کرسی پر بیٹھ کر کھانے کے لیے میز اور ٹیبل استعمال کرنا:

سوال:
   کرسی پر بیٹھ کر میز پر کھانا کھانا خلافِ سنت ہے یا نہیں؟ اس طرح چارپائی کا کیا حکم ہے۔
جواب:
   اگرچہ نبی کریم ﷺ کی عادت شریفہ یہی تھی کہ آپ ﷺ زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے تھے لیکن چونکہ آپ ﷺکا اس طرح کھانا کھانا بطورعادت کے تھا، بطور عبادت کے نہیں تھا، اسی وجہ سے آپ ﷺ نے باقاعدہ نہ اس کا حکم فرمایا اور نہ اس کے خلاف کرنے والے پر کوئی نکیر فرمائی، لہذا میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھانا جائز ہے، نیز ایک زمانہ میں یہ کفار کے ساتھ مخصوص تھا، جس کی وجہ سے اس وقت کے علماء نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا تھا، لیکن چونکہ اس کا استعمال بالکل عام ہوچکا ہے اور کفار کے ساتھ مخصوص نہ رہا، اس لیے اب اس ممانعت کی بھی وجہ نہ رہی۔ تاہم آپ ﷺ کی عادت شریفہ کی بنیاد پر کوئی آپ ﷺ کی اتباع میں زمین پر بیٹھ کر کھانا کھائے تو موجب ثواب اور باعث برکت ہے۔ 

حوالہ جات:
1. صحيح البخاري، كتاب الأطعمة، باب الخبز المرقق والأكل على الخوان والسفرة، الرقم: 5386:
عن قتادة، عن أنس رضي الله عنه، قال: «ما علمت النبي صلى الله عليه وسلم أكل على سكرجة قط، ولا خبز له مرقق قط، ولا أكل على خوان قط» قيل لقتادة: فعلام كانوا يأكلون؟ قال: «على السفر».
2. مرقاة المفاتيح، كتاب الأطعمة، الرقم: 4169:
قال التوربشتي: الخوان الذي يؤكل عليه معرب، والأكل عليه لم يزل من دأب المترفين وصنيع الجبارين لئلا يفتقروا إلى التطاطؤ عند الأكل.
3. الترغيب والترهيب لزكي الدين المنذري،كتاب الطعام وغيره، باب الترغيب في غسل اليد قبل الطعام وبعده 3/ 152:
   كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتى بطعام وضعه على الأرض، فهذا أقرب للتواضع.
4. الكوكب الدري لرشيد أحمد الكنكوهي، أبواب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 3/ 4:
   والحاصل أن الأكل عليه بحسب نفس ذاته لا يربو على ترك الأولوية، فأما إذا لزم فيه التشبه باليهود أو النصارى كما هو في ديارنا كان مكروهًا تحريميًا، وأما إذا لم يكن على دأبهم فلا يخلو أيضًا عن تفويت منافع…وقال المناوي: يعتاد المتكبرون من العجم الأكل عليه؛ لئلا تنخفض رؤوسهم فالأكل عليه بدعة، لكنه جائز إن خلا عن قصد التكبر، انتهى.
5. الموسوعة الفقهية الكويتية، حرف السين، سنة 25/ 265:
فالسنة عند الحنفية بالمعنى الفقهي نوعان:
سنة الهدى: وهي ما تكون إقامتها تكميلا للدين، وتتعلق بتركها كراهة أو إساءة، كصلاة الجماعة، والأذان، والإقامة، ونحوها، وذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم واظب عليها على سبيل العبادة، وتسمى أيضا السنة المؤكدة.

   سنن الزوائد: وهي التي لا يتعلق بتركها كراهة ولا إساءة؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم فعلها على سبيل العادة، فإقامتها حسنة، كسير النبي صلى الله عليه وسلم في لباسه وقيامه، وقعوده وأكله، ونحو ذلك.

.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:609
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




مالک کی اجازت کے بغیر کھیت یا باغ سے کسی کوکچھ دینا:

سوال:
   کسی نواب یا امیر کے باغ کے مالی نے اپنی طرف سے کسی کو سبزی دے دی تو اس کا لینا درست ہے یا نہیں؟
جواب:
   کسی کا مال اس کی صراحتا یا دلالۃ اجازت کے بغیر کسی اور کو دینا درست نہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر مالی کو مالک نے اجازت دی ہو کہ تم کسی کو یہاں سے سبزی دے سکتےہو، یا اس کو یقین ہو کہ اگر میں مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو سبزی دے دوں، تو بھی وہ ناراض نہیں ہوگا، بلکہ خوش ہوگا، تو دونوں صورتوں میں اجازت لینے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر ایسی صورتِ حال نہ ہو، تو مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ دینا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
1. سنن الدارقطني لعلي بن عمر البغدادي، كتاب البيوع الرقم: 2885:
   عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه.
2. رد المختار لمحمد أمين ابن عابدين، كتاب الديات، باب ما یحدثه الرجل إلخ 6/ 593:
   لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه.
3. الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي الزَّبِيدِي، كتاب الشركة،  باب الشركة على ضربين إلخ 2/ 285:
   (قوله: ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل واحد منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي)؛ لأن تصرف الإنسان في مال غيره لا يجوز إلا بإذن أو ولاية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:608
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




@123وضع حمل کے وقت آسانی کے لیے پیٹ یا ران پر تعویذ باندھنا

سوال:
بچے کی پیدائش میں آسانی کے لیے عورت کے پیٹ یا ران میں تعویذ باندھنا کیسا ہے یعنی بے ادبی تو نہیں ہے؟
جواب:
شرعا تعویذ صرف وہ جائز ہے جو قران وحدیث سے اخذ شدہ آیات پر مشتمل ہو اور ایسی تعویذ ران یا پیٹ پر باندھنا بے ادبی ہے، اس لیے بوقت ضرورت کپڑوں میں کسی مناسب جگہ میں لگایا جائے تو کافی ہے، اگر اللہ تعالی نے اس سے حاجت پوری کرانی ہو تو جہاں بھی ہو اس کا اثر ظاہر ہوگا۔

حوالہ جات:
لما في المصنف لأبي بكر بن أبي شيبة، كتاب الطب، في الرخصة في القرآن يكتب لمن يسقاه، الرقم: 23508:
عن ابن عباس، قال: إذا عسر على المرأة ولدها، فيكتب هاتين الآيتين والكلمات في صحفة، ثم تغسل، فتسقى منها ”بسم الله لا إله إلا هو الحليم الكريم، سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش العظيم“ {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} [النازعات 79/46] { كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ } [الأحقاف 46/35]
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الحظر والإباحة، باب التدوي والمعالجات 5/ 397:
ولا بأس بتعليق التعويذ ولكن ينزعه عند الخلاء، والقربان كذا في الغرائب.
وفي  فتح الباري ابن حجر العسقلاني، باب الرقى، 10/ 195:
أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:606
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




@123 یوم عاشوراء میں اہل و عیال پر خرچ کرنے کا مصداق

سوال:
عاشوراء کے دن اپنے اہل پر خرچ کرنے میں ان کے لیے کپڑے خرید لینا بھی شامل ہے یا نہیں ؟
جواب:
واضح رہے کہ عاشوراء یعنی دس محرم کے روز اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنے پر رزق کی وسعت اور فراوانی کی ترغیب وارد ہوئی ہے، لیکن کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ ضرورت زندگی کے تمام اشیاء کو شامل ہے، لھٰذا اس لیے کپڑے بھی شامل ہے۔

حوالہ جات:
لما في المعجم الكبير للطبراني، الرقم: 10007:
عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من وسع على عياله يوم عاشوراء لم يزل في سعة سائر سنته.
و في در المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء 6/ 430:
بقوله «من وسع على عياله في يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته» فأخذ الناس منه أن وسعوا باستعمال أنواع من الحبوب، وهو مما يصدق عليه التوسعة. وقد رأيت لبعض العلماء كلاما حسنا محصله: أنه لا يقتصر فيه على التوسعة بنوع واحد بل يعمها في المآكل والملابس وغير ذلك.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:605
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




@123بالوں پر سیاہ خضاب لگانا

سوال:
آج کل کے لوگ سر اور داڑھی کے بالوں پر بالکل سیاہ خضاب لگاتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ خاص سیاہ رنگ کے علاوہ دوسرے رنگ مثلا سرخ یا پیلے رنگ کا خضاب لگانا بالاتفاق جائز ہے، اور خالص سیاہ خضاب لگانا مجاھد کے لیے میدان جہاد میں دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے بالاتفاق جائز ہے اور کسی کو دھوکہ دینے کے لیے جیسے مرد کا عورت کو اور عورت کا مرد کو دھوکہ دینا اور اپنے اپ کو جوان ظاہر کرنا یا کسی ملازم کا مالک کو دھوکہ دینے کے لیے سیاہ خضاب لگانا یہ بالاتفاق ناجائز ہے اور شوہر کا بیوی کو خوش کرنے لے لیے سیاہ خضاب لگانا مکروہ ہے، تاہم جوانی میں بالوں کا سفید ہو جانا ایک قسم کی بیماری اور عیب ہے اور عیب کا ازالہ کرنا شرعا جائز ہے، اس لیے نوجوان کے لیے سیاہ خضاب لگانے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
لما في سنن أبي داود، باب في الخضاب، الرقم: 4204:
عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد.
وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة 6/ 422:
قال في الذخيرة أما الخضاب بالسواد للغزو ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق.
وفي المحيط البرهاني لابن ماذه الحنفي، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الحادي والعشرون في الزينة، واتخاذ الخادم للخدمة 5/ 377:
وأما الخضاب بالسواد: فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ، ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء، وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه عليه عامة المشايخ.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:604
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




مال حرام والے کے ہاتھ کوئی چیز بیچنا یا اس کے ساتھ مزدوری کرنا:

سوال:
   ایک آدمی سودی کاروبار کرتا ہے، اس کے ہاتھ کوئی خرید وفروخت کرنا، جبکہ وہ قیمت مالِ حرام سے دے رہا ہو، نیز اس کے ساتھ مزدوری کرنا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
   جس شخص کا اکثر یا سارا حرام ہو، اس کے ہاتھ کوئی چیز بیچنا جائز ہے، مگر مال حرام سے قیمت وصول کرنا جائز نہیں، بلکہ خریدار سے حلال مال کا مطالبہ کرنا ضروری ہے، تاہم اگر اس نے مال حرام کے بدلے کوئی چیز خریدی، لیکن بعد میں حلال مال سے ادائیگی کردی یا خریدتے وقت مال حرام اس کے پاس موجود نہیں تھا اورمطلقا اس نے کوئی چیز خرید لی اور بعد میں مال حرام سے ادائیگی کردی یا معاملہ کے وقت بائع کو علم نہیں تھا اور بعد میں مشتری نے مال حرام سے ادائیگی کردی تو تینوں صورتوں میں امام کرخی رحمہ اللہ علیہ کے قول کے مطابق یہ معاملہ درست ہے اور وصول شدہ پیسوں کا استعمال جائز ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ اس قسم کے مال سے بھی اجتناب کیا جائے۔
ایسے ہی جس شخص کا سارا یا اکثر مال حرام ہو، اس کے ہاں مزدوری کرنا جائز ہے، لیکن اجرت لیتے وقت اگر اس نے صراحتا یہ نہ کہا ہو کہ یہ مال حرام ہے تو اسے لے کر استعمال کی گنجائش ہے، تاہم جس آدمی کے بارے میں پہلے سے معلوم ہو کہ اس کا اکثر مال حرام ہے تو اس کے ہاں مزدوری کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ 

حوالہ جات:
1. فقه البیوع للشیخ المفتي تقي العثماني، خلاصة البحث 2/ 1052:
   المال المغصوب وما في حكمه مثل ما قبضه الإنسان رشوة أو سرقة أو بعقد باطل شرعاً، لا يحل له الانتفاع به، ولا بيعه وهبته، ولا يجوز لأحد يعلم ذلك أن يأخذه منه شراء أو هبة أو إرثاً.
2. أيضا 2/ 1054:
إن لم يُعرف في المخلوط من الحلال والحرام أنهما متميزان أو مختلطان، وكم حصة الحلال في المخلوط؟ فالأولى التنزه، ولكن يجوز التعامل بذلك المخلوط إذا غلب على الظن أن المتعامل به لا يتجاوز قدر الحلال.
3. رد المحتار، مطلب: اذا اكتسب حراما إلخ 244/4:
(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اهـ 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:602
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




بچی کے لیے پردہ کرنے کی عمر:

سوال:
   لڑکی کو کس عمر میں پردہ کرنا چاہیے؟
جواب:
   بچی پر پردہ کی فرضیت تو دیگر احکام کی طرح بالغ ہونے کے ساتھ ہی ہوتی ہے، چاہے وہ جس عمر میں بالغ ہوجائے، تاہم جب نو (9) برس کی ہوجائے تو اس کو بڑی چادر پہنا دینی چاہیے اور جب گیارہ سال کی ہوجائے تو باہر نکلتے وقت اس کو برقع پہنا کرپردہ کرانے کی عادت ڈال دینی چاہیے، اور پندرہ سال کی عمر میں مکمل پردہ کروانا ضروری ہے، اگرچہ ابھی بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں۔

حوالہ جات:
1. قوله تعالى:
   وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إلخ.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له 5/ 329:
   والتي بلغت حد الشهوة فهي كالبالغة لا تعرض في إزار واحد… فإن كانت لا تشتهى لا بأس بمصافحتها ومس يدها، كذا في الذخيرة.
4. فيه أيضا، كتاب الحجر، الفصل الثاني في معرفة حد البلوغ 5/ 61:
   وأدنى مدة البلوغ بالاحتلام ونحوه في حق الغلام اثنتا عشرة سنة، وفي الجارية تسع سنين.
5. الدر المختار مع رد المحتار للحصكفي، كتاب الطلاق، باب الحضانة 3/ 567:
   وقدر بتسع وبه يفتى، وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (قوله: مشتهاة اتفاقا) بل في محرمات المنح: بنت تسع فصاعدا مشتهاة اتفاقا، سائحاني.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:600
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




@123چور سے مالی جرمانہ لینا

سوال:
چور سے چوری کا مال لینے کے بعد بطور جرمانہ کچھ رقم لے کر مدرسہ میں خرچ کرنا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
چور سے صرف وہ مال لینا جائز ہے، جو اس نے چوری کی ہے، اس کے علاوہ اس سے مالی جرمانہ لینا اور اس کو مدرسہ میں خرچ کرنا دونوں باتیں ناجائز ہیں۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحدود، باب التعزير 4/ 61:
أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر، ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة، إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الحدود، فصل في التعزير 5/ 44:
التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ اهـ.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:599
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12




@123دم شدہ ریت وغیرہ نالی میں بہانا اور قرآن کو جلانا کیسا ہے؟

سوال:
دم شدہ ریت یا مٹی یا پانی اور تیل وغیرہ نالی میں بہانا، یا پاؤں تلے روندنا، یا قرآنِ کریم کی آیتیں آگ میں جلانا کیسا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ دم شدہ پانی وغیرہ گندے نالی میں بہانا بے ادبی ہے، اس کو کسی صاف جگہ یا پودوں کی کیاری میں ڈال بہا دینا چاہیے، نیز قرآن کریم اگر بوسیدہ ہوجائے تو بہتر یہ ہے کہ ان کو کسی مناسب جگہ میں دفن کر دیا جائے یا کسی جاری پاک پانی میں بہا دیا جائے، ورنہ حفاظت کی نیت سے جلایا جائے تو بھی مضائقہ نہیں، البتہ اس کی راکھ کسی مناسب جگہ میں ڈالی جائے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، سنن الغسل 1/ 177:
المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم.
وفي رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة، فرع يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس 6/ 422:
ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء. وقال ابن عابدين تحت قوله: وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون.
وفي تفسير القرطبي، باب ذكر جمع القرآن 1/ 54:
قال أبو الحسن بن بطال: وفي امر عثمان بتحريق المصحف والمصاحف حين جمع القرآن جواز تحريق الكتب التي فيها أسماء الله تعالى، وأن ذلك إكرام لها وصيانة عن الوطء بالأقدام.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:550
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-07




@123 عورتوں کے لیے لوہا اور پیتل کے زیورات استعمال کرنا

سوال:
عورتوں کے لیے سونا چاندی کے علاوہ مثلا لوہا، پیتل وغیرہ کی زیور استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ عورتوں کے لیے سونے، چاندی اور دیگر دھات کے زیورات پہننا جائز ہے، البتہ انگوٹھی صرف سونے اور چاندی کی جائز ہے، ان دونوں کے علاوہ دیگر دھاتوں کی انگوٹھی پہننا خواتین کے لیے بھی جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:
لما في الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس 6/ 341:
والنساء فيما سوى الحلي من الأكل والشرب والادهان من الذهب والفضة والعقود بمنزلة الرجال، ولا بأس لهن بلبس الديباج والحرير والفضة واللؤلؤ.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب العشرون في الزينة واتخاذ الخادم للخدمة 5/ 359:
ولا بأس للنساء بتعليق الخرز في شعورهن من صفر أو نحاس أو شبة أو حديد ونحوها للزينة والسوار منها ولا بأس بشد الخرز على ساقي الصبي أو المهد تعليلا له كذا في القنية.
وفي الميحط البرهاني لابن مازه، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الحادي عشر في استعمال الذهب والفضة 5/ 199:
فأما التختم بالحديد والرصاص والصفر والشبة فهو حرام على النساء والرجال جميعا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:549
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-07