قسم کھا کر بعد میں اس کی خلاف ورزی کرنا:

سوال:
   اظہر نے زید کو اپنی زمین کسی کو اجارہ پر دینے کے لیے کہا، ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آپ کو کمیشن ملے گا، پس زید نے زمین تیس ہزار(30000) روپے کے عوض اجارہ پر دے دی، اور دونوں کے مابین سات ہزار(7000) روپے کمیشن پر بات طے ہوئی، اس طرح یہ معاملہ تین مہینے جاری رہا، بعد میں مستاجر نے اظہر کو قسم کھانے پر مجبور کیا، کہ آپ کسی کو کمیشن نہیں دیں گے، اور اظہر نے قسم کھائی، اب پوچھنا یہ ہے کہ اظہر زید کو کمیشن دے سکتا ہے یا نہیں، نیز یہ بھی واضح کردے کہ اگر قسم کے بعد اظہر نے کمیشن دے دی، تو شریعت کی رو سے کیا حکم لاگو ہوگا؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں جب مستاجر نے اظہر کو قسم کھانے پر مجبور کیا کہ آپ کسی کو کمیشن نہیں دیں گے، اور اظہر نے قسم کھالی تو اظہر زید کو کمیشن نہیں دے سکتا، اگر اس نے کمیشن دے دی تو اس پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا۔

حوالہ جات:
1. قال الله  تعالیٰ:
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ. [المائده: 5/ 89]
2. الاختيار لتعليل المختار لعبد الله بن محمود الموصلي، كتاب الأيمان 4/ 50:
قال: ( اليمين بالله تعالى ثلاثة : غموس: وهي الحلف على أمر ماض أو حال يتعمد فيها الكذب فلا كفارة فيها، ولغو : وهي الحلف على أمر يظنه، كما قال وهو بخلافه، فنرجوأن لايؤاخذه الله بها، ومنعقدة : وهي الحلف على أمر في المستقبل ليفعله أو يتركه ) فإذاحنث، فيها فعليه الكفاره.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:239
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانا کیسا ہے؟:

سوال:
   آج کل ہمارے عرف میں کسی شخص کو کسی کام كے کرنے یا نہ کرنے پر آماده كرنے ليے قرآن مجید پر ہاتھ رکھواکر قسم لی جاتی ہے، تو کیا قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم لینے سے قسم منعقد ہوجاتی ہے؟
جواب:
   قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر اگر قسم کھائے مثلا یوں کہے کہ مجھے اس قرآن کی تو اس سے قسم منعقد ہوجاتی ہے، البتہ اگر صرف قرآن پاک پر ہاتھ رکھے، لیکن زبان سے قسم کے الفاظ ادا نہ کرے تو اس سے قسم منعقد نہیں ہوتی اور خلاف ورزی کی صورت میں قسم کا کفارہ بھی لازم نہیں آتا۔ 

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الأيمان 3/ 712:
   فإن الأيمان مبنية على العرف، فما تعورف الحلف به فيمين وما لا فلا، (لا) يقسم (بغير الله تعالى كالنبي والقرآن والكعبة) قال الكمال: ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا، وأما الحلف بكلام الله فيدور مع العرف، وقال العيني: وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا.
   قال ابن عابدين تحت قوله: (وقال العيني إلخ) عبارته: وعندي لو حلف بالمصحف أو وضع يده عليه وقال: وحق هذا فهو يمين، ولا سيما في هذا الزمان الذي كثرت فيه الأيمان الفاجرة، ورغبة العوام في الحلف بالمصحف، وأقره في النهر.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الأيمان، الباب الثاني، الفصل الأول 2/ 53:
   وقال: محمد بن مقاتل الرازي لو حلف بالقرآن قال: يكون يمينا، وبه أخذ جمهور مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المضمرات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:238
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




تلاوت کا اجر حاصل کرنے کے لیےقرآن کا ترجمہ پڑھنا:

سوال:
   قرآن مجید کی تلاوت کی بجائے اگر قرآن مجید کا اردو ترجمہ ترتیب وار پڑھا جائے تو ثواب ملے گا؟ کیونکہ اگر اردو کو عربی میں منتقل کردیا جائے، تو قرآن مجید بن جاتا ہے۔
جواب:
   قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے، اور اس کے ہر لفظ کی تلاوت پر دس نیکیوں کا وعدہ ہے، ظاہر ہے کہ اس کے ترجمہ پر یہ اجرثواب نہیں، اس لیے قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب تو عربی الفاظ کی تلاوت پر ہی ملے گا، ترجمہ کے ذریعہ مفہوم سمجھنے کا ثواب ملے گا، قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا ثواب نہیں ملے گا ۔

حوالہ جات:
1. سنن الترمذي، كتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فيمن قرأ حرفا من القرآن ماله من الأجر، الرقم: 2910:
   محمد بن كعب القرظي يقول: سمعت عبد الله بن مسعود يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قرأ حرفا من كتاب الله فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول الم حرف، ولكن ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف».
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، فروع قرأ بالفارسية أو التوراة أو الإنجيل 1/ 485:
   أن الفارسي ليس قرآنا أصلا لانصرافه في عرف الشرع إلى العربي، فإذا قرأ قصة صار متكلما بكلام الناس.
3. المجموع شرح المهذب للنووي،كتاب الصلاة، في مسائل متعلقة بالتعوذ 3/ 380:
   ترجمة القرآن ليست قرآنا بإجماع المسلمين ومحاولة الدليل لهذا تكلف، فليس أحد يخالف في أن من تكلم بمعنى القرآن بالهندية ليست قرآنا، وليس ما لفظ به قرآنا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:200
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-14

 




ڈرائیور حضرات کا ہوٹلوں میں مفت کھانا کھانا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علمائے  کرام اس بارے میں کہ ڈرائیور حضرات دوران سفر کسی ہوٹل کے سامنے گاڑی کھڑی کر لیتے ہیں تاکہ سواریاں وہاں کھانا کھا سکے، تاہم ایسے موقع پر ہوٹل والے ڈرائیور اور گاڑی کے عملہ کو مفت کھانا کھلاتے ہیں،تو اس طرح کرنا شرعا ًدرست ہے یا  نہیں؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں ڈرائیور حضرات کو مفت کھانا کھلانے کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ تبرعا واحسانا کھلاتے ہوں، لیکن اس کی توقع ہوٹل والوں سے رکھنا ممکن نہیں، دوسری یہ کہ بطور رشوت کھلاتے ہوں تو یہ بھی ناجائز ہے، تیسری یہ کہ بطور کمیشن کھلاتے ہوں تو یہ بھی ناجائز ہے کیونکہ کمیشن متعین ہونی چاہیے جبکہ کھانا کھلانے کی صورت میں کمیشن مجہول ہے، لہذا ڈرائیور حضرات کے لیے مفت کھانا کھانا شرعا درست نہیں۔

حوالہ جات:
1. سنن ابن ما جه، باب الحاكم يجتهد فيصيب الحق 3/ 411، تحت الرقم 2313:
   عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعنة الله على الراشي والمرتشي.
2. البحر الرائق لابن نجیم، كتاب الإجارة 7/297:
   وشرطها أن تكون الأجرة والمنفعة معلومتين لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:191
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 




اپنے نام کے ساتھ دیوبندی ، بر یلوی وغیرہ لکھنا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اپنے نام کے ساتھ دیوبندی، بریلوی، سلفی، چشتی، قادری، نعمانی، وغیرہ لکھنا کیسا ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے فرقہ واریت کی بو آتی ہے آیا یہ فرقہ واریت ہیں؟
جواب:
   اس قسم کے الفاظ لکھنے سے اگر مقصود ایک خاص مکتب فکر کی نمائندگی کی طرف اشارہ کرکے اپنا تعارف ہو تو گنجائش ہوسکتی ہے، تاہم آج کل ان میں سے بعض الفاظ ایسے ہیں جن سے مسلمانوں میں تفرقہ بازی کو فروغ ملتا ہے، جیسے دیوبندی، بریلوی، سلفی وغیرہ،  تو ان الفاظ سے اس لحاظ سے بچنا اہم ہے کہ ان سے فرقہ واریت پھیلتی ہے اور مسلمانوں کی گروپ بندی ہوتی ہے، جبکہ اسلام میں گروپ بندی اور فتنہ بازی سے  منع کیا گیا ہے۔

حوالہ جات:
1. قال اللہ تعالی: 
   يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ.(الحجرات 13/ 49).
2. سنن أبي داود لسليمان بن الأشعث السجستاني، كتاب الأدب، باب في العصبيه، 7/ 441، تحت الرقم: 5121:
   عن جبير بن مطعم، أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: ليس منا من دعا إلى عصبية، وليس منا من قاتل على عصبية، وليس منا من مات على عصبية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:190
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13

 




کیا حدود اسلامی نظام کا حصہ ہے؟:

سوال:
   ایک مولوی صاحب نے یہ بات کہی ہے کہ حدود اسلامی نظام کا حصہ نہیں ہے، یہ اسلامی نظام کے چلانے کے لیے قائم کی گئی ہے اور مثال بھی دی کہ جیسا کسی سکول میں سزا وغیرہ سکول کے نصاب کا حصہ نہیں ہوتا ہے، اسی طرح یہ حدود بھی ہیں، کیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟ 
جواب:
   جس طرح اعتقادات، معاملات اور عبادات اسلام کا حصہ ہے اور ان کو ویسے ہی بجا لانا ضروری ہے جس طرح ان کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح حدود وقصاص بھی باقاعدہ اسلامی نظام کا حصہ ہے، اور ان کو اسی طرح نافذ کرنا یا بجا لانا ضروری ہے جس طرح کہ اسلام نے ان کا حکم دیا ہے، حاکم وقت کی رائے سے ان میں تبدیلی وغیرہ کرنا درست نہیں۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة 1/ 79:
   اعلم أن مدار أمور الدين على الاعتقادات، والآداب، والعبادات، والمعاملات، والعقوبات … والعقوبات خمسة: القصاص، وحد السرقة، والزنا، والقذف، والردة.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطهارة 1/ 19:
   اعلم أن مدار أمور الدين متعلق بالاعتقادات، والعبادات، والمعاملات، والمزاجر، والآداب.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:189
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-13