مدرس کا مدرسہ میں تاخیر سے آنا کیساہے؟

سوال:
    ایک مدرس پندرہ بیس منٹ تاخیر سے مدرسہ آتا ہے، اس کی کیا تلافی ہوگی، تنخواہ کاٹ لیا جائے یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے؟
جواب:
   اگر کسی عذر کی وجہ سے مدرسہ کے منتظمین کی طرف سے کسی مدرس کو اس کی کسی مجبوری کی وجہ سے اس کی گنجائش دی گئی ہو تو اس کے لیے اتنی تاخیر سے آنے کی گنجائش ہے، ورنہ وقت کی پاپندی کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر اس وقت کے بقدر تنخواہ سے کٹوتی کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الإجارة، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة 6/ 70:
   وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل.
  قال ابن عابدين تحت قوله: (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل، ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة، ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة.
2. اللباب في شرح الكتاب لعبد الغني بن طالب  الميداني الحنفي، كتاب الإجارة 2/ 95:
   ولیس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:494
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03

 




اپنی ڈیوٹی پرکسی اورکو مقررکرکے تنخواہ میں سےکچھ حصہ اس کو دینا:

سوال:
   زيد ايک سركاری پوسٹ پر لگا ہے، مگر وہ خود کام کے لیے نہیں جاتا، بلکہ اس نے بکر کو مقرر کیا ہے وہ اس کی جگہ کام کرتا ہے، جب زید کو تنخواہ مل جاتی ہے، تواس میں سے بکر کو بھی کچھ حصہ دیتا ہے اور باقی خود لیتا ہے، کیا شرعا اس طرح کرنا جائز ہے؟
جواب:
   اگر مذکورہ محکمہ کے قوانین میں اس کی اجازت نہ ہو تو ایسی صورت میں سرکاری ملازم کا اپنی جگہ کسی اور کو ڈیوٹی پر بھیج کرتھوڑی سی تنخواہ دے کر باقی تمام تنخواہ خود وصول کرنا درست نہیں ہوگا، اور اگر محکمہ کی اجازت سے ہو تو گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
1. مجلة الأحكام، باب في الإجارات، الفصل الرابع: في إجارة الآدمي 1/ 106:
   الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه، ليس له أن يستعمل غيره.
2. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الإجارة 8/ 9:
   قال رحمه الله: (ولا يستعمل غيره إن شرط عمله بنفسه) يعني ليس للأجير أن يستعمل غيره، إذا شرط عليه أن يعمل بنفسه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:467
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-29




کرایہ کی گاڑی کی مرمت کس کے ذمہ ہوگی؟:

سوال:
   ایک آدمی نے رکشہ خریدا اور دوسرے آدمی کے حوالہ کیا کہ روزانہ مجھے 500 روپیاں دیا کرو، باقی جتنا بچے گا وہ آپ کا ہوگا اور تیل کا خرچہ بھی آپ کے ذمہ ہوگا، تو شرعاً یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟ نیز اگر اس رکشہ میں خرابی آگئی تو اس کی مرمت کس کے ذمہ ہوگی؟
جواب:
   مذکورہ طریقہ سے یہ معاملہ کرنا شرعا درست نہیں، البتہ اس کی درست صورت یہ ہے کہ رکشہ کا مالک اس کو اپنا رکشہ کرایہ پر دے اور اس سے یہ طے کرے کہ مجھے روزانہ پانچ سو(500) روپے دینے ہوں گے، چاہے تمہیں مزدوری کم ہو یا زیادہ اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں، باقی گاڑی میں اگر کوئی بڑی خرابی آئے جیسے انجن وغیرہ خراب ہو جائے تو اس کا خرچہ مالک پر ہوگا، اس کو فقہی اصطلاح میں ”الصیانية الأساسية “ کہا جاتا ہے اور اگر کوئی معمولی خرابی آئے جیسے کہ ٹائر پنکچر ہوگیا وغیرہ تو اس کا خرچہ ڈرائیور پر ڈالا جاسکتا ہے، اس کو فقہی اصطلاح میں ”الصیانية العادية “ کہا جاتا ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الإجارة 6/ 47:
   في الظهيرية: استأجر عبدا أو دابة على أن يكون علفها على المستأجر، ذكر في الكتاب أنه لا يجوز، وقال الفقيه أبو الليث: في الدابة نأخذ بقول المتقدمين، أما في زماننا فالعبد يأكل من مال المستأجر عادة، قال الحموي: أي فيصح اشتراطه، … وفي البزازية: ولو امتلأ مسيل الحمام فعلى المستأجر تفريغه ظاهرا كان أو باطنا، وتسييل ماء الحمام وتفريغه على المستأجر، وإن شرط نقل الرماد والسرقين رب الحمام على المستأجر لا يفسد العقد، وإن شرط على رب الحمام فسد اهـ فتأمل، ولعله مفرع على القياس أو مبني على العرف ففي البزازية: وفي استئجار الطاحونة في كرى نهرها يعتبر العرف.
2. مجمع الأنهر، كتاب الإجارة 2/ 391:
   (والمتاع في يده) أي في يد الأجير (أمانة لا يضمن إن هلك) المتاع من غير فعله عند الإمام(وإن) وصلية (شرط) عليه (ضمانه)؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد (به) أي بعدم الضمان (يفتى).
3. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الإجارة 4/ 182:
   ولو قال: أجرتك هذه الدار سنة كل شهر بدرهم جاز بالإجماع؛ لأن المدة معلومة والأجرة معلومة فلا يجوز ولايملك أحدهما الفسخ قبل تمام السنة من غير عذر، ولو لم يذكر السنة فقال: أجرتك هذه الدار كل شهر بدرهم جاز في شهر واحد عند أبي حنيفة، … وإذا جاز في الشهر الأول لا غير عند أبي حنيفة، فلكل واحد منهما أن يترك الإجارة عند تمام الشهر الأول، فإذا دخل الشهر الثاني.
4. خلاصة الفتاوى لطاهر بن عبد الرشيد، كتاب الإجارة3/ 147 :
   وعمارة الدار وتطییینھا واصلاح میزابھا على الآجر … قال في المحيط: فإن شرط رب الحمام على المستاجر نقل الرماد والسرقين لا يفسد العقد، قال الفقيه ابو الليث: المعتبر في ذلك عادات الناس في تلك البلدة، ولو طلب من المكاري أن يدخل بيته فالمعتبر هو العرف.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:399
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-19




یومیہ آدھی کمائی پر گاڑی اجرت پر دینا:

سوال:
  گاڑیوں کے مالکان کے پاس ایک مستقل ڈرائیور ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی وہ ڈرائیور کسی عذر کی وجہ سے چھٹی پر ہوتا ہے تو مالک کسی دوسرے ڈرائیور کو ایک دِن کے لیے گاڑی دیتا ہے لیکن اس کے لیے کوئی مستقل اجرت مقرر نہیں کرتا، بلکہ جو کماتا ہے وہ آدھا آدھا یا کچھ کم یا زیاد ہ آپس میں تقسیم کرتے رہتے ہیں، تو ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب:
   ذکر کردہ معاملہ شرعا درست نہیں، کیونکہ اس میں اجرت مجہول ہے، اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ درائیور کے لیے یومیہ متعین اجرت مقرر کی جائےاور باقی جتنی کمائی ہوگی وہ مالک کی ہوگی۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الإجارة، شروط الإجارة5/ 6 :
   وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الإجارة5/ 106 :
   أن الإجارة بيع منفعة معلومة واقتضى هذا أن الإجارة لا تصح حتى تكون المنافع معلومة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:381
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18