نبی کریمﷺکی تاریخ پیدائش کے بارے میں راجح قول :

سوال:
   نبی کریم ﷺ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں راجح بات کونسی ہے؟
جواب:
   نبی کریم ﷺ جب دنیا میں تشریف لائے اس وقت تاریخ ضبط کرنے کا کوئی خاص اہتمام نہیں تھا، بلکہ اس وقت کسی مشہور واقعے کے اعتبارسے تاریخ ذکر کر دی جاتی تھی، پھر اسلام آنے کے بعد  لوگوں نے تاریخ پیدائش ووفات کا اہتمام شروع کیا، چنانچہ یہ بات تو یقینی ہے کہ نبی کریم ﷺ  کی ولادت  عام الفیل میں پیر کے  دن ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی ہے، لیکن اس دن کونسی تاریخ تھی اس بارے میں مؤرخین کی آرا مختلف ہیں، مشہور قول کے مطابق نبی کریم ﷺ کی ولادت  باسعادت بارہ( 12) ربیع الاول کو ہوئی ہے، بعض محققین نے نو (9) ربیع الاول  کواختیار کیا ہے، جبکہ مولانا ادریس کاندھلویؒ   نے سیرۃ المصطفی نامی کتاب میں اور اکثر محققین نے آٹھ (8) ربیع الاول کو ترجیح دی ہے۔

حوالہ جات:

1. البداية والنهاية ، باب مولد رسول الله صلى الله عليه وسلم 2/ 260:
   وقيل: لثمان خلون منه حكاه الحميدي عن ابن حزم، ورواه مالك وعقيل ويونس بن يزيد وغيرهم عن الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم، ونقل ابن عبد البر عن أصحاب التاريخ أنهم صححوه، وقطع به الحافظ الكبير محمد بن موسى الخوارزمي، ورجحه الحافظ أبو الخطاب بن دحية في كتابه التنوير في مولد البشير النذير.
2. شرح الزرقاني على المواهب لمحمد بن عبد الباقي 1/ 246، 248:
   وقيل: لثمان خلت منه، قال الشيخ قطب الدين القسطلاني: وهو اختيار أكثر أهل الحديث، ونقل عن ابن عباس…  وحكى القضاعي في ”عيون المعارف“ إجماع أهل الزيج عليه، ورواه الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم، وكان عارفًا بالنسب وأيام العرب، أخذ ذلك عن أبيه جبير.
3. الرحيق المختوم لصفي الرحمٰن المباركفوري، ص:45:
   ولد سيد المرسلين صلى الله عليه وسلم شعب بني هاشم بمكة في صبيحة يوم الإثنين التاسع من شهر ربيع الأول، لأول عام من حادثة الفيل، ولأربعين سنة خلت من ملك كسرى أنوشروان، ويوافق ذلك العشرين أو الثاني وعشرين من شهر أبريل سنة 571م.
4. دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة لأبي بكر البيهقي1/ 74:
   أخبرنا أبو الحسين بن الفضل… قال محمد بن إسحاق: ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم، يوم الإثنين، عام الفيل، لاثنتي عشرة ليلة مضت من شهر ربيع الأول.
5. سبل الهدى والرشاد لمحمد بن يوسف الصالحي، الباب الرابع في تاريخ مولده صلى الله عليه وسلم ومكانه1/ 333:
   الصواب: أنه صلى الله عليه وسلم ولد يوم الاثنين… كان مولده صلى الله عليه وسلم في فصل الربيع… قال ابن إسحاق رحمه الله تعالى: عام الفيل. قال ابن كثير: وهو المشهور عند الجمهور.
6. سیرۃ المصطفیٰ از مولانا محمد ادریس کاندھلوی، ولادت باسعادت 52/1۔

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:786
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-27




ہوٹل میں کھانے کی قیمت معلوم کیے بغیر آرڈر دینا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل عام طور پر لوگ ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں اور کھانے کے بعد ہوٹل والے اس کے سامنے کھانے کابِل  بناکر رکھ  دیتے ہیں ، اور یہ اس بل کوادا کرتا ہے، تو کیا شرعا اس طرح کرنا جائز ہے؟
جواب:
   چونکہ اکثر وبیشتر ہوٹلوں میں کھانے  پینے کے اشیاء کی قیمتیں مینیوکارڈ (Menu card)پر لکھی ہوئی ہوتی ہیں یا ہوٹل والوں سے پوچھنے پر بتا دی جاتی ہیں، لوگ آرڈر دے کر کھانا وغیرہ کھاتے ہیں، اور بعد میں ادائیگی کرتے ہیں، اس لیے اگر ریٹ پر تنازع کا اندیشہ نہ ہو تو ریٹ معلوم کرنا ضروری نہیں اور یہ معاملہ شرعا درست ہے، البتہ اگر بعد میں ریٹ پر جھگڑے کا خطرہ ہو، تو ابتداء ہی سے ریٹ معلوم کرنا ضروری ہے، تاکہ بعد میں جھگڑنے کی نوبت پیش نہ آئے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار مع درالمحتار للحصكفي، كتاب البيوع، فروع في البيع 4/ 516:
   ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها، جاز استحسانا.
قال ابن عابدین تحت قوله: ما يستجره الإنسان إلخ) … الأشياء التي تؤخذ من البياع على وجه الخرج كما هو العادة من غير بيع كالعدس والملح والزيت ونحوها ثم اشتراها بعد ما انعدمت صح. اهـ.فيجوز بيع المعدوم هنا. اهـ. قال: بعض الفضلاء: ليس هذا بيع معدوم، إنما هو من باب ضمان المتلفات بإذن مالكها عرفا تسهيلا للأمر، ودفعا للحرج كما هو العادة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:752
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23

 




نئے سال کی مبارک باد دینا:

سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نئے سال کی مبارک  باد دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ ہر وہ کام جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام میں سے کسی سے ثابت نہ ہو، تو ایسے کسی کام کو دین سمجھ کر کرنا بدعت ہے۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں نئے سال کے آغاز مین نئے سال کی مبارک باد دینے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام سے کوئی ثبوت نہیں ملتا، بلکہ یہ غیروں کا طریقہ ہے، اور غیروں کے ساتھ تشبہ ممنوع ہے۔ نیز رفتہ رفتہ اس کے بدعت کی صورت بننے کا اندیشہ بھی ہے، لہٰذا اس سے بچنا چاہیے، البتہ سال یا مہینہ کے شروع میں یہ دعاپڑھنا ثابت ہے:
اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ، وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَان

حوالہ جات:
1. صحيح البخاري، كتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، الرقم: 2697:
عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد».
2. المعجم الأوسط للطبراني، باب الميم، من اسمه محمد، الرقم: 6241:
عن أبي عقيل زهرة بن معبد، عن جده عبد الله بن هشام قال: «كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن، والإيمان، والسلامة، والإسلام، ورضوان من الرحمن، وجواز من الشيطان».

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:751
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23




حجام کا ہدیہ قبول کرنا کیسا ہے؟:

سوال:
   حجام داڑھی کاٹنے پر جو مزدوری لیتا ہے، اگر اس مزدوری سے وہ کسی کو ہدیہ دینا چاہیے، تو دے سکتا ہے یا نہیں؟ 
جواب:
   واضح رہے کہ ايک مٹھی سے کم داڑھی کاٹنا اور اس پر مزدوری لینا دونوں حرام ہیں، اس لیے اگر حجام خاص اسی حرام رقم سے ہدیہ دے، یا اس کی اکثر کمائی حرام کی ہے، تو ایسی صورت  میں اس سے ہدیہ قبول کرنا درست نہیں، اور اگر اس کی اکثر کمائی حلال کی ہو، اور وہ مجموعی رقم سے ہدیہ دے، یا تصریح کردے کہ یہ ہدیہ حلال مال سے ہے، تو ایسی صورت میں اس سے ہدیہ قبول کرنا درست ہے۔

حوالہ جات:
1. الميحط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل السابع عشر في الهدايا والضيافات 5/ 230:
   رجل أهدى إلى إنسان، أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل، ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه، أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال، فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام، وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام، وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب، ويبنى الحكم عليه.
2. وفيه أيضا، كتاب الإجارات، فصل في بيان ما يجوز من الإجارات وما لا يجوز 7/ 482:
   لا تجوز الإجارة على شيء من اللهو والمزامير والطبل وغيره؛ لأنها معصية والإجارة على المعصية باطلة؛ ولأن الأجير مع المستأجر يشتركان في منفعة ذلك فتكون هذه الإجارة واقعة على عمل هو فيه شريك.
3. العرف الشذي للكشميري، كتاب الآداب، باب ماجاء في تقليم الأظفار 4/ 162:
   وأما تقصير اللحية بحيث تصير قصيرة من القبضة، فغير جائز في المذاهب الأربعة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:728
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23




نا فرمان بیٹے کی اصلاح کس طرح کی جائے؟:

سوال:
   ميرا لڑكا زيد اپنے ہم جوليوں کے غلط صحبت كی وجہ سے متاثر ہونے کی وجہ سے میری بات نہیں مانتا، مجھے دکھ پہنچاتا ہے، کئی علماء کرام سے فتوی لے کر بھی اور ویسے ملاقات کے ذریعے بھی اس کو سمجھایا، لیکن وہ مانتا نہیں، آپ اس کے بارے میں بتائیں کہ شریعت کا ایسے لڑکے کے بارے میں کیا حکم ہے جو اپنے باپ کو ستاتا ہو؟
جواب:
   نافرمان اولاد کو سمجھانے کے لیے کسی بھی اصلاحی صورت کو اختیار کرنا درست ہے، مثلا ان کو کسی اللہ والے کی خدمت میں لے جانا تاکہ وہ ان کے لیے دعا کرے، جیسے کہ صحابہ کرام اپنی اولاد کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے جایا کرتے تھے، ایسے ہی رات کو اٹھ کراس کے لیے دعا بھی مانگنی چاہیے، لیکن اس سلسلہ میں  زیادہ سختی نہیں کرنی چاہیے، ورنہ بعض اوقات بجائے اصلاح کے مزید نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

حوالہ جات:

1. قال الله تعالى:
   وَوَصَّيْنَا الاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسَانًا… رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰهُ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّيَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَيْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ﴾ (الأحقاف:۱۵)
2. سنن الترمذي، كتاب الزكاة،  باب ما جاء في أدب الولد، الرقم: 1952:
   عن أيوب بن موسى، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قال: ما نحل والد ولدا من نحل أفضل من أدب حسن.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:727
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23




نابالغ بچے کی زمین فروخت کرنے کاحکم:

سوال:
    کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر نابالغ بچے  کی زمین اس کے ولی نے فروخت کردی، تویہ  شرعا یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   اگر نابا لغ بچے  کی کسی ضرورت کی بنياد پر اس کا ولی اس کی زمین مارکیٹ ریٹ کے مطابق فروخت کردے، تو یہ جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. الهداية لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب الوصايا، باب الوصي وما يملكه 4/ 543:
   ولا يجوز بيع الوصي ولا شراؤه إلا بما يتغابن الناس في مثله، لأنه لا نظر في الغبن الفاحش، بخلاف اليسير، لأنه لا يمكن التحرز عنه، ففي اعتباره انسداد بابه.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب القضاء، مطلب في حبس الصبي 5/ 426:
   (قوله: ولو مصلحا) إنما ذكره؛ لأنهم صرحوا بأن شرط بيع الأب عقار الصغير بمثل القيمة كونه محمودا أو مستورا، فلو كان مفسدا، لا يجوز إلا بضعف القيمة.
3. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب البيوع، فصل في شرائط النفاذ ومنها الولاية 5/ 153:
   وليس له أن يبيع ماله بأقل من قيمته قدر ما لا يتغابن الناس فيه عادة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:719
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22




@123میت کو دفن کرنے کے بعد قبر میں اذان دینا

سوال:
قبر میں میت دفن کرنے کے بعد اذان دینے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
قبر میں میت کو دفن کرنے کے بعد اذان دینا نبی کریمﷺ یا ان کے صحابہ سے ثابت نہیں، اس لیے قبر میں دفنانے سے پہلے یا بعد میں  اذان دینا بدعت ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز 3/ 166:
في الاقتصار على ما ذكر من الوارد إشارة إلى أنه لا يسن الأذان عند إدخال الميت في قبره، كما هو المعتاد الآن، وقد صرح ابن حجر في فتاويه بأنه بدعة، وقال: ومن ظن أنه سنة قياسا على ندبهما للمولود إلحاقا لخاتمة الأمر بابتدائه، فلم يصب.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب  الصلاة، باب الأذان 1/ 445:
ورأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود والمهموم والمفزوع والغضبان ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش وعند الحريق، قيل: وعند إنزال الميت القبر قياسا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر، شرح العباب.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:716
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22




مسجد میں نماز کےلیے جگہ مختص کرنا کیسا ہے؟:

سوال:
   ایک مسجد میں دو بوڑھے حضرات نے اپنےلیے امام کے پیچھے جگہ مخصوص کی ہے، اس جگہ میں ان کے علاوہ کوئی اور کھڑا نہیں ہوسکتا ،تو ان کا یہ عمل جائز ہے؟
جواب:

   مسجد میں نماز کے لیے کسی جگہ کو اس طور پر خاص کرنا کہ کسی اور کو وہاں بیٹھنے ہی نہ دیا جائے ممنوع ہے، تاہم اگر کوئی شخص کسی جگہ نماز کے لیے بیٹھ گیا، اور کسی عذر سے وہاں سے چلا گیا، تو واپس آنے تک وہ اس جگہ کا حقدار ہے، کسی اور کے لیے وہاں اس کی اجازت کے بغیر بیٹھنا درست نہیں ۔

حوالہ جات:
1. سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود، الرقم: 862:
عن عبد الرحمن بن شبل، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نقرة الغراب وافتراش السبع، وأن يوطن الرجل المكان في المسجد، كما يوطن البعير».
2. بذل المجهود للشيخ خليل أحمد السهارنفوري، كتاب الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود 4/ 330:
وعندي في النهي عن توطين الرجل مكانا معينا في المسجد وجه آخر، وهو أنه إذا وطن المكان المعين في المسجد يلازمه، فإذا سبق إليه غيره يزاحمه، ويدفعه عنه، وهو لا يجوز؛ لقوله عليه السلام: لا، مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ، فكما هو حكم مِنًى، فهو حكم المسجد، فمن سبق إلى موضع منه، فهو أحق به، فعلى هذا لو لازم أحد، أن يقوم خلف الإمام قريبا منه لأجل حصول الفضل، وسبق إليه من القوم أحد، لا يزاحمه، ولا يدافعه، فلا يدخل في هذا النهي.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، وما يكره فيها 2/ 523:
   ويحرم فيه السؤال، ويكره الإعطاء مطلقا، وقيل: إن تخطى، وإنشاد ضالة، أو شعر…وتخصيص مكان لنفسه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:709
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-22




لقطہ کا حکم:

سوال:
   ایک مسجد میں تبلیغ والوں کا ایک بسترہ رہ گیا ہے، اب تقریبا  ایک مہینہ گزر گیا، لیکن نہ وہ خود پوچھتا ہے اور نہ اس کا کوئی پتہ معلوم ہے، تو شرعا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   گم شدہ چیز کو لقطہ کہا جاتا ہے، اس لیے یہ بسترہ بھی لقطہ کے حکم میں ہے،  چنانچہ اگر اس کا مالک معلوم نہ ہو،اور تلاش کے باوجود نہ مل سکے، تو مالک کی طرف سے اس کو صدقہ کرلینا چاہیے، اگر اٹھانے والا خود غریب ہے، تو وہ خود بھی اس کو استعمال کرسکتا ہے، تاہم اگر صدقہ کرنے کے بعد اس کا مالک مل گیا اور وہ اس صدقہ پر رضامند تھا تواچھی بات ہے، ورنہ اس کو اس بستر کی قیمت ادا کرنی پڑے گی اور وہ صدقہ اس اٹھانے والے کی طرف سے ہوجائےگا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب اللقطة 4/ 280:
   (وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها، وفي الجامع (إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالأطعمة) والثمار…(فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا، وإلا تصدق بها على فقير، ولو على أصله وفرعه وعرسه … (فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة فعله، ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه).
2. الهداية لعلي بن أبي بكرالمرغيناني، كتاب اللقطة 2/ 420:
   وإن كان الملتقط فقيرا فلا بأس بأن ينتفع بها لما فيه من تحقيق النظر من الجانبين، ولهذا جاز الدفع إلى فقير غيره، وكذا إذا كان الفقير أباه أو ابنه أو زوجته وإن كان هو غنيا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:706
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-21




مرنے کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینا یا چہرے کو دیکھنا:

سوال:
   مرنے کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینا یا ایک دوسرے کے چہرے کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
    واضح رہے کہ شوہر کا انتقال ہوجائے تو بیوی کے لیے اس کا چہرہ دیکھنا ، نہلانا اور کفن پہنانا جائز ہے، لیکن اگر  بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کے لیے اس کو نہلانا، اس کا بدن چھونا درست نہیں، البتہ اس کا چہرہ دیکھنا اور جنازہ اٹھانا جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار مع رد المحتار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة 2/ 198:
   (ويمنع زوجها من غسلها ومسها، لا من النظر إليها على الأصح) … (وهي لا تمنع من ذلك).
   قال: ابن عابدين: ولعل وجهه أن النظر أخف من المس، فجاز لشبهة الاختلاف.
2. الأصل لمحمد بن الحسن لشيباني، كتاب الاستحسان 3/ 57:
   ولا بأس بأن ينظر إلى وجهها، وإلى كفها، ولا ينظر إلى شيء غير ذلك منها، وهذا قول أبي حنيفة.
3. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، فصل بيان الكلام فيمن يغسل 1/ 304:
   والنكاح بعد الموت باق إلى وقت انقطاع العدة، بخلاف ما إذا ماتت المرأة حيث لا يغسلها الزوج؛ لأن هناك انتهى ملك النكاح لانعدام المحل، فصار الزوج أجنبيا فلا يحل له غسلها، واعتبر بملك اليمين حيث لا ينتفي عن المحل بموت المالك، ويبطل بموت المحل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:692
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16