دوائیوں کے سیمپلز بیچنا کیساہے؟ :

سوال:
   کیا فرماتے ہیں مفتیانِ  کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میڈیسن کمپنیاں سیمپل کے نام سے کچھ دوائیاں بناتی ہیں، اور ان دوائیوں کی خرید وفروخت قانونا ممنوع ہوتا ہے، تو میڈیکل ريپ اس سیمپل  کو چھپکے سے کم قیمت پر دکاندار کے ہاتھ فروخت کرتا ہے، تو دکاندار کےلیے میڈیکل ريپ سے ان کو خریدنا اور آگے فروخت کرنا شرعاجائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   چونکہ یہ دوائیاں میڈیکل ريپ کے پاس کمپنی کی امانت ہوتی ہیں اور میڈیکل ريپ کو ان کی خرید وفروخت کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے میڈیکل ريپ کے لیے ان کو بیچنا اور دکاندار کے لیے ان کو خرید کر آگے بیچنا دونوں ناجائز ہیں۔

حوالہ جات:
1. سنن أبي داود، باب في الصلح ، الرقم: 3594:
عن أبي هريرة، قال:…وقال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “المسلمون على شروطهم”
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الغصب، مطلب فيما يجوز من التصرف بمال الغير بدون إذن صريح 6/ 200:
   لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته.

 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:777
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-27