بالغہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟:
سوال:
ایک لڑکی سولہ سال کی ہے اور والد نے اس کا نکاح زبردستی کر دیا تو کیا یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے؟ اور ولی بالغہ لڑکی کا نکاح زبردستی کرسکتا ہے؟
جواب:
شریعت نے بالغہ،عاقلہ لڑکی کو اپنی پسند اور مرضی کے مطابق نکاح کرنے کا حق دیا ہے، لہٰذا اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہیں کرسکتا، اگر اس نے کر دیا تو یہ نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوگا، اگر اس نے اجازت دے دی، تو نکاح درست ہو جائے گا، اور اگر انکار کیا تو درست نہیں ہوگا۔
حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح1/ 287:
لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها، فإن أجازته جاز، وإن ردته بطل.
2. مجمع الأنهر لعبد الرحمن بن محمد، كتاب النكاح، باب الأولياء والأكفاء، 1/ 490:
ولا يجبر ولي بالغة على النكاح، بل يجبر الصغيرة عندنا ولو ثيبا؛ لأن ولاية الإجبار ثابتة على الصغيرة دون البالغة ولو بكرا.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:761
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-24