@123خریدی ہوئی زمین مطلوبہ مقدار سے زیادہ نکلنےکاحکم

سوال:
ايک شخص نے ايک پلاٹ مثلا كنال يا دس مرلے كا خريدا اور قیمت مالک كو ادا كی اس کے بعد زمین کی پیمائش کی گئی تو پلاٹ کی مقدار زیادہ نکلی تو اب یہ زائد مقدار بائع کی ہوگی یا مشتری کی؟
جواب:
مذکورہ صورت میں پلاٹ کی قیمت فی مرلہ کے حساب سے متعین کی گئی ہو، اور بعد میں پیمائش کرکے پلاٹ کی مقدار زیادہ نکلے تو جتنے مرلے زمین زیادہ نکلی ہے اس کی قیمت مشتری بائع  کو دے کر زیادہ زمین بھی لے لے، اور اگر زیادہ زمین نہیں خریدنا چاہتا ہے تو پورا پلاٹ بائع کو واپس کرکے اپنی قیمت وصول کرلے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب البيوع، الفصل الثامن في جهالة المبيع أو الثمن 3/ 124:
ولو قال بعت منك هذا الثوب أو هذه الأرض على أنها عشرة أذرع كل ذراع بدرهم فوجدها عشرة لزمته بعشرة دراهم ولا خيار له وإن وجدها خمسة عشر ذراعا فهو بالخيار إن شاء أخذ الجميع كل ذراع بدرهم وإن شاء تركها
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب البيوع 4/ 543:
(وإن باع المذروع مثله) على أنه مائة ذراع مثلا (أخذ) المشتري (الأقل بكل الثمن أو ترك) (و) أخذ (الأكثر بلا خيار للبائع) إلا إذا قبض المبيع، أو شاهده، فلا خيار له ؛لانتفاء الغرر؛ لأن الذرع وصف لتعيبه بالتبعيض ضد القدر والوصف لا يقابله شيء من الثمن، إلا إذا كان مقصودا بالتناول. قال ابن عابدين تحت قوله: (إلا إذا كان مقصودا بالتناول) أي: تناول المبيع له كأنه جعل كل ذراع مبيعا … (قوله: لصيرورته) أي الذرع أصلا أي مقصودا كالقدر في المثليات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:459
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-27




@123قرض دی ہوئی چیز کی قیمت بڑھنے سے واپسی میں زیادتی کا مطالبہ کرنا

سوال:
زید نے ایک من گندم عمرو سے قرض لی تھی، اس وقت من گندم ایک ہزارروپے کی ہوتی تھی، اب دو سال بعد عمرو کہتا ہے کہ اس وقت گندم پندرہ سو روپے کی من ہے، تو آدھا من گندم تمہیں زیادہ دینا ہوگا، کیا یہ جائز ہے؟
جواب:
قرض سے متعلق شرعی اصول یہی ہے کہ جتنا قرضہ دیا گیا ہے بوقتِ واپسی اتنا ہی قرضہ واپس کیا جائے گا اگرچہ وقت گزرنے کی وجہ سے اس چیز کی قیمت میں اضافہ ہوا ہو، لہذا مذکورہ صورت میں جتنی گندم قرضہ میں دی گئی ہے اتنی ہی گندم واپس کی جائے گی، ورنہ زیادتی سود بن جائے گی، البتہ اگر قرضدار اپنی مرضی سے کچھ زیادہ دے دے، تو جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في السنن الكبرى للبيهقي، جماع أبواب الربا، باب كل قرض جر منفعة فهو ربا، الرقم: 10933:
عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ” كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا “.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب السابع والعشرون في القرض والدين 5/ 366:
والقرض: هو أن يقرض الدراهم والدنانير أو شيئا مثليا يأخذ مثله في ثاني الحال.
وفي الحاوي للفتاوي لجلال الدين السيوطي، تعريف الفئة بأجوبة الأسئلة المائة 2/ 392:
والقرض يوفي بوزن مثلما قبضوا إن زاد أو إن تنقص قيمة العين.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:417
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123کتوں کی خریدوفروخت کرناکیساہے؟

سوال:
ہمارا ایک رشتہ دار ہے جو کتوں کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہے، تو یہ جائز ہے؟
جواب:
جس كتے كو پالنا جائز ہے اس کی خرید وفرخت بھی جائز ہے، اور جس کو پالنا جائز نہیں ہے اس کی خرید وفروخت بھی جائز نہیں ہے، اور کتے کو پالنے کی اجازت اس صورت میں ہے جبکہ وہ شکار یا گھر وغیرہ کی حفاظت کے لیے ہو، لہذا شکاری یا حفاظتی کتوں کی خرید وفروخت جائز ہے، لیکن جو کتے صرف شوق پورا کرنے کے ہی پالے جاتے ہیں، ان کا کاروبار درست نہیں۔

حوالہ جات:
لما في صحيح مسلم، باب الأمر بقتل الكلاب الخ،  الرقم: 1573:
عن ابن المغفل، قال: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الكلاب، ثم قال: «ما بالهم وبال الكلاب؟»، ثم رخص في كلب الصيد، وكلب الغنم.
وفي مجمع الأنهر لداماد أفندي، كتاب البيوع، مسائل شتى في البيع 2/ 107:
وذكر في المبسوط أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم، وقال هذا هو الصحيح من المذهب، وهكذا يقول في الأسد إذا كان يقبل التعليم ويصاد به: إنه يجوز بيعه، وإن كان لا يقبل التعليم والاصطياد به، لا يجوز.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:416
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123کسی سےزبردستی کوئی چیز خریدنا

سوال:
اگر کوئی شخص کسی سے جبرا کوئی چیز لے لے، اور اس کی قیمت اس کو حوالہ کردے، تو شرعا یہ بیع منعقد ہوئی یا نہیں؟ اور بائع کو معاملہ ختم کرنے کا اختیار ہے؟
جواب:
خريد وفروخت كے معاملہ میں جانبین کی رضامندی ضروری ہے، اورمذکورہ صورت میں چونکہ یہ چیز جبرا وصول کی گئی ہے، اس لیے صرف اس چیز کی قیمت ادا کرنا کافی نہیں ،جب تک قیمت وصول کرنے والا دل سے رضامندی کا اظہار نہ کرے ۔

حوالہ جات:
لما في تبيين الحقائق  عثمان بن علي الزيلعي، كتاب البيوع 4/ 2:
قال رحمه الله: (هو مبادلة المال بالمال بالتراضي)
وفي الهداية  لعلي بن أبي بكر  المرغيناني، كتاب الإكراه 3/ 272:
وإذا أكره الرجل على بيع ماله، أو على شراء سلعة، أو على أن يقر لرجل بألف، أو يؤاجر داره، فأكره على ذلك بالقتل، أو بالضرب الشديد، أو بالحبس، فباع، أو اشترى، فهو بالخيار، إن شاء أمضى البيع، وإن شاء فسخه، ورجع بالمبيع” لأن من شرط صحة هذه العقود التراضي.
وفي اللباب في شرح الكتاب لعبد الغني الميداني، كتاب الإكراه 4/ 108:
(وإذا أكره الرجل على بيع ماله، أو) أكره (على شراء سلعة، أو على أن يقر لرجل بألف) من الدراهم مثلا، (أو يؤاجر داره، وأكره على ذلك بالقتل، أو بالضرب الشديد، أو بالحبس المديد، فباع أو اشترى) خشية من ذلك، (فهو بالخيار: إن شاء أمضى البيع، وإن شاء فسخه) ورجع بالمبيع؛ لأن من شرط صحة هذه العقود التراضي، والإكراه يعدم الرضا، فيفسدها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:415
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123مریض کےلیےخون خریدنا

سوال:
کیا انسانی خون کی خرید وفروخت جائزہے؟ اور اگر کسی مریض کو بغیر پیسوں کے خون نہ مل رہا ہوں، تو کیا اس کے لیے خون خریدنا جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ بوقتِ ضرورت جان بچانے کے لیے انسانی خون دینا جائز ہے، مگر خون کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے، اگر کسی مریض کو اشد ضرورت ہو اور اس کو پیسوں کے بغیر خون نہ مل رہا ہو، تو اس کے لیے خریدنے کی گنجائش ہے، لیکن بیچنے والا بہر حال گناہ گار ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في ملتقي الأبحر لإبراهيم الحلبي، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد 1/ 77:
بيع ما ليس بمال، والبيع به باطل، كالدم، والميتة، والحر.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد 5/ 433:
ولم ينعقد بيع ما ليس بمال متقوم، كبيع الحر، والمدبر المطلق، وأم الولد، والمكاتب … والميتة، والدم.
وفي فتح باب العناية لملا علي القاري، كتاب البيوع، فصل: في البيع الصحيح والباطل، والفاسد، والمكروه 4/ 113:
(بطل بيع ما ليس بمال) سواء كان ثمنا أو مثمنا ؛ لانعدام ركن البيع، وهو مبادلة المال بالمال (كالدم والميتة).
وفي العناية شرح الهداية للبابرتي، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد 6/ 425:
ونجس العين لا يجوز بيعه إهانة له، ويجوز الانتفاع به للخرز للضرورة ؛ لأن غيره لا يعمل عمله. فإن قيل: إذا كان كذلك وجب أن يجوز بيعه. أجاب بأنه يوجد مباح الأصل، فلا ضرورة إلى بيعه، وعلى هذا قيل: إذا كان لا يوجد إلا بالبيع، جاز بيعه، لكن الثمن لا يطيب للبائع، وقال أبو الليث: إن كانت الأساكفة لا يجدون شعر الخنزير إلا بالشراء، ينبغي أن يجوز لهم الشراء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:413
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




@123جانوروں کے گلے میں باندھنے کے لیے گھنٹی خریدنا

سوال:
بعض لوگ جانوروں کے گلے میں گھنٹی ڈالتے ہیں، اس گھنٹی کی بیع جائز ہے؟
جواب:
گھنٹی چونکہ جانوروں کے گلے میں جائز امور کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، اس لیے اس کی خرید وفروخت جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في سنن أبي داؤد، كتاب أول الجهاد، باب في تعليق الأجراس الرقم: 2556:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب أو جرس”.
قال مفتی تقی العثمانی، في تكملة فتح الملهم، كتاب اللباس والزينة، باب كراهة الكلب و الجرس في السفر 4/ 179:
قال: شيخ مشايخنا السهارنفوري في بذل المجهود … وهذا (أي: كراهة الكلب والجرس) إذا خليا عن المنفعة، وأما ما احتيج إليه منهما فمرخص فيه. والذي يظهرلهذا العبد الضعيف عفا الله عنها أن الكراهة المذكورة في الحديث إنما تنصرف إلى كلب وجرس قصد منهما اللهو والغناء، كما كان يعتاده بعض أهل القوافل، ويدل عليه قوله عليه الصلوة والسلام في الرواية الأتية: ( الجرس مزاميرالشيطان) أما الكلب إذا كان للحراسة والتحرز من اللصوص فهو مرخص فيه ككلب زرع وماشية، وكذلك الجرس إذا كان لمقصود مباح، فلا بأس به.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:425
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26




کسی کو کاروبار کے لیے رقم دیکر اپنے لیے سارے منافع کی شرط لگانا:

سوال:
   زید کے پاس رقم ہے اور خالد اس کو کہتا ہے کہ مجھے رقم دے دو، میں اس سے کاروبار کروں گا اور سارا منافع آپ کو دوں گا، کیا یہ معاملہ جائز ہے؟ اور اس کو فقہی اصطلاح میں کون سا معاملہ کہا جاتا ہے؟
جواب:
   سوال میں ذکر کردہ معاملہ شرعاً جائز ہے اور اس قسم کے معاملہ میں نفع ونقصان سارا کا سارا صاحبِ مال کا ہوتا ہے، فقہی اصطلاح میں اس کو عقدِ بضاعت کہتے ہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب المضاربة 5/ 647 :
   (ودفع المال إلى آخر مع شرط الربح) كله (للمالك بضاعة) فيكون وكيلا متبرعا (ومع شرطه للعامل قرض) لقلة ضرره.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب المضاربة 7/ 449:
   ومستقرض عند اشتراط كل الربح له، ومستبضع عند اشتراطه لرب المال فلا ربح له ولا أجر، ولا ضمان عليه بالهلاك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:388
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لینا:

سوال:
   بارگین والے بائع اور مشتری دونوں سے پیسے لیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ اگر بارگین والے بائع اور مشتری دونوں کو معاملہ کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، تو ان کے لیے جانبین سے کمیشن لینا جائز ہے، تاہم معاملہ کرنے سے پہلے بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لینے کے بارے میں وضاحت ہونی چاہیے تاکہ بعد میں جھگڑے تک نوبت نہ پہنچے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب البيوع4/ 560 :
   وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.
   قال ابن عابدين تحت قوله:…(يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع، أو المشتري، أو عليهما، بحسب العرف جامع الفصولين.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:380
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




پیسوں کے بدلے ادھار سونا خریدنا:

سوال:
   اگر كوئی شخص سونا ادھار خریدتا ہے اور قیمت ایک ماہ بعد ادا کرتا ہے، تو کیا اس طرح سونا خریدنا جائز ہے؟ اور کیا ادھار کی وجہ سے سود کے زمرہ میں تو نہیں آئے گا؟
جواب:
   موجودہ دور میں کرنسی نوٹ نے عرفی اعتبار سے باقاعدہ ثمنیت کی شکل اختیار كرچکی ہے، جس کو ثمن عرفی کہا جاتا ہے، اور چونکہ اس کی جنس سونا چاندی کی جنس سے مختلف ہے، اس لیے کرنسی کے بدلے سونا وچاندی کی ادھار خرید وفروخت جائز ہے، البتہ ادھار کی صورت میں احد البدلین یعنی کسی ایک عوض پر مجلس بیع میں قبضہ کرنا ضروری ہے، تاکہ دونوں طرف سے معاملہ ادھار کی شکل اختیار نہ کرے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوي الهندية للجنة العلماء، الفصل الثالث في بيع الفلوس3/ 224:
   إذا اشترى فلوسا بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم، ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز، وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز، كذا في المحيط.
2. المحيط البرهاني لابن مازة، كتاب الصرف، الفصل الثاني: في بيع الدين بالدين وبالعين7/ 173 :
   إذا اشترى فلوساً بدراهم، وليس عند هذا فلوس ولا عند هذا دراهم، ثم إن أحدهما دفع، وتفرق جاز؛ لأن كل واحد منهما ثمن فيصير كل واحد منهما مشترياً بثمن ليس عنده وذلك جائز، وإنما اكتفى بنقد أحدهما لما ذكرنا قبل هذا: أن في بيع الفلوس بالدراهم يكتفي بقبض أحد البدلين قبل الافتراق.
3. المبسوط للسرخسي، كتاب الصرف، باب البيع بالفلوس 14/ 24:
   وإذا اشترى الرجل فلوسا بدراهم ونقد الثمن، ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز؛ لأن الفلوس الرابحة ثمن كالنقود، وقد بينا أن حكم العقد في الثمن وجوبها ووجودها معا، ولا يشترط قيامها في ملك بائعها لصحة العقد كما يشترط ذلك في الدراهم والدنانير.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:378
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18




جانوروں کی خرید وفروخت کے لیے کسی کو پیسے دینا:

سوال:
   میں ایک سرکاری ملازم ہوں، میں کاروبار کرنا چاہتا ہوں، تو میرے ایک ساتھی نے مجھ سے کہا کہ تم مجھے پیسے دے دو، میں اس سے گائے خرید لوں گا اور اس کو کچھ دن پالنے کے بعد بیچ دوں گا، جو منافع ملے گا، ہم دونوں اس میں برابر کے شریک ہوں گے، اور باقی پیسے میرے پاس ہوں گے، جس سے میں اور جانور خریدوں گا، تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب:
   مذکورہ معاملہ شرعا درست ہے، فقہی اصطلاح میں اس کو “عقدِ مضاربت” کہتے ہیں۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسيرها وركنها وشرائطها وحكمها 4/ 285:
   أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين، والعمل من الجانب الآخر …(وأما ركنها) فالإيجاب والقبول وذلك بألفاظ تدل عليها من لفظ المضاربة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:377
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18