@123بتوں کی خرید و فروخت کا حکم

سوال:
لوہے کا بنا ہوا بت خریدنا یا فروخت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
بت چاہے لوہے کا بنا ہوا ہو یا کسی اور دھات کا اس کی خرید وفروخت اور اس سے حاصل شدہ منافع ناجائز اور حرام ہے۔

حوالہ جات:
لمافي سنن أبي داود،  كتاب البيوع،  باب في ثمن الخمر والميتة، الرقم: 3486:
عن جابر بن عبد الله، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة: إن الله عز وجل حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام.
وفي عمدة القاري لبدر الدين العينى، باب بيع الميتة والأصنام 12/ 55:
لا يجوز بيع الميتة والأصنام لأنه لا يحل الانتفاع بها ووضع الثمن فيها إضاعة مال، وقد نهى الشارع عن إضاعته.
وفي مرقاة المفاتيح لملاعلي القاري، كتاب البيوع، باب الكسب وطلب الحلال 5/ 1895:
(حرم بيع الخمر) … وكذا معنى قوله: والميتة والخنزير والأصنام) : أي وإن كانت من ذهب أو فضة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:578
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-11

 




@123مسلمانوں کے لیے شراب اور خنزیر کی خرید و فروخت کرنا

سوال:
غیر مسلم ممالک میں مسلمان کسی غیر مسلم سے شراب یا خنزیر کی خرید و فروخت کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
مسلمان کے لیے اسلامی اور غیر اسلامی دونوں ممالک میں شراب یا خنزیر کی خرید وفروخت جائز نہیں۔

حوالہ جات:
لما في سنن أبي داود، كتاب الأشربة، باب العنب يعصر للخمر، الرقم: 3674:
“عن أبي علقمة، مولاهم وعبد الرحمن بن عبد الله الغافقي، أنهما سمعا ابن عمر، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعن ‌الله ‌الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب البيوع، خيار الرؤية 5/ 305:
(وأما) البيع الباطل فهو كل بيع فاته شرط من شرائط الانعقاد من الأهلية والمحلية وغيرهما… وذلك نحو بيع الميتة والدم والعذرة والبول وبيع الملاقيح والمضامين وكل ما ليس بمال… وكذا بيع الخنزير من المسلم؛ لأنه ليس بمال في حق المسلم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:596
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




@123قربانی کے جانور کا گوشت فروخت کرنا

سوال:
قربانی کے جانور کا گوشت فروخت کرنا جائز ہے؟
جواب:
واضح رہےکہ قربانی کا گوشت فروخت کرنا جائز نہیں ہے، اگر کسی نے فروخت کر دیا تو اس کی قیمت غرباء پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الأضحية، باب ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها 5/ 301:
ولا يحل بيع شحمها وأطرافها ورأسها وصوفها ووبرها وشعرها ولبنها.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الأضحية، أجرة الجزار هل تأخذ من الأضحية 8/ 203:
وقوله: عليه الصلاة والسلام «من باع جلد أضحيته فلا أضحية له» يفيد كراهية البيع.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الأضحية، الباب السادس في بيان ما يستحب في الأضحية والانتفاع بها 5/ 301:
ولو باعها بالدراهم ليتصدق بها جاز؛ لأنه قربة كالتصدق، كذا في التبيين. وهكذا في الهداية والكافي.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:595
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




@123انسانی بالوں کی خرید و فروخت کا حکم

سوال:
کیا انسانی بالوں کی خرید وفروخت اور اس سے نفع اٹھانا جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابل احترام ہے اور ان کی خرید وفروخت میں انسان کی تکریم نہیں رہتی، بلکہ تذلیل ہوتی ہے، اس لیے انسان کے بالوں کی خرید وفروخت یا ان سے کسی بھی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب البيوع، باب بيع الفاسد 6/ 132:
(وشعر الانسان والانتفاع به) أي: لم يجز بيعه والانتفاع به؛ لأن الآدمي مكرم غير مبتذل، فلا يجوز أن يكون شئ من أجزائه مهانا مبتذلا.
وفي تبيين الحقائق لعثمان بن علي الزيلعي، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد 4/ 51:
قال: (وشعر الإنسان) يعني: لا يجوز بيع شعر الإنسان والانتفاع به؛ لأن الآدمي مكرم، فلا يجوز أن يكون جزؤه مهانا.
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد 1/ 414:
(وشعر الإنسان) لكرامة الآدمي، ولو كافرا ذكره المصنف وغيره في بحث شعر الخنزير.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:594
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10




بیعانہ کی رقم ضبط کرنا:

سوال:
   آج کل زمین یا گاڑی خریدتے وقت بیعانہ کے طور پر کچھ رقم جس کو پیشگی کہا جاتا ہے، لیا جاتا ہے، اور معاملہ منعقد نہ ہونے کی صورت میں مالک یہ رقم ضبط کرتا ہے، اور گاہک کو واپس نہیں کرتا تو شرعا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   بیعانہ کی رقم عموما اصل قیمت کا حصہ ہوتی ہے، جو ایڈوانس وصول کی جاتی ہے، اور بقیہ قیمت معاملہ پختہ ہونے پر وصول کی جاتی ہے، اگر معاملہ طے نہ ہوسکے بلکہ ختم ہوجائے، تو ایسی صورت میں بیعانہ کی رقم مشتری کو واپس کرنا ضروری ہے، بائع کے لیے اس کو روکنا یا ضبط کرنا جائز نہیں ہے، اگرچہ فریق ثانی کی طرف سے اس کی واپسی کا مطالبہ نہ ہو۔

حوالہ جات:
1. قوله تعالى:
   يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجارَةً عَنْ تَراضٍ مِنْكُمْ، وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُمْ رَحِيماً.النساء 3/ 29:
2. مرقاة المفاتيح لملا علي القارئ،كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع، الرقم: 2864:
(قال: نهى رسول الله  صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان) …هو أن يشتري السلعة، ويدفع إلى صاحبها شيئا على أنه إن أمضى البيع حسب، وإن لم يمض البيع كان لصاحب السلعة، ولم يرتجعه المشتري، وهو بيع باطل عند الفقهاء؛ لما فيه من الشروط والغرر.
3. حجة الله البالغة لشاه ولى الله، كتاب البيوع، باب البيوع المنهى عنه  2/ 167:
   ونهى عن بيع العربان أن يقدم إليه شيء من الثمن، فإن اشترى حسب من الثمن، وإلا فهو له مجانا، وفيه معنى الميسر.
4. فقه البیوع لمحمد تقي العثماني حفظه الله تعالى، كتاب البيوع 1/ 113:
العربون والعربان: بیع فسرہ ابن منظور بقوله: ھو أن یشتری السلعة، ویدفع إلی صاحبھا شیئا یلی أنه إن أمضی البیع حسب من الثمن، وإن یمض البیع، کان لصاحب السلعة، ولم یرتجعه المشتری، واختلف الفقہاء في جواز العربون: فقال الحنفیة والمالکیة والشافعیة أبو الخطاب من الحنابلة: أنه غیر جائز.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:521
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03




@123موبائل کمپنیوں کا قرض بیلنس دیکر اس پر اضافی رقم وصول کرنا

سوال:
بیلنس ختم ہونے پر کمپنی والے قرض کچھ بیلنس دیتے ہیں، اور جب موبائل میں بیلنس ڈالا جاتا ہے، تو کمپنی والے قرض کا بیلنس بمع ٹیکس کاٹتے ہیں، کیا یہ ٹیکس سود کے زمرے میں اتی ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ موبائل کمپنیوں کا کسی کو ایڈوانس قرض دیکر واپسی پر اضافی رقم لینا یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا، کیونکہ کمپنیوں کے طرف سے جو ایڈوانس رقم دی جاتی ہے، وہ حقیقت میں گفتگو کا حق ہوتا ہے، اور وہ پیسوں کی شکل میں نہیں دیا جاتا اور بعد میں صارف اس کے بدلے میں پیسے ادا کرتا ہے، اس لیے جانبین میں اتحاد جنس نہ ہونے کی وجہ اس پر سود کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ یہ سہولت حاصل نہ کی جائے۔

حوالہ جات:
لما في الھدایة لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب البيوع، باب الإجارات  3/ 230:
الإجارة عقد على المنافع بعوض، ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة وما جاز أن يكون ثمنا في البيع، جاز أن يكون أجرة في الإجارة.
وفي العناية لمحمد بن محمد البابرتي،كتاب البيوع، كتاب الإجارة  9/ 58:
ولا تصح الإجارة حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة؛ لما روينا.
وفي الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي الحدادي، كتاب البيوع، باب الربا  1/ 213:
(وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه، حل التفاضل والنساء) لعدم العلة المحرمة، والمراد بالمعنى المضموم إليه هو الكيل في الحنطة، والوزن في الفضة يعني القدر إما الكيل أو الوزن، وهذا كالهروي بالمروي، والجوز بالبيض؛ لعدم العلتين، والنساء بالمد التأخير.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:519
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03




@123بائع کے پاس مبیع میں عیب پیدا ہونے سےبیع کو فسخ کرنا؟

سوال:
امین نے محمد شاہ سے گابھن بھینس خریدی، امین نے محمد شاہ کو بھینس کی پیسے دے کر کہا کہ میں دو دن میں بھینس لے جاؤں گا، مگر بھینس نے محمد شاہ کے ہاں بچہ جنا اور بچہ مرگیا، اب امین کہتا ہے کہ مجھے اپنے پیسے واپس کردو، میں یہ بھینس نہیں خریدنا چاہتا، اور محمد شاہ کہتا ہے کہ تم نے بھینس خریدی ہے، اب یہ تمہاری ہے، لہذا اپنی بھینس لے جاؤ، تو کیا امین کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ بیع تام ہونے کے بعد مبیع میں عیب پیدا ہوجائے اور مشتری نے مبیع پر قبضہ نہ کیا ہو، تو ایسی صورت میں مشتری کو اختیار ہوگا، چاہے مبیع کی پوری قیمت ادا کرکے مبیع کولے لے اور چاہے تو بیع کو ختم کرکے اپنی قیمت واپس لے لے، لہذا مذکورہ صورت میں امین کا بیع ختم کرکے محمد شاہ سے اپنی قیمت واپس کرنے کا مطالبہ درست ہے۔

حوالہ جات:
لما في المبسوط السرخسي،كتاب البيوع، باب زيادة في المبيع ونقصانه 13/ 187:
وإذا اشترى شاة … ولو مات الولد قبل القبض، أخذ الأم بجميع الثمن، ولا خيار له فيها فكذلك إذا فات جزء من الولد، وهذا لأن الزيادة لما فاتت من غير صنع أحد صارت كأن لم تكن، وقبل حدوثها كان العقد لازما له في الأصل، بجميع الثمن، فكذلك بعد فواتها.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كاتب البيوع، 6/ 84:
ولذا قال في المحيط: اشترى شاة حاملا، فولدت عند البائع، ولم تنقصها الولادة لا خيار للمشتري.
وفي تبيين الحقائق لعثمان بن علي الزيلعي، كتاب البيوع، باب التولية 4/ 78:
ولهذا لو حدث بالمبيع عيب قبل القبض، لا يسقط شيء من الثمن غير أن المشتري يتخير بين أخذه بجميع الثمن، أو تركه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:517
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03




@123شہد کی مکھیوں کی خرید وفروخت کا حکم

سوال:
آج كل شہد کی مکھیوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے، تو شرعا یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
شہد کی مکھیوں کی خرید وفروخت عام حالت میں تو درست نہیں، البتہ ان کو کسی طریقے سے محفوظ کرلیا جائے تو ان کی خرید وفروخت کی گنجائش ہے، چنانچہ آج کل شہد کی جن مکھیوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے، وہ بھی پیٹیوں میں محفوظ کی گئی ہوتی ہیں، اس لیے ان کی خرید وفروخت درست ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب البيوع، باب في بيع دود القز  5/ 68:
(ويباع دود القز) أي: الإبريسم (وبيضه) أي بزره، وهو بزر الفيلق الذي فيه الدود (والنحل) المحرز، وهو دود العسل، وهذا عند محمد، وبه قالت الثلاثة، وبه يفتى عيني وابن ملك، وخلاصة وغيرها. وجوز أبو الليث بيع العلق، وبه يفتى للحاجة مجتبى.
وفي تبيين الحقائق لعثمان بن علي الزيلعي، كتاب البيوع، باب بيع الفاسد  4 /32:
لم يجز بيع الميتة والدم  …  (والنحل) وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد والشافعي: يجوز بيعه إذا كان محرزا؛ لأنه حيوان منتفع به، وإن كان لا يؤكل كالحمار، ولهما أنه من الهوام فلا يصح بيعه، كالزنبور، وهوام الأرض، والانتفاع بما يخرج منه لا بعينه ،فلا يكون منتفعا به والشيء إنما يصير مالا لكونه منتفعا به، حتى لو باعه مع الكوارة صح تبعا لها،
وفي ملتقى الأبحر لإبراهيم الحلبي، كتاب البيوع، باب بيع الفاسد  1/ 82:
ولا يجوز بيع المراعي، ولا إجارتها، ولا النحل بلاكوارات خلافا لمحمد، ولا دود القز وبيضه، وعند أبي يوسف يجوز في الدود إذا كان مع القز وفي البيض عنه قولان، وعند محمد يجوز بيعهما وهو المختار.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:516
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-02




@123درختوں کی بیع میں جڑ داخل ہے یا نہیں؟

سوال:
کہ ایک شخص نے درخت خریدا، اب مشتری اس کو اکھاڑنا چاہتا ہے، اور بائع زمین سے اوپر کاٹنے کو کہتے ہے، کس کی بات مانی جائے گی؟
جواب:
مذکورہ صورت میں اگر بائع نے زمین کے اوپر درخت کاٹنے کی شرط لگائی ہو، تو پھر بائع کی بات معتبر ہوگی، ورنہ مشتری کو جڑ سے اکھاڑنے کا حق حاصل ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب البيوع، باب بيع الثمر والشجر 5/ 554:
اشترى شجرة للقلع يؤمر بقلعها بعروقها، وليس له حفر الأرض إلى انتهاء العروق بل يقلعها على العادة إلا إن شرط البائع القطع على وجه الأرض، أو يكون في القلع من الأصل مضرة للبائع، ككونها بقرب حائط، أو بئر فيقطعها على وجه الأرض.
وفي البحر الرائق لابن نجيم ، كتاب البيوع 5/ 318:
وفيها إذا اشترى شجرة للقلع، فإنه يؤمر بقلعها بعروقها، وليس له حفر الأرض إلى انتهاء العروق، بل يقلعها على العادة إلا إن شرط للبائع القطع على وجه الأرض، أو يكون في القلع من الأصل مضرة على البائع، كما إذا كانت بقرب حائط، أو بئر، فإنه يقطعها على وجه الأرض.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:515
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-02




@123حرام چیزیں بیچنے والی کمپنی میں ملازمت کرنا

سوال:
دوبئی میں ایک کمپنی ہے، وہ دوسرے ممالک سے سامان منگواتی ہے، جس میں کچھ سامان اور مال حلال ہوتا ہے، اور کچھ حرام، مثلا کھانے پینے کی چیزیں خنزیر کا گوشت وغیرہ، لیکن حرام کاروبار بالکل کم ہے، اور حلال کا زیادہ، اب پوچھنا یہ ہے، کہ ایک شخص اس میں کام کرتا ہے، اور اس کو بھی خنزیر کا گوشت اٹھانا پڑتا ہے، تو اس شخص کا اس کمپنی میں کام کرنا جائز ہے، اور کام کرنے پر جو تنخواہ ملے گی وہ حلال ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ شراب، خنزیر وغیرہ شریعت میں حرام ہے، اس کو بیچنا، اٹھانا سب ناجائز ہے، لہذا اگر کوئی ایسی کمپنی میں ملازمت کرے جہاں خنزیر وغیرہ کی خرید وفروخت ہوتی ہو، وہاں ملازمت کرنا درست نہیں، اس شخص کو چاہیے کہ وہاں کسی اور جگہ اپنے لیے حلال روزگا ر تلاش کرے۔

حوالہ جات:
لما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة للشيخ محمد تقي عثماني حفظه الله  1/ 340:
العمل في مطاعم الكفار، إنما يجوز بشرط أن لا يباشر المسلم سقي الخمر، أو تقديم الخنزير، أو المحرمات الأخرى، فإن سقي الخمر، أو تقديمها إلى من يشربها حرام بنص صريح، عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه.
وفي العناية شرح الهداية لمحمد بن محمد البابرتي،كتاب البيوع، فصل في الكرهية  10/ 60:
ومن حمل لذمي خمرا، فإنه يطيب له الأجر عند أبي حنيفة  رحمه الله ، وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله: يكره له ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية، وقد صح أن النبي عليه الصلاة والسلام، لعن في الخمر عشرا: حاملها، والمحمول إليه، وله أن المعصية في شربها، وهو فعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، ولا يقصد به، والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية.
وفي مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر، فصل في الكسب ولاختيار  4/ 188
ومن حمل لذمي خمرا بأجر طاب له عند الإمام، وعندهما يكره له ذلك لوجود الإعانة على المعصية، وقد صح أن النبي عليه الصلاة والسلام: لعن في الخمر عشرا، وعد منها حاملها والمحمول إليه، وله أن المعصية في شربها لا في حملها مع الحمل يحمل على الإراقة، أو التخليل، والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:514
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-02