بیع تام ہونےسے پہلے مشتری کے پاس مبیع ضائع ہونے کی صورت میں تاوان کا حکم:

سوال:
   ایک شخص دوکاندار سے کپڑے کا تھان اپنے گھر والوں کو دکھانے کے لیے لے گیا اور اگلے دن آکر کہا کہ وہ تھان رات کو چوری ہوگیا، تو تاوان کس پر آئے گا؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں اگر تھان لے جاتے وقت دوکاندار کے ساتھ اس کی قیمت طے ہوئی تھی، اور یہ بھی طے ہوا تھا کہ اگر تھان مجھے پسند آیا تو اتنے پیسوں میں میرا ہو جائے گا تو لے جانے والے پر تاوان آئے گا، اور اگر قیمت طے نہیں ہوئی تھی، اور اس کی کوتاہی کے بغیر چوری ہوئی ہو، تو اس پر تاوان نہیں آئے گا، کیونکہ یہ اس کے ہاتھ میں امانت ہے، اور امانت اگر بغیر تعدی کے ہلاک ہوجائے، تو اس کا ضمان نہیں ہوتا، لیکن اگر تھان اس کی کوتاہی کی وجہ سے چوری ہوا ہو، تو مشتری پر تاوان آئے گا۔

حوالہ جات:
1. البناية لبدر الدين العيني، كتاب البيوع، خيار البائع يمنع خروج المبيع عن ملكه 8/ 56:
   أن المقبوض على سوم المشتري إنما يكون مضمونا إذا كان الثمن مسمى، حتى إنه إذا قال: قد أذهب بهذا الثوب، فإن رضيته اشتريته، فذهب فهلك لا يضمن، ولو قال: إن رضيته اشتريته بعشرة، فذهب به فهلك ضمن قيمته، وعليه الفتوى.
2. النهر الفائق لابن نجيم الحنفي، كتاب البيوع، باب خيار الشرط 3/ 370:
   أخذ رجل ثوبًا وقال: أذهب به، فإن رضيته اشتريته، فذهب وضاع الثوب، فلا شيء عليه، ولو قال: إن رضيته أخذته بعشرة فضاع، فهو ضمان من قيمته، وفي النصاب: وعليه الفتوى، وهذا إيماء على أن المقبوض على سوم الشراء إنما يكون مضمونًا إذا كان الثمن مسمى.
3. مجلة الأحكام للجنة العلماء، فصل الثاني في بيان أحكام العارية وضمانها 1/ 155:
   العارية أمانة في يد المستعير، فإذا هلكت، أو ضاعت، أو نقصت قيمتها بلا تعد ولا تقصير، لا يلزم الضمان.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:344
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




@123جانور کو آدھے حصے پر پالنے کے لیے دینا

سوال:
ميرے والد صاحب چند دن پہلے وفات پاگئے، اور میرے والد صاحب نے ایک آدمی کے لیے دو (2) جانور پچاس (50) ہزار روپے پر پالنے کے لیے خرید لیے تھے، جن میں ایک جانور کی ہمیں ضرورت پڑگئی، تو جب ہم نے لینا چاہا، تو اس آدمی نے کہا کہ ایک جانور تمہارا ہے اور دوسرا میرا، جبکہ ایک جانور کی قیمت چالیس ہزار(40000) ہزار روپے بنتے ہیں، تو کیا اس طرح پالنے پرجانور دینا جائز ہے یا نہیں؟ نیز ہمارا دس ہزار(10000) ہزار روپے جو ہمارے والد صاحب نے پچاس ہزار(50000) کے خرید لیےتھے، اور اب ہمارے حصہ میں چالیس ہزار(40000) آئے، تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ جانور کو آدھے حصے پر پالنے کے لیے دینا شرعا جائز نہیں ہے، یہ اجارۂ فاسدہ ہے، چنانچہ یہ دونوں جانور بدستور آپ کے والد کی ملکیت ہیں، اور پالنے والے نے جتنا عرصہ اب تک ان جانوروں کو پالا ہے، عرفِ عام میں اس کی جتنی مزدوری بنتی ہو اتنی مزدوری اس کو ادا کی جائے گی۔

حوالہ جات:
لما فی مجمع الضمانات لأبي بكر محمد غانم البغدادي، الباب الخامس باب مسائل الإجارة 1/ 116:
وفي الخلاصة رجل دفع بقرة إلى رجل بالعلف مناصفة، وهي التي تسمى بالفارسية كاونيم سوو بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن، والسمن بينهما نصفان، فهذا فاسد، والحادث كله لصاحب البقرة، والإجارة فاسدة، ولو أكل اللبن مع هذا، والبعض قائم فما كان قائما يرد على مالك البقرة، ويرد مثل ما أكل من اللبن والمصل للذي فعل، وله على المالك قيمة علفها وأجر المثل في قيامه عليها، فلو أن المدفوع إليه دفع إلى آخر بالنصف، فهلك فالمدفوع إليه الأول ضامن، ولو بعث المدفوع إليه البقرة إلى السرح، فلا ضمان عليه.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الإجارة، الفصل الرابع في فساد الإجارة إلخ 4/ 445:
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن، والسمن بينهما أنصافا، فالإجارة فاسدة، وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى، ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها؛ لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا، فهو للمتخذ، ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:321
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13




@123بیعانہ کی رقم ضبط کرنا کیسا ہے؟

سوال:
بعض اوقات بیعانہ کی رقم مالک کو واپس نہیں کیا جاتا ہے، مثلا زید مکان خریدنے کے معاملے کو مستحکم کرنے کی غرض سے مالک مکان کو کچھ رقم ایڈوانس دیتا ہے، پھر زید مکان نہیں خریدتا، تو مالکِ مکان اس رقم کو واپس نہیں کرتا، تو یہ جائز ہے؟
جواب:
بیعانہ کی رقم عموما اصل قیمت کا حصہ ہوتی ہے، جو ایڈوانس وصول کی جاتی ہے، اور بقیہ قیمت معاملہ ختم ہونے پر وصول کی جاتی ہے، لیکن اگر معاملہ طے نہ ہو سکے بلکہ ختم ہوجائے، تو ایسی صورت میں بیعانہ ضبط کرنا جائز نہیں بلکہ مشتری کو واپس کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في قوله تعالى: (النساء 4/ 29).
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ الٓاية.
وفي بذل المجهود لخليل أحمد السهارنفوري، كتاب البيوع، باب في العربان 11/ 220، تحت الرقم 3502:
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان.
قال السهارنفوري تحت هذا الحديث:أن يشتري الرجل العبد أو الوليدة، أو يتكارى الدابة، ثم يقول للذي اشترى منه، أو تكارى منه: أعطيك دينارا، أو درهما، أو أكثر من ذلك، أو أقل على أني إن أخذت السلعة، أو ركبت ما تكاريت منك، فالذي أعطيتك هو من ثمن السلعة، أو من كراء الدابة، وإن تركت ابتياع السلعة أو كراء الدابة فما أعطيتك، لك بغير شيء. قلت: ويرد العربان إذا ترك العقد على كل حال بالاتفاق.
وفي الموسوعة الفقهية لهيئة العلماء، بيع العربون9/ 93:
والعربان بالضم لغة ثالثة … وفي الاصطلاح الفقهي: أن يشتري السلعة، ويدفع إلى البائع درهما أو أكثر، على أنه إن أخذ السلعة، احتسب به من الثمن، وإن لم يأخذها فهو للبائع … فجمهورهم، من الحنفية والمالكية والشافعية، وأبو الخطاب من الحنابلة، يرون أنه لا يصح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:307
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-11




@123 ادھار کوئی چیزمہنگی قیمت پر بیچنا

سوال:
زید موٹر کار خریدنا چاہتا ہے مگر اس کے پاس ایک لاکھ (100000) روپے ہیں، اور وہ خالد سے ایک لاکھ (100000) روپے قرض لے کرکے بکر سے موٹر کار خرید لیتا ہے، اور پھر اسی کار کو خالد کے ہاتھ اُدھار دو لاکھ بیس ہزار(220000) روپے کے عوض فروخت کرتا ہے، تو یہ معاملہ جائز ہے؟
جواب:
نقد خرید کر ادھار قیمت پر بیچنا جائز ہے، لہٰذا ذکر کردہ صورت میں دو لاکھ نقد پر گاڑی خرید کر دو لاکھ بیس ہزار (220000) ادھار پر بیچنا جائز ہے بشرطیکہ رقم دینے کا وقت متعین ہو۔ 

حوالہ جات:
لما في الفقه البيوع لمحمد تقي عثماني، الباب الأول في البيع الحال والمؤجل1/ 542:
فقد أجازو البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبيت العاقدان على أنه بيع مؤجل بأجل معلوم.
وفي بداية المبتدي لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب البيوع 3/ 58:
ومن اشترى غلاما بألف درهم نسيئة فباعه بربح مائة ولم يبين فعلم المشتري، فإن شاء رده، وإن شاء قبل؛ لأن للأجل شبها بالمبيع، ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل.
وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية 5/ 142:
لأن الأجل في نفسه ليس بمال، فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:306
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-11




مدرسہ کی وقف زمین مدرسہ کی ضروریات کے لیے فروخت کرنا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جو زمین مدرسہ کے لیے وقف کر دی گئی ہو، تو مدرسہ کا مہتمم اس زمین کا کچھ حصہ مدرسہ کی ضروریات کے لیے فروخت کر سکتا ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ جب کوئی زمین کو وقف کرتا ہے، تو وقف تام ہونے کے بعد موقوفہ زمین قیامت تک کے لیے واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالی کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، اس کے بعد اس کی خرید وفروخت، ہبہ وغیرہ درست نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ صورت میں وقف زمین کو مدرسہ کی ضروریات کے لیے فروخت کرنا درست نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. الهداية لعلي بن بكرالمرغيناني، كتاب الوقف 3/ 18:
   قال: (وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه، إلا أن يكون مشاعا عند أبي يوسف فيطلب الشريك القسمة فيصح مقاسمته).
2. المحيط لابرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الوقف 5/ 745:
   وإذا خرب أرض الوقف، وأراد القيم أن يبيع بعضاً منها ليرم الباقي بثمن ما باع ليس له ذلك؛ لأنا لو أطلقنا ذلك له أدى إلى أن يبطل الوقف كله، فإنه كلما خرب شيء منها باع بعض الباقي وعمر الباقي إلى أن لا يبقى الوقف.
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف 5/ 223:
   وفي الذخيرة سئل شمس الأئمة الحلواني عن أوقاف المسجد إذا تعطلت وتعذر استغلالها هل للمتولي أن يبيعها ويشتري مكانها أخرى، قال نعم، قيل إن لم تتعطل ولكن يؤخذ بثمنها ما هو خير منها، هل له أن يبيعها، قال لا، ومن المشايخ من لم يجوز بيعه، تعطل أو لم يتعطل، وكذا لم يجوز الاستبدال بالوقف وهكذا فتوى شمس الأئمة السرخسي.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:296
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-10




کمیٹی کی شرعی حیثیت (B-C)@123

سوال:
آج کل لوگوں کا آپس میں کمیٹی ”b-c” ڈالنے کا طریقہ رائج ہوچکا ہے، جس میں ہر ماہ ہر شریک قسط جمع کرتا ہے، اور قرعہ اندازی کے ذریعہ جس کا نام نکل آئے اس کو دیا جاتا ہے، اور کمیٹی جمع کرنے والا پہلی قسط بغیر قرعہ اندازی کے لیتا ہے، آیا یہ طریقہ شرعا درست ہے؟
جواب:
کمیٹی ڈالنے کا مروجہ طریقہ کہ چند آدمی رقم جمع کرتے ہیں اور پھر قرعہ اندازی سے وہ رقم کسی ایک کو دی جاتی ہے، شرعا جائز ہے، جبکہ سب کو ان کی رقم باری باری مل جاتی ہو، نیز اگر كميٹی کے تمام افراد کمیٹی جمع کرنے والے کو پہلی قسط بغیر قرعہ اندازی کے دینے پر راضی ہو، تو جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب البيوع، باب الربا 4/ 85:
الربا (هو فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال).
وفي مجمع الأنهر مجمع الأنهرلشيخي زاده، كتاب البيوع، باب الربا ص119:
هو فضل مال خال عن عوض شرط لأحد الْعاقدين في مُعاوضة مال بمال وعلته الْقدر والجنس.
وفي تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلح 2/ 149:
المسلمون على شروطهم إلا شرطا أحل حراما أو حرم حلالا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:292
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-09




@123فلیکس بنانے والے نے لکھنے میں غلطی کی،تو تاوان کس پر ہوگا؟

سوال:
آج کل فلیکس بنانے کا رواج ہے بسا اوقات فلیکس بنانے والے سے لکھنے میں ایسی غلطی ہوجاتی ہے کہ آرڈر دینے والے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے، اب یہ سارا فلیکس گرافکس والے کے پاس چھوڑنے میں ان کا تاوان ہے اور فلیکس بنانے والے کا مقصد بھی اس سے حاصل نہیں ہوتا، اور بقدر غلطی قیمت میں کٹوتی کی جائے، تب بھی فلیکس بنانے والے کا نقصان ہے، تو اس صورت ِ حال میں کس پر تاوان آئے گا؟
جواب:
واضح رہے کہ آرڈر پر جو چیز تیار کی جاتی ہے وہ بیع استصناع میں داخل ہے، اور عقد استصناع میں بنوائی ہوئی چیز اگر آرڈر دینے والے کے ذکر کردہ شرائط کے مطابق نہ ہو، تو اس کو خیار رؤیت حاصل ہے، یعنی دیکھنے کے بعد اس کو اختیار ہوگا، اگر چاہے لے ورنہ چھوڑ دے، لہٰذا مذکورہ صورت میں چونکہ فلیکس بنانے والے نے فلیکس کو ذکر کردہ شرائط کے مطابق تیار نہیں کیا ہے، اس لیے آرڈر دینے والے کو اختیار ہوگا کہ بنوائی ہوئی چیز چھوڑ دے اور معاملہ ختم کرے، لیکن اگر غلطی اتنی کم مقدار میں ہو کہ اس سے بنوانے والے کے مقصد حاصل ہونے میں زیادہ خلل نہیں آتا، تو مناسب یہ ہے کہ فلیکس وصول کرے اور مناسب قیمت پر مصالحت کرے۔

حوالہ جات:
لما في بدائع الصنائع للكاساني، كتاب البيوع، باب السلم 5/ 210:
(وأما) حكم الاستصناع فحكمه في حق المستصنع إذا أتى الصانع بالمستصنع على الصفة المشروطة ثبوت ملك غير لازم في حقه حتى يثبت له خيار الرؤية إذا رآه، إن شاء أخذه وإن شاء تركه، وفي حق الصانع ثبوت ملك لازم إذا رآه المستصنع ورضي به، ولا خيار له، وهذا جواب ظاهر الرواية … وروي عن أبي يوسف رحمه الله أنه لازم في حقهما حتى لا خيار لأحدهما لا للصانع ولا للمستصنع أيضا (وجه) رواية أبي يوسف أن في إثبات الخيار للمستصنع إضرارا بالصانع؛ لأنه قد أفسد متاعه وفرى جلده وأتى بالمستصنع على الصفة المشروطة فلو ثبت له الخيار لتضرر به الصانع فيلزم دفعا للضرر عنه.
وفي الهداية للمرغيناني، كتاب البيوع، باب السلم 3/ 77:
قال: وإن استصنع شيئا من ذلك بغير أجل جاز استحسانا؛ للإجماع الثابت بالتعامل… قال: وهو بالخيار إذا رآه، إن شاء أخذه، وإن شاء تركه” لأنه اشترى شيئا لم يره ولا خيار للصانع، كذا ذكره في المبسوط وهو الأصح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:287
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-08




@123عقد مضاربت میں نفع و نقصان دونوں میں شراکت کیسی ہے ؟

سوال:
اگر کسی کو مضاربت کے لیے پیسے دے جائے اور وہ اس  سے بکریاں خریدے اور نفع و نقصان میں برابر کے شریک رہے، تو آیا یہ شرعا درست ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ عقد مضاربت میں اگر نقصان ہو جائے تو اس نقصان کو پہلے نفع سے پورا کیا جاتا ہے، اگر نقصان نفع سے پورا ہو جائے، تو ٹھیک ہے ورنہ اس نقصان کی ذمہ داری رب الما ل یعنی رقم دینے والے پر آئے گی، مضارب یعنی کام کرنے والے سے مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے، لہذا مذکورہ صورت میں مضارب کو نفع ونقصان میں دونوں میں شریک کرنا دوست نہیں ہے، بلکہ وہ صرف نفع میں شریک ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب المضاربة 5/ 67:
قال – رحمه الله – (وما هلك من مال المضاربة فمن الربح)؛ لأنه تابع ورأس المال أصل لتصور وجوده بدون الربح لا العكس فوجب صرف الهالك إلى التبع لاستحالة بقائه بدون الأصل كما يصرف الهالك إلى العفو في الزكاة قال – رحمه الله – (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن المضارب)؛ لأنه أمين فلا يكون ضمينا للتنافي بينهما في شيء واحد.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب المضاربة 7/ 268:
قوله: (وما هلك من مال المضاربة فمن الربح فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن المضارب) لكونه أمينا سواء كان من عمله أو لا، قوله (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس ماله وما فضل فهو بينهما وإن نقص لم يضمن).
وفي النتف في الفتاوى لأبي الحسن علي بن الحسين، كتاب المضاربة 1/ 541:
والخامس أن يدفع رب المال ماله إلى المضارب ويشترط عليه الربح بنصفين والوضيعة بنصفين فهي فاسدة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:278
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-02




@123مضاربت میں ایک فریق کے لیے معین منافع مقررکرنا

سوال:
ایک شخص نے کسی کو رقم دی کہ اس پر بوریاں خریدو اور ہر بوری میں مجھے پندرہ (15) روپے دو، تو یہ معاملہ جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے مذکورہ معاملہ مضاربت کی ہے، اور عقد مضاربت میں منافع کو فیصدی کے تناسب سے مقرر کرنا چاہیے، جبکہ مذکورہ صورت میں رب المال یعنی رقم دہندہ کا منافع متعین رکھا گیا ہے، جو کہ ناجائز ہے، اس لیے مضاربت کی مذکورہ صورت درست نہیں۔

حوالہ جات:
لما في فتح القدير لابن همام، كتاب الشركة 6/ 183:
قوله (ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحد دراهم مسماة من الربح) قال ابن المنذر: لا خلاف في هذا لأحد من أهل العلم. ووجهه ما ذكره المصنف بقوله لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الشركة 5/ 191:
(قوله وتفسد إن شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح) ؛ لأنه شرط يوجب انقطاع حق الشركة فعساه لا يخرج إلا القدر المسمى لأحدهما ونظيره في المزارعة إذا اشترط لأحدهما قفزانا مسماة.
وفي بيين الحقائق للزيلعي، كتاب الشركة 3/ 319:
قال-رحمه الله-(وتفسد إن شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح) لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة في بعض الوجوه، فلعله لا يخرج إلا القدر المسمى لأحدهما من الربح، ونظيره المزارعة عند من يجيزها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:278
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-02




@123رنگریز کا کپڑے کو غلط رنگ دینا

سوال:
زید نے رنگریز کو رنگنے کے لیے کپڑا دیا، مگر رنگریز نے زید کے کہنے کے مطابق رنگ نہیں دیا، بلکہ دوسرا رنگ دیا، تو اس کا کیا حل ہوگا؟
جواب:
مذکورہ صورت میں زید (کپڑے کے مالک) کو اختیار ہے چاہے تو رنگریز سے اپنے سادہ (بغیر رنگ) کپڑے کی قیمت وصول کرے اور کپڑا رنگریز کے حوالہ کرے، اور اگر چاہے تو اپنا کپڑا اس رنگ کے ساتھ وصول کرے اور رنگریز کواس کام کے مطابق اجرت دے دے۔

حوالہ جات:
لما في بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الإجارة، فصل في حكم الإجارة 4/ 216:
وإذا كان الخلاف في الصفة نحو أن دفع إلى صباغ ثوبا ليصبغه بصبغ مسمى فصبغه بصبغ آخر لكنه من جنس ذلك اللون فلصاحب الثوب أن يضمنه قيمته أبيض، ويسلم إليه الثوب، وإن شاء أخذ الثوب، وأعطاه أجر مثله لا يجاوز به ما سمي.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب الإجارات، فصل ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافا 6/ 42:
(و) ضمن (بصبغه أصفر وقد أمر بأحمر قيمة ثوب أبيض، وإن شاء) المالك (أخذه وأعطاه ما زاد الصبغ فيه ولا أجر له، ولو صبغ رديئا إن لم يكن الصبغ فاحشا لا يضمن) الصباغ (وإن) كان (فاحشا) عند أهل فنه (يضمن) قيمة ثوب أبيض خلاصة.
و في الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب الإجارات، باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافا فيها 3/ 236:
قال: ومن دفع إلى خياط ثوبا ليخيطه قميصا بدرهم فخاطه قباء، فإن شاء ضمنه قيمة الثوب، وإن شاء أخذ القباء وأعطاه أجر مثله لا يجاوز به درهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:273
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-02