انٹرنیٹ کارڈ کی خرید وفروخت :
سوال:
انٹرنیٹ کارڈ کی خرید وفروخت کا کیا حکم ہے؟ ایسے ہی انٹرنیٹ کے محکمہ میں ملازمت اختیار کرنا کیسا ہے؟
جواب:
انٹرنیٹ کارڈ کا استعمال صحیح وغلط دونوں طرح ہوسکتا ہے، اور جس چیز کا ستعمال صحیح وغلط دونوں طرح ہوسکتا ہو اس کی خرید وفروخت جائز ہے، پھر خرید ار اگر اس کو غلط استعمال کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، لہٰذا انٹرنیٹ کارڈ کی خرید وفرخت جائز ہے، اسی طرح انٹرنیٹ محکمہ میں ملازمت اختیار کرنا بھی درست ہے۔
حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الجهاد، باب البغاة 4/ 268:
لا يكره بيع الجارية المغنية … لأنه ليس عينها منكرا وإنما المنكر في استعمالها المحظور.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب اللقيط، بيع السلاح من أهل الفتنة 5/ 154:
وقد استفيد من كلامهم هنا أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه وما لا فلا، ولذا قال الشارح: إنه لا يكره بيع الجارية المغنية والكبش النطوح والديك المقاتل والحمامة الطيارة.
3. مجلة الأحكام العدلية لمحمد خالد الأتاسي، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص: 16:
الأمور بمقاصدها يعني: أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:778
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-27