موبائل اورمیموری کارڈ کی خرید و فروخت:

سوال:
   سمارٹ فون اور میموری کارڈ کی خرید وفروخت کرنا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
   میموری کارڈ اور موبائل کا چونکہ جائز استعمال موجود ہے، اس لیے ان کی خرید وفروخت شرعا جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الجهاد، باب البغاة4/ 268:
   وعرف بهذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به، كبيع الجارية المغنية، والكبش النطوح، والديك المقاتل، والحمامة الطيارة؛ لأنه ليس عينها منكرا، وإنما المنكر في استعمالها المحظور. اهـ.
2. النهر الفائق لابن نجيم الحنفي، كتاب الجهاد، باب البغاة3/ 268:
   لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به، كبيع الجارية المغنية، والكبش النطوح، والحمامة الطيارة، والعصير، والخشب الذي يتخذ منه المعازف.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:773
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-26




باغ میں پھول لگنے سے پہلے اس کی خرید وفروخت:

سوال:
   باغ میں پھول آنے سے پہلے باغ فروخت کرنا کیسا ہے؟ اور اس کی جواز کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟
جواب:
   باغ میں پھول آنے سے پہلے اس کو فروخت کرنا ناجائز ہے، البتہ اگر باغ کو زمین کے ساتھ کرایہ پر لے لے اور جب باغ میں پھول لگ جائیں اور مقصود حاصل ہونے کے بعد زمیں فارغ کرکے مالک کے حوالہ کردے تو جائز ہے۔ 

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب البيوع 4/ 505:
   وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
2. بدائع الصنائع للكاساني،كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة4/ 189:
   ولو اشترى الرطبة بأصلها ليقلعها ثم استأجر الأرض مدة معلومة لتبقيتها جاز.
3. مجمع الأنهرلإبراهيم الحَلَبي، كتاب البيوع27:
   وإن تركها بإذن البائع بلا اشتراط طاب له الزيادة وإن تركها بغير إذنه تصدق بمازاد في ذاتها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:782
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-26




تصویر دار برتن کی خرید و فروخت:

سوال:
   تصویر دار برتن فروخت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
   تصویر داربرتن خریدتے وقت چونکہ تصویر مقصود نہیں ہوتی، بلکہ مقصود برتن کی خریداری ہوتی ہے اس لیے یہ خریداری جائز ہوگی، تاہم چونکہ یہ چیزیں آگے استعمال بھی ہوتی ہیں اور تصویر دار چیز استعمال کرنا بھی معصیت سے خالی نہیں اس لیے اگر تصویر دار چیز کی خرید وفروخت مجبوری ہو اور اس کا متبادل موجود نہ ہو جیسے کہ بعض دوائیاں، کتابیں وغیرہ تو خریداری میں مضائقہ نہیں لیکن اگر متبادل موجود ہو تو خریداری سے بچنے میں احتیاط ہے۔  

حوالہ جات:
1. شرح السير الصغير لشمس الائمة السرخسي، باب ما يحمل عليه الفيء وما يجوز فعله بالغنائم في دار الحرب، ص:  1051:
   ألا ترى أن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها، وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف، فهناك ينبغي له أن يكسرها، ثم يبيعها، أو يقسمها حطبا، قال: إلا أن يبيعها قبل أن يكسرها ممن هو ثقة من المسلمين يعلم أنه يرغب فيها للحطب لا للاستعمال على وجه لا يحل، فحينئذ لا بأس بذلك؛ لأنه مال منتفع به، فيجوز بيعه للانتفاع به بطريق مباح شرعا.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، تغميض عينيه في الصلاة 2/ 30:
ثم التمثال إن كان على وسادة أو بساط لا بأس باستعمالهما.
2. فقه البيوع لمحمد تقي العثماني1/ 321:
   أما إذاكان المبيع شيئا آخر من المباحات، وهو مشتمل على صور، فتدخل في البيع تبعا، فيجوز بيعها. وھذا مثل الجرائد والصحف والکتب التي يقصد منها مضمونها المباح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:769
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-26




دوکاروباری شریکوں کے درمیان منافع کس حساب سے تقسیم ہوگا؟:

سوال:
   ہم دو دوستوں نے مشترکہ طور پر ائی، ایس، ایم مارٹ گروپ ( ISMMART  GROUP ) کو دو لاکھ پچاس ہزار روپے مضاربت کے لیے دی ہیں، جس میں ایک لاکھ پچیس ہزار ایک کا ہے اور ایک لاکھ پچیس ہزار دوسرے کا ہے، وہاں سے ہمیں مجموعی نفع کے تناسب سے فیصدی میں نفع ملتا ہے، مثال کے طور پر کسی مہینے میں ہمیں ستره پرسينٹ ( ٪17) كے حساب سے بیالیس  ہزار پانچسو (42500) روپے ملے، اب ان پیسوں کو ہم دو دوست آپس میں کیسے تقسیم کرسکتے ہیں؟ بینوا تؤجروا.
جواب:
   اگر مذکورہ کاروبار شرعی اصولوں کے مطابق ہو اور اہل فتوی کی طرف باقاعدہ اس کے درست ہونے کا فتوی صادر ہوا ہو تو اس سے حاصل شدہ منافع آپس میں طے شدہ اگریمنٹ کے مطابق تقیسم کیا جائےگا، اگر ایگریمنٹ نہ کیا ہو تو ان کو چاہیے کہ فوری طور پر آپس میں ایگریمنٹ کرلیں کہ ہمارا آپس میں منافع کس حساب سے تقسیم کیا جائے گا۔

حوالہ جات:
1. الهداية للمرغيناني، كتاب المضاربة 3/ 263:
   ومن شرطھا أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح … لفساده، فلعله لا يربح إلا هذا القدر.
2. فتح القدير لابن الهمام، كتاب المضاربة 7/ 421:
   ویشترط أيضا في المضاربة أن يكون نصيب كل منهما من الربح معلوما عند العقد؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد .
3. بدائع الصنائع للكاساني، کتاب لمضاربة 6/ 59:
    ومنها أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد … ومنها أن يكون الربح جزء مشاعا في الجملة لامعينا، فإن عينا عشرة أو مائة كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضى تحقق الشركة في الربح، والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما … الخ.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:660
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




@123 بھیک مانگنے والے سے کوئی چیز خریدنا

سوال:
کسی دکاندار کے لیے بھیک مانگنے والوں سے غلہ وغیرہ خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:
بھیک مانگنے کی صورت میں چونکہ بھکاری اس غلہ کا مالک بن چکا ہے، اس لیے دکاندار کے لیے یہ غلہ ان سے خریدنا جائز ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار  لابن عابدين، كتاب البيوع 4/ 505:
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه.
و في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب البيع 4 /382:
وأما شرائط المعقود عليه فأن يكون موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه.
و في المبسوط لشمس الأئمة السرخسي، كتاب الهبة 12/ 57:
وإن كان الموهوب حاضرا في المجلس، فقبضه الموهوب له بإذن الواهب ملكه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:652
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-15




@123متعاقدین کی رضا مندی سے ہونے والی بیع تام ہے

سوال:
آج سے تقریا چالیس (40) سال یا زیادہ عرصہ پہلے ایک بیع ہوئی تھی، وہ اس طرح کہ دو اشخاص میں سے ایک کی ملکیت میں کافی زمین اور دوسرے کی ملکیت میں ایک بیل موجود تھا، اس وقت بیل کی قیمت زمین سے کم تھی، لین دین دونوں کی رضامندی سے ہوا، ایک شخص نے بیل لیا اور دوسرے نے وہ پوری زمین لے لی، اب تقریبا چالیس سال بعد بعض لوگ کہتے ہیں کہ بیل لینے والے شخص کے ساتھ ظلم ہوا ہے، لہذا اب جو شخص زمین پر قابض ہے، وہ ناجائز زمین کا مالک ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کا یہ کہنا درست ہے یا نہیں؟ حالانکہ یہ بیع دونوں کی رضامندی سے ہوئی تھی؟
جواب:
مذکورہ صورت میں اگر صورتِ حال واقعتا ایسا ہو کہ چالیس (40) سال قبل دونوں متعاقدین نے اپنے ہوش وحواس کے ساتھ باہمی رضامندی کے ساتھ بیل اور زمین کا تبادلہ کیا تھا، تو ایجاب وقبول کے بعد یہ بیع اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے اور زمین بیل والے کی اور بیل زمین والے کی ملکیت بن چکی ہے، اب چالیس سال بعد کسی تیسرے شخص کا یہ کہنا کہ فلاں کے ساتھ ظلم ہوا تھا اور وہ ناجائز طریقے سے زمین پر قابض ہے، یہ کہنا قابلِ اعتبار نہیں۔

حوالہ جات:
لما في الهداية للمرغيناني، كتاب البيوع، كيفية انعقاد البيع 3/ 23:
وإذا حصل الإيجاب والقبول، لزم البيع، ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء،كتاب البیوع ، الباب الاول فی تعریف البیع إلخ 3/ 4 :
أما تعريفه، فمبادلة المال بالمال بالتراضي، كذا في الكافي، وأما ركنه، فنوعان: أحدهما، الإيجاب والقبول، والثاني، التعاطي، وهو الأخذ والإعطاء، كذا في محيط السرخسي.
وفي فتح القدير لابن الهمام، کتاب البیوع 6/ 249،248:
قال: (البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي) مثل: أن يقول أحدهما بعت، والآخر: اشتريت.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:650
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-15




@123موبائل فون کے ذریعے خرید و فروخت کرنا

سوال:
آج کل شہری لوگوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ دکاندار کو فون پر کہہ دیا کہ فلاں فلاں اشیاء اتنی مقدار میں تول کر ہمارے گھر بھیج دے یہ طریقہ شرعا کیسا ہے؟
جواب:
جس طرح خط وکتابت کے ذریعے خرید وفروخت جائز ہے، اسی طرح موبائل کے ذریعے بھی خرید وفروخت جائز ہے، لہذا مذکورہ صورت میں اگر مبیع بائع کی ملکیت میں موجود ہو، اور متعاقدین کے مابین باہمی رضامندی سے معاملہ طے ہوجائے اور بیچی جانے والی اشیاء اور ان کی قیمت کو متعین کردیا جائے اور معاملہ میں ایسا ابہام باقی نہ رہے کہ جس سے نزاع پیدا ہوسکے،  تو یہ بیع درست ہے، البتہ جب مبیع مشتری کو مل جائے اور دیکھنے کے بعد اس میں مطلوبہ شرائط موجود نہ ہوں، تو اسے واپس کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في الهداية للمرغيناني، كتاب البيوع، كيفية انعقاد البيع 3/ 23:
وإذا حصل الإيجاب والقبول، لزم البيع، ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية.
وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب البيوع 4/ 512:
ويكون بالكتابة من الجانبين فإذا كتب اشتريت عبدك فلانا بكذا، فكتب إليه البائع قد بعت فهذا بيع كما في التتارخانية، (قوله: فيعتبر مجلس بلوغها) أي: بلوغ الرسالة أو الكتابة، قال: في الهداية، والكتابة كالخطاب، وكذا الإرسال، حتى اعتبر مجلس بلوغ الكتابة وأداء الرسالة، وفي غاية البيان، وقال شمس الأئمة السرخسي: في كتاب النكاح من مبسوطه، كما ينعقد النكاح بالكتابة، ينعقد البيع وسائر التصرف بالكتابة أيضا.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء،كتاب البیوع ، الباب الاول فی تعریف البیع إلخ 3/ 4 :
أما تعريفه، فمبادلة المال بالمال بالتراضي، كذا في الكافي، وأما ركنه، فنوعان: أحدهما، الإيجاب والقبول، والثاني، التعاطي، وهو الأخذ والإعطاء، كذا في محيط السرخسي.
وفي فتح القدير لابن الهمام، کتاب البیوع 6/ 249،248:
قال: (البيع ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظي الماضي) مثل: أن يقول أحدهما بعت، والآخر: اشتريت.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:644
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-14




پانی کی باری فروخت کرنا کیسا ہے؟:

سوال:
   اگر کسی زمین کا صرف حق شرب یعنی پانی کی باری فروخت کی جائے، اور زمین فروخت نہ کی جائے، تو یہ جائز ہے؟ 
جواب:
   واضح رہے کہ جس زمین کو کسی نہر کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہو، اس نہر سے زمین کو سیراب کرنے کا یہ حق کسی اور کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اپنے اس حق سے دستبرداری کے عوض کچھ رقم وصول کرنا چاہے، تو اس کی گنجائش ہے ۔

حوالہ جات:
1. فقه البيوع محمد تقي العثماني، المبحث الثالث في أحكام المبيع والثمن، الشراط الرابع أن يكون المبيع مملوكا 1/ 137:
   وظاهر الرواية في مذهب الأحناف، أن بيع الشرب فاسد، وعلّلوه بأنه من حقوق المبيع، فلا يُفرد بالبيع، وبأنه مجهول.
2. الدر المختار للحصكفي،كتاب البيوع، باب البيع الفاسد 5/ 78:
   ولا يجوز بيع مسيل الماء وهبته، ولا بيع الطريق بدون الأرض، وكذلك بيع الشرب.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلح 5/ 638:
   وصح الصلح عن دعوى حق الشرب، وحق الشفعة وحق وضع الجذوع على الأصح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:634
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




@123 تمباکو کی کھیت پکنےکے بعد فروخت کرنے کاحکم

سوال:
اگر کسی نے تمباکو کی کھیت پکنے کے بعد فروخت کردی، تو عشر خریدنے والے پر ہوگا یا فروخت کرنے والے پر؟
جواب:
فصل پكنے کے بعد فروخت کرنے کی صورت میں اس کا عشر فروخت کرنے والے پر ہوتا ہے، خریدنے والے پر نہیں ہوتا، لہذا مذکورہ صورت میں فروخت کنندہ پر عشر پر واجب ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في ردالمختار لابن عابدين، كتاب الزكاة، باب العشر3/ 324:
ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري، ولو بعده فعلى البائع.
وفي الفتاوى الهنديه للجنة العلماء، كتاب الزكاة، الباب السادس في زكاة الزرع 1/ 206:
وإذا باع الأرض العشرية، وفيها زرع وقد أدرك مع زرعها أو باع الزرع خاصة، فعشره على البائع دون المشتري.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الزكاة، فصل وأما شرائط المحلية فأنواع 2/ 175:
ولو باع الأرض العشرية وفيها زرع قد زرعها أو باع الزرع خاصة، فعشره على البائع دون المشتري.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف 1/ 187:
ولو باع العنب أخذ العشر من ثمنه، وكذلك لو اتخذه عصيرا ثم باعه فعليه عشر ثمن العصير … ولا يأكل شيئا من طعام العشر حتى يؤدي عشره.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:616
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




@123تجارتی مارکہ(Trade Mark)کی خرید وفروخت کی شرعی حیثیت

سوال:
آج کل تجارتی مارکہ کی خریدو فروخت شروع  ہوئی ہے، کیا  تو یہ جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ تجارتی مارکہ (Trade  Mark) آج کل تاجروں کے ہاں ایک قیمتی مال بن چکا ہے، کیونکہ کمپنی والے یا کوئی ادارہ جو مال تیار کرتے ہیں، اس پر اپنا ایک مارکہ لگاتے ہیں، جو اس کمپنی کی پہچان ہوتی ہے اور حکومتی سطح پر اس کی رجسٹریشن ہوتی ہے، جس میں کافی محنت لگتی ہے اور پھر کسی دوسرے شخص یا کمپنی کے لیے اس مارکہ کا استعمال قانونا جرم ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی مارکہ ایسا ہو جو حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہو، تو اس کی خرید و فروخت جائز ہے،  لیکن یہ ضروری ہے کہ خریدار اعلان کرے کہ اب اس چیز کے بنانے والے ہم  ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ پہلے والے معیار کو بھی بر قرار رکھے اور لوگوں کو نام سے دھوکہ دے کر غیر معیاری چیز فروخت نہ کرے۔

حوالہ جات:
لما في فقه البيوع محمد تقي العثماني،المبحث الثالث في أحكام المبيع والثمن، الشرط الأول مالية البيع 1/ 276:
ويبدو لهذ ا العبد الضعيف عفاالله عنه أنّ حق الاسم التجاري؛ والعلامات التجارية، وان كان في الأصل حقا مجردا غير ثابت في عين قائمة، ولكنه بعد التسجيل الحكوميّ، الّذي يتطلب جُهدا كبيرا وبذل أموال جمة، والذي تحصل له بعد ذلك صفة قانونية تمثلها شهادت  مكتوبة بيد الحامل، و في دفاتر الحكومة، أشبه الحق المستقر في العين، والتحق في عرف التجار بالأعيان، فينبغي أن يجور الاعتياض عنه على وجه البيع أيضا، ولاشك أن للعرف العام مجالا في إدراج بعض الأشياء في الأعيان لأالمالية، كما يقول: ابن عابدين رحمه الله تثبت بتمول الناس، وهذا مثل القوة الكهر بائية، أو الغاز التى لم تكن في الأزمان السالفة تُعد من الأموال؛ والأعيان المتقوّمة، لأنها ليست عينا قائمة بذاتها، ولم يكن إحرازُها في الوسعة البشرية، ولكنها صارت الآن من أعزّ الأموال المتقومة التى لاشبهة في جوازها بيعها وشراءها، وذلك لنفعها البالغ ولإمكان إحرارها ولتعارف الناس بماليتها وتقومها، فكذلك الاسم التجاري أو العلامة التجارية أصبحت بعد التسجيل الحكومىّ ذات قيمة بالغة في عرف التجّار، ويصدق  عليها أنها تحرز بإحراز شهادتها المكتوبة من قبل الحكومة، وإحراز كل شيء بما يلائمة، ويصدق عليها أيضا أنها تدخر لوقت الحاجة، فالعناصر اللازمة التى تمنع الشيء صفة المالية متوفرة فيها، سوى أنها ليست عينا قائمة بنفسها، فيبدو أنه لامانع شرعا من أن يسلك بها مسلك الأموال في جواز بيعها وشراءها.
و في الدر المختار للحصكفي، كتاب البيوع، مطلب في بيع الجامكية 4/ 518:
لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة، وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة، المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتباره.
و فيه أيضا، كتاب البيوع، مطلب في تعريف المال والملك والمتقوم 4/ 501:
والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم والتقوم يثبت بها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:614
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12