داڑھی میں سٹائل بنانا:

سوال:
   داڑھی میں سٹائل کرنے والے کو کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ’’یا تو پوری اور صحیح داڑھی رکھو یا ٹھیک طرح حجامت کرو‘‘ تو کیا اس کا یہ کہنا درست ہے؟
جواب:
   داڑھی رکھنا تمام انبیاء کرام کی سنت ہے، اس وجہ سے جمہور علماء امت کے نزدیک ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے، اور اس کو منڈوا کر یا کتروا کر ایک مشت سے کم کرنا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، نیز اس میں سٹائل اور ڈیزائن بنانا بھی ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، بلکہ اس کی قباحت اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ اس میں ایک طرح سنت کی حقارت بھی پائی جاتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں اس شخص کا یہ کہنا کہ ’’یا تو پوری داڑھی رکھو یا ٹھیک حجامت کرو‘‘ اس لحاظ سے درست ہے، کہ وہ ڈیزائن وغیرہ بنا کر دوہرے گناہ سے محفوظ ہوجائے۔

حوالہ جات:
1. صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، الرقم:261:
    عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء” قال زكريا: قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة زاد قتيبة، قال وكيع: ” انتقاص الماء: يعني الاستنجاء “.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الجهاد، باب المرتد 4/224:
   إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنعه فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم،  زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر، فلا ينفعه التأويل ح، وفي التتارخانية: لا يكفر بالمحتمل؛لأن الكفر نهاية في العقوبة،  فيستدعي نهاية في الجناية، ومع الاحتمال لا نهاية اهـ والذي تحرر أنه لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف، ولو رواية ضعيفة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:520
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03




شب جمعہ کواجتماعی شکل میں بآواز بلندسورۂ ملک کی تلاوت کرنا:

سوال:
   شب جمعہ کو امام کا مقتدیوں کی طرف منہ کرکے سورۂ ملک پڑھنا لازم ہے، یا مستحب ہے، یا بدعت؟
جواب:
   سورۂ ملک پڑھنے کی مختلف احادیث میں ترغیب آئی ہے اور اس کے مختلف فضائل ذکر کیے گئے ہیں، تاہم اس کے لیے شب جمعہ کوخاص کرکے اجتماعی شکل میں پڑھنا کسی حدیث یا صحابہ کرام کے عمل سے ثابت نہیں، اس لیے اس عمل کو کار ثواب سمجھ کر اہتمام کے ساتھ کرنا بدعت ہے، جس سے اجتناب ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. صحيح البخاري، باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، الرقم: 1211:
   عن عائشة رضي الله عنها قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد.
2. سنن أبي داؤد، كتاب الصلاة، أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله، الرقم:1400: 
   عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” سورة من القرآن ثلاثون آية، تشفع لصاحبها حتى يغفر له: تبارك الذي بيده الملك “.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:455
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-27




شرکیہ عقیدہ کا باعث بننے والے درخت کو کاٹنا کیسا ہے؟

سوال:
   قبرستان میں کسی پیر صاحب کی قبر کے پاس کوئی درخت ہو، اور اس درخت سے متعلق لوگوں کا عقیدہ ہو کہ جو شخص اس درخت کو ہاتھ لگائے گا یا اس کے کاٹنے کا ارادہ کرے گا، تو اس پر کوئی آفت آئے گی تو آیا لوگوں کے شرکیہ عقیدہ کو ختم کرنے کے لیے اس درخت کا کاٹنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب:
   اگر مذکورہ درخت کے بارے میں واقعی لوگوں کا اس قسم کا شرکیہ عقیدہ بن چکا ہو، تو اس درخت کو کاٹنا ضروری ہے، جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیعتِ رضوان والے درخت کے بارے میں کچھ لوگوں کا غلط عقیدہ بن گیا تھا، تو انہوں نے اس درخت کو کاٹنے کا حکم دیا تھا۔

حوالہ جات:
   مصنف ابن ابي شيبة كتاب صلاة التطوع والإمامة وأبواب متفرقة، في الصلاة عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم وإتيانه، الرقم : 7545:
   عن نافع، قال: بلغ عمر بن الخطاب أن ناسا يأتون الشجرة التي بويع تحتها، قال: فأمر بها فقطعت.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:392
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-19




مسجد کے باتھ رومز کسی عیسائی کو ٹھیکہ پر دینا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بازار میں 3 منزلہ مسجد ہے، اس کی دوسری منزل میں سبیل اور وضو خانوں کے ساتھ باتھ رومز ہیں، بازار کے لوگ ان کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں، جس سے مسجد میں گندگی اور بدبو پھیلتی ہے، انتظامیہ والے بھی تھک گئے، اب انتظامیہ والوں نے یہ مشورہ کیا ہے کہ یہ باتھ رومز کسی عیسائی کو ٹھیکہ پر دے دیے جائیں، اور وہ اس کے عوض میں سبیل، باتھ رومز اور استنجا خانوں کی صفائی کا کام کریں؟ اب پوچھنا یہ کہ مسجد کے انتظامیہ کا ان باتھ روموں کو ٹھیکے پر دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور غیر مسلم عیسائی وغیرہ کا مسجد کے وضو خانہ میں آنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جائز اور ناجائز، افضلیت اور غیر افضلیت۔
جواب:
   مذکورہ معاملہ شرعا درست نہیں کیونکہ اس کا جو معاوضہ مقرر کیا گیا ہے کہ اس کے بدلے وہ عیسائی وضوخانہ وغیرہ کی صفائی کرے گا یہ اجرت مجہول ہے، لہذا اس کی درست صورت یہ ہے کہ مسجد کے باتھ رومز اس کو متعین اجرت پر دیے جائیں اور وہ رقم مسجد کے فنڈ میں جمع کی جائے، باقی مسجد کے وضو خانہ وغیرہ کی صفائی کے لیے کسی مسلمان کو رکھا جائے تو زیادہ مناسب ہے کیونکہ کسی غیر مسلم کا مسجد کی حدود میں داخل ہونا احتیاط کے خلاف ہے۔  

حوالہ جات:
1. الهداية للمرغيناني، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة 3/ 238:
   قال: ويجوز أخذ أجرة الحمام والحجام، أما الحمام فلتعارف الناس ولم تعتبر الجهالة لإجماع المسلمين. قال عليه الصلاة والسلام: ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، فصل في أحكام المسجد 2/ 461:
   وللمتولي أن يستأجر من يخدم المسجد، يكنسه، ونحو ذلك بأجر مثله أو زيادة يتغابن فيها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:298
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-10




کیا فرشتوں کو گالی دینے والا اسلام سے خارج ہے؟

سوال:
   ایک شخص کی ماں فوت ہوئی، تو اس نے عزرائیل علیہ السلام کو گالی دی، اور کہا کہ عزرائیل کو صرف ہمارا ہی گھر معلوم ہے، اور صرف ہمارے ہی گھر کو دیکھا ہے، تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب:
    فرشتے چونکہ اللہ کی برگزیدہ مخلوق ہے اس لیے ان کا احترام ہرمسلمان پر لازم ہے اور ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرنے یا گالی دینے سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، لہٰذا شخص مذکور کو چاہیے کہ اللہ تعالی کےحضور توبہ واستغفار کرے اور تجدید ایمان بھی کرے، اگر شادی شدہ ہے، تو تجدید نکاح بھی کرے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، باب المرتد 4/ 235:
   قوله: وأن شتم الملائكة كالأنبياء) هو مصرح به عندنا، فقالوا: إذا شتم أحدا من الأنبياء أو الملائكة كفر، وقد علمت أن الكفر بشتم الأنبياء كفر ردة فكذا الملائكة، فإن تاب فبها وإلا قتل.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب المرتدين 5/ 131:
   فيكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أوأنكر وعده، أو وعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص، … وبعيبه ملكا من الملائكة، أو الاستخفاف به.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:286
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-08




دھوپ سے گرم شدہ پانی کا استعمال کیسا ہے؟

سوال:
   احادیث میں دھوپ سے گرم شدہ پانی کے استعمال سے ممانعت آئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ پانی جو ٹینکی کے اندر ہو، دھوپ لگنے کی وجہ سے گرم ہوگیا ہو، وہ اس ممانعت میں داخل ہے یا نہیں؟
جواب:
   دھوپ سے گرم شدہ پانی کو بوقتِ ضرورت وضو، غسل وغیرہ کے لیے استعمال کرنا جائز ہے، تاہم گرم ملک، گرمی کے موسم میں، سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم شدہ پانی گرم حالت میں استعمال کرنا مکروہ ہے، کیونکہ بعض احادیث میں اس قسم کے پانی کے استعمال سے ممانعت آئی ہے، اور اس سے برص کی بیماری پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، لیکن یہ ممانعت طبی لحاظ سے ہے نہ کہ شرعی، نیز اس سے براہِ راست دھوپ سے گرم شدہ یا ٹینکی میں گرم شدہ دونوں طرح کا پانی مراد ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب المياه 1/ 180:
   (قوله: قصد تشميسه بلا كراهة) قيد اتفاقي؛ لأن المصرح به في كتب الشافعية أنه لو تشمس بنفسه كذلك، … وذكر شروط كراهته عندهم، وهي أن يكون بقطر حار وقت الحر في إناء منطبع غير نقد، وأن يستعمل وهو حار… وفي القنية: وتكره الطهارة بالمشمس، (لقوله صلى الله عليه وسلم لعائشة رضي الله عنها حين سخنت الماء بالشمس لا تفعلي يا حميراء، فإنه يورث البرص) … وفي الغاية: وكره بالمشمس في قطر حار في أوان منطبعة، واعتبار القصد ضعيف، وعدمه غير مؤثر، فقد علمت أن المتعمد الكراهة عندنا لصحة الأثر وأن عدمها رواية، والظاهر أنها تنزيهية عندنا أيضا.
2. مرقاة المفاتيح لملا علي القاري، كتاب الطهارة، باب أحكام المياه 2/ 459:
   (وعن عمر بن الخطاب قال: لا تغتسلوا بالماء المشمس) : وهو أن يوضع الماء في الشمس ليسخن، كذا قيل، وظاهره الإطلاق، فيشمل ما وضع وغيره، وقال ابن حجر: أي: المشمس في إناء منطبع، وهو ما يمتد تحت المطرقة من غير النقدين في قطر حار وقت الحر.
3. البناية لبدر الدين العيني، كتاب المياه 1/ 366:
   وفي (القنية) يكره الطهارة بالماء المشمس (لقوله صلى الله عليه وسلم لعائشة رضي الله عنها حين سخنت الماء بالشمس :لا تفعلي يا حميراء لا تفعلي فإنه يورث البرص)، قلت: رواه البيهقي في (سننه) من حديث خالد بن إسماعيل عن هشام عن أبيه (عن عائشة رضي الله عنها أنها سخنت ماء في الشمس “فقال النبي صلى الله عليه وسلم  يا حميراء لا تفعلي فإنه يورث البرص).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:269
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30




نظر بدسے بچنے کے لیے سیاہ داغ لگانے کا حکم:

سوال:
   کیا بچوں کے چہرے پرسیاہ داغ نظر بد سے حفاظت کے لیے لگانا جائز ہے؟
جواب:
   نظر بد سے بچنے کے لیے مختلف تدابير اختيار كی جاتی ہیں، جن میں سے ایک سیاہ داغ لگانا بھی ہے، لیکن یہ داغ چہرے کی بجائے ٹھوڑی کے نیچے لگانی چاہیے، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے بچہ کے بارے میں جس کو اکثر نظر لگ جاتی تھی فرمایا کہ اس کی ٹھوڑی کے نیچے داغ لگاؤ۔

حوالہ جات:
1. شرح السنة الحسين بن مسعود البغوي، كتاب فضائل الصحابة، باب فضل الأنصار رضي الله عنهم، الرقم: 3976:
   روي عن عثمان، رأى صبيا تأخذه العين، فقال: دسموا نونته، النونة: النقرة في الذقن.

2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية،  الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات 5/356:
   لا بأس بوضع الجماجم في الزروع والمبطخة لدفع ضرر العين عرف ذلك بالآثار، كذا في فتاوى قاضيخان.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:253
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-27




میت کے سر میں کنگھی کرنا یا زیورات وغیرہ پہنانے کا حکم:

سوال:
   ہمارے علاقے میں یہ رواج ہے کہ مردے کے سر میں کنگھی کرتے ہیں، اور زیور پہناتے ہے، تو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
بالوں میں کنگی کرنا یا زیورات وغیرہ پہننے کا تعلق زیب و زینت سے ہے اور مردے کو زیب وزینت کی ضرورت نہیں ہوتی؛ اس لیے میت کے سرمیں کنگھی کرنا اور اس کوزیور وغیرہ پہنانا ناجائز ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختارللحصكفي مع رد المحتار، كتاب الجنائز، باب صلاة الجنازة 2/ 197:
   (ولا يسرح شعره) أي يكره تحريما (ولا يقص ظفره) إلا المكسور (ولا شعره) ولا يختن.
 قال ابن عابدين تحت قوله: (أي يكره تحريما) لما في القنية من أن التزيين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لا يجوز.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الجنائز، غسل الميت 2/ 187:
   (قوله: ولا يسرح شعره ولحيته، ولا يقص ظفره وشعره) ؛ لأنها للزينة، وقد استغنى عنها، والظاهر أن هذا الصنيع لا يجوز، قال في القنية: أما التزين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر، لا يجوز، والطيب يجوز، والأصح أنه يجوز للزوج أن يراها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:248
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




کوئی چیزہبہ کرکے اس سے رجوع کرنا:

سوال:
   زید کمزور ہے اور اس کی نارینہ اولاد نہیں ہے، اس لیے زید نے اپنے بھتیجے کے نام زمین ہبہ کردی، اس امید پر کہ بھتیجا میری خدمت کرے گا،  اب بھتیجا خدمت نہیں کرتا تو زید اپنا ہبہ واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
   اگر زید نے بھتیجے کو زمین ہبہ کرکے مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ بھی دیا ہو، تو یہ زمین بھتیجے کی ملکیت بن چکی ہے اورچونکہ بھتیجا ذی رحم محرم رشتہ دار ہے، اس لیے ہبہ شدہ زمین اب اس سے واپس لینا درست نہیں ہے، لیکن اگر مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ نہ دیا ہو، صرف زبانی کلامی بات ہوئی ہو، تو اس کے لیے اس معاملہ سے رجوع کرنا درست ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة 5/ 704:
   (فلو وهب لذي رحم محرم منه) نسبا (ولو ذميا أو مستأمنا لا يرجع) ”شمني“ (ولو وهب لمحرم بلا رحم كأخيه رضاعا) ولو ابن عمه (ولمحرم بالمصاهرة كأمهات النساء والربائب وأخاه وهو عبد لأجنبي أو لعبد أخيه رجع ولو كانا) أي العبد ومولاه (ذا رحم محرم من الواهب فلا رجوع فيها اتفاقا على الأصح)
لأن الهبة لأيهما وقعت تمنع الرجوع ”بحر“.
2. فتح القدير لابن همام، كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة 9/ 44:
   قال: (وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها) لقوله  عليه الصلاة والسلام: «إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:241
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26




ماں کے کروٹ کے نیچے بچے کا دب کر مرنے کاحکم:

سوال:
   اگر نیند کی حالت میں غلطی سے بچی ماں کے پہلو کے نیچے آکر مرگئی، تو ماں کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:
  اگر نیند کی حالت میں غلطی سے بچی ماں کے پہلو کے نیچے آکر مرجائے تو یہ قتلِ خطاء کے حکم میں ہے، جس کی وجہ سے اس عورت پر دیت لازم ہوگی، البتہ اگر ورثائے مقتول اس کو معاف کردیں، تو دیت معاف ہوجائے گی۔ تاہم ایسی صورت میں اس عورت پر دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کا کفارہ واجب ہے، البتہ اگردرمیان میں حیض کا خون آجائے تو حیض سے پاکی کے فورا بعد روزے رکھنا شروع کردے اور اس وقفہ  کی وجہ سے اس کا تسلسل ختم نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الجنايات 6/ 531:
   (و) الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله) ؛ لأنه معذور كالمخطئ (وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل، وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة والدية على العاقلة)،والإثم دون إثم القاتل إذ الكفارة تؤذن بالإثم؛ لترك العزيمة.
2. فتح القدير لابن همام، كتاب الجنايات 10/ 214:
   قال (وما أجري مجرى الخطأ مثل النائم ينقلب على رجل فيقتله فحكمه حكم الخطأ في الشرع.
3. البحر الرائق لابن نجیم، کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده 2/298:
   وكذا في كفارة القتل والظهار للنص على التتابع إلا لعذر الحيض؛ لأنها لا تجد شهرين عادة لا تحيض فيهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:240
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26