مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی کھجور کی گٹھلی زمین پر پھینکنا کیسا ہے؟:

سوال:
   مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی کھجور کھا کر اس کی گٹھلی کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟
جواب:
   مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کی کھجور کی گٹھلی سے متعلق اگرچہ كتب احادیث میں كسی خاص ادب کا تذکرہ ہمیں نہ مل سکا، تاہم شہر رسول اللہﷺ سے نسبت ہونے کے ناطے اگر اس کے ساتھ ادب واحترام کا معاملہ کیا جائے تو بہتر ہے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
{ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب} الحج: 32
3. سنن أبي داود، كتاب الأشربة، باب في النفخ في الشراب والتنفس فيه، الرقم: 3729:
  عن عبد الله بن بسر، من بني سليم قال: جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي، فنزل عليه، فقدم إليه طعاما، فذكر حيسا أتاه به، ثم أتاه بشراب، فشرب، فناول من على يمينه، وأكل تمرا، فجعل يلقي النوى على ظهر أصبعيه السبابة والوسطى، فلما قام، قام أبي، فأخذ بلجام دابته، فقال: ادع الله لي، فقال: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم، واغفر لهم، وارحمهم».

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:685
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

 




میوزک اور گانے بجانے والے پروگرام میں شرکت کرنا:

سوال:
   اگر كسی شادی میں میوزک یا  گانے بجانے ہوں، تو ایسی شادی میں شرکت کرنا یا کھانا پینا جائز ہے؟
جواب:
   جس شادی میں گانے بجانے ہوں، تو اگر میوزک وغیرہ کھانے ہی کی جگہ پر موجود ہو، اور سب کو پہلے سے معلوم ہو، تو اس صورت میں عوام اور خواص سب کو جانے سے احتراز کرنا چاہیے،  البتہ اگر پہلے سے معلوم نہ ہو، تو عوام کو کھانے کی گنجائش ہے، البتہ اگر کوئی با اثر مقتدیٰ  شخصیت ہو، اور اسے یقین ہو، کہ اس کی شرکت سے یہ لوگ میوزک وغیرہ بند کریں گے،  تو  گناہ کے سد باب کے لیے جانے اور ٹھرنے کی گنجائش ہے۔
تاہم اگر یہ میوزک وغیرہ کھانا کھانے کی جگہ میں نہ ہو، یا ولیمہ سے پہلے ہوئی ہو، اور اب عین ولیمہ  کے موقع  پر نہ ہو، تو ایسی صورت میں  دعوت میں شرکت کی جا سکتی ہے۔

حوالہ جات:
1. الهداية لعلي بن أبي بكر، كتاب الكراهية، فصل في الأكل والشرب 4/ 365:
   ومن دعي إلى وليمة أو طعام فوجد ثمة لعبا أو غناء فلا بأس بأن يقعد، ويأكل … وهذا إذا لم يكن مقتدى به، فإن كان مقتدى، ولم يقدر على منعهم يخرج، ولا يقعد؛ لأن في ذلك شين الدين، وفتح باب المعصية على المسلمين، والمحكي عن أبي حنيفة رحمه الله في الكتاب كان قبل أن يصير مقتدى به، ولو كان ذلك على المائدة لا ينبغي أن يقعد، وإن لم يكن مقتدى … وهذا كله بعد الحضور، ولو علم قبل الحضور لايحضر.
2. الدر المختار، کتاب الحظر والإباحة 347/6:
وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) لو المنكر في المنزل، فلو على المائدة لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى: – {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} [الأنعام: 68]- (فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدى (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لأن فيه شين الدين والمحكي عن الإمام كان قبل أن يصير مقتدى به (وإن علم أولا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا لأن حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله ابن كمال.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:679
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




زلزلہ کی وجہ سےنماز کو توڑنا:

سوال:
   کوئی شخص باجماعت یا انفرادی طور پر نماز پڑھ رہا ہو اور اچانک زلزلہ شروع ہوجائے تو نماز توڑسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
   بوقتِ زلزلہ اگر نماز نہ توڑنے کی صورت میں اپنی یا کسی اور کی جان یا مال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو نماز توڑنا جائز ہے۔

حوالہ جات:

1. قال الله تعالى:
ولا تلقوا بأيدکم إلې التهلكة.البقرة: ۱۹۵.
2. رد المحتار، باب ما يفسد فيها، وما يكره ۸۹/۱:
   ويباح قطعها لنحو قتل حية، وند دابة، وفور قدر، وضياع ما قيمته درهم، له أو لغيره.


واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:661
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16




معافی مانگنے کے باوجود قطع رحمی کرنے والے کا حکم:

سوال:
   ہمارے ایک بہت قریبی رشتہ دار ہیں، معمولی بات چیت پر ناراضگی بڑھ گئی، ہم نے معافی بھی مانگ لی، لیکن وہ نہ سلام کا جواب دیتے ہیں اور نہ بلانے پر گھر آتے ہیں، اور بار بار کہتے ہیں کہ زندگی میں کبھی تمہاری دہلیز پر قدم نہ رکھوں گا، اُن کے بارے میں شریعت میں کیا حکم ہے؟ جب کہ وہ رشتہ ناطہ بالکل ختم کرنے پر لگے ہوئے ہیں، خود آتے ہیں نہ اپنے بچوں اور بچیوں کو آنے دیتے ہیں.
جواب:
   رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرنے کے بارے میں احادیث مبارکہ میں بڑی تاکید آئی ہے، اور قطع رحمی پر بہت وعیدیں آئی ہیں، اس لیے حتی الامکان رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اس کے باوجود بھی کوئی رشتہ دار اپنی طرف سے قطع رحمی کرے، تو اس گناہ کا وبال اسی پر ہوگا۔

حوالہ جات:
1. صحيح البخاري، كتاب الأدب، باب من وصل وصله الله، الرقم: 5989:
   عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم؛ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الرحم شجنة، فمن وصلها وصلته، ومن قطعها قطعته».
2. المعجم الكبير للطبراني، الرقم: :343:
   عن كعب بن عجرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا أدلكم على خير أخلاق أهل الدنيا والأخرة، من وصل من قطعه، وعفا عمن ظلمه، وأعطى من حرمه» .
3. مسند الإمام أحمد بن حنبل، الرقم: 11107:
   عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يدخل الجنة صاحب خمس، مدمن خمر، ولامؤمن بسحر، ولا قاطع رحم، ولا كاهن، ولا منان.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:656
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-15

 

 




@123 دوران ِ عدت فنڈ وصولی کے لیے گھر سے نکلنا

سوال:
زید سرکاری ملازم تھا اس کا انتقال ہوا اب سرکاری فنڈ وصول کرنے کے لیے زید کی بیوی کا دفتر جانا ضروری ہے، اس کے بغیر وہ رقم کسی اور کو نہیں ملے گی، تو زید کی بیوی عدت کے اندر اس رقم کو وصول کرنے جا سکتی ہے؟

جواب:
عدت وفات گزارنے والی عورت کے لیے ضرورت کی وجہ سے گھر سے نکلنا جائز ہے، لہٰذا مذکورہ عورت فنڈ وصول کرنے کے لیے دن کے وقت دفترجا سکتی ہے۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق زين الدين بن إبراهيم بابن نجيم، كتاب الطلاق، باب العدة 4/ 166:
(قوله: ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا.
و في الدر المختار للحصكفي،كتاب الطلاق، باب العدة 3/ 536:
والمتوفى عنها زوجها تخرج بالنهار لحاجتها ولا تبيت في غير منزلها.
و في مختصر القدوري لأحمد بن محمد القدوري، كتاب الظهار، باب العدة، ص:170:
والمتوفى عنها زوجها تخرج نهارا وبعض الليل ولا تبيت في غير منزلها.
و في المبسوط لشمس الأئمة السرخسي، كتاب الطلاق، باب العدة وخروج المرأة من بيتها 6/ 32:
المتوفى عنها زوجها فلها أن تخرج بالنهار لحوائجها ولكنها لا تبيت في غير منزلها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:653
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-15




حضور ﷺ کا سلسلۂ نسب حضرت آدم ؑ تک بیان کرنا کیسا ہے؟:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ بعض لوگ حضورﷺ کا سلسلۂ نسب حضرت آدم علیہ السلام تک بیان کرتے ہیں، کیا حضور ﷺ کا نسب حضرت آدم علیہ السلام تک صحیح روایات  سے ثابت ہے؟ 
جواب:
   واضح رہے کہ نبی کریم ﷺ کا شجرۂ نسب معد بن عدنان تک صحیح روایات سے ثابت ہے، اور اس سے آگے شجرۂ نسب میں علماء اور مؤرخین  کا اختلاف  ہے، بعض نے حضرت اسماعیل علیہ السلام تک اور بعض نے حضرت آدم علیہ السلام تک بیان کیا ہے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ جب اپنے نسب کو بیان فرماتے تھے، تو عدنان سے تجاوزنہ فرماتے، عدنان تک پہنچ کر رُک جاتے اور یہ فرماتے: ”كَذَبَ النسَّابُونَ“ نسب دان غلط کہتے ہیں، لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ عدنان کے بعد والا نسب نامہ بیان نہ کیا جائے۔

حوالہ جات:
1. صحىیح البخاري، كتاب مناقب الأنصار، باب ما لقي النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه من المشركين بمكة، الرقم: 1637:
   محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصى بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر ابن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان.
2. جمع الجوامع للسيوطي، الرقم: 420:
   عن ابن عباس أن النبى صلى الله عليه وسلم كان إذا انتهى إلى معد بن عدنان أمسك؛ وقال: كذب النسابون، قال: الله تعالى: {وقرونا بين ذلك كثيرا} قال: ابن عباس: لو شاء رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعلمه لعلمه.
3. عمدة القاري لبدر الدين العينى، كتاب المناقب، باب مبعث النبي صلى الله عليه وسلم 16/ 303:
   واقتصر البخاري في ذكر نسبه الشريف على هذا، ولم يذكره إلى آدم عليه السلام؛ لأن أهل النسب أجمعوا عليه إلى هنا، وما وراء ذلك فيه اختلاف كثير جدا، واختلفوا فيما بين عدنان وإسماعيل عليه السلام، من الآباء، فقيل: سبعة آباء بينهما، وقيل: تسعة، وقيل: خمسة عشر أبا، وقيل: أربعون.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:632
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




سلام کے جواب میں ”ومغفرتہ“ کا اضافہ کرنا:

سوال:
   بعض لوگ سلام کا جواب دینے میں “وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته” کے بعد ”ومغفرته“ وغیرہ کا اضافہ کرتے ہیں، تو کیا ان الفاظ کا اضافہ کرنا کسی حدیث سے ثابت ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ سلام کرنے یا اس کا جواب دینے میں ”ومغفرته“ کے الفاظ روایات سے ثابت نہیں، اس لیے سلام کرتے ہوئے یا جواب دیتے ہوئے ”ومغفرته“ کے الفاظ نہیں کہنے چاہیے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب السابع في السلام وتشميت العاطس 5/ 325:
   والأفضل للمسلم أن يقول: السلام عليكم ورحمة الله، وبركاته، والمجيب كذلك يرد، ولا ينبغي أن يزاد على البركات شيء، قال ابن عباس – رضي الله عنهما – لكل شيء منتهى، ومنتهى السلام البركات، كذا في المحيط.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره 6/ 414:
   والأفضل للمسلم أن يقول: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، والمجيب كذلك يرد، ولا ينبغي أن يزاد على البركات شيء اهـ.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:628
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




@123 بھنوؤں کے درمیان بالوں کاٹنا کیسا ہے؟

سوال:
اگر کسی مرد یا عورت کی بھنوویں ملی ہوئی ہوں، تو اس کو الگ کرنے کے لیے درمیان میں سے بال صاف کرنا جائز ہے؟
جواب:
دونوں بھنوؤں کے درمیان بال منڈانا یا کتروانا بغرض حصول زینت جائز نہیں، احادیث میں ایسے لوگوں پر لعنت کی گئی ہے، البتہ بھنوؤں کے بال اس قدر لمبے اور گھنے ہوں کہ معتاد بناوٹ سے تجاوز کرگئے ہوں یا دونوں بھنوؤں کے درمیان کا فاصلہ ختم ہو چکا ہو، تو بقدر ضرورت کچھ خراش تراش کرکے معتاد طریقے کے مطابق بنانے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
لما في صحیح المسلم، کتاب اللباس والزینة، باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة، الرقم 2125:
عن عبد الله، قال: «لعن الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله».
وفي الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس 6/ 372،373:
ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام سواء كان شعرها أو شعر غيرها لقوله – صلى الله عليه وسلم – «لعن الله الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والواشرة والمستوشرة والنامصة والمتنمصة». قال ابن عابدين تحت قوله (والنامصة إلخ) ذكره في الاختيار أيضا وفي المغرب النمص: نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه  بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اهـ، وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ ومثله في المجتبى تأمل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:627
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




@123لے پالک بچی کو باپ کے بجائے اپنی طرف منسوب کرنا

سوال:
ایک بچی کا والد افغان جہاد میں شہید ہو گیاتھا، اور جلد ہی ان کی والدہ فوت ہوگئی، اس بچی کو میری بہن نے گود میں لے لیا، اس بچی کے والد اور والدہ کا نام معلوم نہیں، جس کی وجہ سے میری بہن اور بہنوئی نے اس بچی کو اپنا نام دیا ہے، اس بچی کو اپنے نام سے رجسٹرڈ کیا اور شناختی کارڈ میں بھی اپنا نام والد کی جگہ درج کروایا، اسلامی نقطہ نظر سے رہنمائی درکار ہے۔
جواب:
چونکہ مذکورہ شخص اس بچی کا حقیقی والد نہیں ہے اس لیے بطور والد اس بچی کے کاغذات میں اپنا نام لکھنا درست نہیں، البتہ اس بچی کا شناختی کارڈ وغیرہ بناتے وقت اپنا نام اس کے کاغذات میں بطور سرپرست لکھوانا درست ہے۔

حوالہ جات:
قال الله تعالى: الأحزاب، سورة نمبر 33، آية نمبر 5:
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ.
وفي التفسيرالمظهري، الأحزاب، سورة نمبر 33، آية نمبر 5، 7/ 284:
فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آباءَهُمْ حتى تنسبوا اليه فَإِخْوانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوالِيكُمْ اى فهم إخوانكم فى الدين وأولياءكم فقولوا هذا أخي فى الدين.
وفي صحيح البخاري، كتاب المغازي، باب غزوة الطائف، الرقم: 4326:
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عاصم، قال: سمعت أبا عثمان، قال: سمعت سعدا، وهو أول من رمى بسهم في سبيل الله، وأبا بكرة، وكان تسور حصن الطائف في أناس فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالا: سمعنا النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم فالجنة عليه حرام».

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:625
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-13




تسبیح میں ریشم کے دھاگے کا استعمال کیسا ہے؟:

سوال:
تسبیح میں ریشم کے دھاگے کا استعمال جائز ہے یا ناجائز؟ 
جواب:
جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. مجمع الأنهر عبد الرحمن بن محمد بداماد أفندي،كتاب الكراهية، فصل في اللبس 2/ 534:
   لو صلى على سجادة من الإبريسم لم يكره، فإن الحرام هو اللبس أما الانتفاع بسائر الوجوه، فليس بحرام.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس 6/ 354:
   ولا تكره الصلاة على سجادة من الإبريسم، لأن الحرام هو اللبس، أما الانتفاع بسائر الوجوه، فليس بحرام كما في صلاة الجواهر وأقره القهستاني وغيره قلت: ومنه يعلم حكم ما كثر السؤال عنه من بند السبحة فليحفظ.
3. الاختيار لتعليل المختار لعبد الله بن محمود، كتاب الكراهية 4/ 168:
   (ويحل للنساء لبس الحرير، ولا يحل للرجال إلا مقدار أربع أصابع كالعلم ).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:615
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12