کسی کی امانت اس کی اجازت کے بغیر کسی اورکو استعمال کے لیے دینا:

سوال:
   ايک شخص نے ميرے پاس اپنا واسكٹ رکھ دیا تھا میں نے واسکٹ اپنے ساتھی کودیا کہ تم استعمال کرو جب وہ مانگے تو واپس کردینا، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کرنا میرے لیے جائز تھا؟  
جواب:
   امانت کی چیز کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا یا مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو دینا، امانت میں خیانت ہے، لہٰذا ذکر کردہ صورت میں اس پر دل سے توبہ اوستغفار کرنا چاہیے اور فوری طور پر وہ واسکٹ اپنے ساتھی سے لے کر مالک تک پہنچانا چاہیے۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوديعة، الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها 4/ 338:
   الوديعة لا تودع، ولا تعار، ولا تؤاجر، ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن.
2. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الوديعة، للمودع أن يحفظ الوديعة بنفسه وبعياله 7/ 275:
   وفي الخلاصة: الوديعة لا تودع، ولا تعار، ولا تؤجر، ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:801
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-28