قربانی کا گوشت امام مسجد کو کھلانا کیسا ہے؟:

سوال:
   ہمارے علاقے میں عام طور پر ائمہ حضرات کو محلے والے جو کھانا کهلاتے ہیں، وہ ”المعروف کالمشروط“ کے قاعدے کے مطابق اجرت کا حصہ ہوتا ہے، صدقہ اور تبرع اس لیے نہیں ہے، کہ اگر باری والے کھانا لانا بھول جائے، یا اچھا کھانا نہ پکائے، تو لوگ بھی برا بھلا کہتے ہیں، اور امام صاحب بھی ناراض ہوتےہیں، اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا قربانی کا گوشت ائمہ کو کھلا سکتے ہيں یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ قربانی کا گوشت کسی کو بطور اجرت کھلانا اگرچہ جائز نہیں لیکن محلہ والوں  کا پیش امام کو قربانی کا گوشت  کھلانا اجرت یا تنخوا کی  بنیاد پر نہیں ہوتا،  بلکہ ایک وعدہ کی شکل میں  تبرع اور احسان کے طور پر ہوتا ہے، لہذا محلہ والوں کا  پیش امام کو قربانی کا گوشت کھلانا یا دینا درست ہیں۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار، فروع 329/6:
ولا يعطى أجر الجزار منها «لقوله – عليه الصلاة والسلام – لعلي – رضي الله عنه – تصدق بجلالها وخطامها ولا تعط أجر الجزاز منها شيئا»
2. فتح القدير لابن الهمام، كتاب الأضحىة 9/ 532:

   (ویأكل من لحوم الأضحية، ويطعم الأغنياء، ويدخر) لقوله عليه السلام:كنت نهيتكم عن أكل لحوم الأضاحي، فكلو منها، وادخرو، ومتى جاز أكله، وهو غني جاز أن يؤكله غنيا.
3. درر الحكام شرح مجلة الأحكام لعلي حيدر خواجه أمين أفندي 57/1:
فالتبرع هو إعطاء الشيء غير الواجب، إعطاؤه إحسانا من المعطي.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:117
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-5




قبرستان میں جوتے پہن کر چلنا:

سوال:
   کیا قبرستان میں جوتے پہن کر چلنا شرعا جائز ہے؟
جواب:
   قبرستان میں بنے ہوئے راستوں میں جوتیاں پہن کر چلنا جائز ہے، البتہ اگر یہ ظن غالب ہو کہ یہ راستے قبروں کے اوپر بنائے گئے ہیں، جن میں مردے موجود ہوں گے، اور ننگے پیرچلنے ميں زیادہ دشواری نہ ہو تو ایسی صورت میں جوتیوں سمیت قبرستان میں چلنا قبروں کی بے احترامی کی وجہ سے مکروہ ہوگا، لیکن اگر ان راستوں کے نیچے قبریں موجود نہ ہوں تو ایسی صورت میں جوتوں سمیت چلنے میں مضائقہ نہیں۔

حوالہ جات:
1. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، فصل في زيارة القبور، ص: 623:
   (و) کرہ (وطؤھا) بالأقدام؛ لما فيه من عدم الاحترام، وأخبرني شيخي العلامة محمد بن أحمد الحموي الحنفي رحمه الله: بأنهم يتأذون بخفق النعال … ولو وجد طريقا في المقبرة، وهو يظن أنه طريق أحدثوا، لا يمشي في ذلك، وإن لم يقع ذلك في ضميره، لا بأس بأن يمشي فيه.
   قال الطحطاوي: تحت (قوله: أنه طريق أحدثوا) أي: وتحته الأموات، كما قيد به بعضهم.
2. فتاوى قاضيخان لحسن بن منصور الأوزجندي، كتاب الصلاة، باب في غسل الميت إلخ 1/ 172:
   ولو وجد طريقا في المقبرة، وهو يظن أنه طريق أحدثوا، لا يمشي في ذلك، وإن لم يقع ذلك في ضميره، لا بأس بأن يمشي فيه.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب الصلاة الجنازة 3/ 183:
   يكره المشي في طريق ظن أنه محدث، حتى إذا لم يصل إلى قبره إلا بوطء قبر، تركه.
4. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الفصل السادس في المقبرة والدفن والنقل من مكان إلى آخر 1/ 167:
   والمشی فی المقابرة بنعلين لا يكره عندنا، كذا في السراج الوهاج.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:114
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-10-3