلاصة: والوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم 2/ 463:
أهل المسجد لو باعوا غلة المسجد أو نقض المسجد بغير إذن القاضي الأصح أنه لا يجوز، كذا في السراجية.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف، تصرفات الناظر في الوقف 5/ 259:
ولا يجوز للقيم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البيع له وإن كان فيه منفعة ظاهرة للمسجد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:245
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




@123حلال وحرام کے مخلوط پیسوں سے مکان خریدنا

سوال:
خالد نے سود کے ملے جلے پیسوں سے مکان خرید لیا اور وہ بقضائے الہی فوت ہوگیا، تو ابھی زید جو اس کا بیٹا ہے یہ دریافت کرنا چاہتا ہے کہ اس مکان کا کیا کرے گا، تاکہ میرے والد کا ذمہ فارغ ہوسکے؟
جواب:
     مذکورہ صورت میں زید کے والد نے سود کی جتنی رقم سے گھر خریدا تھا، اتنی رقم کے برابر جائز اور حلال رقم زید غرباء میں بلانیت ثواب صدقہ کردے، اتنی رقم صدقہ کردینے کے بعد مکان کا استعمال کرنا جائز ہوجائے گا، اور زید کے والد کا ذمہ بری ہوجائے گا۔

حوالہ جات:
لمافي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب البيوع،  فصل في البيع 6/ 27:
وعلى هذا قالوا: لو مات رجل، وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذوا منه شيئا، وهو أولى لهم، ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي،كتاب الاستحسان والكراهية،الفصل الرابع عشر في الكسب 5/ 214:
والسبيل في المعاصي ردها، ولذلك ههنا يرد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه، وبالتصدق منه إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:226
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-25

 




@123 ناپاک تیل فروخت کرنے کا حکم

سوال:
ایک دوکاندار کے پاس زیتون کا تیل تھا، اس میں چوہا گِر کر تیل ناپاک ہوگیا، کیا دوکاندار کے لیے اس کو فروخت کرنا جائز ہے؟
جواب:
    ناپاک تیل کو جلانے کے لیے اس کو فروخت کرنا جائز ہے، اور خریدار کو اس کی ناپاکی سے خبردار کرنا بھی ضروری ہے، البتہ بوقتِ ضرورت اس کو پاک بھی کیا جاسکتا ہے، جس کا طریقہ یہ ہے ناپاک تیل میں تیل کے بقدر پانی ڈال کر اتنا ابالا جائے کہ تیل کی اصلی مقدار میں ڈالا ہوا پانی مکمل ختم ہوجائے یا اس تیل میں پانی ڈال کر ہلایا جائے جب تیل اوپر آجائے تو اس کو چمچ وغیرہ سے نکالا جائے اور دونوں صورتوں میں یہ عمل تین مرتبہ کیا جائے، تو وہ تیل پاک ہوجائے گا، اس کے بعد اس کو فروخت کرنا اور اس کو کھانے کے لیے استعمال کرنا درست ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، باب الأنجاس 1/334:
مطلب في تطهير الدهن والعسل (قوله: ويطهر لبن وعسل إلخ) قال في الدرر: لو تنجس العسل فتطهيره أن يصب فيه ماء بقدره فيغلى(یحرك) حتى يعود إلى مكانه، والدهن يصب عليه الماء، فيغلى فيعلو الدهن الماء فيرفع بشيء، هكذا ثلاث مرات.
وفي الدر المختار للحصكفي، أيضاكتاب البيوع، باب البيع الفاسد 5/73:
ونجيز بيع الدهن المتنجس والانتفاع به في غير الأكل بخلاف الودك.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الولاء، فصل في بيع السمن وقعت فيه الفارة 1/490:
قال: وإذا وقعت الفارة في السمن أو الزيت أو اللبن، ونحوها، وماتت فيه قال الشافعي لا يجوز أن ينتفع به في شيء، وإن باعه فالبيع باطل، وفي قول أبي حنيفة وأصحابه، وأبي عبد الله يجوز أن ينتفع به مثل أن يوقد به سراج أو يدبغ به جلد وإن باعه، وبين فالبيع جائز، وقال الفقهاء: الحرمة إذا كانت قوية لا يحل فيها العقد والمباشرة كذا مثل الخمر والميتة والدم لا يجوز بيعها، ولا أكلها، ولا شربها، والحرمة إذا كانت ضعيفة يحل فيها العقد ولا تحل فيها المباشرة مثل الدهن إذا وقعت فيه الفارة يحل بيعه، ولا يحل أكله، وشربه، وكذلك ما اشبه ذلك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:223
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-22

 




@123ایزی پیسہ کے ذریعے رقم حاصل کرنے پر اجرت لینا

سوال:
ہم ایزی پیسہ کا کاروبار کرتے ہیں ہمارے پاس گاہک آتے ہیں، تو ہم منی ٹرانسفر کرتے ہیں، اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ گاہک نے اگر ہزار(1000) روپے نکالنے ہو تو کمپنی کی طرف سے بیس (20) روپے سروس چارجز وصول کرتے ہیں، جس میں چار(4) روپے ہمیں ملتے ہیں اور اگر ہم اس ٹرانزیکشن کو اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرلے، تو اس سے وہ بیس (20) روپے پورے کے پورے ہمیں ملتے ہیں، لیکن اگر بعد میں ہمیں ضرورت ہوئی ان پیسوں کی تو اگر وہ ہم نکالیں گے تو بیس (20) روپے ہم نے دینے ہوتے ہیں، اب اس صورت میں یہ بیس (20) روپے جو ہم وصول کرتے ہیں ہمارے لیے اس کا لینا جائز ہے یا نہیں، اور مزید یہ کہ بیس (20) روپے ہم دوسرے طریقے سے بھی استعمال کرسکتے ہیں، مثلا ایزی لوڈ وغیرہ کے ذریعے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں دکاندار کا گاہک کے اکاؤنٹ میں موجود رقم کو اس کے اکاؤنٹ سے نکال کر اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے اور گاہک سے چارجز فیس خود وصول کرنے میں کمپنی کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہ ہو، تو دکاندار کے لیے اس طرح کرنا جائز ہے، ورنہ جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين،كتاب الإجارة، مطلب في أجرة الدلال 6/ 63:
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا، فذاك حرام عليهم.
الفتاوی الھندية للجنة العلماء، كتاب الحدود، الباب السابع في حد القذف والتعزير، فصل في التعزير 2/ 167:
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي، كذا في البحر الرائق.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الوكالة، فصل في بيان حكم التوكيل 6/ 27:
(وأما) الوكيل بالبيع فالتوكيل بالبيع لا يخلو إما أن يكون مطلقا، وإما أن يكون مقيدا، فإن كان مقيدا يراعى فيه القيد بالإجماع.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:204
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-15




@123اوپر والی منزل بیچنا کیسا ہے؟

سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کی دو منزلہ عمارت ہے نیچے منزل میں وہ خود رہائش پذیر ہے اور اوپر والی منزل کو کسی اور پر مالکانہ طور پر بیچنا چاہتا ہے تو شرعا اس طرح کرنا جائز ہے؟
جواب:
مذکورہ صورت میں مالکِ مکان کا اوپر والی منزل کسی کو بیچنا شرعا جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد 5/ 52:
والحاصل أن بيع العلو صحيح قبل سقوطه لا بعده؛ لأن بيعه بعد سقوطه بيع لحق التعلي، وهو ليس بمال.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب البيوع، الفصل الأول فيما يدخل في بيع الدار ونحوها 3/ 29:
وبيع العلو دون السفل جائز إذا كان مبنيا، فإن لم يكن مبنيا لا يجوز، ثم إذا كان مبنيا لا يدخل طريقه في الدار إلا بذكر الحقوق والمرافق ،كذا في السراج الوهاج.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الشفعة، فصل في شرائط وجوب الشفعة 5/ 10:
(وجه) الاستحسان أن العلو في معنى العقار؛ لأن حق البناء على السفل حق لازم لا يحتمل البطلان فأشبه العقار الذي لا يحتمل الهلاك فكان، ملحقا بالعقار، فيعطى حكمه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:203
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-14